Connect with us

Today News

افغان طالبان کا وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات

Published

on



اسلام آباد:

وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کا فیکٹ چیک جاری کردیا جس میں افغان طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع کے وانا میں کامیاب حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے اوپر ایک ڈرون تباہ کیا گیا، ڈرون کو سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا جس کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کسی بھی فوجی تنصیب یا انفرااسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔

وزارت اطلاعات نے طالبان حکومت کے دعوے کو پروپیگنڈا اور من گھڑت قرار دے دیا اور کہا کہ طالبان ماضی میں بھی غلط اور گمراہ کن دعوے کرتے رہے،  پاکستان ایئر فورس کے طیارے گرانے اور پائلٹس گرفتار کرنے کے دعوے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔

وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس ہیں، سچ ہمیشہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر غالب آتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

شالیمار کے بعد پاکستان ایکسپریس بھی محراب پور کے مقام پر حادثے کا شکار

Published

on



شالیمار ایکسپریس کے بعد کراچی سے راولپنڈی جانے والی ٹرین پاکستان ایکسپریس بھی محراب پور کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی۔

ریلوے انتظامیہ کے مطابق ریلیف ٹرین روہڑی سے روانہ ہو چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس محراب پور ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔ یہ واقعہ ضلع نوشہرو فیروز کے شہر محراب پور کے قریب پیش آیا۔

ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین کا انجن ڈی ریل ہونے کے باعث ریلوے ٹریفک متاثر ہوگیا۔ اطلاع ملتے ہی ریلوے حکام اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ آج ضلع نوشہرو فیروز میں ٹرین حادثات کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل دوپہر کے وقت لاکھا روڈ ریلوے اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس اور مال بردار ٹرین کے درمیان تصادم کا حادثہ پیش آ چکا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ریلوے ملازم جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے تھے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں مختلف پولیس مقابلوں میں 6 زخمی سمیت 9 ڈاکو گرفتار

Published

on


عوامی کالونی ، سکھن ، حیدری مارکیٹ ، تیموریہ اور ڈیفنس پولیس نے مبینہ مقابلوں کے بعد 6 زخمی سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور دیگر مسروقہ سامان برآمد کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق عوامی کالونی پولیس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب کورنگی 5 نمبر سیکٹر 36/C راشد اکیڈمی کے قریب سے مبینہ مقابلت کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، 4 چھینے گئے موبائل فونز ، پرس بمعہ کیش رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی۔

 سکھن پولیس نے بھینس کالونی روڈ نمبر 8 بھوسہ منڈی کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ،  گرفتار ڈاکو سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فون ، کیش رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی۔ اسی طرح حیدری مارکیٹ پولیس نے  نارتھ ناظم آباد بلاک ایف کوثر نیازی کالونی ندی کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد 2 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، گرفتار ڈاکوؤں سے دو پستولیں بمعہ گولیاں ، موبائل فونز ، کیش رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی ۔

تیموریہ پولیس نے  نارتھ ناظم أباد بلاک ایم ڈینٹل کالج کے قریب سے مبینہ مقابلے کی بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا  گرفتار ملزمان سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فونز ، کیش رقم اور ایک کار برآمد کی گئی۔

ڈیفنس پولیس نے قیوم آبار سی أر پٹے کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی سمیت 2 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان سے دو پستول نائن ایم ایم اور ایک تیس بور پستول ، موبائل فونز ، کیش رقم اور موٹرسائیکل برامد کر لی۔





Source link

Continue Reading

Today News

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

Published

on



عالمی ضمیر کی عدالت میں جب بھی ’امن‘ کا مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو جج سے لے کر وکیل تک سبھی ایک ایسی طویل جمائی لیتے ہیں جس کی بازگشت انسانیت کے جنازے سے بھی زیادہ اونچی سنائی دیتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے منصفوں کے لیے مظلوم کا لہو اب کوئی المیہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا پرانا اور گھسا پٹا اسکرپٹ بن چکا ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ بری طرح اکتا چکے ہیں۔ یہاں امن کی میزیں تو سجائی جاتی ہیں مگر ان پر رکھا منرل واٹر پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ خون کے دھبے دھونے کے کام آتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ’امن کی مجلس‘ محض ایک کاغذی خانہ پری بن کر رہ گئی ہے، کیونکہ طاقتور ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب امن قائم کرنے کے بجائے، امن کے انتظار سے بیزار ہو چکے ہیں۔

عالمی برادری کے پاس اقوام متحدہ کی تاسیس سے دنیا کے مسلم جنگ زدہ علاقوں کے زخموں کا علاج کرنے کا ایک انوکھا ہی ڈھنگ ہے۔ دہائیوں سے اس مسئلے کو ایک انسانی المیے کے بجائے کسی پرانی ڈائری کے اس اندراج کی طرح دیکھا جا رہا ہے جسے ہر سال بس دہرانا مقصود ہو۔

’امن کی پنچایت‘ امن بورڈ یعنی ان دانا بزرگوں کی ٹولی جو مسئلے کا حل ڈھونڈنے نکلی تھی، سے اب ’امن کی بوریت‘ کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں جہاں دنیا کی اجتماعی جمائیوں کا شور گرتی ہوئی عمارتوں کے ملبے کی آواز سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

جب ہم کسی ’بورڈ‘ یا ’مجلس‘ کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں چمکتی ہوئی میزیں، مہنگا منرل واٹر اور استری شدہ سوٹ پہنے وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی گھڑیاں دیکھتے ہوئے ’شدید تشویش‘ کا اظہار کرنے کے فن میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

غزہ، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، صومالیہ، سوڈان، شام، لیبیا وغیرہ کے لیے بنائی گئیں یہ امن کی مجالس تاریخ کے وہ سب سے معتبر ادارے ہیں اور تھے، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہونے جیسا ہی رہا۔ کیونکہ ان کا اصل کام صرف کاغذ کالے کرنا رہا۔ اگر ان ’پُر زور مذمتی بیانات‘ کو لکھنے میں جلائی جانے والی توانائی کو بجلی میں بدل دیا جاتا، تو شاید غزہ دنیا کا روشن ترین خطہ ہوتا۔ اگرچہ یہ مجلس اس وقت بھی ’بجلی کی بچت‘ پر ایک طویل بیان جاری کرکے وہاں دوبارہ اندھیرا کر دیتی۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ ’مجلس‘ اب تھک چکی ہے۔ امن قائم کرنا ایک اکتا دینے والا کام ہے۔ اس کے لیے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اسلحہ بیچنے والوں کے مفادات کو قربان کرنا پڑتا ہے اور ’توبہ توبہ‘ انسانوں کو انسان سمجھنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جنگ ایک ’فلم‘ کی طرح ہے۔ یہ ٹی وی چینلوں کو رنگین فوٹیج فراہم کرتی ہے اور بارود بنانے والوں کی تجوریاں ہری بھری رکھتی ہے۔ امن ایک خشک حساب کتاب ہے، جبکہ جنگ ایک سنسنی خیز ڈرامہ۔ آپ خود سوچ لیں کہ لوگ کسے زیادہ دیکھنا پسند کریں گے۔

’امن سے بیزاری‘ آج کے دور کا اصل ایجنڈا ہے۔ ہم ملبے اور لاشوں کی تصویریں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، کیونکہ اب ان میں وہ ’ورائٹی‘ نہیں رہی جو ہمیں انٹرنیٹ پر چاہیے۔ ہماری ہمدردی اس حد تک تھک چکی ہے کہ اسے اب باقاعدہ ایک بیماری کا نام دے دینا چاہیے۔ اگر ہمدردی کوئی موبائل پیکیج ہوتی، تو ہم میں سے اکثر اسے ’نئے مواد کی کمی‘کی وجہ سے بہت پہلے ہی بند کروا چکے ہوتے۔

یہ بیزاری دراصل ایک ہتھیار ہے۔ جب دنیا اکتا کر نظریں پھیر لیتی ہے، تو اس ’مجلس‘ کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی نتیجے کے اپنی میٹنگیں قیامت تک جاری رکھ سکے۔ امن کا یہ عمل اس ورزش والی مشین کی طرح ہے جس پر بندہ بھاگتا تو بہت ہے، پسینہ بھی خوب نکلتا ہے، مگر پہنچتا کہیں نہیں۔ اگر یہ کوئی جم (Gym) ہوتا تو اس کی فیسیں آسمان چھو رہی ہوتیں اور بارود بنانے والی کمپنیاں اس مشین کو اسپانسر کر رہی ہوتیں۔

اگر ہم امن کی اس مجلس کو کسی کاروباری ادارے کی نظر سے دیکھیں تو طنز اور گہرا ہوجاتا ہے۔ کسی بھی دوسری کمپنی میں، اگر کوئی کمیٹی پچھتر سال تک اپنی بنیادی چیز (یعنی امن) فراہم کرنے میں ناکام رہتی، تو اسے سزا دے کر نکال دیا جاتا۔ مگر ’جنگ کی انڈسٹری‘ میں ناکامی کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔ لاکھوں روپے پہلے تعمیر کے لیے مانگے جاتے ہیں، پھر لاکھوں کا بارود اسی تعمیر کو گرانے کے لیے بیچ دیا جاتا ہے، اور آخر میں یہ مجلس ’پرانی صورتحال‘ برقرار رکھنے کی دہائی دیتی ہے۔

یہ ’پرانی صورتحال‘ یا ’جمود‘ دراصل آج تک کی سب سے دلچسپ اور منافقانہ اصطلاح ہے۔ یہ توازن کا دھوکا دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک سست رفتار خودکشی ہے۔ مگر دنیا بھر کے تماشائیوں کے لیے یہ صورتحال بڑی آرام دہ ہے، کیونکہ اس میں انہیں اپنی پالیسیاں نہیں بدلنی پڑتیں۔ یہ بالکل اس خراب فائر الارم کی طرح ہے جو کبھی نہیں بجتا، مگر ہر کوئی اسے دیکھ کر اطمینان کی اداکاری کرتا ہے۔

اصل تماشا تو ان ’امن کے سفیروں‘ کو دیکھ کر شروع ہوتا ہے۔ یہ صاحبِ جاہ و حشمت پرائیویٹ جہازوں میں آتے ہیں، مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں، بیس منٹ کے لیے کسی تباہ شدہ جگہ کا فوٹو سیشن کرواتے ہیں اور پھر پریس کانفرنس میں فرماتے ہیں کہ ’صورتحال بڑی پیچیدہ ہے‘۔ یہ ’پیچیدگی‘ دراصل ایک بیزار آدمی کا آخری بہانہ ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ ہوم ورک سے بچنے کے لیے کہے کہ ’امی، سوال بہت مشکل ہے‘۔ بیس لاکھ انسانوں کی تڑپ کو ’پیچیدہ‘ کہہ کر یہ مجلس اس فائل کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے جہاں یہ پچھلی آدھی صدی سے پڑی ہے۔

یہ مجلسیں منرل واٹر پیتی ہیں اور دنیا جمائیاں لیتی ہے، ’امن سے اکتا جانا‘ ان لوگوں کا شوق ہے جن کے اپنے گھر سلامت ہیں۔ کسی المیے سے بور ہونا اس وقت بہت آسان ہے جب آپ خود اس کا نشانہ نہ ہوں۔ غزہ کے لوگوں کے لیے امن کوئی ’بیانیہ‘ یا ’میٹنگ‘ نہیں، بلکہ ایک ایسا افسانوی کردار ہے جسے کبھی کسی نے جیتا جاگتا نہیں دیکھا۔

شاید اب اس مجلس کو برخاست کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر دنیا کی بڑی طاقتوں کی عقل صرف ایسی ’بیزاری‘ پیدا کرسکتی ہے جو ایک قوم کے مستقبل کو مٹانے میں مدد دے، تو ایسی دانشوری دیوالیہ ہوچکی ہے۔ ہمیں مزید ’سفیروں‘ یا ’نقشہ راہ‘ کی ضرورت نہیں جو بند گلیوں میں ختم ہوجائیں۔ ہمیں ایسی دنیا چاہیے جو ’جنگ سے بیزار‘ ہوچکی ہو۔ ہمیں ایک ایسی عالمی برادری چاہیے جسے بم سے اڑے ہوئے اسکول کا منظر اتنا برا اور اکتا دینے والا لگے کہ وہ اس پورے ڈرامے کو ہی بند کرنے کا مطالبہ کردے۔

تب تک، یہ مجلسیں ہوتی رہیں گی۔ منرل واٹر کے گلاس بھرے جاتے رہیں گے۔ بیانات جاری ہوتے رہیں گے۔ اور دنیا اپنے موبائل کی اسکرین اسکرول کرتی رہے گی، کسی ایسی چیز کی تلاش میں جو ایک انسانی روح کی بقا سے زیادہ ’دلچسپ‘ ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Trending