Connect with us

Today News

الرجیز، نزلہ اور زکام سے بچاؤ کیلئے یونیورسل ویکسین حقیقت کے قریب

Published

on



سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نزلہ، فلو، کووِڈ اور الرجی سے بیک وقت بچاؤ دینے والی ایک یونیورسل ویکسین کی تیاری اب حقیقت کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔

امریکا میں اسٹینفورڈ میڈیسن کے محققین نے چوہوں پر ایک ایسے ویکسین فارمولے کا تجربہ کیا ہے جو مختلف سانس کی وائرل بیماریوں، سیپسس پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور یہاں تک کہ گھریلو گرد کے ذرات (ہاؤس ڈسٹ مائٹس) کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یہ ویکسین ناک کے ذریعے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے اور پھیپھڑوں میں کئی ماہ تک وسیع حفاظتی اثر برقرار رکھتی ہے۔

اگر یہی ویکسین انسانوں کے لیے تیار کر لی گئی تو سردیوں میں سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہر سال لگنے والے متعدد ٹیکوں کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے، بلکہ یہ مستقبل میں پیدا ہونے والی نئی وباؤں کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

اسٹینفورڈ میڈیسن میں انسٹی ٹیوٹ فار امیونٹی، ٹرانسپلانٹیشن اینڈ انفیکشن کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر مالی پولیندران کا کہناتھا کہ ان کی میری نظر میں یہ مختلف النوع سانس کی بیماریوں کے خلاف ایک حقیقی یونیورسل ویکسین ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

میٹا کا ’میسنجر ایپ‘ مکمل طور پر بند کرنے فیصلہ

Published

on


سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے میسنجر کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا نے اعلان کیا ہے کہ 15 اپریل 2026 سے یہ ایپ مکمل طور پر غیر فعال کر دی جائے گی جس کے بعد اس پلیٹ فارم پر پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، دستاویزات اور دیگر کوئی مواد بھی نہ بھیجا جاسکے گا اور نہ موصول ہوگا۔

اگر کوئی صارف میسینجر تک رسائی کرے گا تو اُسے فیس بُک اپنے بِلٹ-اِن میسیجز پر بھیج دے گا۔

کمپنی نے اس متعلق صارفین کو پہلے سے ہی آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ایپلی کیشن کے بند ہونے سے قبل متبادل کا بندوبست کیا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا

Published

on


طالبان رجیم کی شدت پسندی،غیرقانونی سرگرمیوں اوردہشتگردوں کی سرپرستی نے خطے کےامن کو داؤ پرلگا دیا۔

امریکی جریدے نےافغان طالبان کی دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی اورافغان سرزمین سے پھیلتی ہوئی دہشتگردی کو بےنقاب کردیا ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی سے القاعدہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان نےالقاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔

افغانستان میں طالبان اورالقاعدہ ایک دوسرےکوسپورٹ کرتےہیں۔ خطےکےدیگر ممالک بھی افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی،سرحد پارحملوں اورشدت پسندی سےشدیدمتاثر ہیں۔
 
افغان طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کےزیرتسلط افغانستان اس وقت دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو خطےکےامن کے لیے خطرہ ہے۔

پاکستان افغانستان میں  دہشتگردتنظیموں کی موجودگی کےحوالےسےعالمی برادری کوبارہا آگاہ کرچکا۔ وقت آگیاہےکہ دنیا ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےخاتمےکیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔





Source link

Continue Reading

Today News

’’شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں، بنیادی ضرورت ہے‘‘ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار

Published

on



اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس منیب اختر نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالتیں کل کو رقم کی واپسی کے لیے بھی بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم دیں گی؟ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون میں صریح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔

فیصلے کے مطابق 2016ء  میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کیخلاف پراپرٹی کیس میں ڈگری جاری کی گئی تھی اور درخواست گزار کو طے کردہ رقم جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔





Source link

Continue Reading

Trending