Connect with us

Today News

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

Published

on



عالمی ضمیر کی عدالت میں جب بھی ’امن‘ کا مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو جج سے لے کر وکیل تک سبھی ایک ایسی طویل جمائی لیتے ہیں جس کی بازگشت انسانیت کے جنازے سے بھی زیادہ اونچی سنائی دیتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے منصفوں کے لیے مظلوم کا لہو اب کوئی المیہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا پرانا اور گھسا پٹا اسکرپٹ بن چکا ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ بری طرح اکتا چکے ہیں۔ یہاں امن کی میزیں تو سجائی جاتی ہیں مگر ان پر رکھا منرل واٹر پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ خون کے دھبے دھونے کے کام آتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ’امن کی مجلس‘ محض ایک کاغذی خانہ پری بن کر رہ گئی ہے، کیونکہ طاقتور ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب امن قائم کرنے کے بجائے، امن کے انتظار سے بیزار ہو چکے ہیں۔

عالمی برادری کے پاس اقوام متحدہ کی تاسیس سے دنیا کے مسلم جنگ زدہ علاقوں کے زخموں کا علاج کرنے کا ایک انوکھا ہی ڈھنگ ہے۔ دہائیوں سے اس مسئلے کو ایک انسانی المیے کے بجائے کسی پرانی ڈائری کے اس اندراج کی طرح دیکھا جا رہا ہے جسے ہر سال بس دہرانا مقصود ہو۔

’امن کی پنچایت‘ امن بورڈ یعنی ان دانا بزرگوں کی ٹولی جو مسئلے کا حل ڈھونڈنے نکلی تھی، سے اب ’امن کی بوریت‘ کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں جہاں دنیا کی اجتماعی جمائیوں کا شور گرتی ہوئی عمارتوں کے ملبے کی آواز سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

جب ہم کسی ’بورڈ‘ یا ’مجلس‘ کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں چمکتی ہوئی میزیں، مہنگا منرل واٹر اور استری شدہ سوٹ پہنے وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی گھڑیاں دیکھتے ہوئے ’شدید تشویش‘ کا اظہار کرنے کے فن میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

غزہ، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، صومالیہ، سوڈان، شام، لیبیا وغیرہ کے لیے بنائی گئیں یہ امن کی مجالس تاریخ کے وہ سب سے معتبر ادارے ہیں اور تھے، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہونے جیسا ہی رہا۔ کیونکہ ان کا اصل کام صرف کاغذ کالے کرنا رہا۔ اگر ان ’پُر زور مذمتی بیانات‘ کو لکھنے میں جلائی جانے والی توانائی کو بجلی میں بدل دیا جاتا، تو شاید غزہ دنیا کا روشن ترین خطہ ہوتا۔ اگرچہ یہ مجلس اس وقت بھی ’بجلی کی بچت‘ پر ایک طویل بیان جاری کرکے وہاں دوبارہ اندھیرا کر دیتی۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ ’مجلس‘ اب تھک چکی ہے۔ امن قائم کرنا ایک اکتا دینے والا کام ہے۔ اس کے لیے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اسلحہ بیچنے والوں کے مفادات کو قربان کرنا پڑتا ہے اور ’توبہ توبہ‘ انسانوں کو انسان سمجھنا پڑتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جنگ ایک ’فلم‘ کی طرح ہے۔ یہ ٹی وی چینلوں کو رنگین فوٹیج فراہم کرتی ہے اور بارود بنانے والوں کی تجوریاں ہری بھری رکھتی ہے۔ امن ایک خشک حساب کتاب ہے، جبکہ جنگ ایک سنسنی خیز ڈرامہ۔ آپ خود سوچ لیں کہ لوگ کسے زیادہ دیکھنا پسند کریں گے۔

’امن سے بیزاری‘ آج کے دور کا اصل ایجنڈا ہے۔ ہم ملبے اور لاشوں کی تصویریں دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، کیونکہ اب ان میں وہ ’ورائٹی‘ نہیں رہی جو ہمیں انٹرنیٹ پر چاہیے۔ ہماری ہمدردی اس حد تک تھک چکی ہے کہ اسے اب باقاعدہ ایک بیماری کا نام دے دینا چاہیے۔ اگر ہمدردی کوئی موبائل پیکیج ہوتی، تو ہم میں سے اکثر اسے ’نئے مواد کی کمی‘کی وجہ سے بہت پہلے ہی بند کروا چکے ہوتے۔

یہ بیزاری دراصل ایک ہتھیار ہے۔ جب دنیا اکتا کر نظریں پھیر لیتی ہے، تو اس ’مجلس‘ کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی نتیجے کے اپنی میٹنگیں قیامت تک جاری رکھ سکے۔ امن کا یہ عمل اس ورزش والی مشین کی طرح ہے جس پر بندہ بھاگتا تو بہت ہے، پسینہ بھی خوب نکلتا ہے، مگر پہنچتا کہیں نہیں۔ اگر یہ کوئی جم (Gym) ہوتا تو اس کی فیسیں آسمان چھو رہی ہوتیں اور بارود بنانے والی کمپنیاں اس مشین کو اسپانسر کر رہی ہوتیں۔

اگر ہم امن کی اس مجلس کو کسی کاروباری ادارے کی نظر سے دیکھیں تو طنز اور گہرا ہوجاتا ہے۔ کسی بھی دوسری کمپنی میں، اگر کوئی کمیٹی پچھتر سال تک اپنی بنیادی چیز (یعنی امن) فراہم کرنے میں ناکام رہتی، تو اسے سزا دے کر نکال دیا جاتا۔ مگر ’جنگ کی انڈسٹری‘ میں ناکامی کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔ لاکھوں روپے پہلے تعمیر کے لیے مانگے جاتے ہیں، پھر لاکھوں کا بارود اسی تعمیر کو گرانے کے لیے بیچ دیا جاتا ہے، اور آخر میں یہ مجلس ’پرانی صورتحال‘ برقرار رکھنے کی دہائی دیتی ہے۔

یہ ’پرانی صورتحال‘ یا ’جمود‘ دراصل آج تک کی سب سے دلچسپ اور منافقانہ اصطلاح ہے۔ یہ توازن کا دھوکا دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک سست رفتار خودکشی ہے۔ مگر دنیا بھر کے تماشائیوں کے لیے یہ صورتحال بڑی آرام دہ ہے، کیونکہ اس میں انہیں اپنی پالیسیاں نہیں بدلنی پڑتیں۔ یہ بالکل اس خراب فائر الارم کی طرح ہے جو کبھی نہیں بجتا، مگر ہر کوئی اسے دیکھ کر اطمینان کی اداکاری کرتا ہے۔

اصل تماشا تو ان ’امن کے سفیروں‘ کو دیکھ کر شروع ہوتا ہے۔ یہ صاحبِ جاہ و حشمت پرائیویٹ جہازوں میں آتے ہیں، مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں، بیس منٹ کے لیے کسی تباہ شدہ جگہ کا فوٹو سیشن کرواتے ہیں اور پھر پریس کانفرنس میں فرماتے ہیں کہ ’صورتحال بڑی پیچیدہ ہے‘۔ یہ ’پیچیدگی‘ دراصل ایک بیزار آدمی کا آخری بہانہ ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ ہوم ورک سے بچنے کے لیے کہے کہ ’امی، سوال بہت مشکل ہے‘۔ بیس لاکھ انسانوں کی تڑپ کو ’پیچیدہ‘ کہہ کر یہ مجلس اس فائل کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے جہاں یہ پچھلی آدھی صدی سے پڑی ہے۔

یہ مجلسیں منرل واٹر پیتی ہیں اور دنیا جمائیاں لیتی ہے، ’امن سے اکتا جانا‘ ان لوگوں کا شوق ہے جن کے اپنے گھر سلامت ہیں۔ کسی المیے سے بور ہونا اس وقت بہت آسان ہے جب آپ خود اس کا نشانہ نہ ہوں۔ غزہ کے لوگوں کے لیے امن کوئی ’بیانیہ‘ یا ’میٹنگ‘ نہیں، بلکہ ایک ایسا افسانوی کردار ہے جسے کبھی کسی نے جیتا جاگتا نہیں دیکھا۔

شاید اب اس مجلس کو برخاست کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر دنیا کی بڑی طاقتوں کی عقل صرف ایسی ’بیزاری‘ پیدا کرسکتی ہے جو ایک قوم کے مستقبل کو مٹانے میں مدد دے، تو ایسی دانشوری دیوالیہ ہوچکی ہے۔ ہمیں مزید ’سفیروں‘ یا ’نقشہ راہ‘ کی ضرورت نہیں جو بند گلیوں میں ختم ہوجائیں۔ ہمیں ایسی دنیا چاہیے جو ’جنگ سے بیزار‘ ہوچکی ہو۔ ہمیں ایک ایسی عالمی برادری چاہیے جسے بم سے اڑے ہوئے اسکول کا منظر اتنا برا اور اکتا دینے والا لگے کہ وہ اس پورے ڈرامے کو ہی بند کرنے کا مطالبہ کردے۔

تب تک، یہ مجلسیں ہوتی رہیں گی۔ منرل واٹر کے گلاس بھرے جاتے رہیں گے۔ بیانات جاری ہوتے رہیں گے۔ اور دنیا اپنے موبائل کی اسکرین اسکرول کرتی رہے گی، کسی ایسی چیز کی تلاش میں جو ایک انسانی روح کی بقا سے زیادہ ’دلچسپ‘ ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کوسٹ گارڈز کی گوادر میں کارروائی، اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرلیں

Published

on


پاکستان کوسٹ گارڈز نے گوادر کے علاقے پنوان میں کارروائی کرتے ہوئے اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈزنے اپنی انٹیلی جنس ذرائع کی منشیات اسمگلنگ کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پرگوادر کے علاقے پنوان میں کارروائی کی۔

اسنیپ چیکنگ کے دوران ایک گاڑی میں لدی ہو ئی 441 کلوگرام اعلی کوالٹی کی چرس برآمدکر لی گئی۔ خدشہ ہے کہ یہ منشیات سمندر کے راستے بیرون ملک اسمگل ہو نا تھی۔

پکڑی جانے والی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 24.31 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ 

ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈز نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈزمنشیات اور ہر طرح کی اسمگلنگ کی روک تھام کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر تی رہے گی۔

دوسری جانب اے این ایف کا ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ 8 کاروائیاں کے دوران 1 خاتون سمیت 11 ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔ 

کاروائیوں میں 1 کروڑ 67 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 167.45 کلوگرام منشیات برآمد کیں۔ کاروائیوں کا انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملی تو نیٹو کا انجام برا ہوگا، ٹرمپ کی سخت وارننگ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم انہیں نہیں لگتا کہ تہران کسی معاہدے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے معاملے پر تقریباً سات ممالک سے بات چیت کر رہا ہے اور ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل بھی اس مقصد کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر نیٹو ممالک نے اس مسئلے میں تعاون نہ کیا تو اس اتحاد کا مستقبل بہت خراب ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں شی جنگ پنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات اسی صورت میں مفید ہوگی جب وہ ممالک جو ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین، اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جنگی جہاز ہرمز کے علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

تاہم اس اپیل کے باوجود دنیا بھر سے اب تک محتاط یا خاموش ردعمل سامنے آیا ہے اور کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر اپنے بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اطلاعات کے مطابق فرانس برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا نے انکار کردیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز کا بحران: ٹرمپ کی جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل، دنیا خاموش

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکا کے ساتھ بھیجیں تاکہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے۔ تاہم اب تک کسی بھی ملک نے اس تجویز پر واضح طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس اقدام میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج کی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے ہرمز کے راستے کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کردیا اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے ٹرمپ کو انکار کردیا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا اور فرانس بھی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کرچکے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔

ادھر بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے بعد بھارتی پرچم بردار دو گیس ٹینکرز کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

عالمی سطح پر اس منصوبے پر ردعمل محتاط رہا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈپل نے اس منصوبے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

ادھر ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نے امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ ایران کی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو وہ اپنے جہاز خلیج فارس میں بھیج کر دیکھ لے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم دس آئل ٹینکرز پر حملے یا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً ایک ہزار جہاز ہرمز کے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending