Today News
او جی ڈی سی ایل کا خیرپور سے گیس کی اہم دریافت کا اعلان
تیل و گیس کے حالیہ بحران میں او جی ڈی سی مسلسل کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہے۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق او جی ڈی سی نے صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع سہتو-1 کنویں سے گیس کی اہم دریافت کا اعلان کیا ہے۔
کنویں سے یومیہ 17.2 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق کنواں کی کھدائی دسمبر 2025 میں شروع کی گئی، 3,870 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کے بعد گیس دریافت ہوئی۔
نئی دریافت سے توانائی بحران میں کمی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔
Source link
Today News
ایران، امریکا مذاکرات … پہلا قدم !
تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر کے جنگی جنوں کی تسکین اور تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ جنگ میں شامل ہر دو فریق ایک دوسرے پر قابض ہونے، اپنا تسلط قائم کرنے اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے امکانات دیکھتے ہیں تو پھر آخری حربہ جسے انگریزی اصطلاح میں (Face Saving) کہتے ہیں یعنی اپنی عزت بچانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آجاتے ہیں۔
ایسے موقع پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت پڑتی ہے جو دونوں فریق سے اپنے اچھے مراسم کو استعمال کرتے ہوئے جنگ رکوانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں جب بھارت نے پاکستان پر غیر ضروری طور پر جنگ مسلط کی تو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منت سماجت کر کے پاکستان سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر جنگ رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تھی اور پاکستان نے اپنا دفاع، بالٓاخر صدر ٹرمپ کی ثالثی کے بعد پاک بھارت جنگ کا خاتمہ ہوا۔امریکا کے صدر ٹرمپ آج بھی بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ وہ کھلے دل سے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور بروقت دانشمندانہ فیصلوں کی اعلانیہ تعریفیں کرتے ہیں۔
غالباً اسی پس منظر میں امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اب دوست اور قابل اعتماد ملک پاکستان پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ثالثی کے کردار کو کھلے دل سے خوش آمدید کرتے ہوئے یہ امیدیں باندھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو دونوں فریق کو قابل قبول ہو۔ مذاکرات کی راہیں ہموار کرنے میں برادر ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ خلیج میں امن قائم ہو اور مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے مذموم ارادوں کے آگے بند باندھا جاسکے۔
پاکستان کی سیاسی و قومی قیادت نے باہمی تعاون و اشتراک سے بڑی ذہانت ، سمجھداری، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر جان دار انداز میں پیش قدمی کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان میں پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال سے بھی نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب اسی خلوص و محنت کے ساتھ وہ امریکا ، ایران جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھی ٹیلی فونک سفارت کاری کے ذریعے امریکا، ایران، خلیجی ممالک کے سربراہوں، مصر، اردن، ترکیہ کی قیادت اور چین کے ساتھ مسلسل رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے ثالثی کے اس کردار کو نہایت مثبت اور قابل تحسین انداز میں دیکھا اور سراہا جارہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائم کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کی خفیہ سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسلام آباد امریکا، ایران مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔ممکنہ ثالثی اور مذاکرات کی امید کے پیش نظر امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے مزید 10روز کے لیے موخر کردیے جو خوش آیند بات ہے لیکن دوسری جانب وہ مشرق وسطی میں اپنی فوج بھی بھیج رہے ہیں جس سے ان کے مستقبل کے عزائم کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ تمام تر کوشش اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے جنگ بندی کے لیے امریکا نے پاکستان کی معرفت ایران کو جو 15نکاتی فارمولا بھیجا ہے اسے ایرانی قیادت نے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اپنی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتے ہیں۔
امریکا کی خواہش ہے بلکہ بھرپور مطالبہ اور شرط ہے کہ ایران اپنی جوہری صلاحیتوں کو ختم کردے۔ جمع شدہ یورینیم اور دیگر ایٹمی مواد عالمی جوہری توانائی ایمبسی کے حوالے کردے اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد علاقہ قرار دیا جائے جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے حملے روکے جائیں، دوبارہ جنگ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ، خلیج میں امریکی اڈے ختم کیے جائیں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔ مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں کامیابی کا دارومدار لچک دار رویوں اور کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتا ہے۔ امریکا بڑا ملک اور عالمی سپرپاور ہے اسے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ لچک دکھانا چاہیے اور ٹرمپ عالمی امن قائم کرنے اور جنگیں رکوانے کے وعدے کرتے ہیں۔ ایران جنگ کا آغاز امریکا نے کیا تھا اور ختم کرنے کا پہلا قدم بھی امریکا ہی کو اٹھانا چاہیے۔
Today News
لبنان: اقوامِ متحدہ امن مشن کے دو اہلکار ہلاک
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مزید دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
یونائیٹڈ نیشن انٹیرم فورس اِن لبنان (یونیفل) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ پیر کے روز جنوبی لبنانی گاؤں بنی حیان کے قریب ’نامعلوم نوعیت کے دھماکے نے ان کی گاڑی کو تباہ کر دیا‘، جس کے نتیجے میں دو امن اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کے اس مشن کے مطابق ایک تیسرا اہلکار شدید زخمی ہوا جبکہ چوتھا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا۔
یونیفل کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امن کے لیے کام کرتے ہوئے کسی کی بھی جان نہیں جانی چاہیے۔
یہ اعلان اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب یونیفل نے بتایا تھا کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان کے گاؤں عادشیت القُصیر کے قریب ایک الگ واقعے میں یونیفل کی پوزیشن پر ایک گولہ گر کر پھٹا جس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار ہلاک ہو گیا۔
مشن کا کہنا ہے کہ اس گولے کے اصل ماخذ کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
Source link
Today News
بڑھتی ہوئی جنگ کے مسائل
امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ پانچویں ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ نے ان ممالک سمیت سعودی عرب،خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت کے امکانات تو دوسری طرف ان ممالک سمیت دیگر ممالک بشمول پاکستان پس پردہ بات چیت کی مدد سے مسائل کے حل کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا پر یہ دباؤ کہ وہ ایران کے خلاف حتمی کارروائی کرے، خود نئے مسائل یا ٹکراؤ کے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے ایران امریکا مذاکرات میں خلیجی ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
امریکا کے صدر کے بقول ہم نے اس جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور جلد ہی ہم ایک معاہدہ کے تحت اس جنگ سے نکل جائیں گے۔لیکن جس انداز میں یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اس جنگ نے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو یہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار بھی بڑھ سکتا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے درمیان پراکسی جنگ کے مسائل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان،ترکی اور مصر جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان ملکوں کی سیاسی پزیرائی ضرور ہوگی لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں تو پھر سب کی بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔پاکستان کی موجودہ پالیسی توازن پر مبنی ہے اور اب تک ہماری یہ ہی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ بندی پر تصفیہ ہو اور جو ایران،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک دوسرے کی سطح پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو۔لیکن ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے اور خلیجی ممالک کے داخلی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ہم پر بھی ایک خاص پوزیشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر جو سعودی ،ترکیہ،مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں مزید سفارت کاری کی کوشش اس جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے کے کچھ اشاروں کو سامنے لاسکے گی۔کیونکہ پاکستان سمیت ان ممالک کی سہولت کاری کی اپنی اہمیت ہے لیکن فیصلہ کی اصل طاقت امریکا،اسرائیل اور ایران کے پاس ہی ہوگی کہ وہ کس حد تک ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک دکھاتے ہیں ۔
امریکا کے صدر اس برتری سے جنگ بندی کی طرف جانا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے سرخرو ہوئے ہیں ۔کیونکہ امریکا کی داخلی سیاست میں ٹرمپ پر بہت زیادہ تنقید بڑھ رہی ہے اور ان کے خلاف لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں کہ ہمیں ٹرمپ کی صورت میں بادشاہت منظور نہیں اور وہ جنگ بندی کریں۔ لیکن کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ایک ایسی جگہ پر لے کر آگئے ہیں کہ ان کے لیے بغیر کامیابی کے پلٹنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول وہ ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کریں، جنگ سے باہر نکلنے کو ترجیح دیں یا دوئم، فوجی کارروائی میں مزید شدت پیدا کرکے طویل جنگ کا خطرہ مول لیں ۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو امریکا کیے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر لاسکتا ہے ،درست بات ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے کیا امریکا ایران کے بارے میں اپنے موقف میں سیاسی لچک دکھا سکے گا۔اسی طرح امریکا اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ وہ سیاسی یوٹرن بہت لیتے ہیں اور ایران کی قیادت بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے مذاکرات میں امریکا کی ضمانت کونسا ملک دے گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔
ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسے اس خطہ میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے بقول امریکا مذاکرات کے نام پر ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے ۔پاکستان کا کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے تو اس پر تو پاکستان کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران تنازعہ میں شدت کو کم کرے۔اگرچہ مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ مگر آج بھی جنگ پر مبنی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں جو یقینی طور پر مذاکرات کے عمل کو پیچھے دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،خود ایران کے بقول امریکا ہمیں مذاکرات کے کھیل میں الجھا کر ہمارے خلاف ایک بڑی جنگی کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور امریکا ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے کھیل کا مقصد اس خطہ میں اسرائیل کی بالادستی کا جنون ہے۔اس جنگ کے جنون نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی سطح کے بحران میں بھی دھکیل دیا ہے اور خود پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مبنی ممالک ہیں اس کو اس جنگ کی معاشی اعتبار سے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے ۔
ابھی تک حکومت نے بہت سے معاملات پر براہ راست بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے مگر یہ جنگ اگر لمبی ہوتی ہے تو پھر حکومتوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا کہ وہ اس جنگ کا بوجھ عوام پر بھی ڈالیں۔مثال کے طور پر اس وقت وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا مگر صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالا جائے اور ہم سے سبسڈی کے نام پر کٹوتی نہ کی جائے ۔اس لیے اس جنگ کا بند ہونا ہی عالمی اور دیگر ممالک کی سیاست اور معیشت کے مفاد میں ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بڑے ممالک اپنی موجودہ جنگی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور طاقت کے انداز سے یا جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرکے بات چیت کے راستہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے جس انداز سے جنگی حکمت عملی اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ ظاہرکرتا ہے کہ اس پر جو طاقت کی حکمرانی کا بھوت سوار ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کی خودمختاری کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمیں بھی امریکا کی اس جنگ کی پالیسی سے خبردار رہنا ہوگا ۔
جب ایک ایسے موقع پر امریکا اور ایران کی سطح پر اچھے بھلے مذاکرات ہورہے تھے تو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جنگ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ عملًا ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔پاکستان جس نے اس وقت عالمی اور علاقائی یا خلیجی سطح پر سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے تو اسے خود کو ایک ایسے کردار میں لے کر آگے بڑھنا ہے جہاں اس کی پالیسی میں توازن بھی ہو اور وہ کسی کا فریق بننے کی بجائے جس حد تک تعلقات کے بگاڑ میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتا ہے وہ کرے۔اسی بنیاد پر پاکستان اس جنگ میں بلاوجہ الجھے بغیر اپنے داخلی، سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے استحکام کو بھی ممکن بنا سکے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper