Today News
امریکا، اسرائیل، ایران جنگ: عالمی نظام اور پاکستان
امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اپنی تباہ کاریوں کے ساتھ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی۔ رعونت اور کروفر کے ساتھ روزانہ بیان ہوتا ہے کہ اب تک اتنے ہزار ٹارگٹ بمباری ہو چکی۔
اب کوئی خاص ٹارگٹس بچے نہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے مزاحمت نے جارح حکومتوں سمیت دنیاکو بھی حیران کر دیا ہے۔
امریکی اڈوں کے میزبان ممالک پر ایران کی جوابی کارروائیوں نے انرجی مارکیٹ اور ان ممالک کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیل نے دوسری جانب بیروت کو غزہ 2 بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔
امریکا کو واحد پشیمانی یا رکاوٹ عالمی انرجی مارکیٹ کی سپلائی چین تہ و بالا ہونے سے ہوئی کہ امریکی شہریوں کو تیل کی قیمتوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔
فنانشل مارکیٹوں کے اضطراب نے امریکا کو پریشان ضرور کیا ہے لیکن اب تک بدقسمتی سے دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں نمایاں نہیں ہیں۔
جنگ میں ایران تو تباہی کا شکار ہوا ہے لیکن عالمی نظام بھی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ رول بیسڈ ورلڈ کا ڈھانچہ بھی لڑکھڑا رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کی ترجیحات، ان کی اوڑھی ہوئی انسانی حقوق، عالمی قوانین کی اوڑھنی اور عالمی اداروں کی تقدیس کے سالہاسال کے بھاشن بھی بارود کی نذر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تاریخی شعور کے مطابق عالمی سیاست کے مضبوط نظر آنے والے ڈھانچے اکثر بڑے بحرانوں کے دوران اپنی کمزوریاں دکھا دیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بھی یہی منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی جیوپولیٹیکل نظام کی عیاریوں اور منافقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔
توانائی کی سپلائی چین سے لے کر عالمی مالیاتی منڈیوں تک ہر سطح پر بے یقینی ہے اور اس کا اثر پاکستان جیسے ممالک تک براہِ راست ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کا مرکز ہے۔
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی مائع گیس بھی اسی راستے سے ایشیا اور یورپ تک جاتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے پر عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب اور بے یقینی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ تیل مہنگا اور ترسیل مشکل ہو رہی ہے۔
عالمی معیشت جہاں پہلے ہی بلند شرح سود اور سست روی کا شکار ہے، وہاں بڑھتی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انرجی بحران سے امریکا بھی محفوظ نہیں۔
گیسولین کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، بنیادی خوراک کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ چکی ہیں، یوں امریکی شہریوں کے روزمرہ اخراجات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
یورپ کا سیاسی اور سیکیورٹی معاملہ پیچیدہ ہے۔ وہ جنگ میں شامل نہیں، مگر امریکا کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے مکمل غیرجانبدار بھی نہیں۔
روس، یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران سے پہلے ہی دوچار ہے اور اب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے مزید غیریقینی پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اعداد وشمار کے مطابق یورپی یونین کے گیس ذخائر گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے کم ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتیں یورپ میں بھی بلند ہیں۔
اس پس منظر میں معروف فرانسیسی ماہر معاشیات Thomas Piketty نے معروف اخبار Le Monde کے اپنے حالیہ مضمون میں عالمی نظام کی موجودہ کمزوریوں پر روشنی ڈالی۔
پکیٹی، جو اپنی کتاب Capital in the Twenty First Century کے ذریعے عالمی معاشی عدم مساوات پر بحث لے کر آئے، کہتے ہیں کہ یورپ کو محض تماشائی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی اقتصادی اور سیاسی قوت کو منظم کرنا ہوگا تاکہ عالمی نظام میں متوازن کردار ادا کر سکے۔
پکیٹی کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حکومت کی پالیسی تک محدود نہیں۔ یہ عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
بڑی طاقتیں جب داخلی دباؤ اور سیاسی تقسیم اور انتشار کا شکار ہوں، تو اکثر بیرونی محاذوں پر طاقت کا اظہار کرتی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لمحات میں عالمی توازن میں نئی ترتیب بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اثرات یکساں نہیں۔ China اور India سمیت ایشیا کی بڑی معیشتیں وقتی طور پر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین کی بے یقینی سے متاثر ضرور ہوئی ہیں مگر خاموشی سے اپنی صنعتی و تجارتی ترقی پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی نمو کا دوتہائی حصہ اب ایشیا سے آ رہا ہے۔ اگر امریکا طویل عرصے تک جنگوں میں الجھا رہا، تو عالمی توازن غیرمحسوس انداز میں ایشیا کے حق میں مزید تیزی سے جھکے گا۔
جدید معیشت کی اصل قوت صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی حکمت عملی ہے اور اس کے لیے پائیدار امن ضروری ہے جس کا اصل فائدہ ایشیائی ممالک اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات کئی جہتوں میں ہیں۔ توانائی کی ضروریات کا تقریباً ستر فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ ملک پہلے ہی بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی توازن کے مسائل سے دوچار ہے۔
مزید برآں پاکستان ایک پیچیدہ مگر اہم سفارتی توازن سنبھالنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں جن میں پینتیس فیصد یورپی یونین اور اٹھارہ فیصد امریکا کو جاتی ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر خلیجی ممالک سے تقریباً تیس ارب ڈالر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان عالمی اقتصادی جال میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ ممالک کے ساتھ تعلقات بہت قریبی بھی ہیں اور ضرورتوں کے ساتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یوں خطے میں طویل کشیدگی توانائی، سفارت اور تجارت تینوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی صرف جنگ نہیں بلکہ عالمی نظام کے نئے مرحلے کی علامت ہے۔ توانائی کی منڈیوں کی بے چینی، مالیاتی غیریقینی اور بڑی طاقتوں کی عسکری کشمکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو سیاسی، علاقائی اور معاشی توازن کر برقرار رکھنا لازمی ہے جو عملاً اتنا آسان نہیں۔ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی تنازع میں الجھنے سے بچا جا سکے۔
اندرونی سطح پر بھی ضروری ہے کہ سیاسی استحکام، بہتر گورننس، اقتصادی استحکام اور سرحدوں پر امن و سکون ہو۔
ان اقدامات سے پاکستان نہ صرف مزید محفوظ ہوگا بلکہ اسے ایک مضبوط، فعال اور متوازن عالمی کھلاڑی کے طور پر اپنا وجود منوانے اور کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
Today News
پیٹرولیم قیمتیں حلال یا حرام ایڈجسٹمنٹ؟ مزمل اسلم کا دلچسپ اور سخت ردعمل
پشاور:
خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ایڈجسٹمنٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں اسی نوعیت کے فیصلے کو حرام اور آئی ایم ایف مخالف ایڈجسٹمنٹ قرار دیا گیا تھا، جبکہ آج اسی اقدام کو حلال ایڈجسٹمنٹ کہا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 24 روپے فی لیٹر ایڈجسٹمنٹ دی تھی۔
ان کے مطابق اس وقت یہ بندوبست صارفین پر اضافی ٹیکس لگائے بغیر کیا گیا تھا، لیکن اس فیصلے کو میڈیا اور اپوزیشن نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے حرام اور آئی ایم ایف مخالف قرار دیا گیا۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تقریباً اسی صورتحال میں کھڑی ہے اور اسے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی۔
ان کے مطابق حکومت نے مجبور ہو کر 23 ارب روپے کا فرق پورا کیا، جو ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 75 روپے فی لیٹر اور پیٹرول میں 50 روپے فی لیٹر کے برابر بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا تھا، جبکہ آج پیٹرول پر 105 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق دوسری جانب تیل کے اسٹاک کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو غیر معمولی فائدہ ہوا ہے اور ان کا منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
مزمل اسلم نے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 358 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔
جبکہ صرف ایک ہفتے میں مٹی کے تیل کی قیمت تقریباً دگنی ہو کر 170 روپے فی لیٹر تک بڑھائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مٹی کا تیل عام طور پر غریب طبقہ استعمال کرتا ہے اور اسے پیٹرول اور ڈیزل سے بھی زیادہ مہنگا کر دیا گیا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔
Today News
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں، ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی حیران کن دعوے کرتے ہوئے خطے کی صورتحال کو مزید سنجیدہ قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں جبکہ ایران اب تک امریکا کی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاہم اس بارے میں ابھی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہوگی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے اہم آئل ٹرمینل واقع خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ حملوں میں تباہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس جزیرے پر تفریح کے لیے شاید مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
Today News
اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید
تہران:
ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اور اعلیٰ فوجی کمانڈر شہید ہو گئے۔ ایرانی فوج نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے میں بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صیہونی ادارے کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد وطن کے دفاع کے دوران بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی نے جامِ شہادت نوش کیا۔
حکام کے مطابق وہ دشمن کے حملے کے وقت دفاعی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سیکیورٹی افسران شہید ہو چکے ہیں، جن کی شہادت کی باضابطہ تصدیق بھی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اپنے فوجی کمانڈروں کی شہادت کے باوجود دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی اور ملکی دفاع میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport