Connect with us

Today News

الزبتھ وارن کا بڑا بیان، ایران جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا

Published

on


واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔

سینیٹر وارن کا کہنا تھا کہ خفیہ بریفنگ کے بعد انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے اور اسی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ فکرمند ہیں۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا مؤقف اپنایا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔

سینیٹر وارن نے کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کو کسی فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر بلومینٹل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہے تھے جو امریکا نے اسے دیے، نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا، ٹرمپ نے اس کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، گورنر اسٹیٹ یبنک

Published

on



اسلام آباد:

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، پہلے وہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کررہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا جسے کم کرنے کے لیے اقدام اٹھائے جو 2022ء میں کی ڈی پی کے 4.7 فیصد تھا یہ 2023ء میں کم ہوکر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہوگیا اور پچھلے سال دو ارب ڈالر سرپلس رہا ہے اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ابھی بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے کمفرٹ ایبل ہیں، پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، اس وقت سولہ ارب ڈالر سے زائد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیرونی قرضہ سات سال کے دوران 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا اور پچھلے سال سے یہ قرضہ اسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، اس وقت ملک کا کل قرضہ 148ارب ڈالر ہے، اس میں حکومت کا قرضہ 103قرب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جون2026ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یو اے ای کا قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہورہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ ایکسپورٹ کی اسکیمیں ختم کرتے جارہے ہیں اس وجہ سے دباؤ میں ہیں۔

گورنر نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم ختم نہیں کی گئی، برآمدات نہ بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں، فوڈ آئٹمز کی قیمت میں کمی بھی ایک وجہ ہے ایک تو عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہیں اور ڈیمانڈ بھی کم ہوئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس سال برآمدات میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، برآمدات میں کمی کی ایک وجہ چاول کی برآمد میں کمی بھی ہے صرف چاول کی برآمد میں ایک ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو سبسڈی اور ری بیٹ اس طرح دے نہیں سکتے۔





Source link

Continue Reading

Today News

Qatar Airways suspends flight operations; SriLankan Airlines resumes flights to Dubai

Published

on


مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال کے باعث قطر ایئر ویز نے فلائٹ آپریشن عارضی طور پر 6 مارچ تک معطل رکھنے کا اعلان کر دیا۔

قطر ایئر ویز نے فلائٹ آپریشن کے متعلق مسافروں کے لیے تازہ اپ ڈیٹ جاری کر دی۔

قطر ایئر ویز کے مطابق مسافروں کو 6 مارچ کو صبح 9 بجے مزید آگاہی دی جائے گی، قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے قطری فضائی حدود تاحال بند ہے۔

قطری فضائی حدود کے بحفاظت دوبارہ کھلنے اعلان کے بعد قطر ایئر ویز دوبارہ اپنا آپریشن شروع کرے گی۔ قطری فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے قطر ایئرویز کا فلائٹ آپریشن 28 فروری سے عارضی طور پر معطل ہے۔

تمام مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ qatarairways.com یا Qatar Airways موبائل ایپ کے ذریعے پرواز کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

دوسری جانب، سری لنکن ایئر لائن نے دبئی کے لیے آج سے محدود پروازوں کا آپریشن بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان سری لنکن ایئر لائن کے مطابق 28 فروری کے بعد آج 4 مارچ سے کولمبو اور دبئی کے درمیان محدود پیمانے پر پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

پرواز UL231 کولمبو سے دبئی روانہ ہوگی، دبئی سے واپسی کی پرواز UL232 مسافروں کو لیکر کولمبو پہنچے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ

Published

on


واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔

سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایران کی آبدوزیں اور 17 بحری جہاز بھی تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔

امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 500 بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زائد ڈرون داغے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے اور اہداف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے میزائل پیڈز اور جوہری ہتھیاروں کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مقاصد کے حصول تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔





Source link

Continue Reading

Trending