Connect with us

Today News

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور محمود خان اچکزئی آمنے سامنے آگئے

Published

on



پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنے کے حوالے سے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اکثریتی اراکین کے درمیان اختلافات سامنے آگئے جبکہ اپوزیشن اتحاد کا اجلاس کل دوبارہ طلب کرلیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہوا جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور محمود خان اچکزئی آمنے سامنے آگئے، محمود خان اچکزئی نے ذاتی مالجین کی رسائی اور اہل خانہ سے ملاقات تک منظم دھرنا اور احتجاج جاری رکھنے کا کہا جبکہ پی ٹی آئی کے چند ارکان کے علاوہ اکثریت نے دھرنا ختم کرنے کا مشورہ دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی ارکان نے رائے دی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ہمیں دھرنا ختم کرنا چاہیے جبکہ محمود خان اچکزئی نے پی ٹی آئی ارکان سے دھرنا ختم کرنے کی ٹھوس وجوہات بھی پوچھیں۔

ذرائع نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے کہا مجھ پر بانی پی ٹی آئی نے اعتماد کیا میں وہ فیصلے کروں گا جس میں ابہام نہ ہو، جس پر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے ساتھ پی ٹی آئی کے چند ارکان نے ہی اتفاق کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی تک ذاتی معالجین کی رسائی کے لیے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اپوزیشن اتحاد کا مشاورتی اجلاس کل دوبارہ ہوگا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے دھرنا اور احتجاج جاری رکھنے اورذاتی معالجین کی رسائی کےلیے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے عمران خان کی صحت سے متعلق 5 مطالبات کیے، جس میں عمران خان کو ذاتی معالجین ڈاکٹرعاصم اورڈاکٹرفیصل کو بلا تاخیر نجی رسائی دی جائے،  تمام میڈیکل رپورٹس اور ٹیسٹ نتائج فوری شیئر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے ذاتی ڈاکٹروں کو آزادانہ طبی رائے دینے کا مکمل اختیار دینے، سرکاری میڈیکل بورڈ کے دباؤ کے بغیر معائنہ کرنے کی اجازت دینے، عمران خان کے لیے مسلسل فالو اپ معائنے یقینی بنایا جائے کا مطالبہ بھی کیا اورعلاج میں رکاوٹ یا تاخیر پر حکومت سے تحریری وضاحت طلب کرلی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ صحت کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور آئینی ذمہ داری ہے لہٰذا تاخیر یا نمائشی اقدامات ناقابل قبول ہوں گے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جعفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر برطانوی شہزادے کو گرفتار کرلیا گیا، تحقیقات شروع

Published

on



برطانوی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پرنس اینڈریو کو سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سابق شہزادے کو نورفوک میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا جبکہ اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتاری کے بعد برکشائر اور نورفوک میں موجود مختلف مقامات پر تلاشی کا عمل جاری ہے۔ تھامس ویلی پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل اولیور رائٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے کے بعد سرکاری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے الزامات پر باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی شفافیت اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے اور عوامی دلچسپی کے پیش نظر مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

Andrew Mountbatten-Windsor has been arrested on suspicion of misconduct in public office, the BBC understands https://t.co/6qVtVZJ5GQ
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) February 19, 2026

برطانوی میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر میں پولیس اہلکاروں کو غیر نشان زد گاڑیوں میں شاہی خاندان کی سینڈرنگھم اسٹیٹ میں واقع ووڈ فارم رہائش گاہ پر پہنچتے اور کارروائی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی صبح تقریباً آٹھ بجے کی گئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کے دوران حساس معلومات امریکی ارب پتی اور سزا یافتہ جنسی مجرم جعفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کی تھیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

محمد شاہد نامی شخص کا سیالکوٹ اسٹالینز سے کوئی تعلق نہیں، حمزہ مجید

Published

on


سیالکوٹ اسٹالینز کے مالک حمزہ مجید کا کہنا ہے کہ محمد شاہد نامی شخص کا فرنچائز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حمزہ مجید نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مبینہ طور پر محمد شاہد نامی شخص کا فرنچائز یا اس کی انتظامی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس معاملے پر کچھ ابتدائی نوعیت کی بات چیت ضرور ہوئی تھی، تاہم نہ تو پاکستان کرکٹ بورڈ یا پی ایس ایل کو کوئی ادائیگی کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا۔

بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

انتظامیہ نے زور دے کر کہا کہ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور اسے سیالکوٹ اسٹالینز کے نام سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

سیالکوٹ اسٹالینز اور او زی گروپ کی جانب سے جاری اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ مکمل اعتماد اور استقامت کے ساتھ اپنے منصوبوں پر قائم ہیں۔

حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ ادارہ ہر معاملے میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتا ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فرنچائز کے 76 فیصد شیئرز کے قانونی مالک ہونے کے دعویدار محمد شاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ حمزہ مجید  فرنچائز کے شیئر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو مزید شیئرز بیچنے کا حق نہیں ہے۔

محمد شاہد کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو معاملات سے آگاہ کر دیا ہے، میں اس عمل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں۔

آسٹریلیا میں مقیم بزنس مین محمد شاہد نے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے 76 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش

Published

on


26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے سلسلے میں علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئیں، کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت کے جج امجد علی شاہ چھٹی پر ہونے کے باعث کوئی کارروائی نہ ہو سکی، عدالت نے آخری دونوں گواہوں تفتیشی افسران کو آئندہ تاریخ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

عدالت پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل جبکہ آئندہ تاریخ ہر صورت عدالت پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔

وکیل صفائی کو دونوں آخری گواہان پر جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، علیمہ خان سمیت تمام 11 ملزمان عدالت میں موجود تھے، علیمہ خان کے گارنٹرز کے جاری شوکاز نوٹس بھی معطل کر دیے گئے۔

سماعت کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھ پر کیس ہے کہ میں نے خان صاحب کا پیغام پہنچایا، خان صاحب اور حامد رضا سمیت دیگر پر کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں، یہ کیسز ایک دن میں ہوا میں اڑ جائیں گے۔

بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے انہیں الشفاء منتقل کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی تب ممکن ہے جب جسٹس سرفراز ڈوگر کیسز کی سماعت کریں۔

چیف جسٹس سے اپیل ہے کیسز سنیں کیونکہ مقرر جج چھٹی پر چلے گئے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوتے ہی ان کی آنکھ کا علاج الشفاء ہسپتال سے کروایا جائے گا، حکومت نے خان صاحب کے ساتھ تماشہ کیا، فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں معائنہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری ملاقات میں خان صاحب نے کہا یہ مجھے ختم کر دیں گے، محسن نقوی نے فیملی اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں علاج کی گارنٹی دی تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا اور ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی۔





Source link

Continue Reading

Trending