Connect with us

Today News

اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو

Published

on


لکھنے کا پہلے شوق تھا، پھر گزشتہ تیرہ برس بلکہ پندرہ سال سے قلم کاری عادت سی بن چکی ہے۔ سات دنوں میں دو کالم رقم کرنا معمولی لگتا ہے تاہم کچھ عرصے سے کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔ لکھنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیوار میں چنے ہوئے کرداروں پر مزید سیاہی انڈیلی جائے۔ اور گھڑسواروں کی تعریف ہو۔ گمان ہے کہ شائد‘ ملک بنایا ہی شاہ سواروں نے تھا۔ مگر شائد اپنے لیے۔ جس کو وہ پاکیزہ اور دودھ کا دھلا کہیں‘ وہ فرشتہ ۔ جس سے ناراض ہوں، وہ شیاطین کی صف میں شامل ۔ تو جناب ‘ہمارے ملک میں تو سارے حکمران فرشتہ صفت ہی چلے آرہے ہیں لیکن اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے  ابلیسی کام بھی کرگزرتے ہیں۔ جب تجوری بھر جاتی ہے‘ تو پھر معصوم اور فرشتہ نظر آنے لگتے ہیں یا کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اب خود بتایئے کہ میرے جیسا انسان جو کسی بھی وقت دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کا اپنی اسٹڈی تک محدود ہونا کتنا سہل ہو گا؟ پینتیس برس کی سرکاری نوکری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کسی سیاسی جماعت کا کارندہ نہیں بنا جو حد درجہ آسان سا کام تھا۔ آج اس سے بھی زیادہ سہل تر ، بہر حال چھوڑیئے ، اس قصہ کو۔ پندرہ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ملک کے ایک جید کالم نگار سے بڑی چاہ سے ملنے گیا۔ اردو پر گرفت تو ان کی آج بھی مستند ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یا شاید پینتالیس منٹ گفتگو رہی۔ گمان تھا کہ کچھ لفظی موتی‘ عطا فرمائیں گے، طالب علم کے علم میں اضافہ ہو گا۔ کمال محبت سے پیش آئے۔ مگر آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر ایک سینئر ’’گھڑ سوار‘‘ کو بذریعہ اسٹاف تلاش کرتے نظر آئے۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔

میرے سامنے بالآخر ان صاحب سے بات بھی ہوئی۔ تو مضمون یہی تھا کہ چند اہم باتیں کرنی ہیں۔ باہم بیٹھنا ضروری ہے۔اندازہ تو یہی تھا کہ دانائی کے چند ہیرے‘ میری جھولی میں بھی ڈال دیں گے۔ مگر نوبت ہی نہیں آ سکی۔ معلوم پڑا کہ اپنی تحریروں میں خوبصوت الفاظ استعمال کرنے کے سوا ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی ضرورتیں‘ وہی طرز تفاخر اور وہی دوسرے کو جزوی طور پر مرعوب کرنے کی ادنیٰ سی کوشش۔ یقین فرمائیے کہ جب ان سے مل کر واپس دفتر آیا تو طبیعت بوجھل تھی۔ مگر سوال تو یہ بھی ذہن کے پردہ پر ابھرتا ہے کہ جناب کس کے در پر حکمت کے لیے جایا جائے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں بھی سوچتا ہوں کہ کیوں جاؤں؟ بہر حال یہ ایک فکری کشکمش ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ البتہ ایک اصول تو طے کر چکا ہوں۔ جس کی تحریر پسند ہو، اس سے کبھی نہیں ملتا ۔ اگر کوئی ملاقات کی صورت بنتی ہوئی نظر آئے ‘ تو فوراً کنارہ کشی کر لیتا ہوں۔

اس لیے کہ کہیں اس کرم فرما کا بنا ہوا تصوراتی بت اسے ملنے کے بعد پاش پاش نہ ہو جائے۔ لہٰذا ملنا بے سود ہے۔ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر عقل و خرد کے اصل جوہریوں کے سامنے زانوائے ادب طے کرنا‘ باعث افتخار سمجھتا ہوں۔ ان کی کھوج میں لگا رہتا ہوں۔ ویسے وہاں بھی اصل آدمی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ایک شہری بزرگ کا چرچہ سنا کہ دین کی علمی دولت سے مالا مال ہیں، کاروبار بھی فرماتے ہیں یعنی دین اور دنیا میں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ کوئی دس بارہ برس پہلے کا واقعہ ہے بلکہ حادثہ ہے۔ ان کے گھر پر پہنچا تو بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ لوگ ہی لوگ‘ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے‘ میں بھی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ ایک نوجوان آیا اس نے دریافت کیا کہ آپ حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔

مثبت جواب پر ‘ اس کارندے نے ایک ٹوکن میرے ہاتھ میں دے ڈالا کہ آپ کی باری کوئی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ جب ٹوکن نمبر پکارا جائے تو آپ بزرگ کے کمرے میں چلے جایئے گا۔ ہاں، پانچ منٹ سے زیادہ رہنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اگلا ٹوکن والا بھی انتظار کر رہا ہوگا۔ دماغ میں آیا کہ کیا خدا سے نسبت رکھنے والے بندے‘ ٹوکن دے کر ملتے ہیں؟ کیا رب کے دربار میں رسائی ٹوکن کے ذریعے ہو گی؟دین سے نسبت رکھنے والے بزرگ تو کسی بھی تکلف اور تردد سے پرہیز کرتے ہیں۔ طبیعت اس قدر ابتر ہو گئی کہ ٹوکن واپس کر کے گھر چلا آیا۔آج تک اس شخص کے پاس نہیں گیا۔ معلوم پڑا کہ پورے ملک میں وہ ایک برگزیدہ ہستی مانے جاتے ہیں۔ البتہ میرا دل نہیں مانتا کہ خدا کے ولی ‘ بذریعہ ٹوکن دستیاب ہوتے ہیں۔

کاروبار تو خیر کرتا ہی ہوں جوحد درجہ ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ سے تھوڑا سا پہلے شروع کیا تھا۔ خیر اب تو کافی کچھ سیکھ چکا ہوں۔ دن میں صرف پانچ گھنٹے اپنے نجی دفتر میں بیٹھتا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔ دن اور رات کا بیشتر حصہ‘ اپنی اسٹڈی میں گزارتا ہوں۔ ایک قدیم سا وائی فائی کا اسپیکر موجود ہے، یوٹیوب کو اس سے منسلک کرنا بڑے بیٹے نے سکھایا تھا۔ کے ایل سہگل‘ بیگم اختر فیض آبادی کو سنتا ہوں اور سردھنتا ہوں۔ کبھی کبھی مہدی حسن کی غزلیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ’’دختر رز‘‘ سے مکمل دوری ہے۔ حواس میں رہ کر موسیقی سننے کا لطف ہی کوئی اور ہے۔ ہاں‘ قوالیاں سن کر مزہ آتا ہے۔ خصوصاً غلام فرید صابری قوال کی۔ یہ دونوں بھائی بھی قوالوں کے سپہ سالار ہیں۔ آواز تو خیر کمال ہے ہی‘ مگر اس کے اندر‘ فارسی کی آمیزش بھی قیامت خیز ہے۔ گھر میں ایک ایسا کمرہ۔ جس میں آپ تنہا بیٹھ سکتے ہیں‘حد درجہ ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کا اصل گھر وہی بن جاتا ہے اور اسی میں دل لگتا ہے۔ ذاتی اسٹڈی میں کتابیں ہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔

کبھی لگتا ہے ساری پڑھ چکا ہوں۔ مگر اکثر اوقات ایسے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نسخے کیا‘ زندگی میں ایک حرف تک نہیں پڑھ پایا۔ ویسے ایک بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب ملک ملک ‘ سیاحت کا شوق غالب تھا تو غیر ممالک سے ڈیکوریشن پیس لایا کرتا تھا۔ اکثر تو ضایع ہو گئے۔ مگر آج بھی اسٹڈی روم میں بہت سے آراستہ ہیں۔ خصوصاً کینیا اور ساؤتھ افریقہ سے لائے گئے، مصنوعی چہر ے اور شتر مرغ کے رنگین انڈے۔ افریقہ میں ایک نایاب آرٹ ہے، وہ شتر مرغ کے انڈے پر تصاویر دنیا کے نقشے اور قدیم جنگلوں کے ماحول کو اس عرق ریزی سے پینٹ کرتے ہیں کہ انڈا‘ ایک علمی سوغات بن جاتا ہے۔

یہ حسن‘ افریقہ میں گلیوں گلیوں بکھرا ہوا ہے۔ اس طرح کا فن ‘ باقی دنیا میں ناپید ہے۔ ہاں‘ ایک سگار بکس بھی ہے جس میں اچھے کیوبن سگار موجود ہیں۔ کبھی کبھی جب سوچ کا ہالہ بہت بڑھ جائے تو سگار کے کش لگانا اچھا لگتا ہے ۔ سگار کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے پورا پیے بغیر بجھا سکتے ہیں۔ اور اس لیے‘ہر سگار ایک خاص پیکنگ میں آتا ہے۔ آپ جب اکتا جائیں تو اسے بجھا کر اسی کے خول میں ڈال دیجیے۔ تازہ بھی رہے گا اور دوبارہ استعمال کے قابل بھی۔

 اب ایک تمنا یا خواہش ہے بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لاہور ہی کے کسی مضافاتی علاقے میں تھوڑی سی زمین لے کر وہاں رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے پرندے پالنا چاہتا ہوں‘ جنھیں پنجرے میں نہ رکھنا پڑے۔ پرندے کو قید میں رکھنا‘ خلاف قدرت معلوم پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے عشق ہے۔ دل چاہتا ہے کہ نئے حاصل شدہ قطعہ پر ‘ پودے لگاؤں جو پھولوں سے بھرے رہیں۔ درخت ہوں جن پر اجنبی پرندے ‘ بغیر کسی خوف کے گھونسلے بنانے اور بے خطر رہنا شروع کر دیں۔ دنیا کی بہترین موسیقی‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہے ۔ خصوصاً صبح اور شام کے وقت تو یہ قدرت کی جانب سے موسیقی کا رنگیں سیلاب ہے جو انسان کو بھگوئے بغیر نہال کر ڈالتا ہے۔

اس جگہ پر ایک کمرہ بھی بنواؤں گا ۔ جہاں ‘ اپنی اسٹڈی سے چند اشیاء منتقل کروں گا۔ پھر شام کو اندھیرے ا ور روشنی کے باہمی ملاپ کے وقت‘ سہگل اور بیگم اختر کی غزلیں سنوں گا۔ یہ میرا خواب ہے۔ جسے بہت جلد ‘ تکمیل کے مرحلہ سے گزاروں گا۔ ویسے اپنے آپ سے کبھی کبھی سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ شاید ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے ‘ معلوم ہی نہ پڑا کہ کب کافی وقت گزر گیا۔ بالوں میں سفیدی چھا گئی۔

پر بالوں کی اس برف نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ انسان دنیا میںاکیلا ہی آتا ہے اور واقعی ‘ تنہا ہی واپس چلاجاتا ہے۔ کہاں پرواز کر ڈالتا ہے‘ کس عالم میں ایستادہ ہوتا ہے۔ یہ راز آج تک کوئی بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا۔ ویسے اس سنجیدہ سوال کا کوئی بھی جواب تلاش نہیں کرنا چاہے۔ کیونکہ اپنی اپنی دانست میں جو بھی انسان‘ جو کچھ بھی سمجھتا ہے‘ وہ اس کے لیے درست ہے اور جو نکتہ اس کے لیے محترم ہے ‘ اس پر ہم کیوں بحث کریں؟ویسے مجھے تو اب کچھ بھی غلط معلوم نہیں دکھتا۔ دنیا‘ کائنات ‘سماج‘ انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ بھی معلوم کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے سب دکھاوا ہو۔خواب ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ سب کچھ ہی سچ ہو؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

Published

on



کوئٹہ:

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

کوئٹہ کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی۔

حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع تھا۔

زلزلے کے جھٹکے اگرچہ مختصر دورانیے کے تھے تاہم اچانک لرزش سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد، کھلے سیوریج ہولز خطرہ بن گئے، شہریوں کی جانیں داؤ پر لگ گئیں

Published

on



حیدرآباد:

شہر میں بغیر ڈھکن کے کھلے سیوریج ہولز شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں آئے روز حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد چوک روڈ پر ایک نوجوان کھلے سیوریج ہول میں گر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان مکمل طور پر گٹر میں ڈوب گیا تھا تاہم موقع پر موجود راہگیروں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسے باہر نکال لیا جس کے باعث اس کی جان بچ گئی۔

واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں نوجوان کو گٹر سے نکلنے کے بعد بھیگی حالت میں سڑک کنارے بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے گرد شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔

دوسری جانب اتوار کی دوپہر ٹنڈوجام کے علاقے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 5 سالہ بچہ کھلے گٹر میں گر گیا۔

خوش قسمتی سے وہاں موجود افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بانس کی مدد سے بچے کو باہر نکال لیا جس سے اس کی جان محفوظ رہی۔

شہریوں نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے سیوریج ہولز کو فوری طور پر ڈھانپا جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لبنان میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں توسیع کا حکم

Published

on



اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مزید توسیع کا حکم دے دیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ناردرن کمانڈ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے ہدایت دی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی زون کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے اور اینٹی ٹینک میزائل فائر کو ہماری سرحد سے دور دھکیلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو ختم کیا اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار میزائلوں اور راکٹوں کے بڑے خطرے کو بھی ختم کردیا جو اسرائیل کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملوں کے لیے راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن شمال میں صورت حال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ میں حماس سمیت ایران اور اس کے اتحادی گروپس کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اقدامات ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے حوالےسے بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی پلوں اور سیکیورٹی زون کو دریائے لیتانی تک کنٹرول میں لے لیں گی، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرۂ روم سے جا ملتا ہے۔

کہا گیا تھا کہ وہ سرحد پر قائم اپنے بفر زون کو دریائے لیتانی تک توسیع دے رہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کی طرف اشارہ کر رہے تھے یا مزید علاقے پر قبضے کی بات کر رہے تھے۔

دوسری جانب لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کردیے گئے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہزار 100 سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور طبی عملہ بھی شامل ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Trending