Connect with us

Today News

انٹیلی جنس وزیر اسرائیل کے بزدلانہ حملے میں شہید ہوگئے؛ ایرانی صدر کی تصدیق

Published

on


ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کی اسرائیل کے فضائی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے اس بات کی تصدیق باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں جاری اپنے بیان میں کی۔

مزید پڑھیں : اسرائیل کا ایران میں دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیرے پر حملہ؛ ویڈیو وائرل

انھوں نے کہا کہ میرے عزیز ساتھیوں اسماعیل خطیب، علی لاریجانی، اور عزیز ناصرزادہ کو بزدلانہ حملے میں قتل کیا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ خاندان کے افراد اور ساتھ رہنے والی ٹیم بھی ہمارے درمیان نہ رہی۔

صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ میں ایران کے عظیم عوام سے ان دو کابینہ کے اراکین، مجلسِ عوام کے سیکرٹری، اور فوجی اور بسیج کے کمانڈروں کے شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران؛ اسرائیل کی جاسوسی کے الزام میں سویڈش شہری کو پھانسی

انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کو ہم سے جدا کرکے ہمیں بہت دکھ پہنچا گیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان شہدا نے جس راستے پر جان دی وہ جدوجہد پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل ہی اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے انٹیلی جنس منسٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملہ رات کے وقت کیا گیا۔

اسماعیل خطیب ایران کے اہم سیکیورٹی عہدیدار تھے جنہوں نے وزارتِ انٹیلی جنس کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور مسلمان ممالک اور عالمی سلامتی کے معاملات میں ان کا کردار اہم سمجھا جاتا تھا۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عالمی دہشت گردی کا تدارک

Published

on


1990 میں پاکستان کی اپوزیشن نے امریکا کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کا ثبوت یوں تو امریکا نے متعدد بار دیا مگر دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے والے موجودہ صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ ماضی میں امریکا کا کوئی صدر قائم نہیں کر سکا تھا مگر آج یہ حالات ہوگئے ہیں کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے جارحانہ مزاج کے حامل صدر کو آبنائے ہرمز پر امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی ان کی مدد سے انکار کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کھلوانے کے لیے اپنے بحری جہاز نہیں بھیجیں گے۔ اس انکار کے جواب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، جرمنی اور نیٹو نے ہماری مدد نہ کی تو اس کا مستقبل برا ہوگا، اس لیے اب چین اور جنوبی کوریا آگے آئیں اور آبنائے ہرمز کھلوائیں۔

امریکی صدر یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کا اس عالمی گزرگاہ سے کوئی تعلق ہے نہ مفاد کیونکہ اس کی بندش سے امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی وہاں سے امریکی جہاز تیل لے کر آتے ہیں مگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں تیل کی قلت پیدا کی ہے جس سے نرخ بھی بڑھے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی خام تیل 2 فی صد مہنگا ہوگیا ہے اس قیمت میں اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایران کو بھی آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ایران کی طرف سے بھی کہا گیا کہ دنیا میں تیل کی قلت اور مہنگائی ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو کر 6 سو روپے فی لیٹر تک قیمت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت تو اپنے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمت بڑھنے کے انتظار میں رہتی ہے تاکہ پٹرولیم مہنگا اور حکومت کی آمدنی بڑھتی رہے کیونکہ پاکستان میں پٹرول، بجلی و گیس حکومت کی اہم کمائی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کو پٹرولیم کمپنیوں، بجلی بنانے والے اداروں میں اپنوں کو نوازنا ہوتا ہے اور ہر حکومت میں اپنوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ دو امریکی صدور جارج بش اور ان کے والد صدر بش کے دور سے دنیا میں امریکی دہشت گردی میں اضافہ ہوا تھا اور امریکا نے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے دو مسلم ممالک عراق اور لیبیا پر جھوٹے الزامات لگا کر حملہ کیا تھا اور وہاں کی قیادت تبدیل کرا کر وہاں اپنے حامی حکمران مسلط کرائے تھے اور وہاں تیل کی پیداوار اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ کی بے لگام طاقت نے دنیا بھر میں عالمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس سے امریکی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں کو محدود کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی ماہرین قانون اور تجزیہ کاروں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ دوسری بار صدر بن کر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی طاقت کے بے روک استعمال میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ وہ منتخب ہونے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دنیا میں ایسا غلط کام کیا ہے کہ جس سے امریکا کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والے ممالک بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ منفرد کام بھی کر دکھایا کہ امریکی فوج کے ذریعے رات کے وقت وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرایا اور امریکا لا کر وہاں دونوں کو قید کر رکھا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران وہاں مسلط کرکے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لیا جو اب امریکا کی مرضی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عراق، لیبیا اور وینز ویلا کے تیل پر قبضے کے بعد امریکی صدر نے اپنے اعلانات پر عمل کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی حملہ کرایا۔ ایران پر حملے سے خود امریکی اور دنیا حیران ہے کہ وہاں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر خود امریکی صدر کا مقصد ایران کے تیل پر بھی قبضہ کرنا تھا جس کے لیے انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کو جواز بنایا اور ایرانی قیادت کو تبدیل کرانے کی کوشش کی اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو شہید کرا کر دنیا کو حیران اور ایرانیوں کو مشتعل اور متحد کرا دیا۔ اپنے پہلے منصوبے میں امریکا نے ایران میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرائے جن میں ناکام ہو کر امریکا ایک طرف ایران سے مذاکرات بھی کرتا رہا جس کی کامیابی کی امید دیکھ کر امریکا نے ایران پر خود حملہ کیا اور اسرائیل سے بھی کرایا۔ ایران سے مذاکرات کی کامیابی کا امریکا کو خوف تھا اور اس نے اپنے اصل مقصد کے لیے ایران پر حملہ کرنا ہی کرنا تھا جو اس نے کیا مگر ایرانیوں کے جذبوں کے باعث دو ہفتوں سے حملوں میں ناکام رہا ہے۔ امریکی دہشت گردی کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں جس پر اب اس کے اتحادی بھی اب اس کا ساتھ نہیں دے رہے اب امریکی اتحادیوں، یورپی یونین اور مسلم ممالک کو مل کر دنیا کو امریکی دہشت گردی کا تدارک کرنا ہوگا تاکہ دنیا امریکی جارحیت سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

رمضان، عید اور پٹرول بم

Published

on


وہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ اہلِ ایمان پر سایہ فگن رہ کر رخصت ہونے کو ہے جسے اللہ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا، رمضان اللہ کے قریب ہونے، گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے، مغفرت کے دروازوں کھلوانے، رب کو راضی کرنے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔

خوش نصیبوں نے رمضان کو اس کی شان کے مطابق گزارا ہوگا، روزوں کے اہتمام اور فرض عبادات کے ساتھ قیام الیل سے منور کیا ہوگا۔ قرآن عظیم الشان کی تلاوت کو معمول بنایا ہوگا، صدقات و خیرات کے ذریعے مستحق مخلوق کا سہارا بن کر خالق کا قرب حاصل اور اپنی لغزشوں کو معاف کروایا ہوگا۔ رمضان کا حق ادا کرنے والوں کے لئے رمضان یقیناً مغفرت، رحمت اور جہنم سے نجات کا پروانہ بن کر آتا ہے۔ رمضان باطن کی تطہیر اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان کے روزے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، یہ صبر و شکر، تقویٰ، ایثار، تحمل اور ہمدردی کو زندگی کا حصہ بنانے کا سالانہ عملی تربیتی کورس ہے۔ رمضان کو رضا الہی کا طالب بن کر گزار جایا تو روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

رمضان کی آخری ساعتیں ہیں، سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟ کہ ہماری زندگیوں میں عبادت، اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کا رنگ گہرا ہوا ہے کہ نہیں اور ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، انصاف اور خیر کی بنیادوں پر استوار کرنے اور اس کیفیت کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں اور معاشرہ دونوں کو فلاح و کامیابی کی طرف لے جائے گا انشاء اللہ۔

عید الفطر کی آمد آمد ہے، رمضان اور عیدالفطر دونوں قرب الہی حاصل کرنے، معاشرے میں اخوت و محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا ایک بڑا طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہو تو رمضان اور عید دونوں آزمائش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی نے غریبوں کی زندگی تو پہلے سے اجیرن کی تھی مگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط طبقے کا بھی جینا دوبھر کردیا گیا۔قیمتوں میں پہلے8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اورٹھیک ایک ہفتے کے بعد 55 روپے لیٹر کا ظالمانہ اضافہ کیا گیا یوں فی لیٹر قیمت میں 63 روپے اضافہ ہوا تو ماہ رمضان میں مہنگائی کا بے قابو جن دستک دیئے بغیر غریبوں کے گھروں میں دھما چوکڑی کرنے داخل ہوا تو رمضان اور عید کی خوشیاں نگل گیا۔اسلام میں ریاست صرف انتظامی ادارہ نہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ادارہ بھی ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا درخشاں دور جس کی بہترین اور واضح مثالیں ہیں۔ خلیفہ دوم امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے دو واقعات اسلامی ریاست اور حکمرانی کے تصور کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک رات مدینہ کے اطراف گشت کے دوران حضرت عمرؓ نے ایک خیمے میں بچے کے رونے کی آواز سنی۔ تو پوچھا بچے پر کیوں ظلم کرکے رولا رہے ہیں آپ لوگ؟ مجبور ماں نے اندر سے جواب دیا کہ ظالم ہم ہیں کہ خلیفہ؟

امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے پوچھا کہ خلیفہ نے کیا ظلم کیا؟ عورت نے جواب دیا کہ امیرالمومنین دودھ پیتے بچوں کو روزینہ نہیں دیتے، ہم غربت و افلاس کے مارے ہیں اس لئے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ اس کا روزینہ شروع ہوجائے، گھر میں بچے کو کھلانے کے لئے کچھ اور ہے نہیں بچہ اس لئے رو رہا ہے۔ اگر یہ واقعہ آج کے کسی حکمران کے ساتھ پیش آتا تو شاید اس غریب عورت کی جھونپڑی جلا دیتا مگر امیر المومنین بہت غمگین ہوئے اور فوراً بیت المال سے بچے کے پیدائش کے ساتھ روزینہ شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک بار کسی گھر سے بچوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم کیا تو ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال کر بھوکے بچوں کو بہلا رہی کہ سو جائیں، عمرؓ بہت غمگین ہوئے بیت المال گئے اور آٹا اور دیگر سامان عمرؓ نے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر پہنچایا۔ خادم نے بوجھ اٹھانا چاہا تو عمرؓ نے جواب دیا کہ “قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بیت المال کے نظم و نسق اور معاشی انصاف کی وجہ سے اکثر اوقات زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوجاتا تو کوئی غریب بھوکا سوتا نہ حکمرانوں کے لیے استثنا کے قوانین بنتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی پالیسیاں تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ پیٹرول بم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ شریعت مطہرہ میں حکمرانوں کو عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن یہاں ہر مشکل میں غریب کا سر ہی چکی میں دیا جاتا ہے، ریاستی جبر، بے رحمانہ اور ظالمانہ فیصلے آئیں گے تو پھر غریبوں، لاچاروں اور بے بس لوگوں کی ذمہ داری معاشرے کے آسودہ حال لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ رمضان اور عید کے مواقع پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں یہ معاشرتی ہم آہنگی ، مساوات اور خوشیاں بانٹنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر غریبوں کو مانگنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔

اگر خدانخواستہ آسودہ حال لوگ مدد نہیں کرینگے تو ان کی عید کی تیاریاں بنیادی ضروریات سے محروم غربا کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے مواقع پر غریبوں کا خیال رکھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر واضح کریں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں، مگر حقیقت ہے کہ یہ فلاحی اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں اور مستقل حل ایک متوازن شرعی معاشی نظام کے نفاذ میںہے مگر ہمارے سودی اور استحصالی معاشی نظام میں غریب کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں پٹرول بم بہت سارے بموں کی ماں بن کر غریبوں کے آنگن میں گرتا ہے، جس کے اثرات صرف کرایوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

جس ملک میں لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، روز ہزاروں گر رہے ہوں اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہو وہاں اس طرح کے پیٹرول بم عوام الناس کو جبری طور پر خط غربت سے نیچے دھکیل کر گرانے کے مترادف ہے۔ پٹرول بم، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو جنم دیتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت و معاشرت دونوں کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرایوں میں اضافے کا بم اچانک گرتا ہے، ترسیل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ کر مہنگائی بم گرانے میں دیر نہیں لگتی۔

پٹرول بم بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن کر بجلی بم گرانے میں دیر نہیں لگاتا، بجلی بم گرنے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ بھی آخرکار صارفین پر دوسرے مہنگائی بم کی شکل میں گرتا ہے۔ جو متوسط اور غریب طبقہ کے تنخواہ دار، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کی جیبوں کے ساتھ دماغ میں جاکر پھٹتا تو نوبت فاقوں سے خود کشیوں تک پہنچ جاتی ہے۔یا ریاستی معاشی بمباری کی وجہ سے ناقابل برداشت  مہنگائی مزید بڑھنے سے عوام میں بے چینی و مایوسی بڑھنے لگتی ہے جو بعض اوقات انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی مجبوریوں کی صورت میں سارے ڈاکے عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بجائے، معاشی پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیتی تو شاید عوام کو کچھ ریلیف ملتا۔ معاشی پالیسیوں میں توازن وقت کا تقاضا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو بھی جینے کا بہانہ مل جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حزب اختلاف کا ایجنڈا – ایکسپریس اردو

Published

on


گزشتہ سال ہونے والے انتخابات جمہوریت کی تاریخ کے منفرد انتخابات تھے۔ 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 2024کے انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، مگر تحریک انصاف کے حامی اراکین کی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی، یوں عمر ایوب خان قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف قرار پائے۔ اس اسمبلی میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی بھی منتخب ہوئے جن کا حزب اختلاف میں رہنے کا طویل تجربہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصرکی کوششوں سے مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف میں بظاہر ہم آہنگی پیدا ہوئی مگر بہت سے زندہ حقائق کی بناء پر تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بنانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئین میں کی جانے والی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن سے متفق نہ ہوسکی۔ عمر ایوب خان کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے مہم جوئی کی مگر حزب اختلاف نے اپنی تحریکوں میں عوام کے مسائل کو اہمیت نہ دی۔

یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی بناء پر متوقع نتائج نہ دے سکیں، مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ان تحریکوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی۔ اسلام آباد میں نومبر 2024میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں زبرست احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طور پر 6 افراد جاں بحق ہوئے مگر تحریک انصاف میں دو سال قبل شامل ہونے والے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ٹی وی چینلز پر یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ اس تصادم میں سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے مگر حقائق لطیف کھوسہ کے دعوے کی تردید کررہے تھے۔ اس بناء پر رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 7, 7 سال قید کی سزا سنائیں، یوں یہ دونوں رہنما اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے۔

عجیب بات یہ ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے اپنی سزا کے خلاف قانونی جنگ میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ دونوں رہنما خیبر پختون خوا میں اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔ شاید دونوں رہنماؤں نے نجات کا یہ راستہ بہتر جانا۔ حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو حزب اختلاف کی سربراہی کے لیے نامزد کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرنے کے اعلان میں چھ ماہ لگا دیے گئے۔

اس پارلیمنٹ کے بننے کے بعد پہلی دفعہ حزب اختلاف مکمل ہوئی۔ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ سے مذاکرات ہوئے۔ بعض باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت تحریک انصاف کے بانی کو ریلیف دینے پر تیار ہو جائے بعد ازاں صدر زرداری اچانک رحیم یار خان میں کارکنوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف زوردار زبانی بمباری کی۔ شاید اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام معاملات رک گئے۔

گزشتہ مہینے متحدہ حزب اختلاف کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی روداد کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں ایک تجویز اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی تھی۔ اجلاس نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی اور ملک کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتحال، مہنگائی میں مسلسل اضافہ،کارخانوں سے مزدوروں کی برطرفی، کارخانوں میں لے آف اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کسی طرح کے احتجاج کا فیصلہ نہیں ہوا۔ حزب اختلاف نے اب تک جتنی تحریکیں چلائیں وہ محض ایک شخص کی رہائی کے مطالبے کو منوانے تک محدود رہی ہیں۔

ان تحریکوں کے لیے صرف کارکنوں کی ایک مخصوص تعداد ہی متحرک ہوئی جس کی بناء پر تحریک انصاف کی قیادت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ ملک کے معروضی حقائق کے جائزے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی مہم جوئی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے ایک خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر تحریک چلانے کے حق میں نہیں تھے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے دیگر طریقوں کو آزمائے۔ یہ وقت ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے کو توسیع دے۔

 اس وقت سب سے زیادہ بے چینی بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی اکثریت فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی شکایات حقیقت پر مبنی ہیں، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے میں بلوچستان کو سرفہرست رکھے۔ اس وقت نچلے متوسط طبقے کے حالاتِ کار انتہائی خراب ہیں۔ عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں سے بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔

افغانستان سے تجارت بند ہونے سے صرف وہ تاجر ہی متاثر نہیں ہوئے، جو اس کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کے کسان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات کم ہونے سے ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے اورکئی کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے۔ کارخانوں میں لے آف سے مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک طلبہ یونین کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ملک کی سرکاری یونیورسٹیاں مالیاتی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر متوسط طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنے ایجنڈے میں مظلوم طبقات کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ حزب اختلاف کے اجلاس میں یہ تجویز آئی ہے کہ اراکین اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے گزشتہ دور میں اسمبلیوں سے استعفے دیے۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کو مستعفیٰ ہونے کا سارا فائدہ کسی اور قوت کو ہوا تھا۔ اس اسمبلی سے سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دیدیا۔ اب قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مصائب بیان کرنے والی کوئی آواز موجود نہیں ہے، اس بناء پر حزب اختلاف کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پرکوئی تحریک چلانے کے بجائے عوام کو منظم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدارکے ساتھ حزب اختلاف کی بھی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔

حکمران حزب اختلاف کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے جائزے کے لیے خفیہ اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا مگر حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اگر انھیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت دی جاتی تو وہ زیادہ آسانی سے اظہارِ رائے کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے کچھ مطالبات مان کر ملک میں ایک اچھی سیاسی فضاء پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان خطے کی صورتحال کی بناء پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں لے۔





Source link

Continue Reading

Trending