Today News
امان اللہ نیئر شوکت : بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ ادیب
امان اللہ نیئر شوکت اپنی عاجزی و انکساری اور ملنساری کے وصف ہر عام و خاص میں مقبول ہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ اپنے وصف کے ساتھ کامیابیاں اورکامرانیاں سمیٹ رہے ہیں۔
کمال کی بات یہ ہے کہ خود کو بطور شاعر اور ادیب ہوتے ہوئے دوسرے اُبھرنے والے لکھاریوں کے لیے راہ ہموارکرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی بہترین رہنمائی کا فریضہ عبادت سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔
امان اللہ نیئر شوکت ایک محنتی اور دیانتدار آدمی ہے، ان کی تمام عمر محنت کرتے گزری، بچوں کی دنیا میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والے امان اللہ نیئر شوکت پاکستان بننے سے چار سال قبل پیدا ہوئے۔
پانچ برس کی عمر میں والدین نے انھیں دینی اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسجد بھیجا۔ نماز اور قرآنِ مجید پڑھنا سیکھ لیا جس پر آج بھی پابند ہیں۔ لیہ کے ایک پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،گورنمنٹ ہائی اسکول سے دس جماعتیں نمایاں نمبروں سے پاس کیں۔
ان کے والد گرامی عبدالرحمن خان بلوچ مقامی پوسٹ آفس میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور پاک و ہند کے رسائل میں شاعری کرتے۔
انھوں نے پہلی مرتبہ نظم ’’ کھلونا ‘‘ لکھ کر اپنے والد کو دکھائی جس پر انھوں نے نوک پلک سنوارکر انڈیا کے ایک بچوں کے رسالہ ماہنامہ ’’جریدہ‘‘ میں بجھوا دی ۔
اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’’ اس نظم کی اشاعت پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، یہ نظم میرے خاندانی نام امان اللہ خان بلوچ کے نام شائع ہوئی۔ ‘‘ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب وہ حصولِ روزگار کے لیے اپنی ہمشیرہ کے پاس رہائش پذیر ہوئے اور مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ میں بطور لفٹ آپریٹر سروس کر لی اور جلد ہی اپنی دوسری نظم لفٹ چلاتے ہوئے ’’ لفٹ کی سیر‘‘ لکھی جو بہت سے رسالوں میں شائع ہوئی۔
سن ستر میں لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ بچوں کا ڈائجسٹ میں مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے 27 برس کام کیا اور اس سنہری دور میں بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو متعارف کروایا۔
لاہور سے شائع ہونے والے بہت سے اخبارات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے صفحات کو ایڈیٹ بھی کروایا۔ اس کے علاوہ بہت سے رسالوں میں لکھا۔
جن میں قابل ذکر ان گنت رسالے شامل ہیں۔ ابصار عبدالعلیؒ ایک جگہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ امان اللہ نیئر شوکت نے اپنی زندگی کے شب و روز ادب اطفال کی تخلیق اور بچوں کی ادبی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔
بچوں کے مقبول ادیب محترم مرزا ادیب کی طرح خاموشی اور خاکساری سے اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے عمل کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔
اس کا اندازہ ان کے رسالہ ’’بچوں کا پرستان‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھیں مسلسل بچوں اور بڑوں کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے ’’بچوں کا پرستان‘‘ بچوں میں انتہائی مقبول ہے۔
امان اللہ نیئر شوکت ساٹھ سال سے بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں، یہ جس قدر ستائش کے مستحق ہیں ان کی اس قدر پذیرائی نہیں ہوئی البتہ کچھ اداروں نے ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔‘‘
امان اللہ نیئر شوکت جہاں چھوٹی سی عمر میں لکھنے کا آغازکیا اورکم عمری میں ہی انڈیا کے رسائل میں خود کو بطور ادیب منوایا، وہیں انھوں نے بڑوں کے لیے کہانیاں اور بچوں کے لیے شاعری بھی لکھی اور سب سے اہم بات ان کی حمدیہ و نعتیہ کلام ہے جسے لکھ کر وہ لطف محسوس کرتے ہیں۔
آج ان کے کریڈیٹ میں بہت سی چیزیں آ چکی ہیں جن میں ’’ دی بُک گروپ‘‘ کراچی والوں کی بچوں کے لیے ’’ جلیبیاں‘‘ کے نام سے اُردو کی درسی کتاب ساتویں جماعت کی شائع کی ہے جس میں پاک و ہند کے معروف شاعروں اور ادیبوں میں ان کا نام بھی شامل ہے۔
اُردو بازار کے ’’ اسکائی پبلی کیشنز‘‘ لاہور، راولپنڈی اور کراچی والوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم حکومت پاکستان کے جدید نصاب کے مطابق جماعت اول، دوم اور سوم کے لیے ان کی اور ان کی صاحبزادی عائشہ عمران ممتاز سے کتابیں ’’ اسکائی میری اُردو‘‘ تیارکروائی ہیں، یہ کتب ملک بھر کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں، جب کہ تعلیمی نصاب کی ایک ساتویں جماعت کی کتاب میں بھی ان کی نظم شامل ہے۔
اس کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے انھیں نقد کیش انعامات اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے اور یہی ایوارڈز ان کے لیے کسی بھی ستارئہ امتیاز سے کم نہیں ہیں۔
امان اللہ نیئر شوکت کی مرتب اور تحریرکردہ کتب میں انوکھا سفر، سہیلی بوجھ پہیلی، صحابہ کرامؓ کی کہانیاں، ہنسنا منع نہیں، شہزادیوں کی کہانیاں، ایجادات، خوبصورت ملی نغمے اور ترانے، لطیفوں کا انسائیکلو پیڈیا، حضرت علیؓ کے سنہرے اقوال، عجائباتِ عالم، اخلاقی حکایتیں، جدید سائنسی معلومات و ایجادات شامل ہیں۔
ان کی اولین شعری مجموعہ زیرِ تکمیل ہے۔ انھوں نے ایسی بچوں کے لیے شاعری لکھی ہے جو بچوں کے لیے سبق آموز اور اصلاحی پہلو سے لبریز ہے کسی بھی شعر پر ندامت نہیں ہوتی، بلکہ ان کی شاعری کو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
ان کی شریکِ ہم سفر خود بھی ان کی نثر نگاری کو پڑھ کر ’’ بچوں کا پرستان‘‘ میں لکھتی رہیں۔ جن کی رحلت 2025 ء میں ہوئی۔ ان کی بیٹی عائشہ عمران ممتاز جو بچوں کی معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔
ان کی کہانیاں اور نظمیں بھی بہت سے ادبی رسائل میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی شادی ملتان کے شہزادے عمران ممتاز سے ہوئی ہے جو خود بھی بہت عمدہ کہانی کار اور ہنس مکھ نوجوان ہے اور بچوں کے لیے ملتان سے ’’ کرن کرن روشنی‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کرتے ہیں۔
ان کی کتاب’’ نورِ عالم ‘‘ پر انھیں’’ صدارتی ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ امان اللہ نیئر شوکت کی خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد ’’ بچوں کا پرستان ‘‘ کی بھاگ دوڑ میری بیٹی عائشہ عمران ممتاز سنبھالیں گی اور ملک و قوم کی خدمت کریں گی۔
’’بچوں کا پرستان‘‘ یہ رسالہ عرصہ پندرہ سال سے شائع ہو رہا ہے اور پاک و ہند کے بے شمار شہروں اور ملکوں میں اسی فیصد بچے اور بڑے اس کو پڑھتے ہیں جس طرح بچے اور بڑے آج تک ’’عینک والا جن‘‘ ڈرامہ نہیں بھولیں یقینا اسی طرح ’’ بچوں کا پرستان‘‘ پڑھنا بھی نہیں بھولیں گے۔
امان اللہ نیئر شوکت نے جس لگن کے ساتھ ’’ بچوں کا پرستان‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے طویل عرصہ بچوں کا ادب تخلیق کیا، اس کی نظیر کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی جدوجہد کا خلاصہ اپنے ہی خیال میں کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ:
کام سے ہے دوستی محنت سے ہے بس میرا شعار
کاہلی سے بھاگتا ہوں مجھ کو محنت سے ہے پیار
امان اللہ نیئر شوکت کی ہارر کہانیاں ان دنوں ماہنامہ ’’ ڈر‘‘ کراچی میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان ہارر کہانیوں کو تخلیق کرنے کا خیال انھیں اُس وقت آیا جب وہ ’’ بچوں کا ڈائجسٹ‘‘ میں ڈراؤنی اور پُراسرار کہانیاں لکھا کرتے تھے۔
ان کی کہانیوں کے موضوع بڑے ہی دلچسپ ہوتے ہیں جو پڑھنے والوں کو دیر تک اپنے آثار میں جکڑے ہوئے رکھتے ہیں۔ بچے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن آج کے جدید دور میں یہ پھول کتاب اور رسالے پڑھنے کی اہمیت کوکم اور موبائل فون کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
جس سے ان پھول جیسے بچوں کے اخلاق کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، اسی وجہ سے رسالے بچے نہ خریدتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
امان اللہ نیئر شوکت موجودہ کتب بینی کے فروغ کو خسارے میں دیکھ کر رنجیدہ ہیں۔ امان اللہ نیئر شوکت سے میری دوستی کی بنیاد بچوں کے معروف ادیب ابصار عبد العلی نے رکھی۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔
امان اللہ نیئر شوکت کی کہانیاں اور شاعری کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں ہے۔ جہاں بہت سے لوگ ہم نے کھو دیے ہیں، وہیں آج امان اللہ نیئر شوکت کے جیسے چند نمایاں چہرے موجود ہیں اُن کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے اُن کی صحبت اختیارکریں میرے اس شعر کے مصداق:
بڑوں کی جب سے صحبت میں مجھے سونپا گیا ہے
مجھے مٹی سے وہ سونا بناتے جا رہے ہیں
Today News
بیرونی قرضوں، واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ
اسلام آباد:
پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی84 فیصد تک بڑھ گئی، حجم1.91ارب ڈالر سے بڑھکر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر8 فیصد تک شرح سے سود ادا کر رہا ہے،ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کے قرضے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.32ارب ڈالر ادا کئے گئے، خالص بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال1.71ارب ڈالر اضافہ ہوا، 11.44ارب ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی، 3 ارب ڈالرکمرشل قرضہ جس میں 32.70 کروڑ ڈالرسود شامل ہے ادا کیا۔
آئی ایم ایف کو 58کروڑ سود سمیت 2.10 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 18.8کروڑ ڈالرسود سمیت 1.56ارب ڈالر، اے ڈی بی کو61.5 کروڑ سود سمیت 1.54ارب ڈالر،عالمی بینک کو 41.9کروڑ سود سمیت 1.25ارب ڈالر، سعودیہ کو3.3 کروڑ سود سمیت 81 کروڑ ڈالر ادا کئے، سعودی سیف ڈیپازٹس پر 20.3کروڑ ڈالرسود ادا کیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال یورو بانڈ کے 50 کروڑ ڈالر،چین کو سیف ڈیپازٹس پر23.9 کروڑ سود سمیت 40 کروڑ ڈالر، جرمنی کو 10.7 کروڑ، فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کئے گئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا 27.70 کروڑڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔
Today News
کروڑوں ڈالرز قرض کو دھچکا، میڈیکل کمپلیکس کی زمین متنازع نکلی
اسلام آباد:
حکومت پاکستان کا چینی مارکیٹ میں پہلی بار پانڈا بانڈ کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنیکا منصوبہ انتظامی اورقانونی رکاوٹوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 2 منصوبوں کیلیے غلط مقامات کے انتخاب نے معاملے کو پیچیدہ بنادیا،جن میں 76کروڑڈالر مالیت کاجناح میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہے۔
پاکستان کمزورکریڈٹ ریٹنگ کے باعث براہِ راست چینی قرض مارکیٹ میں داخل نہیں ہوسکتا،حکومت نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اورایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی کریڈٹ گارنٹی حاصل کی ہے،تاہم ان اداروں نے شرط عائدکی ہے کہ قرض صرف ماحول دوست اورگرین منصوبوں پر خرچ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آزادکشمیر میں ٹیلی میٹری منصوبے کے ایک مقام پر اعتراضات سامنے آئے،جسے بعد ازاں بھارت کے اعتراض پر فہرست سے نکال دیاگیا۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسی کے تحت متنازع علاقوں میں فنڈنگ نہیں کی جاسکتی۔ادھر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے اسلام آبادکے سیکٹر ایچ16 میں مختص زمین پر نجی ملکیت کے دعوے سامنے آئے،جس پر ضامن اداروں نے تحفظات ظاہرکیے۔
وزیراعظم نے جولائی 2024 میں منصوبے کاسنگِ بنیادرکھاتھا، تاہم بعد ازاں زمین کے واجبات کے دعوے سامنے آنے پر حکومت کومقام تبدیل کرناپڑا،منصوبہ اب سیکٹر ایچ11منتقل کر دیاگیا۔
ذرائع کاکہناہے کہ مجموعی 25 کروڑڈالرمیں سے تقریباً 15کروڑ 20 لاکھ ڈالر دومنصوبوں پر خرچ کیے جانے تھے،جن میں 76.5ملین ڈالر انڈس بیسن کے 26 مقامات پرریئل ٹائم ڈسچارج مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کیلیے مختص تھے،جبکہ 76 ملین ڈالر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے رکھے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایاکہ وزارتِ خزانہ کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں،ایکسٹرنل فنانس ونگ نے قرض کے معاہدوں،انڈررائٹرز اور چینی قانونی مشیروں کی تقرری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہاکہ بیوروکریسی کومکمل طور پر اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ اب متبادل مالی ذرائع کی تلاش میں ہے اورغیر ملکی بینکوں سے اضافی قرض پر بات چیت جاری ہے،جن میں 60 کروڑڈالرکاقرض بھی شامل ہے،جو برطانوی بینک سے حاصل کیاجارہاہے۔
Today News
سعودی عرب میں یوم تاسیس کا رنگا رنگ آغاز، 300 سالہ تاریخ کے جشن میں شہر جگمگا اٹھے
ریاض:
سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جہاں دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجا دیا گیا اور فضاء جشن کے نعروں سے گونج اٹھی۔
سعودی شہری پہلی سعودی ریاست کے قیام کے 300 سال مکمل ہونے پر تاریخی دن کو بھرپور جوش و خروش سے منا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور عوامی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس دن کو باقاعدہ قومی سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2022 میں دی تھی۔
تاریخی طور پر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے 1744 میں رکھی جس کی یاد میں ہر سال یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے آج سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں خصوصی شوز، ثقافتی مظاہرے اور موسیقی کی محافل جاری ہیں جہاں سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو کر قومی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad