Connect with us

Today News

اللہ میاں کی گائے – ایکسپریس اردو

Published

on


یہ کہانی ہم پہلے بھی ایک اور سلسلے میں کہیں بیان کرچکے ہیں لیکن اس خوبصورت، بے مثال اور ہمہ جہت کہانی کے اتنے پہلو ہیں کہ ساری انسانی تاریخ ، انسانی معاشروں اور نظاموں کا احاطہ کرلیتی ہیں۔ کسی نہایت ہی ذہین و فطین شخص نے اس کہانی کے استعارہ و تمثیل میں پوری انسانی تاریخ، معاشرت اور حکمرانوں کے بحرنا پیدا کنار کو ’’کوزے‘‘میں بند کیا ہے جو قدیم ہندی نوشتوں میں درج ہوکر ہم تک پہنچی ہے۔

اس کہانی کے جو دو کردار ہیں، وہ قدیم ہندی نوشتوں میں جابجا ذکر ہوئے ہیں اور جابجا ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں، کشتری راجہ و شوامتر اور برہمن رشی وسیشٹھ۔ تاریخ کے ایک بہت بڑے غلط العام سوکالڈ ’’آریا ‘‘ جب ہند میں وارد ہوئے اور خانہ بدوشی ترک کرکے یہاں رچ بس گئے تو انھوں نے تین ذاتوں کا یا گوتوں پر مبنی نظام بنایا۔ کشتری (حکمران )ویش( عام کماؤ طبقہ)اور شودر(ناپاک) قدیم ہندی اقوام۔ جنھیں خانہ بدوش آریا کہا گیا ہے ، وہ اصل میں آریا نہیں تھے بلکہ آریاؤں کے دشمن ساک (گھوڑے والے) تھے۔ 

آریا لوگ زراعت کار تھے جب کہ ساک خاک بدوش یا گھوڑوں والے تھے، جنھیں یونانیوں نے ستھیئن کا نام دیا ہے۔ایرانیوں نے تورانی کہا ہے اور ہند میں کشتری  (کش توری یعنی تلوار والے کہلائے) جب ہند میں ان کی خوشحالی اور فارغ البالی کی خبریں ایران و افغانستان پہنچیں تو وہاں مینگی اور مہر(مذہبی پڑھے لکھے لوگ) ان کے پیچھے پیچھے چلے آئے، ان کا قبیلوی نام’’پرسُو‘‘ (کلہاڑے والے) تھا۔

جن کے تعلق سے ایران کو پارس کا نام ملا ۔ چونکہ یہ مذہبی لوگ تھے تو پارسا اور پارسائی کا لفظ اب بھی زبانوں میں مذہبی اور عابد وزاہد لوگوں کے لیے مروج ہے۔یہ لوگ یہاں آکر برہمن کہلائے، پھر ان میں اور کشتریوں میں طویل عرصے تک جنگیں ہوتی رہیں اور پھر دونوں میں سمجھوتہ ہوگیا اور یہ کہانی اس کش مکش اور سمجھوتے کی روادار ہے، تمثیل استعارہ کی زبان میں۔

طاقتور راجہ وشوامتر شکار کو نکلاتھا کہ اس کا گزر ایک آشرم کے سامنے سے ہوا، یہاں کے پروہت ایک برہمن رشی وسیشٹھ نے راجہ کی زبردست مہمان نوازی کی۔ تو راجہ سوچنے لگا کہ اس بے بضاؑعت رشی نے اس ویرانے میں اتنی زبردست، بھرپور اور بڑی دعوت کا بندوبست کیسے کیا؟ پوچھنے پر اس پروہت نے بتایا کہ میری تپسیا سے خوش ہوکر دیوتاؤں نے مجھے ’’ایک گائے‘‘ دی ہے اور مجھے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اس گائے سے کہہ دیتا ہوں اور وہ پلک جھپکنے میں حاضر کردیتی ہے۔راجہ نے کہا، یہ گائے تم مجھے دے دو۔ رشی نے انکار کیا۔ راجہ نے اصرار کیا۔ بات بگڑ گئی تو راجہ نے لشکر کو حکم دیا کہ گائے زبردستی لے لو۔رشی نے گائے سے کہا کہ راجہ کی فوج کے مقابل فوج کھڑی کردو ۔گائے نے راجہ کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور فوج کھڑی کردی۔

راجہ جتنی مزید فوج کمک کے طور پر منگواتا لیکن ’’ جادوئی یا کرشماتی گائے‘‘ اس سے بھی زیادہ مضبوط فوج سامنے کردیتی۔ مایوس ہوکر راجہ نے راج پاٹ تیاگ دیا کہ ایسے راج پاٹ سے فائدہ کیا جو ایک معمولی رشی سے ایک گائے بھی نہ چھین سکے اور جاکر تپسیا میں بیٹھ گیا۔ ایک ہزار سال کے بعد برھما نے درشن دے کر پوچھا، مانگ کیا مانگتا ہے۔ راجہ نے کہا ’’برہم رشی‘‘ کا رتبہ۔ برھما نے کہا، ابھی تم اس قابل نہیں ہوئے ہو، اس لیے میں تمہیں ’’راج رشی‘‘ کا رتبہ دیتا ہوں لیکن راجہ کو تو وہی رتبہ چاہیے تھا جو رشی وسشیٹھ کا تھا۔اس لیے پھر تپسیا میں مصروف ہوگیا لیکن ایک ہزار سال بعد بھی جب اس نے برھما سے وہی رتبہ مانگا تو برھما نے کہا، ابھی تم اس قابل نہیں ہوئے ہو اور اسے ’’دیورشی‘‘کا رتبہ دیا، تیسری مرتبہ کہیں جاکر اسے ’’برھم رشی‘‘ کا رتبہ مل گیا۔ ہزاروں سالکی تپسیا کی اس کہانی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ برھمنوں اور کشتریوں کی یہ کش مکش لمبے عرصے تک چلی تھی۔ برھم رشی کا رتبہ پاکر راجہ رشی وسشیٹھ کے آشرم سے گائے حاصل کرنے چل پڑا۔رشی نے اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا ،گلے لگایا اور کہا کہ اب تو ہم بھائی ہوگئے ہیں۔ گائے جتنی میری اتنی تیری۔کہانی ختم ہوئی لیکن سوال چھوڑ گئی۔

وہ گائے کیا تھی اور کیا ہے؟جو برھمن کو بھی طرح طرح کی نعمتیں فراہم کرتی ہے، راجہ کو بھی نعمتیں اور حکمرانی فراہم کرتی ہے اور دونوں کی ہر ضرورت پوری کرتی ہے یا دونوں اس سے اپنی ہر ضرورت پوری کراتے ہیں؟کیا وہ جادو سے سب کچھ فراہم کرتی تھی؟ایسا تو نہ کبھی ممکن تھا، نہ ہے، نہ ہوگا۔تو پھر یہ گائے کیا ہے؟کیا واقعی ایسی کوئی گائے تھی یا ہوسکتی ہے اور اگر ہم آپ کو یہ بتادیں کہ ایسی گائے واقعی تھی، ہے اور رہے گی، تو پھر آپ پوچھیں گے کہ یہ گائے کہاں ہے؟ کہاں ملتی ہے اور کس کے پاس ہے؟ تو ہم ابھی اسی وقت آپ کو یہ گائے دکھاسکتے ہیں، آپ کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ کوئی آئینہ ڈھونڈنا ہوگا اور جیسے ہی آپ اس آئینے میں دیکھیں گے وہ گائے سامنے کھڑی نظر آئے گی،آپ کی طرف دیکھتی ہوئی۔

جی ہاں یہی وہ گائے ہے یعنی ہم، تم اور وہ، جسے آج عوام عرف کالانعام کہتے ہیں۔ کیا ملٹی پرپز جانور ہے گائے، یہ صرف دودھ نہیں دیتی بلکہ اور بھی بہت کچھ فوائد کی حامل ۔بلکہ انسانی ضرورت کا سب کچھ دیتی ہے،بناتی ہے، اگاتی ہے ،کھلاتی ہے، پہناتی ہے، فراہم کرتی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ مصر کے فراعین نے جو اہرام بنائے ہیں ،کس سے بنوائے ہیں؟بخت نصر نے جو اپنی ملکہ کے لیے معلق باغات بنوائے تھے، شاہ جہاں نے جو تاج محل بنوایا ہے، ملکہ زبیدہ نے جو نہر بنوائی تھی، ملکہ خیزران نے اپنے بیٹے کی شادی میں جو لعل وجواہر لٹائے تھے اور ایسا بہت۔یہ سب اسی ’’گائے‘‘ یعنی عوام کے کرشمے ہیں۔

یہ صرف ایک گائے نہیں بلکہ بوقت ضرورت سب کچھ بن سکتی ہے۔ یہ نہ صرف دودھ دیتی ہے بلکہ انڈے بھی دیتی ہے۔صرف اون نہیں دیتی ،کھالیں بھی دیتی ہے، ایسا اون اور ایسی کھال کہ آج اتاریے تو کل پھر موجود۔یہ جو آپ سنتے ہیں فلاں فلاں کے اتنے اتنے خزانے، اتنے اتنے وہ اور اتنے اتنے یہ تھے۔یہ بھرے ہوئے پیٹ،بھری ہوئی جیبیں،بھرے ہوئے محل اور گھر، بھرے ہوئے بینک،یہ کس کی برکت سے ہے؟کیونکہ یہ جن کے پاس ہیں وہ تو گل دان کے لیے گملے سے پھول بھی خود نہیں توڑتے۔ کہتے ہیں کہ جب ملاکنڈ میں نہر کے لیے سرنگ کھودنے کا پروگرام بنا تو ایک دیسی افسر نے انگریز افسر سے پوچھا، سر یہ سرنگ کھودے گا کون؟تو انگریز افسر نے جیب سے ایک پیسہ نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ’’یہ‘‘۔ وہ دیسی افسر، دیسی آدمی تھا ورنہ اگر وہ پوچھ لیتا کہ آپ کی جیب میں یہ سکہ کس نے ڈالا ہے تو وہ انگریز اسے اس گائے کا نام بتادیتا جسے دوہنے کے لیے وہ سات سمندر پار سے آیا تھا۔اس گائے کو اللہ میاں کی گائے بھی کہا جاتا ہے۔یہ صرف برھمن رشی اور راجہ وشوامتر کے پاس نہیں تھی بلکہ اب بھی رشی اور راجہ کے پاس ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ

Published

on



اسلام آباد:

ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار

Published

on



کراچی:

ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔

کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔

اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق

Published

on


پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔

اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔

نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔

اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔

یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔

اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Trending