Connect with us

Today News

اپنا گریباں چاک – ایکسپریس اردو

Published

on


ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت کمال تحریر ہے۔ کتاب کی پیشانی پرا ن کی جاذب نظر تصویر موجود ہے۔ جس سے محترم جاوید اقبال کی دانائی ‘ روشنی میں چھن کر سامنے آ رہی ہے۔ ’’اپنا گریباں چاک‘‘ صرف ایک نسخہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا فسانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف کئی مرتبہ رہا۔ وہ سال میں ایک یا دو برس ‘ ایڈمنسٹریو اسٹاف کالج ‘ لیکچر دینے آتے تھے۔

ان کے الفاظ میں بھی دلیل اور تاریخ کی رم جھم بھرپور طور پر محسوس ہوتی تھی۔ علامہ اقبال کا فرزند ہونا تو خیرایک محترم بات ہے ۔ مگر اس کے علاوہ‘ جاوید اقبال بذات خود علم کا ایک بھر پور خزانہ تھے۔ قانون‘ تاریخ‘ فلسفہ اور سماجی رویوں سے لبالب فیض یاب انسان ۔ طالب علم کا منصب تو نہیں ہے کہ فرزند اقبال کی تحریر پر کچھ لکھ سکے۔ مگر چنداقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کے ذہن کی متعدد گرہیں کھل جائیں گی۔ بہت سی فکری پگڈنڈیاں‘ سیدھے رستہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔

 دوسرا خط: میںنے تقریباً سات برس کی عمر میں اپنے والد کو پہلا خط لکھا تھا جب انھیں انگلستان سے گراموفون باجا لانے کی فرمائش کی تھی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد انھیں دوسرا خط تحریر کر رہا ہوں۔ اس مرتبہ وہ اگلے جہان میں ہیں اور مجھے اپنے قومی تشخص اور ’’اسلامی‘‘ریاست کے بارے میں ان سے رہبری لینا مقصود ہے۔

والد مکرم۔ السلام علیکم!

نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے میں آپ کی اجازت کے ساتھ چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی تھی اس میں مولانا مدنی کا موقف تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں‘ لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’قوم‘‘ اور ’’ملت‘‘ کے ایک ہی معانی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلک اشتراک ایمان سے بنی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی ’’قومیت ‘‘ ہے اور ’’وطنیت‘‘ بھی۔

خودکلامی: میں نماز کے بعد دعا رسماً مانگتا ہوں۔ آئین قدرت سے ہٹ کر دعا کی قبولیت کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ میرے مرنے کے بعد دنیا یونہی قائم رہے گی‘ میں قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔ کائنات میں قیامتیں آتی رہتی ہیں۔ ہر لحظہ کوئی نہ کوئی کہکشاں مٹ جاتی ہے‘ ستاروں کے جھرمٹ فنا ہو جاتے ہیں‘ سورج بجھ جاتے ہیں یا نظام ہائے شمسی معدوم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کن فیکون کا عمل بھی جاری ہے۔

قید مقام سے گزر: آخری بات جس پر میںنے زور دیا وہ ’’خالص اور ناخالص طرز حیات‘‘ کا مسئلہ تھا۔ یعنی زندگی بسر کرنے کا کونسا طریقہ ’’خالص‘‘ ہے‘ جسے اپنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو حقیقی معنوں میں آپ کی خوشی و اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ خدا نے روح انسان میں پھونک رکھی ہے۔ اس لیے ہر انسان کے اندر اتنی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں کہ اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی پا لے تو اس کی دنیا بدل سکتی ہے۔ لہٰذا ’’انسان خالص‘‘ وہی ہے جو اپنے جوہر کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ وہ صفات جنھیں اپنا لینے سے امکان ہے کہ ہم اپنے آپ کو ڈھونڈ سکیں‘ دراصل عشق‘ آزادی ‘ جرأت‘ بلندی مقاصد کی تحصیل کے لیے جستجو اور فقر ہیں۔

انہی صفات کی بدولت انسان کی اپنی ذات کی گرہ کھلتی ہے اور وہ تخلیقی‘ اختراعی اور ایجادی کار ہائے نمایاں انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ’’شر‘‘ کی جو قوت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ’’جمود‘‘ ہے۔ جمود ہی کے سبب نام نہاد خوبیاں مثلاً خاکساری ‘ عجز و انکساری‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ خوف‘ بزدلی‘ بدعنوانی‘ بھکاری کی طرح سوال کرنا اور نقالی پیدا ہوتی ہیں جو بالآخر انسان کی مستقل غلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کا فرمان ہے: تمہارا سب سے اچھا دوست تمہارا دشمن ہے جو تمہیں ہمیشہ چوکس اور بیداری کی کیفیت میں رکھتا ہے کیونکہ اگر تمہاری زندگی سے مقابلے یا دوسرے سے سبقت لے جانے کا عنصر نکال دیا جائے تو انجام بے حسی یا موت ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے مطابق ظاہر ہے زندگی گزارنے کا ’’خالص‘‘ طریقہ یہی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح خاک پر رینگتے رہنے کے بجائے انسان اپنے وجود کے سرچشمے سے کچھ بلند کر کے دکھائے۔

اے روح اقبال! جس طرح آپ اپنے آپ کو قائداعظم کا سپاہی سمجھتے تھے اسی طرح قائداعظم نے آپ کو اپنا ’’ دوست‘‘ اور ’’رہبر‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان سے متعلق جس طرح قائداعظم کے بارہ بنیادی اصول میں نے ان کی تقاریر اور بیانات سے اخذ کیے ہیں اسی طرح آپ کو برصغیر میں اسلامی ریاست کے قیام کا خیال جس وجہ سے آیا‘ یا آپ کے دل میں اس خیال کی پرورش جیسے ہوئی‘ آپ کی تحریروں کی روشنی میں اس کی تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔

اس بات پر تو غالباً سب متفق ہیں کہ نظریہ پاکستان کا مطلب برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسی وفاقی ریاست وجود میں لانا تھا جو جمہوری‘ اسلامی اور فلاحی ہونے کے ساتھ ’’جدید‘‘ بھی ہو۔ مگر اے روح اقبال! برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی میں ’’قدیم‘‘ انداز فکر کب ختم ہوتا ہے اور ’’جدید‘‘ کب شروع ہوتا ہے؟ کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہماری اجتماعی سوچ میں جدیدیت کی ابتداء دراصل سر سید احمد خان کے افکار سے ہوتی ہے‘ اگرچہ شاہ ولی اللہ کے بعض نظریات اس ضرورت کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں؟ سرسید کے علاوہ کیا حالی ‘ شبلی‘ آپ اور قائداعظم کے نظریات کو اسی طرح جدیدیین میں شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے سید جمال الدین افغانی اور ان کے ترکی‘ مصری یا ایرانی ہمعصر مفکرین کو کیا جاتا ہے؟

نظریہ سے انحراف:قائداعظم کے نزدیک پارلیمانی وفاقی جمہوری طرز حکومت کا قیام‘ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ‘ شہریوں میں عدم امتیاز کی بنیاد پر مساوات‘ معاشی انصاف کی فراہمی اور قانون کی حاکمیت اسلام ہی کے اصول تھے مگر ان کی آنکھیںبند ہونے کے ساتھ ان نظریات سے انحراف کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ 1949میں ’’قرار داد مقاصد‘‘ کے ذریعے ان اصولوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان کا دستور بنانے میں کئی برس لگ گئے۔ خدا خدا کر کے جب دستور بنا بھی تو تھوڑے عرصے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا۔

سیاستدانوں پر بیورو کریسی غالب آئی اور بیورو کریسی پر دوسری بالا دست قوتیں‘ ملک میں مارشل لا ء لگا دیا گیا۔ پھر مارشل لاؤں کے دور شروع ہوئے جن کا تسلسل بھٹو کی جمہوری حکومت سے ٹوٹا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان دو لخت ہوگیا۔ اس کا ذمے دار کون تھا؟ بھٹو یا مجیب الرحمن یا جنرل یحییٰ خان یا اندرا گاندھی؟ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے دار دراصل ہم میں راوداری کی عدم موجودگی تھی۔ ہم ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کے نعرے تو بلند کرتے رہے لیکن جمہوری کلچر پیدا نہ کر سکے۔

نتیجہ یہ کہ جس جمہوریت کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا‘ اسی جمہوریت نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ بھٹو جاتے جاتے ہمیں اسلام کے نام پر چند مزید ایسے تحفے ’’عطا‘‘ کر گئے جن سے قائداعظم کی ’’جدید لبرل اسلامی فلاحی جمہوریت‘‘ کے تصور کو نقصان پہنچا۔ رجعت پسند مذہبی عناصر‘ جن کے ’’جن‘‘ کو قائداعظم کی بلند قامت شخصیت نے بوتل میں بند کر رکھا تھا‘ رہائی اور زبان مل گئی اور بچے کچھے پاکستان میں علاقہ پرستی‘ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصبات نے فروغ پانا شروع کر دیا۔ بات یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنی نام نہاد نظریاتی اسلام کی اصطلاحیں مثلاً ’’جدید‘‘ ’’لبرل‘‘ ’’اسلامی‘‘ ’’فلاحی‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کی صحیح طور پر تشریح نہیں کر پائے۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم ’’جویو‘‘ ہیں گر درحقیقت ہم عاشق ’’قویم‘‘ ہی کے ہیں۔

اسی طرح بظاہر ہم ’’لبرل‘‘ بھی بنتے ہیں‘ لیکن اندر سے ہمارے دل قدامت پسندی ‘ تقلید اور فرقہ وارانہ تعصب کی دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا محال ہے۔ دراصل ہم نہ تو جدید ہیں‘ نہ لبرل‘ نہ جمہوریت نواز‘ نہ فلاح پسند‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم صحیح معنوں میں اسلام کے پیروکار بھی نہیں۔ شاید اسی سبب پاکستانی اسلام ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کا باعث نہیں بن سکا۔ ہم ’’ملت مسلمین‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں۔ ہم تو محض فرقوں‘ قومیتوں اور قبیلوں پر مشتمل’’ہجوم مسلمین ‘‘ ہیں۔

 اس سے آگے کچھ بھی لکھنا میرے بس کی بات نہیں!





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

غزہ امن بورڈ اجلاس، ایران کشیدگی اور خطہ

Published

on


غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن، استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔

غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آیندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔

واشنگٹن میں منعقد ہونے والا غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس ایک ایسے عہد میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی، طاقت کے توازن اور بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کو نہ صرف ایک سفارتی سنگ میل کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی عالمی قیادت کے بیانیے کا مرکزی ستون بنانے کی کوشش بھی کی۔ دنیا بھر سے آئے سفارتی وفود، کیمروں کی چمک دمک، اور اربوں ڈالر کے امدادی وعدے ایک ایسے منظرنامے کی تشکیل کر رہے تھے جس میں امید اور خدشہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اجلاس ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی نیا باب کھولے گا یا پھر یہ بھی ان بے شمار سفارتی تقریبات کی طرح ہوگا جو الفاظ اور اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات رکوا چکے ہیں، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ خطہ ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا، بلکہ کسی حد تک جارحانہ اعتماد سے بھرپور۔ انھوں نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو محض مذاکرات نہیں کرتا بلکہ نتائج لاتا ہے۔

تاہم عالمی سیاست میں دعوؤں اور حقائق کے درمیان فاصلہ اکثر بہت وسیع ہوتا ہے۔ امن کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، مگر امن صرف پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ غزہ کی سرزمین پر دہائیوں سے جاری تنازع، انسانی المیے، سیاسی تقسیم اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ایک ایسی پیچیدہ گتھی ہے جسے کھولنے کے لیے محض سرمایہ کاری کافی نہیں۔

غزہ کی صورتحال بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخی ناانصافیوں، علاقائی رقابتوں اور بین الاقوامی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ وہاں کی آبادی کئی دہائیوں سے محاصرے، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل عسکری کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر سیاسی نمائندگی، خود مختاری اور مقامی قیادت کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو یہ وسائل وقتی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی منصوبے شروع ہوئے جنہوں نے ابتدا میں امید پیدا کی مگر چند برسوں بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔

صدر ٹرمپ نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک معاہدے کے تحت عسکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی مزاحمتی یا سیاسی گروہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک تنازع کے تمام فریقوں کو کسی نہ کسی شکل میں سیاسی عمل میں شامل نہ کیا جائے، امن کا ڈھانچہ کمزور رہتا ہے۔ غزہ کے مسئلے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اگر امن بورڈ واقعی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے شمولیت اور مکالمے کی راہ اپنانا ہوگی۔

 اس پورے منظر نامے کا دوسرا اہم پہلو ایران سے متعلق امریکی پالیسی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی تنبیہات، ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک دہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، دوسری طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہ بیانیہ خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہرکرتا ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔

آبنائے ہرمز میں کسی بھی عسکری تناؤ کا مطلب عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور معیشتوں میں ہلچل ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجزکا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک اور بڑی جنگ اسے مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر کشیدگی میں اضافے کی حامی نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ ایک ایسے ماحول کی خواہاں ہیں جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری جاری رہ سکے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کو فوقیت دیتی رہیں تو علاقائی امن کی خواہش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

روس کی جانب سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف انتباہ بھی اس پیچیدہ بساط کا حصہ ہے۔ عالمی سیاست اب دو یا تین واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ہر طاقت اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اگر ایران کے معاملے پر بھی براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی بڑھتی ہے تو عالمی نظام مزید قطبیت کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرد جنگ کے کسی نئے ورژن کی یاد دلاتی ہے، جہاں علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی مقابلے کا میدان بن جاتے تھے۔

ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی جغرافیہ پاکستان کو ایک حساس پوزیشن میں رکھتے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بنے بغیر توازن قائم رکھ سکے۔ٹرمپ کا انداز سیاست طاقت اور معاہدے کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف سخت بیانات دیتے ہیں، دوسری طرف مالی امداد اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بعض اوقات فوری نتائج دے سکتی ہے، مگر طویل المدتی امن کے لیے ایک مستقل اور قابل پیش گوئی پالیسی ضروری ہوتی ہے، اگر ہر چند برس بعد پالیسی میں بنیادی تبدیلی آ جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں تسلسل اور سنجیدگی بنیادی تقاضے ہیں۔

موجودہ عالمی ماحول میں اطلاعات کی رفتار اور بیانیوں کی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر اعلان فوری طور پر عالمی میڈیا کا حصہ بن جاتا ہے اور مالی منڈیوں سے لے کر عوامی رائے تک سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ذمے دارانہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جذباتی یا جلد بازی میں دیے گئے بیانات کبھی کبھار غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔

اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام پیش رفت عالمی نظام کے ایک عبوری مرحلے کی علامت ہے۔ امریکا اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، روس اور چین متبادل اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے نئی صف بندیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اس پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس ایک علامتی اور عملی دونوں حیثیت رکھتا ہے۔

یہ یا تو ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کا ایک اور باب۔ امن کبھی یکطرفہ فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے، اگر عالمی قیادت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اعتماد سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ غزہ کے عوام، ایران کے شہری اور پورے خطے کے باشندے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی سکون چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کے اس اجلاس نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، مگر اس دروازے سے گزر کر منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور وسیع تر شمولیت کی ضرورت ہوگی۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا ایک اور ادھوری کوشش کے طور پر۔





Source link

Continue Reading

Today News

لینن، مارکس، میڈیا اور صہیونی اسرائیل!

Published

on


لینن کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں چھاپے خانے اورکاغذ کے ذخیرے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں وہاں آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو اپنے نظام کے حق میں پروپیگنڈے کی آزادی ہے۔ جہاں تک غریبوں، مزدوروں اورکسانوں کا تعلق ہے وہ اپنی آواز دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ چھاپے خانے ہیں، نہ کاغذ کے ذخیرے اور نہ اتنا پیسہ موجود ہے کہ یہ چیزیں سرمایہ داروں سے خرید سکیں۔

کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات  ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔

کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔

اسی طرح Therodore adnono  اور  Max Horkheimer  کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔

یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔

غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔

چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔

امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘

درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔

ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔

ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا

Published

on



 

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا۔

پاکستان مینز کرکٹ ٹیم مارچ میں بنگلادیش کا دورہ کرے گی جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ شیڈول کے مطابق قومی ٹیم 9 مارچ کو بنگلادیش پہنچے گی جبکہ 10 مارچ کو کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے۔

تین میچوں کی سیریز کا پہلا ون ڈے 11 مارچ کو، دوسرا 13 مارچ جبکہ تیسرا اور آخری میچ 15 مارچ کو کھیلا جائے گا۔ سیریز کے تمام مقابلے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔

Pakistan to tour Bangladesh for 3️⃣-match ODI series next month 🇵🇰🇧🇩🏏

More details ➡️ https://t.co/8IrI3le4pn#BANvPAK | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/8HKgkvhs6Q
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 20, 2026

یہ گزشتہ برس جولائی کے بعد پاکستان ٹیم کا بنگلادیش کا دوسرا دورہ ہوگا۔ جولائی میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز میں میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس سے قبل مئی اور جون میں بنگلادیشی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان نے تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز تین صفر سے اپنے نام کی تھی۔

آئندہ ون ڈے سیریز دونوں ٹیموں کے لیے اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے کیونکہ یہ مقابلے مستقبل کے بڑے ایونٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending