Connect with us

Today News

امریکی تنہائی اور جنگ کے بڑھتے عالمی اثرات

Published

on


ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی شہید ہوگئے۔ ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیزکردیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں تاریخ، سیاست، معیشت اور عسکری طاقت ایک دوسرے میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ ان کو الگ الگ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اب کسی ایک خطے یا چند ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ، نظریات اور عالمی قیادت کی کشمکش ہے جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بظاہر ایک مضبوط اور خود مختار پالیسی کا اظہار ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہری سفارتی تنہائی چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ امریکا طویل عرصے سے عالمی اتحادوں کا محور رہا ہے، خصوصاً نیٹو جیسا طاقتور عسکری اتحاد اس کی قیادت میں کام کرتا رہا ہے، مگر موجودہ صورتحال میں جب یہی اتحادی امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کر رہے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکا کی عالمی قیادت کمزور ہو رہی ہے یا دنیا ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

نیٹو پر تنقید اور یورپی رہنماؤں، خصوصاً فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون، کے بیانات پر سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مغربی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں۔ یورپ کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ وہ اس کے طویل المدتی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یورپ پہلے ہی یوکرین جنگ کے اثرات، توانائی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک نئی جنگ میں شامل ہونا اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے امریکا کے قریبی اتحادیوں کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں ’’اندھا اتحاد‘‘ کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ممالک اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، چاہے اس کا مطلب امریکا جیسے طاقتور اتحادی سے فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری جانب ایران نے جس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، وہ ایک وسیع تر علاقائی پیغام کا حصہ ہے۔ ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوگا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے دراصل ایک ’’ڈیٹرنس‘‘ پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دشمن کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے اتحادی ہیں اور سیکیورٹی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں، دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک رکھا ہے، مگر کسی بڑی عسکری کارروائی سے گریز کیا ہے۔

اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کے باعث۔ حالیہ حملوں میں تہران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل اس موقع کو ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اس حکمت عملی کے بھی خطرات ہیں،کیونکہ ایران کے پاس براہِ راست اور بالواسطہ جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے، جیسا کہ لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں اس کے اتحادی گروپوں کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے۔

لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وادی بقاع میں حملے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ جنگ ایک ’’ پراکسی وار‘‘ سے نکل کر ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگر حزب اللہ جیسے گروہ مکمل طور پر اس جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں تو اسرائیل کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا اور فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کی سپلائی کس قدر غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ اور ایل این جی کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کسی عالمی مالیاتی بحران سے کم نہیں ہوں گے۔دنیا کے درجنوں ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک نے ہنگامی اقدامات کے طور پر ایندھن کی بچت کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، جیسے کہ کم ورکنگ ڈیز، ریموٹ ورک اور ایندھن کی راشننگ۔ یہ اقدامات وقتی طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور سرمایہ کاروں کا غیر یقینی صورتحال کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی کساد بازاری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں خلیجی جنگوں کے دوران دیکھا گیا تھا۔

امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ انسداد دہشت گردی عہدیدار کا استعفیٰ اور اس کا یہ کہنا کہ جنگ اسرائیل کے دباؤ کے باعث شروع ہوئی، امریکی پالیسی سازی میں موجود اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلافات مستقبل میں امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر عوامی سطح پر بھی اس جنگ کے خلاف ردعمل بڑھتا ہے۔

ایران کے اندر انسانی نقصان بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سیکیورٹی اقدامات، جیسے کہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران داخلی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہے۔

اگر اس جنگ کے ممکنہ مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو کئی خطرناک منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ مزید پھیل کر ایک مکمل علاقائی جنگ بن جائے، جس میں خلیجی ممالک، لبنان اور شاید دیگر طاقتیں بھی شامل ہو جائیں۔ دوسرا یہ کہ عالمی طاقتیں براہِ راست مداخلت کریں، جس سے یہ تنازع ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ طویل جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر سب سے زیادہ ہوں گے۔تاہم ایک مثبت امکان بھی موجود ہے، اور وہ ہے سفارت کاری کا راستہ۔ اگر عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، چین اور دیگر غیر جانبدار طاقتیں مؤثر کردار ادا کریں تو جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے تمام فریقوں کو لچک دکھانی ہوگی اور اپنے فوری مفادات سے بالاتر ہو کر طویل المدتی استحکام کو ترجیح دینی ہوگی۔

 یہ جنگ ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جدید دنیا میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ٹیکنالوجی نے فاصلے ختم کر دیے ہیں، وہاں کسی ایک خطے میں جنگ کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔

آخرکار، سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا کیسی ہوگی۔ کیا ہم ایک زیادہ غیر مستحکم، تقسیم شدہ اور خطرناک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ہم اس بحران سے سبق سیکھ کر ایک زیادہ متوازن اور پرامن عالمی نظام کی تشکیل کر سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، اور تاریخ ان کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کرپشن کی تلاش – ایکسپریس اردو

Published

on


اس دن ’’کرپشن‘‘پر ایک بہت بڑے دانا دانشور کا دانش اوردانائی سے بھرپورکالم بلکہ مضمون بلکہ مقالہ پڑھ کر منہ سے بے اختیار عش عش نکلنا شروع ہوگیا اوراس وقت تک نکلتا رہا جب تک ہم پر غشی طاری نہیں ہوئی لیکن غشی میں بھی پہلے کی طرح یہ سوال ٹونگیں مارتا رہا کہ آخر یہ کرپشن ہے کیا؟جس کے اتنے چرچے ہیں اورہربار ہماری یہی کیفیت ہوجاتی ہے جب اس ناہنجار، نابکار، خدائی خوار،سراسر آزار اور سب کے سر پر سوار کرپشن کا نام سنتے ہیں یاکسی کالم میں پڑھتے ہیں یاکسی بیان میں دیکھتے ہیں کہ ایک مدت سے ہم اس کاذکر تو سنتے آئے ہیں لیکن کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کرپشن آخر چیز کیا ہے ؟ جو ہے بھی اورنہیں بھی بلکہ جہاں ہوتی ہے وہاں نہیں ہوتی ہے اورجہاں نہیں ہوتی وہاں ہوتی ہے کیا یہ کوئی پھل ہے ؟ سبزی ہے ، پکوان ہے؟ چرند ہے، پرند ہے یا خزند و درند ۔ بالکل وہی صورت حال ہے جو کسی شاعر کو کسی چیز کے بارے میں درپیش تھی کہ

 کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے ؟

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ہے ؟

 نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

 تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے ؟

بلکہ کبھی شک ہوتا ہے کہ دوا بھی ہے شفا بھی اورنشہ بھی ، صرف اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں نے چکھی ہے وہ اسے میٹھا،بہت میٹھا اوربہت ہی میٹھا بتاتے ہیں ، کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی نشہ ہو۔ اورہماری اس سے عدم واقفیت اورناآشنائی کی ایک وجہ تویہ ہے کہ ہماری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوریہ بہت بڑی شے ہے ،آخر جب ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے تو وہ کوئی معمولی چیز تو ہوہی نہیں سکتی ، دوسرے یہ کہ ہم ٹھہرے اردومیڈیم اوریہ ہے میم یعنی انگلش میڈیم بلکہ اس سے بھی اونچی کیٹگری کی چیز، اورتیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ بالکل بھی نہیں ہوتی کہیں بھی نہیں ہوتی اورذرہ بھربھی نہیں ہوتی ، ظاہرہے کہ جب کوئی چیز ملک میں ہوتی ہی نہیں تو اس ملک کے لوگ اس کے بارے میں کیسے جانتے ہوں گے ،آپ کسی افغان سے ریل کے بارے میں، کسی عرب سے مچھلیوں کے بارے میں اورکسی تاجک سے ہاتھی کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو کیابتائے گا ؟ ہمارے ملک میں سب کچھ اتنا شفاف ہے کہ ذرا سادھبہ بھی پڑے تو دور سے نظر آجائے گا۔

سنا ہے اس سلسلے میں ہماری حکومت نے بلکہ حکومتوں نے بھی بہت کوشش کی ہے، بڑے بڑے محکمے بنائے، ادارے قائم کیے اوربڑے ماہرین کو تعینات کیا لیکن نہ تو اس کاکوئی سراغ ملا ، نہ کوئی کلیو اورنہ اتہ پتہ ، بلکہ کہیں شائبہ بھی نہیں پایا گیا، ہم نے خود اپنا ٹٹوئے تحقیق اتنا دوڑایا اتنادوڑایا کہ بیچارے کی سانس پھول گئی لیکن کم بخت کہیں بھی نہیں ملی، اس ملک میں جو کچھ بھی ہوتا ہے صاف وشفاف اورکرپشن لیس ہوتا ہے، مثال کے طور پر سیاست کو لے لیجیے ، بالکل صاف وشفاف جمہوریت دودھ کی دھلی ہوئی اورپارٹیاں اورلیڈر ، گنگا شنان۔

 الیکشن کو لے لیجیے ، سنا ہے دوسرے ملکوں میں جب ہوتے ہیں ،کرپشن بھرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں، دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوکریں، ہمارے الیکشن اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ شیشہ بھی اس کے آگے خجل ہوجائے اورپھر اس الیکشن کے نتیجے میں جو جمہوری شہنشاہ جلوہ گر ہو جاتے ہیں، وہ اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ ایج جی ویلز کا ناول ’’ان وزیبل مین ‘‘ یاد آجاتا ہے اوران کے پاس جو مینڈیٹ ہوتا ہے واہ جی واہ ، اس میں کرپشن کا نام و نشان تک نہیں ہوتا اورہاں فنڈز۔

 زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا

 کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

کسی نے بتایا تھا کہ کرپشن کو سرکاری محکمے اور ادارے بہت پسند ہوتے ہیں لیکن یہ بھی صرف افواہ نکلی، الزام نکلا جھوٹ نکلا، کیوں کہ ہم خود اپنا ٹٹوئے تحقیق لے کر سرکاری دفاتر میں گئے ، محکموں میں ڈھونڈا، اداروں میں دیکھا ،کہیں بھی کرپشن کا نام ونشان نہیں پایا بلکہ ہمارے کہنے پر ہمارے ٹٹوئے تحقیق نے اپنی ناک کااستعمال بھی کیا لیکن کہیںسے ہلکی سی ’’سمیل‘‘ (smell)بھی کرپشن کی نہیں آئی۔ اس کے بعد ہم نے تھانوں پٹوارخانوں میں تلاش کیا وہاں تو کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھا ہم نے جب اس کانام لیاتو لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کرتوبہ توبہ کرنے لگے کہ اس منحوس ، ایمان چوس ، ضمیر بھوس کرپشن کا یہاں کیا کام؟ یہاں آئے تو ہم اس کی ٹانگیں توڑ کر اس کے ہاتھوں میں نہ دیں ، اس کی آنکھیں نکال کر کانوں میں نہ لٹکا دیں ۔یہاں مایوس ہوکر ہم نے کچہریوں کا رخ کیا کہ اکثر ایسے ویسے لوگ یہاں آتے جاتے رہتے ہیں، شاید یہاںاس کاکوئی سراغ ملے ، لیکن یہاںبھی کم بخت نہیں ملی ،ایسے ویسے لوگوں کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا ہے کہ ایسے ویسے لوگ یہاں آکر نیک یعنی سدھرجاتے ہیں کیوں کہ یہاں جو ’’صالحین ‘‘ بیٹھے ہوتے ہیں ان کی صحبت اتنی پرتاثیر ہوتی ہے کہ اگر کالا چور بھی آئے تو سفید ہوجاتا ہے بلکہ اس تلاش میں ہمیں یہ پتہ چلاکہ صرف ہم ہی اسے تلاش نہیں کررہے ہیں بلکہ اوربھی بہت سارے لوگ اسے کھوج رہے ہیں، کئی سرکاری ادارے بھی اس کی ڈھونڈ میں پریشان ہیں تاکہ اسے ڈھونڈکر کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے، اس کے ساتھ آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹیں۔ مطلب یہ کہ

تمام شہر ہی اس کی تلاش میں گم تھا

 میں اس کے گھر کاپتہ کس سے پوچھتا یارو

اب آپ ہی انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لے کر بتائیں کہ ایسے صاف وشفاف ’’کرپشن لیس‘‘ ملک میں ہم اس بدمعاش ، بدقماش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اورجب کرپشن یہاں ہے ہی نہیں تو ہم کیاجانیں کہ کرپشن کیاہوتی ہے ، کیسی ہوتی ہے اورکہاں ہوتی ہے ؟

نہ شعلہ میں کرشمہ نہ برق میں یہ ادا

 وئی بتائے کہ وہ شوخ تندخو کیا ہے ؟

اب آپ سے انصاف بلکہ تحریک انصاف کرکے بتائیں کہ ہم ایسے صاف وشفاف ملک میں اس بدمعاش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اور جب یہاں کرپشن ہے ہی نہیں تو ہم کیا بتائیں کہ کرپشن کیسی ہوتی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایک اسلامی ملک عید کا چاند نظر آگیا؛ آج بروز جمعرات عید الفطر منائی جائے گی

Published

on


طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے متعدد علاقوں سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مختلف صوبوں میں شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح افغانستان میں عید الفطر آج (بروز جمعرات) عید الفطر منائی جائے گی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ شوال کا چاند فرح، ہلمند اور غور سمیت کئی علاقوں میں دیکھا گیا جس کے بعد عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر 4 ہزار 596 قیدیوں کو رہا جب کہ 4 ہزار 407 قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی۔ 

افغان حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کی نماز اور دیگر تقریبات کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ یہ تہوار پرامن ماحول میں منایا جا سکے۔

یاد رہے کہ آج سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، عراق، یمن، لبنان، کویت، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں شوّال کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس لیے عید بروز جمعہ 20 مارچ کو ہوگی۔

جمعرات کو جن ممالک میں چاند دیکھا جائے گا ان میں پاکستان سمیت ترکیہ، انڈونیشیا، ملیشیا، برونائی، سنگاپور، سعودی عرب، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، عراق کے کچھ حصے، عمان، اردن، شام، مصر، لیبیا، تیونیس، الجزائر، مراکش، اور موریطانیہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں چاند کی رویت کے لیے الگ الگ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں روایتی رویت کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ بعض جگہوں پر فلکیاتی حسابات اور دیگر ممالک کے اعلانات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق چاند کی رویت ہر سال موسمی حالات اور جغرافیائی پوزیشن کے باعث مختلف ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں عید کے دن میں فرق آ جاتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے عید الفطر خوشی اور شکرانے کا تہوار ہے جو رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد منایا جاتا ہے اور اس موقع پر خصوصی عبادات اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی دہشت گردی کا تدارک

Published

on


1990 میں پاکستان کی اپوزیشن نے امریکا کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کا ثبوت یوں تو امریکا نے متعدد بار دیا مگر دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے والے موجودہ صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ ماضی میں امریکا کا کوئی صدر قائم نہیں کر سکا تھا مگر آج یہ حالات ہوگئے ہیں کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے جارحانہ مزاج کے حامل صدر کو آبنائے ہرمز پر امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی ان کی مدد سے انکار کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کھلوانے کے لیے اپنے بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔ اس انکار کے جواب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، جرمنی اور نیٹو نے ہماری مدد نہ کی تو اس کا مستقبل برا ہوگا، اس لیے اب چین اور جنوبی کوریا آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کھلوائیں۔

امریکی صدر یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کا اس عالمی گزرگاہ سے کوئی تعلق ہے نہ مفاد کیونکہ اس کی بندش سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہاں سے امریکی جہاز تیل لے کر آتے ہیں مگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں تیل کی قلت پیدا کی ہے جس سے نرخ بھی بڑھے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی خام تیل 2 فی صد مہنگا ہوگیا ہے اس قیمت میں اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایران کو بھی آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ایران کی طرف سے بھی کہا گیا کہ دنیا میں تیل کی قلت اور مہنگائی ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو کر 6 سو روپے فی لیٹر تک قیمت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت تو اپنے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھنے کے انتظار میں رہتی ہے تاکہ پٹرولیم مہنگا اور حکومت کی آمدنی بڑھتی رہے کیونکہ پاکستان میں پٹرول، بجلی و گیس حکومت کی اہم کمائی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کو پٹرولیم کمپنیوں، بجلی بنانے والے اداروں میں اپنوں کو نوازنا ہوتا ہے اور ہر حکومت میں اپنوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ دو امریکی صدور جارج بش اور ان کے والد صدر بش کے دور سے دنیا میں امریکی دہشت گردی میں اضافہ ہوا تھا اور امریکا نے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دو مسلم ممالک عراق اور لیبیا پر جھوٹے الزامات لگا کر حملہ کیا تھا اور وہاں کی قیادت تبدیل کرا کر وہاں اپنے حامی حکمران مسلط کرائے تھے اور وہاں تیل کی پیداوار اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی بے لگام طاقت نے دنیا بھر میں عالمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس سے امریکی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں کو محدود کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ دوسری بار صدر بن کر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طاقت کے بے روک استعمال میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ وہ منتخب ہونے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دنیا میں ایسا غلط کام کیا ہے کہ جس سے امریکا کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والے ممالک بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ منفرد کام بھی کر دکھایا کہ امریکی فوج کے ذریعے رات کے وقت وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرایا اور امریکا لا کر وہاں دونوں کو قید کر رکھا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران وہاں مسلط کرکے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لیا جو اب امریکا کی مرضی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عراق، لیبیا اور وینز ویلا کے تیل پر قبضے کے بعد امریکی صدر نے اپنے اعلانات پر عمل کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی حملہ کرایا۔ ایران پر حملے سے خود امریکی اور دنیا حیران ہے کہ وہاں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر خود امریکی صدر کا مقصد ایران کے تیل پر بھی قبضہ کرنا تھا جس کے لیے انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کو جواز بنایا اور ایرانی قیادت کو تبدیل کرانے کی کوشش کی اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو شہید کرا کر دنیا کو حیران اور ایرانیوں کو مشتعل اور متحد کرا دیا۔ اپنے پہلے منصوبے میں امریکا نے ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرائے جن میں ناکام ہو کر امریکا ایک طرف ایران سے مذاکرات بھی کرتا رہا جس کی کامیابی کی امید دیکھ کر امریکا نے ایران پر خود حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی کرایا۔ ایران سے مذاکرات کی کامیابی کا امریکا کو خوف تھا اور اس نے اپنے اصل مقصد کے لیے ایران پر حملہ کرنا ہی کرنا تھا جو اس نے کیا مگر ایرانیوں کے جذبوں کے باعث دو ہفتوں سے حملوں میں ناکام رہا ہے۔ امریکی دہشت گردی کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں جس پر اب اس کے اتحادی بھی اب اس کا ساتھ نہیں دے رہے اب امریکی اتحادیوں، یورپی یونین اور مسلم ممالک کو مل کر دنیا کو امریکی دہشت گردی کا تدارک کرنا ہوگا تاکہ دنیا امریکی جارحیت سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Trending