Connect with us

Today News

امریکی و ایرانی اعلیٰ وفود مذاکرات کیلیے آج پاکستان پہنچیں گے

Published

on



اسلام آباد:

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کرنے جا رہا ہے جہاں جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت پر مشتمل وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے۔

ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات کے وقت اسلام آباد پہنچیں گے۔

ان کے ہمراہ اہم امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہوں گے جو ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ امریکی ٹیم کی معاونت کے لیے 23 رکنی عملہ پہلے ہی وفاقی دارالحکومت پہنچ چکا ہے جس میں سکیورٹی اور سفارتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج رات اسلام آباد پہنچیں گے جہاں دونوں ممالک کے درمیان اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو ہفتے کی صبح باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے گا۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستانی وزیراعظم کو اعتماد میں لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے.





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سانحہ جلیانوالہ باغ کا بدلہ کس نے لیا؟

Published

on


ماہ اپریل 1919 کا زمانہ تھا، برصغیر پر برٹش سرکار کا سامراجی نظام قائم تھا۔ یہ بات دیگر تھی کہ برصغیر میں آزادی کی لہر بیدار ہو چکی تھی اور پنجاب کے لوگوں نے میدان عمل میں قدم رکھ دیے تھے۔ دوسری جانب گورنر پنجاب جنرل ڈائر بھی تمام حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ چنانچہ پنجاب کے عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جنرل ڈائر نے بزور قوت نمٹنے کا فیصلہ کیا اور ایک قانون رولز ایکٹ پنجاب بھر میں نافذ کر دیا۔

اس قانون کے تحت پنجاب پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو گیا تھا کہ وہ جس شہری کو جب چاہے گرفتار کر سکتی تھی اور اپنی حراست میں جب تک چاہے رکھ سکتی تھی، کوئی وجہ بتانا بھی ضروری نہ تھا۔ ان حالات میں پنجاب کے لوگوں میں غم و غصہ پایا جانا فطری عمل تھا، چنانچہ 9 اپریل 1919 کو رام جل تہوار تھا لیکن لوگوں کے اجتماعات پر حکومت پنجاب نے پابندی لگا دی۔

10 اپریل کو بھرپور احتجاج ہوا، بالخصوص امرتسر میں حکومت پنجاب نے قوت کا بے دریغ استعمال کیا، بہت سارے لوگ جاں بحق ہوئے 11 اپریل کو پورے امرتسر میں یوم سوگ منایا گیا۔ 12 اپریل کو بھی امرتسر شہر میں حالات کشیدہ رہے۔ 13 اپریل کو وساکھی کا میلہ تھا مگر حکومت پنجاب نے قوت کے زور سے یہ روایتی میلہ جلد ختم کروا دیا۔

دوسری جانب گولڈن ٹیمپل سے چند قدم دوری پر جلیانوالہ باغ میں احتجاج کا اعلان ہو چکا تھا چنانچہ وساکھی کے میلے میں آئے لوگ اس احتجاج میں شرکت کی غرض سے چلے آئے۔ احتجاج کرنے والوں میں ہندو، مسلم، سکھ سبھی شریک تھے۔ اس کیفیت میں گورنر پنجاب جنرل ڈائر کے حکم سے پولیس جلیانوالہ باغ میں داخل ہو گئی اور بلااشتعال فائرنگ کر دی۔ 1900 لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، 400 افراد جاں بحق ہوئے، 1500 افراد زخمی ہوئے، ان لوگوں میں بزرگ، بچے، خواتین، نوجوان سبھی شامل تھے۔ ہم نے مختصر ترین الفاظ میں کوشش کی ہے کہ جلیانوالہ باغ سانحہ کا ذکر کریں۔ جنرل ڈائر اس سانحے کے بعد برطانیہ واپس چلا گیا۔

اس پر فرضی مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن اسے بری کر دیا گیا۔ برٹش سرکار نے یہ تاثر دیا کہ جنرل ڈائر نے پنجاب فتح کر لیا ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ جنرل ڈائر نے ہندوستان کھو دیا تھا۔ البتہ ان تمام حالات میں ایک نام بڑے واضح طور پر ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ نام ہے ادھم سنگھ کا۔ ادھم سنگھ اس سانحے کے وقت وہاں موجود تھا اور اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ احتجاج میں شریک لوگوں کو پانی پلا رہا تھا۔ ادھم سنگھ نے تمام حالات خود دیکھے تھے اس نے عہد کیا کہ اس قتل عام کے بدلے جنرل ڈائر کو لازمی قتل کرے گا۔

چنانچہ قبل اس کے وہ برطانیہ جاتا وہ پنجاب بھر میں برٹش سرکار مخالف پر تشدد تحریک میں شریک ہو گیا ایک اور حریت پسند رہنما کا ذکر یہاں بے محل نہ ہوگا۔ وہ تھا بھگت سنگھ جوکہ سانحہ جلیانوالہ باغ کے وقت 12 برس کی عمر میں اپنے بزرگوں کے ساتھ وہاں موجود تھا اور تمام حالات کا چشم دیدگواہ بھی تھا۔ بھگت سنگھ نوجوانی میں قدم رکھتے ہی آزادی کی تحریک میں شریک ہو گیا تھا۔ بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ دونوں نے مل کر برٹش سرکار مخالف تحریک میں بھی حصہ لیا۔ 23 مارچ 1931 کو جس روز بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی اسی روز ادھم سنگھ کو رہا کر دیا گیا یہ دونوں منٹگمری جیل میں بھی ایک ساتھ رہے۔ ادھم سنگھ و بھگت سنگھ سرابھا سنگھ و مدن لال ٹھیکرے کی جدوجہد سے بے حد متاثر تھا۔

اس دوران ادھم سنگھ کے ماموں اور ممانی نے اس کی شادی کے لیے کوششیں کیں مگر وہ بات کو ٹال جاتا۔ البتہ 1934کو ادھم سنگھ برطانیہ پہنچ گیا وہاں اس کی ملاقات کامریڈ چون اور کامریڈ صورت علی سے ہو گئی اگرچہ اور لوگ بھی تھے جوکہ برصغیر کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ اب ادھم سنگھ کا سارا وقت ان لوگوں کے ساتھ گزرنے لگا۔ لندن ہی میں ادھم سنگھ کی ملاقات ایک جرمن لڑکی سے اتفاقیہ ہو گیا۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ ترقی پسند نظریات رکھنے والی ایک کامریڈ ہے چنانچہ ان دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ادھم سنگھ نے اس جرمن لڑکی کو اپنے ارادے سے مطلع کر دیا کہ وہ لندن کس مقصد سے آیا ہے اس جرمن لڑکی نے ادھم سنگھ کا بہت ساتھ دیا اور اس جرمن لڑکی نے ادھم سنگھ کو جنرل ڈائر کے گھر ملازمت بھی دلا دی۔

ادھم سنگھ اگر چاہتا تو آسانی سے جنرل ڈائر کو قتل کر دیتا مگر اس کا موقف تھا کہ اس طرح یہ خیال کیا جائے گا کہ ایک ملازم نے اپنے مالک کو ذاتی رنجش کی بنا پر قتل کر دیا۔ ادھم سنگھ چاہتا تھا کہ جنرل ڈائر کے قتل کا چرچہ پوری دنیا میں ہو اور لندن کی عدالت میں بھرپور دلائل دیے چنانچہ بالآخر 12 مارچ 1940 کو ادھم سنگھ کو یہ معلوم ہو گیا کہ کل 13 مارچ کو جنرل ڈائر ساؤتھ کنگسٹن ہال لندن میں ایک لیکچر دے گا۔ ادھم سنگھ نے اس خوشی میں اپنے ساتھیوں کو مٹھائی کھلائی، سب نے مٹھائی کھلانے کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی مگر ادھم سنگھ نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ آنے والی کل کیا کرنے جا رہا ہے۔

چنانچہ 13 اپریل 1940 کو وہ پوری تیاری کے ساتھ ایک کتاب کے اندر اپنی پستول رکھ کر کنگسٹن ہال میں لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ جنرل ڈائر کو دعوت خطاب دی گئی اس نے چند الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ ادھم سنگھ نے فائرنگ کر دی۔ جنرل ڈائر زمین بوس ہو گیا اور چند لمحوں کے بعد اس کا کھیل تمام ہوا۔ پوری دنیا میں ایک شور برپا ہو گیا، کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم چیمبرلین نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ ناکامی یہ کہ وہ جنرل ڈائر کی حفاظت یقینی نہ بنا سکے۔ پورے ہندوستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، البتہ موہن داس کرم چند گاندھی جی نے جنرل ڈائر کی موت پر اظہار افسوس کیا اور برطانوی حکومت سے تعزیت بھی کی۔ گاندھی جی شاید بھول گئے تھے کہ جنرل ڈائر چار سو ہندوستانیوں کا قاتل تھا۔

 لندن میں مقیم صورت علی کامریڈ وچون و دیگر ہندوستانیوں نے ادھم سنگھ کو سزا سے بچانے کی کوشش بھی کی اور ایک ایڈووکیٹ کا انتظام بھی کیا مگر ادھم سنگھ کا اسرار تھا کہ میں نے جنرل ڈائر کو قتل کیا ہے جو سزا دینی ہے دو۔ وہ مسلسل عدالت و مجسٹریٹ کی توہین بھی کرتا رہا۔ مجسٹریٹ نے ادھم سنگھ کو سزائے موت سنا دی۔ سزا سن کر وہ انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ یہ ضرور تھا تمام تر عدالتی کارروائی کے دوران وہ فقط پنجابی میں گفتگو کرتا رہا ،البتہ 31 جولائی 1940 کو ادھم سنگھ کو پھانسی دے دی گئی۔ یوں ایک چراغ بجھا مگر ہزاروں چراغ روشن ہو گئے۔ آزادی کی جنگ میں مزید شدت آ گئی اور برصغیر کے لوگ جیت گئے برطانوی سامراج شکست کھا گیا۔

14 اگست 1947 کو پاکستان قائم ہوا۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہو گیا۔ یہ جغرافیائی آزادی تھی سماجی آزادی کی آج بھی ضرورت ہے۔ بہر کیف 13 اپریل 2026 کو جلیانوالہ باغ سانحہ کو ایک سو سات برس مکمل ہو جائیں گے، البتہ جب جب جلیانوالہ باغ سانحہ کا ذکر ہوگا تو ادھم سنگھ کا ذکر لازمی ہوگا جس نے 1899 میں مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں میں جنم لیا اور 31 جولائی 1940 کو 41 برس کی عمر میں دھرتی پر قربان ہو گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مذاکرات کا نتیجہ مذاکرات سے پہلے

Published

on


مذاکرات کے چلتے چلتے دو راؤنڈ ہوئے اور بند دروازے بند کے بند رہے۔ ان دروازوں کے بند ہونے اور وہ لوگ جو ان کے پیچھے بیٹھے تھے، انھیں یہاں تک لانے میں 47  برس لگے ۔ اتنا وقت ایک جگہ بیٹھنے میں لگا ہو تو تھوڑا وقت فیصلے میں بھی لگ جائے تو زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔اس تاخیر پر ایک خیال تو یہی تھا لیکن اندیشہ ہائے دور دراز لا تعداد تھے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن وہ جو کہتے کہ الانتظار اشد من الموت۔ تو بات یہ ہے کہ ہم لوگ نتیجے کے انتظار میں بیٹھے رہے اور ہماری کیفیت وہی رہی جو اس عربی محاورے میں کہی گئی ہے۔ یہ انتظار برحق لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک نتیجہ ان مذاکرات کا مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی آ چکا تھا اور یہ نتیجہ وہی تھا جس کا ہمیں انتظار تھا یعنی جنگ بندی۔ یہ اہم نہیں ہے کہ جنگ بندی ایک دن کی ہے، پندرہ دن کی یا کسی طویل مدت کے لیے ہے۔ یہ نتیجہ کیوں اہم ہے؟ یہ بات ہم سمجھ سکیں تو معمہ حل ہو جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی موجود تھی کہ وہ ایرانی تہذیب کا نام و نشان مٹا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے جو الٹی میٹم دیا تھا، اس کے گزرنے میں دو چار گھنٹے ہی باقی تھے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا ایکس ہینڈل بول پڑا۔ انھوں نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی، فریقین نے جس کا خیر مقدم کیا پھر جنگ بندی ہو گئی۔ کیا وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ ٹویٹ کوئی منتر پڑھ کر کیا تھا کہ یوں کارگر ثابت ہوا؟

ایک منتر تو انھوں نے پڑھا تھا لیکن یہ منتر کسی سامری جادو گر والا نہیں بلکہ ایک اور قسم کا تھا۔ قدرت کا ایک قانون ہے، اس کائنات کا نظام جس کے تحت چلتا ہے۔ قانون یہ ہے کہ پوری نیک نیتی کے ساتھ محنت کر کے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان نے یہی کیا تھا۔ پاکستان گزشتہ برس بارہ روزہ جنگ سے اب تک ایران امریکا کشیدہ صورت حال سے وابستہ رہا ہے اور اس آگ کو بجھانے کی کوششوں میں شریک رہا ہے۔

ان کوششوں میں کچھ وہ ہیں جن کی تفصیل سب جانتے ہیں جیسے اسلام آباد میں چار اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس۔ اجلاس کے فوراً بعد اسحاق ڈار کا دورہ ٔبیجنگ۔ یہ دو واقعات ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن اس سرگرمی کے ساتھ منسلک سفارتی رابطوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو رات کے پچھلے پہر آنے والے ٹویٹ کو ہاتھوں ہاتھ کون لیتا؟ ٹویٹ آئی تو پاکستانی قیادت کے بارے میں ایک جملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ باوقار اور شان دار لوگ ہیں۔

چلیے صدر ٹرمپ کے بارے میں ہمارے کچھ تحفظات ہوں گے لیکن یہی تو وہ ٹویٹ تھا جس کے آنے پر ایران کے عوام پاکستانی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اس کے پس پشت ایک ہی راز تھا کہ ہماری سول ملٹری قیادت یعنی وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دن رات کی پروا کیے بغیر ایک مٹھی بن کر پورے اخلاص نیت کے ساتھ کام کیا جس کا پھل اللہ نے جنگ بندی کی صورت میں دیا۔ اس محنت کے نتیجے میں صرف جنگ بندی نہیں ہوئی۔ ذات خداوندی نے پاکستان کو ایسی عزت سے نوازا جس کے لیے قومیں ترستی ہیں۔

ان مذاکرات کا یہی نتیجہ ہے جو مذاکرات سے پہلے انعام کی صورت میں میسر آ گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر مذاکرات میں کیا ہوتا رہا کہ نتیجے آنے میں دیر لگی؟ یہ داستان طویل بھی ہے اور درد ناک بھی۔ مسائل جب طول پکڑتے ہیں تو الجھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات میں مسائل کی الجھی ہوئی اسی ڈور کو سلجھانے کی کوشش کی گئی۔ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ہاتھوں سے لگائی ہوئی گانٹھیں دانتوں سے کھولی گئیں۔

ان مسائل، گرہوں اور گانٹھوں کی نوعیت کیا ہے؟ ان مسائل کی ایک نوعیت تو وہی ہے جن کے بارے میں سب جانتے ہیں یعنی آبنائے ہرمز کا مستقبل، لبنان پر اسرائیل کے حملے، ایران کے لیے ایٹمی توانائی اور میزائل ٹیکنالوجی کا حق اور ایران کے ضبط شدہ اثاثوں سمیت ایسے ہی بہت سے دوسرے مسائل۔ یہ مسائل بھی پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے بھی وقت درکار ہے لیکن کچھ مسائل ان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان مسائل کی ایک صورت عین اس وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔

مارک تھیسن وائٹ ہاؤس کے تقریر نویسی کے شعبے کا ڈائریکٹر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں مذاکرات کے دوران اس کا مضمون شائع ہوا جس میں اس نے لکھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو ان راہنماؤں کو بھی قتل کر دیا جائے جنھیں مذاکرات کے لیے زندہ چھوڑا گیا ہے۔ مارک تھیسن امریکا میں ایران کی مخالفت کرنے والے ان بہت سے طبقات کی علامت ہے جو مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں۔ مارک تھیسن کی دھمکی کا ایک پہلو یہی ہے کہ ایران کو حسب خواہش معاہدے کے لیے دباؤ میں لایا جائے لیکن تھوڑی سی توجہ دی جائے تو ایک بات اور بھی سمجھ میں آتی ہے یہ کہ کچھ اسی قسم کا یا اس سے کچھ کم دباؤ امریکی مذاکرات کاروں پر بھی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ طرفین کے مذاکرات کاروں کی ذمے داری دوہری ہے۔ اصل مسئلہ بھی حل کرنا ہے اور مذاکرات کو ناکام بنانے والوں کو بھی ناکام بنانا ہے۔ جنگ کے دوران پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پس منظر میں کہا جاتا تھا کہ وہ تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے۔ بالکل اسی طرح مذاکرات کار بھی تنے ہوئے رسے بلکہ پل صراط پر چلے۔ اس لیے نتیجے میں دیر جائز تھی۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور وہ بھی ایسے جن کا نتیجہ جنگ بندی کی صورت میں سامنے آ چکا تھا۔

ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہیں دانتوں سے کھولتے کھولتے فریقین کا سانس ٹوٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی مذاکرات کا یہ دور بھی لیکن امکانات برقرار ہیں اور جنگ بندی بھی۔ یہی ان مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ امید ابھی ٹوٹی نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ڈِیل ہو سکی نہ کوئی معاہدہ طے پا سکا!

Published

on


یہ کالم 12اپریل2026، اتوار کی علی الصبح ، رقم کیا جارہا ہے ۔ شدت اور بیقراری سے انتظار تھا کہ ایران ، امریکہ مذاکرات کا کوئی حتمی اور واضح نتیجہ برآمد ہو جائے تو کچھ لکھا جائے ۔ یہ توقع مگر پوری نہیں ہو سکی ۔ مایوسی بھی مگر نہیں ہے ۔ دُنیا بھر کی نظریں پچھلے تین روز سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، پر لگی تھیں ۔ اور دُنیا بھر کے کم از کم ڈیڑھ سو اخبار نویس اسلام آباد میں، براہِ راست رپورٹنگ کے لیے،اکٹھے ہوئے تھے۔پاکستان نے پورے اخلاص اور نہائت شاندار اسلوب میں میزبانی کا حق ادا کیا ہے ۔

کسی کو کوئی گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب اور وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار کی انتھک کوششوں اور بے مثال دوڑ دھوپ کی بنیاد پر ایران و امریکہ ، اسرائیل میں 38روزہ سخت جنگ میں دو ہفتوں کا وقفہ آیا ۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی ۔

مذکورہ باہمت اور پُر عزم پاکستانی لیڈر شپ کی تجاویز ہی پر تینوں متحارب ممالک کی توپیں خاموش ہُوئی تھیں ۔ یہ سیز فائر ، پاکستانی قیادت کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں، یوں بھی منتج ہُوا کہ امریکہ و ایران کسی صلح ، جنگ بندی یا مستقل متارکہ جنگ پر پہنچنے کے لیے اسلام آباد میں اکٹھے ہُوئے ۔ پاکستان کی لاجواب اور تاریخی میزبانی میں فریقین میں ڈائیلاگ کے لیے مذاکراتی میز بچھی۔ ایران اور امریکہ میں بدستور جاری ٹَف اور کشیدہ ماحول کے باوصف فریقین مکالمے کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ۔ 21گھنٹوں پر محیط تاریخی مذاکرات کے بعد بھی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا ۔

اِن مذاکرات میں ایران کی طرف سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ، جناب محمد باقرقالیباف، کی قیادت میں ایرانی وفد شامل تھا ۔ امریکہ کی جانب سے نائب امریکی صدر ، جے ڈی وانس صاحب، کی لیڈرشپ میں امریکی وفد امریکہ کی نیابت و قیادت کررہا تھا ۔ یہ مذاکرات اس لیے بھی تاریخی کہے گئے ہیں کہ پچھلے47سال کے طویل اور کشیدہ برسوں کے بعد ایران اور امریکہ میں پہلی بار مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ جب سے ایران میں آئیت اللہ روح اللہ خمینی مرحوم کا مذہبی انقلاب آیا ہے ، تب سے ایران و امریکہ میں ناراضیاں اور کشیدگیاں چلی آرہی ہیں ۔اِن ناراضیوں کی وجوہ کیا ہیں ، متعلقہ سبھی افراد اِن سے آگاہ اور آشنا ہیں ۔ ایران و امریکہ کشاکش میں امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کا ناطقہ بند کرنے اور اسے جھکانے کے لیے ہر حربہ اور ہتھکنڈہ استعمال کیا ہے ۔

ایران پر تقریباً پانچ عشروں پر محیط امریکہ نے متنوع پابندیاں عائد کیے رکھیں ۔ عراقی صدر ، صدام حسین ، کو ایران پر یلغار کرنے کی شہ دی جو آٹھ سال تک دونوں اسلامی ممالک کی بربادی کا باعث بنتی رہی ۔ ایران کا سر مگر جھکایا نہ جا سکا ۔ ایران نے گذشتہ 47برسوں میں کئی معاشی تنگدستیوں کا سامنا کیا ہے ، مگر اُس کی عسکری ترقی رک نہ سکی ۔ ایران کو جوہری اور جدید میزائل معاملات میں آگے بڑھنے سے روکنے کیلیے امریکہ نے پچھلے سال ، جون2025، میںایران پر بلا وجہ اور بے جواز حملہ بھی کیا تھا ۔ حسبِ معمول اسرائیل بھی اس کے دائیں بائیں تھا ۔ ایران پھر بھی اپنے پورے قد کے ساتھ اقوامِ عالم میں کھڑا رہا ۔

واقعہ یہ ہے کہ ایرانی مذہبی قیادت میں ایران نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور مغرب اپنی شرائط پر اُسے گھٹنوں پر نہیں لا سکتا ۔ ایرانی ہمتوں اور عزائم کی آزمائش کے لیے صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکہ نے 28فروری2026 کو ایک بار پھر متحد اور متفق ہو کر ایران پر آتش و آہن کی بارش کر دی ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے بڑھک ماری تھی کہ بس دو چار دنوں میں ایران کو شکست دے ڈالوں گا۔ ایران مگر امریکہ کے لیے ترنوالہ ثابت ہونے کی بجائے لوہے کا چنا ثابت ہُوا ہے ۔

اِس لوہے کے چنے نے بیک وقت حملہ آور اسرائیل اور امریکہ کے دانت توڑ ڈالے ہیں ۔ 38روزہ جنگ میں صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکہ اپنے مقاصد و اہداف میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ ایران کا شدید جانی و مالی نقصان تو ہُوا ہی ہے، امریکہ بھی ایران کے ہاتھوں متنوع مالی نقصانات سے بچ نہیں سکا ۔ دیکھا جائے تو عالمی میڈیا کے ساتھ خود امریکی میڈیا بھی شہادت دے رہا ہے کہ اِس 38روزہ جنگ میں شکست کا داغ امریکہ ہی کو سہنا پڑا ہے ۔

پاکستان کی کوششوں اور ایما پر امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے پہلے متارکہ جنگ اور پھر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کیلیے جس شتابی کے ساتھ ہامی بھری، یہ اِس امر کا عندیہ تھا کہ امریکہ فی الواقعہ ایران کے ساتھ محاربے سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ امریکی نائب صدر ، جے ڈی وانس، اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جس انداز میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں اُترے ، لگ تو یہی رہا تھا کہ وہ کسی حتمی نتیجے کے ساتھ ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ۔ دُنیا کو بھی اِس کی بڑی اُمید تھی ۔ پاکستان کے تینوں بڑوں نے بہترین حکمت اور صبر کے ساتھ درمیان داری اور سہولت کاری کے فرائض ادا کیے ۔

دُنیا بھر کی اعلیٰ ترین قیادتوں نے، آن دی ریکارڈ، پاکستان کے اِس تاریخی کردار کی ستائش و تحسین کی ہے ۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے مذاکرات میں شامل معزز ایرانی و محترم امریکی وفود کا جس انداز میں استقبال کیا ، اِسے بھی مدتوں یاد رکھا جائیگا۔ مذاکرات کو کامیاب کروانے کیلیے پاکستانی قیادت نے کوئی کسر چھوڑی نہیں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی حتمی اور متفقہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دُنیا بھر کے حکمران اوردُنیا بھر کا میڈیا بیقراری سے کسی حتمی نتیجے کا منتظر رہا ۔

سب سے پہلے اتوار کی صبح امریکی نائب صدر ، جے ڈی وانس، یہ کہتے ہُوئے اسلام آباد سے رخصت ہُوئے کہ ’’ہماری طرف سے ایران کو بہترین آفر کے باوجود ایران سے کوئی ڈِیل نہیں ہو سکی ۔ کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہُوا ۔ہم 21گھنٹے مذاکرات میں بیٹھے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایران کس طرح اور کب (ہماری آفرکا) جواب دیتا ہے ۔‘‘ پاکستان سے رخصت ہوتے ہُوئے امریکی نائب صدر کا یہ بیان مبہم ہے ۔

مبہم اسلیے کہ ایران کو مبینہ امریکی آفر پر پردہ پڑا ہُوا ہے ۔ اور ایرانی قیادت کی جانب سے بھی ، اِس ضمن میں، ابھی کوئی جواب سامنے نہیں آیا ۔ کم از کم اتوار کی صبح یہ سطور لکھتے وقت تک تو کوئی بھی ایرانی موقف سامنے نہیں آ سکا تھا ۔ اُمید مگر یہی ہے کہ’’فاتح‘‘ ایران کا جواب دُنیا کیلیے اطمینان بخش ہی ہوگا۔ اور اِس جواب سے سہولت کاری کے فرائض ادا کرنیوالے پاکستان کو بھی یک گونہ اطمینان ملے گا۔ ضروری مگر یہ بات سمجھی جارہی ہے کہ پاکستان کے توسط سے ایران اور امریکہ ( اور اسرائیل) کے مابین دو ہفتوں کے لیے جو سیز فائر ہُوا ہے ، اِس میں فریقین کی باہمی رضامندی کے ساتھ ایکسٹینشن کی جائے ۔

اسلام آباد (امن) مذاکرات کے دوران ایرانی اور امریکی وفود نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔اِن مذاکرات کا ایک مستحسن پہلو یہ بھی ہے ۔ یہ بات تو معروف ہے کہ ایرانی ڈائیلاگ کرنے میں بے حد تجربہ کار اور سخت ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں ۔

اب مگر دُنیا بھر میںاندازے لگائے جارہے ہیں کہ آخر کس بات پر مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں؟ کیا امریکہ کا یہ مطالبہ کہ ایران وعدہ کرے کہ نہ تو وہ ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی یورینیم افزودہ کرے گا؟ کیا آبنائے ہرمز پر بات آ کر اٹک گئی ؟ کیا امریکہ نے ایران کی تعمیرِ نَو کے لیے ایرانی تاوان ادا کرنے سے انکار کیا ہے ؟ کیا لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرنے کی ایرانی شرط پوری نہیں کی گئی ؟ کیا امریکہ ایران کی 168اسکول بچیاں شہید کرنے پر معذرت کرنے سے انکاری ہُوا ہے ؟کچھ بہرحال ہُوا ضرور ہے ۔ اندازے یہ بھی ہیں کہ ایران ، امریکہ مذاکرات کے ابھی مزید دَور ہوں گے ۔یہ منظر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد میں ایران ، امریکہ مذاکرات کے دوران بھارت و اسرائیل کے پیٹ میں مسلسل مروڑ اُٹھتے رہے ۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی میڈیا تو خاص طور پر حسد کی دہکتی آگ میں جلتے رہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending