Connect with us

Today News

امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان

Published

on


ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکا کے دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کی تصدیق بھی ہوگئی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل نے ایران پر کیے جانے والے اپنے پہلے طے حملوں مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سی این این سے گفتگو میں اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ جمعہ کے روز اس وقت کیا گیا جب ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے کے دو اہلکاروں کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

اسرائیلی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ قدم اٹھایا تاکہ جاری سرچ اینڈ ریسکیو مشن متاثر نہ ہو اور امریکی فورسز کو اپنے اہلکاروں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی دوران ایک امریکی F-15E لڑاکا طیارہ ایران میں گرایا گیا تھا، جس کے بعد ایک اہلکار کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش تاحال جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی گورنر نے اعلان کیا ہے جس شہری نے امریکی پائلٹ کو پکڑا یا گرفتاری میں مدد دی اُسے 70 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اسلام آباد میں ایران-امریکا ‘بریک تھرو’ مذاکرات ہوتے ہوتے رہ گئے

Published

on



پاکستان نے خلیجی جنگ روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بھرپور خاموش سفارتی کوشش کی اور دو مرتبہ یہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا۔

حکومت کے پس منظر میں ہونے والی سفارت کاری سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد حال ہی میں دو مختلف اوقات میں ایرانی عہدیداروں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے دورے کے لیے تیار ہوئے تھے۔

جے ڈی وینس کی دونوں دفعہ اسلام آباد کے دورے کی کوششیں عین وقت پر تہران کی جانب سے اندرونی مشاورت اور بالآخر شرکت کے خلاف فیصلے کے بعد ناکام ہوئیں۔

حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی وفد اپنے نائب صدر کی سربراہی میں گزشتہ چند روز میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو تیار تھا، ہم بہت قریب تھے، گزشتہ 10 روز کے دوران دو مرتبہ ہم انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار تھے بدقسمتی سے دونوں مواقع پر ایران نے نظرثانی کی اور اپنی ٹیم نہیں بھیجی۔

پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے غیرجانب دار کردار کی پوزیشن سرگرم انداز میں برقرار رکھی ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر پیش کش بھی کیا ہے۔

یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کی علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر کوششیں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کے پیش نظر کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

وفاقی حکومت کے عہدیدار نے نشان دہی کی کہ امریکا نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی جبکہ ایران موجودہ حالات کے تحت مذاکرات میں شمولیت کے خطرات کا زیادہ محتاظ انداز میں جائزہ لے رہا تھا، ‘مجھے کہنے دیجیے ہم ایرانی جواب سے کسی حد تک مایوس بھی ہوئے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘امریکا کے حوالے سے ان کے تحفظات حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت قابل فہم ہیں لیکن سفارت کاری کو ہمیشہ موقع دینا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے نازک موقع پر’۔

حکومتی عہدیدار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوشش کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ تہران میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مذاکرات کے لیے دورے کی تیاری کرلی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ طے شدہ دورہ سیکیورتی خدشات کے باعث نہیں ہوسکا اور ایرانی حکام کی جانب سے آگاہ کردیا گیا کہ موجودہ حالت کے پیش نظر سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوگی جس کے باعث پاکستان کو اپنا دورہ مؤخر کرنا پڑا۔

حکومتی عہدیدار کے بیانات خطے میں جاری پس پردہ ہونے والی فعال سفارتی سرگرمیوں کی ایک بڑی جھلک کا عکاس ہیں، یہ ایسی کوششیں ہیں، جو عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

پاکستان کا کردار یہاں ثالثی تک محدود نہیں رہا، اس کا سفارتی عمل اور خاص طور پر اسرائیل پر تنقید کو خلیج کے مخصوص ممالک میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا جس کا عکس 19 مارچ کو ریاض میں منعقدہ 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا جہاں یہ ممالک خطے کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔

عہدیدار کے مطابق اجلاس سے چند لمحے قبل ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا بعد میں اسحاق ڈار بھی اس فون کال میں شامل ہوئے، اس دوران عباس عراقچی نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ اجلاس کا مشترکہ بیان یک طرفہ یا ایران پر غیرمتناسب تنقید کے ساتھ نہیں ہو۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوا تھا جب پورے ریاض میں ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن بج رہے تھے۔

پاکستانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے دوران بیان کا ایک ڈرافٹ دیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر ایران کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، پاکستان نے ڈرافٹ کی زبان پر سخت اعتراض کیا اور مؤف دیا کہ اس میں بحران کی بنیادی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے زور دیا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور بنیادی مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں’ اور کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد پاکستان کو ڈارفٹ میں اہم ترامیم، غیرجانب داری یقینی بنانے اور الزامات میں کمی لانے میں کامیابی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا یہ سخت مؤقف تمام شریک کاروں کو اچھا نہیں لگا، چند ممالک اسلام آباد کی پوزیشن پر ناخوش نظر آئے اور اس کو ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردانہ طور پر دیکھا گیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ کسی ایسے فوجی یا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے محتاط بھی رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں کثیرالملکی ٹاسک فورس کی ممکنہ تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی ہے، ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدام کو بعض لوگ ممکنہ طور پر اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔

یہ محتاط حکمت عملی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی، جس کا مقصد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا، اسلام آباد نے دعوت مسترد کر دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اقدام پاکستان کے کشیدگی کم کرنے اور غیر جانب داری کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔



Source link

Continue Reading

Today News

یہودی ہو تو بری ، فلسطینی ہو تو پھانسی

Published

on


دو ہزار بائیس میں اسرائیلی تاریخ کی سب سے متشدد ، نسل پرست ، توسیع پسند مخلوط حکومت کی تشکیل کی سودے بازی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے یہودی آبادکار اتمار بن گویر کی جماعت جیوش پاور ( اوتزما یہودت ) نے نیتن یاہو کے سامنے جو شرائط رکھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’ فلسطینی دھشت گردوں ‘‘ کو سزاِ موت دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

 انیس سو باسٹھ میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمین کی پھانسی کے بعد سے اب تک اسرائیل میں کسی کو تختہِ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔آئخمین سے قبل انیس سو اڑتالیس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر مائر توبیانسکی کو غداری کے جرم میں فوجی عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی دی گئی۔تاہم بعد از موت مقدمے کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے مائر توبیانسکی کو عدالتی ریکارڈ میں بے گناہ لکھا گیا۔

انیس سو چون میں سپریم کورٹ نے عام قتل کے لیے سزاِ موت کو پینل کوڈ سے خارج کردیا اور صرف غداری اور نازی جنگی مجرموں کے لیے ہی موت کی سزا برقرار رکھی گئی۔انیس سو اٹھاسی میں نازی مجرم جان دیمانک کو سزاِ موت سنائی گئی تاہم انیس سو ترانوے میں سپریم کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔

  سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک نوے فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ، ٹارچر یا علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی بھلے جیل میں ہوں یا جیل سے باہر۔ان کی زندگی ویسے بھی ارزاں ہے۔سزاِ موت کے قانون کے نفاذ سے بس اتنا ہو گا کہ فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو ’’ قانونی ‘‘ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

اس قانون کی منظوری سے کئی ماہ پہلے ہی بدنامِ زمانہ اوفر جیل میں پھانسی گھاٹ تعمیر کر دی گئی۔قومی سلامتی کے وزیرِ بن گویر جب بھی اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرتے تو اپنے گلے کے گرد دونوں ہاتھوں سے حلقہ بنا کر فلسطینی قیدیوں کو جتاتے کہ تم سب پھانسی کے حقدار ہو۔

اتمار بن گویر کتنا بڑا ذہنی مریض ہے ؟ ایک قصہ سن لیجیے۔ولید دقا فلسطینی ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ولید کو ’’ دہشت گردی ‘‘ کے الزامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک فوجی عدالت نے انیس سو اسی کے عشرے میں اڑتیس برس قید کی سزا سنائی۔دو ہزار تئیس میں ولید نے اپنی سزا مکمل کر لی مگر رہا کرنے کے بجائے دیگر قیدیوں کی اہلِ خانہ سے رابطہ کاری میں ’’ مدد ‘‘ کے جرم میں ولید کی سزا میں مزید دو برس کی توسیع ہو گئی۔اپریل دو ہزار چوبیس میں ولید کا قید خانے میں ہی باسٹھ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔انھیں کینسر تھا۔

 اتمار بن گویر نے اپنے دکھ کا اظہار کچھ یوں کیا ’’ مجھے ولید کی طبعی موت کا بہت افسوس ہے۔میرا بس چلتا تو اپنے ہاتھ سے پھانسی دیتا ‘‘۔( ولید کی لاش آج تک اسرائیلی سرد خانے میں قید ہے )۔

تیس مارچ کو پارلیمنٹ میں اس قانون کے لیے فائنل ووٹنگ ہوئی۔اجلاس کی خاتون صدر منظوری کا اعلان کرتے ہوئے مارے خوشی کے رو پڑیں۔ نیتن یاہو کے ووٹ سمیت بل کے حق میں باسٹھ اور مخالفت میں سینتالیس ووٹ آئے۔بن گویر نے اسمبلی فلور پر شیمپین کی بوتل کھولتے ہوئے کہا کہ ’’ اب ہم مجرموں کو ایک ایک کر کے گنیں گے اور آگے بھیجیں گے ‘‘ ( یعنی تختہِ دار پر لٹکائیں گے )۔

یہ غالباً دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے جس کے تحت اگر کسی فلسطینی پر کسی یہودی کی جان لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو اسے لازماً نوے دن کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔فوجی عدالت سادہ اکثریت سے بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ جب کہ کوئی یہودی اگر غیر یہودی ( فلسطینی ) کو قتل کر دے تو اسے زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس قانون کا اطلاق محض اسرائیل کی حدود میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر بھی ہوگا جہاں گذشتہ انسٹھ برس سے مارشل لا نافذ ہے اور آج فلسطینی کسی بھی جرم میں حراست میں لیے جائیں ان میں سے ننانوے اعشاریہ چوہتر فیصد کو کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی سزا سنائی جاتی ہے۔جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد یہودیوں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں اور ان کو ملنے والی عدالتی سزاؤں کا تناسب ( کنوکشن ریٹ ) محض ڈھائی فیصد ہے۔یعنی سو میں سے ستانوے یا اٹھانوے ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔

ان بری ہونے والوں میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے دیہاتوں سے چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بندوق کی نوک پر بے دخل کرنے ، زمینوں اور باغات پر قبضہ کرنے کے لیے قتل ، ریپ اور اغوا کی ساڑھے سات ہزار وارداتوں میں ملوث وہ سیکڑوں مسلح یہودی آباد کار بھی شامل ہیں جن کے خلاف فردِ جرم عموماً دو پیشیوں کے بعد داخلِ دفتر ہو جاتی ہے۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تین سو ساٹھ بچوں اور تہتر خواتین سمیت ساڑھے نو ہزار سے اوپر فلسطینی قید ہیں۔ان میں سے محض ایک ہزار پر باقاعدہِ فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔باقی قیدیوں کو کئی کئی برس سے انتظامی نظر بندی کے مبہم قانون کے تحت رکھا جا رہا ہے۔ان کی قید میں ہر چھ ماہ بعد توسیع کر دی جاتی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف کی رولنگ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں مغربی کنارہ ، غزہ اور گولان کا علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل ایک قابض ریاست ہے چنانچہ اسرائیلی پارلیمنٹ مقبوضہ علاقے کے لیے قانون سازی کی مجاز نہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر والکر ترک نے اس قانون کے مقبوضہ علاقے میں نفاذ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔اسی بنیاد پر اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس  اور پارلیمنٹ کے دو ارکان نے نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

 یورپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، متعدد عرب اور غیر ممالک نے اس قانون کو بین الاقوامی نظائر کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں۔مگر اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح تمام ردِ عمل کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔امریکی کانگریس اور سینیٹ میں تو اس بابت کسی قرار داد ِ مذمت کے منظور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

فلسطینیوں کو سزاِ موت دینے کا قانون اس فیصلے کے ایک ماہ بعد نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت سدی تمیم کے بدنامِ زمانہ فوجی کیمپ میں فلسطینی قیدیوں کے اجتماعی ریپ کے مجرم تمام فوجیوں کے خلاف حکومت نے فردِ جرم واپس لے لی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

مہنگا پٹرول، عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ

Published

on


وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271.27 جب کہ ڈیزل 496.97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایکسپریس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں درآمدی قیمت اس پر عائد ڈیوٹی ٹیکسوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کرایوں میں 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔لاہور سے کراچی کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہو گیا، لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کردیا گیا۔

 پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکومتی فیصلوں کی سمت نہ صرف معاشی اشاریوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے حکومت نے عالمی حالات، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی اور ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کے اندرونی پہلوؤں، حکومتی ترجیحات اور معاشی ڈھانچے کی کمزوریوں کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نظر آتی ہے۔

پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ تاریخی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ انحصار محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ پالیسی سازی کی ناکامیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ ماضی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں، تب بھی توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے اس رفتار سے آگے بڑھے جس کی ضرورت تھی، نہ ہی مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، ہائیڈرو پاور یا شمسی توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً آج جب عالمی سطح پر بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یقیناً ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس بحران کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دینا ہی واحد راستہ تھا؟ حکومت نے ایک طرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ یہ تضاد عوامی سطح پر بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔معاشی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بحران کے وقت بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

ٹیکس نظام پہلے ہی محدود دائرے میں کام کر رہا ہے، جہاں چند طبقات مسلسل بوجھ اٹھا رہے ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور استثنیٰ موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بارہا تنقید کی زد میں رہی ہے، مگر اصلاحات کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ ایسے میں پٹرولیم لیوی کا سہارا لے کر ریونیو بڑھانا ایک آسان مگر نقصان دہ راستہ ہے، جو معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ایک چین ری ایکشن کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ حالیہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بوجھ کس تیزی سے عام آدمی تک منتقل ہو رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا دکاندار اس اضافے کو کس طرح برداشت کرے گا، اس کا کوئی واضح جواب حکومتی پالیسیوں میں نظر نہیں آتا۔

یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں خوراک کی بنیادی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انتظامی ناکامی، مارکیٹ ریگولیشن کا فقدان اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بدانتظامی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل نہ صرف حل طلب ہیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان اداروں کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے؟ یا ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے دعوے بھی حقیقت سے زیادہ قریب نہیں لگتے۔

اگرچہ وزراء کی تنخواہوں میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی جیسے اعلانات کیے گئے، مگر مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بیوروکریسی کے اخراجات، سرکاری مراعات اور غیر ضروری منصوبے بدستور جاری ہیں۔ ایسے میں جب عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ یکطرفہ محسوس ہوتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے بھی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہیں۔ قرضوں کے حصول کے لیے حکومت کو سخت شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہوتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط کو قبول کرنے سے پہلے کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی؟ کیا معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود ہے؟

پاکستان کی معاشی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بار بار بیرونی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت قلیل المدتی ریلیف کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظرانداز کرتی رہی ہے۔ نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ ایک قسط کی ادائیگی کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کا آسان ترین ذریعہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حالیہ اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جب مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر براہ راست مہنگائی پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک معاشی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری جانب آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کرے۔ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور مستحق طبقے کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل المدتی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔اگر موجودہ پالیسیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، نہ کہ ہر بحران کا بوجھ ان پر ڈال دے۔یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا راستہ عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے اور یہ اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب فیصلے شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہوں۔ بصورت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending