Connect with us

Today News

امریکا، اسرائیل، ایران جنگ اور پاکستان کا مستقبل!

Published

on


عالمی سیاست ایک بار پھر ایسے پیچیدہ اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس جنگ کے اثرات پوری دنیا کے توازن کو بدل سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں یہ کشیدگی اب ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تنازع محض طاقت کے تصادم تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، سفارتی اتحادوں اور خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں کہاں کھڑا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

سب سے پہلے اس جنگ کے عالمی اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا مرکز ہے، اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔

خصوصاً آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، سمندر کا یہ تجارتی راستہ سب سے حساس نقطہ بن چکا ہے۔ اگر یہاں رکاوٹ مزید بڑھتی رہی تو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتں نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیں گی ۔

یہ جنگ عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں کو بھی جنم دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ خطے کی کچھ قوتیں کھڑی نظر آتی ہیں، جب کہ ہمارے خطے کی بڑی طاقتیں چین اور روس محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر بلاکس کی سیاست کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے، جہاں اصولوں سے زیادہ مفادات کو اہمیت حاصل ہوگی۔اس صورتحال میں پاکستان کے لیے چیلنجز بھی ہیں اور مواقع بھی۔ سب سے بڑا چیلنج معاشی ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی مشکلات، یہ سب ایسے مسائل ہیں جو اس جنگ کے باعث مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

دوسرا اہم پہلو پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی پوزیشن ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی گہرے اقتصادی روابط ہیں۔

دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کا ساتھ دینا آسان نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بہتر حکمت عملی متوازن اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔

پاکستان کو اس بحران میں ثالثی اور سفارت کاری کے کردار پر غور کرنا چاہیے، تاکہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی کردار ادا کر سکے۔
اس جنگ کے تناظر میں پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو اس کی اسٹریٹیجک اہمیت ہے۔

گوادر پورٹ اور سی پیک جیسے منصوبے اس خطے میں پاکستان کو ایک اہم اقتصادی اور جغرافیائی مقام دیتے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن اگر پاکستان دانشمندانہ پالیسی اختیار کرے تو وہ اس صورتحال کو ایک موقع میں بھی بدل سکتا ہے۔

تاہم سب سے اہم سوال پاکستان کے اندرونی استحکام کا ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک وہ اندرونی طور پر مستحکم نہ ہو۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں پاکستان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔

اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو بیرونی بحران پاکستان کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ جنگ پاکستان کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی سیاست میں کمزور معیشت اور غیر واضح پالیسی رکھنے والے ممالک ہمیشہ دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

اگر پاکستان کو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو اسے اپنی معیشت کو مضبوط، خارجہ پالیسی کو واضح اور داخلی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی صرف ایک جنگ نہیں بلکہ اب عالمی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس تبدیلی میں کچھ ممالک فائدہ اٹھائیں گے، کچھ نقصان اٹھائیں گے، اور کچھ کو اپنی سمت کا تعین نئے سرے سے کرنا ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی کا ہے۔ اگر ہم نے درست فیصلے کیے تو یہ بحران ہمارے لیے ایک موقع بن سکتا ہے، ورنہ یہ ایک اور چیلنج ثابت ہوگا جو ہماری مشکلات میں اضافہ کرے گا۔کیونکہ عالمی سیاست میں ایک اصول ہمیشہ قائم رہتا ہے:جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ لیتی ہیں، وہی اپنا مستقبل محفوظ بناتی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ آج ہوگا

Published

on


اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت متوقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط آج سپریم کورٹ میں ہوں گے۔

تقریب میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کی قیادت میں ترک وفد شرکت کرے گا، جو 6 سے 9 اپریل تک پاکستان کے دورے پر ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس میں عدالتی تربیت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے گا۔

اس موقع پر ضلعی عدلیہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون کو بھی اہم محور بنایا جائے گا، جبکہ عدالتی اصلاحات کے شعبے میں باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق متوقع ہے۔

تقریب میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور عدالتی خودمختاری و قانون کی حکمرانی کے فروغ پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی اس تقریب کو براہ راست نشر کیا جائے گا، جس میں معزز جج صاحبان اور اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، ترک وفد اپنے دورہ پاکستان کے دوران ٹیکسلا اور لاہور کے تاریخی مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان 45 روزہ سیز فائر پر بڑی پیشرفت

Published

on


امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اے این ایف کا ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن، 8 ملزمان گرفتار

Published

on


اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 7 آپریشنز کے دوران 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 8 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 220.98 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی۔

سی پیک روڈ پنجگور کے قریب ایک گاڑی سے 138 کلوگرام آئس، 29 کلوگرام ہیروئن اور 9 کلوگرام چرس برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

اسلام آباد میں کھنہ پل کے قریب گاڑی سے 8.4 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جہاں ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔

لاہور کے بند روڈ پر موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان کے قبضے سے 5 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی، جبکہ اشرف شہید پوسٹ کے قریب مزید 2 ملزمان سے 520 گرام ہیروئن برآمد کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

پشاور میں یونیورسٹی کے قریب ایک ملزم سے 1 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ راولپنڈی میں ایئرپورٹ روڈ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم سے 50 گرام آئس اور 10 گرام کوکین برآمد کی گئی۔ چاغی کے علاقے کلی رسول بخش کے قریب جھاڑیوں سے 30 کلوگرام افیون بھی برآمد کی گئی۔

اے این ایف حکام کے مطابق تمام کارروائیوں کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending