Connect with us

Today News

اگلی باری کس کی ؟

Published

on


ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل بھی وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔لیکن ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی سیز فائر کا کوئی اعلان نہیں۔ نہ ایران کو ابھی کوئی فتح ملی ہے اور خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکا اور اسرائیل کو بھی کوئی فتح نہیں ملی ہے۔ ایران کے میزائل ابھی چل رہے ہیں۔ یہی اس کی فتح ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ لیکن کوئی راستہ ابھی نظر نہیں آرہا ۔

ایک سوال جو بہت پوچھا جا رہا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری کس کی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ سعودی عرب کی باری ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ ترکی کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا جواب بھی آیا ہے کہ پاکستان ایک نیو کلئیر ملک ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ اس لیے یہ تھیوری کہ اس کے بعد پاکستان کی باری ہے غلط ہے۔ اسرائیل کو علم ہے کہ پاکستان دفاعی طو رپر بہت مضبوط ہے۔ بھارت اسرا ئیل سے بڑا ملک ہے۔ دفاعی طور پر بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جب بھارت پاکستان سے نہیں لڑ سکتا تواسرائیل کیا لڑے گا۔

میں اس وقت ایران کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان دنیا میں کوئی تنہا بھی نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان کی باری کے حوالہ سے جتنی بھی گفتگو ہو رہی ہے وہ فضول ہے۔ اس میں کوئی دلیل نہیں۔ البتہ اس بات کے حق میں کافی دلائل موجود ہیں کہ پاکستان کی باری نہیں آسکتی۔ ہم دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ دنیا کے نظام میں ہمارا ایک فعال کردار ہے۔ ہم اسلامی دنیا میں بھی کوئی تنہا نہیں ہیں پھر ہماری فوجی طاقت بے مثال ہے۔ جہاں تک ترکی کی بات ہے۔ میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان اور اسرائیل کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن ترکی نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا ہو اہے۔ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ بلکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تو تجارت بھی موجود رہی ہے،آجکل معطل ہے۔

ترکی کا فلسطین کے لیے موقف قابل قدر ہے۔ ترکی غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں بھی آواز بلند کرتا ہے، ترکی بورڈ آف پیس کا بھی ممبر ہے لیکن ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ میں ترکی پر تنقید نہیں کر رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات غزہ کے بحران کے دوران بھی قائم رکھے۔صرف تجارت معطل کی ہے اور اب ایران تنازعہ میں بھی ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ ترکی نیٹو کا بھی ممبر ہے۔ اس طرح ترکی امریکا کا اتحادی بھی ہے، ترکی کی امریکا سے بھی کوئی لڑائی نہیں، بلکہ نیٹو ممبر کی وجہ سے ترکی پر حملہ تمام نیٹو ممالک پر حملہ تصور ہوگا ۔ اس لیے ترکی پر اسرائیل کا حملہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد پر تشویش ہے ۔ اسرائیل سے کچھ ایسے بیان آئے ہیں کہ یہ اتحاد اسرائیل کے لیے تشویشناک ہے۔ لیکن ابھی نہ تو یہ اتحاد بنا ہے۔ ابھی ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ اس لیے یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارتی راہداریوں پر بات چیت ر ہتی ہے۔ ترکی دفاعی طور پر بھی ایک مضبوط ملک ہے۔

اس کی دفاعی طاقت بہت زیادہ ہے۔ اس کے پاس نیو کلئیر پاور نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا دفاع بہت مضبوط ہے۔اگر ایران کے ساتھ جنگ اتنی مشکل ہے تو ترکی کے ساتھ تو بہت مشکل ہوگی۔ ترکی خطے کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، اس لیے اسرائیل کا ترکی کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہے۔اسرائیل اور ایران کی جنگ کی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر غلط حملہ کیا ہے، یہ حملہ ناجائز ہے، اس کی کوئی قانونی وجہ نہیں ہے، یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ ایران حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے ذریعے مسلسل اسرائیل کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ اسرائیل اور امریکا بھی معاشی پابندیوں اور دیگر حربوں سے ایران کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اب حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فائنل جنگ ہے، اس کے بعد ایران اسرائیل اور امریکا کی کوئی جنگ نہیں ہو سکے گی۔ دنیا میں جنگیں جاری رہتی ہیں۔ امریکا کو جنگوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے لیکن موجودہ جنگ امریکا کے لیے آسان نہیں ہے۔ آج بھی زیادہ تر دفاعی تجزیہ نگار امریکا کی جیت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ لیکن جیت کیا ہوگی، سوال یہی ہے فوج کس کی اور کب داخل ہوگی۔ اسرائیل کے پاس ایسی کوئی فوج نہیں جو وہ ایران میں داخل کر سکے۔

امریکا بھی کوئی بڑی فوج ایران کے پاس لے کر نہیں آیا ہوا کہ ہم کہہ سکیں کہ امریکی فوج داخل ہو جائے گی۔ اس لیے جہاں امریکی جیت کی بات ہو رہی ہے وہاں یہ سوال موجود ہے کہ فوج کس کی اور کب جائے گی۔ ابھی تک اس کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی۔ ابھی تک دنیا کا کوئی بھی ملک ایران میں فوج بھیجنے کو تیارنہیں۔ نیٹو بھی ساتھ نہیں۔ اس لیے یہ سوال موجود ہے کہ رجیم چینج فوج بھیجے بغیر ممکن نہیں اور فوج بھیجنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگلی باری کس کی ہے یہ ایک ثقیل بحث ہے۔ ہر جگہ نظر آرہی ہے ۔ پاکستان اور ترکی کو ایران کے ساتھ کھڑے ہوکر اس جنگ میں شامل ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اگلی باری آپ کی ہے۔ امریکا نے پہلے عراق کو گرایا، شام کو گرایا، لیبیا کو گرایا، اب ایران کو گرا رہا ہے پھر آپ کی باری ہے۔ اس لیے آج ہی اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن دوسری طرف یہ دلیل بھی ہے کہ ایک مفروضہ پر تو کسی جنگ میں شامل نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن آج کل یہ بحث ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دہشت گردی اور ملکی سلامتی کو چیلنجز

Published

on


وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے پیمانے پر کیے گئے متعدد حملوں کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ آپریشنل اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت کے بارے میں بتایا اور انکشاف کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 67 افغان کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں میں ایک فوجی جوان شہید اور5 دیگر زخمی ہوئے۔

افغانستان کی طالبان حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے،بلاشبہ خطرہ حقیقی اور فوری نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ایک ردعمل ہے، نہ کہ جارحیت۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مختلف گروہوں جن میں حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ افغانستان کی طالبان حکومت بھارت کی پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ برصغیر اور وسطی ایشیا کی سیاسی حرکیات کا ایک اہم باب ہے۔ یہ تعلقات کبھی برادرانہ قربت، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی اشتراک کی علامت رہے توکبھی بد اعتمادی، سرحدی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث کشیدگی کا شکار ہوئے۔ آج جب پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کو آپریشن’’ غضب للحق‘‘ شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو یہ محض ایک وقتی عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک گہرے اور مسلسل سیکیورٹی بحران کی علامت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے ساتھ جس سطح کی خیرسگالی، انسانی ہمدردی اور سیاسی تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ خطے کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام اور بعدازاں افغانستان کی حکومت کی درخواست پر سوویت یونین کی افواج کی آمد کے بعد امریکا کے حمایت یافتہ افغان مجاہدین کی قیادت بھاگ کر پاکستان آ گئی ۔ اس وقت پاکستان پر ضیاء الحق اور اس کے ساتھی حکومت کررہے تھے ، اس حکومت نے افغانستان کی دائیں بازو کی مذہبی قیادت کو پناہ دی اور ان کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کے لیے سرحد کھول دی، یوں لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدیں کھولیں بلکہ انھیں تعلیم، صحت، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی فراہم کی۔ عالمی اداروں کی امداد اپنی جگہ، مگر عملی بوجھ پاکستانی ریاست اور معاشرے نے برداشت کیا۔ یہ میزبانی چند سال نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط رہی۔ اس طویل عرصے میں پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔آخر کار امریکا کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں، پھر سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت کا خاتمہ ہوگیا، مجاہدین کا اقتدار قائم ہوا لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے جس کے بعد طالبان نے اپنا اقتدار قائم کرلیا۔اسی دوران القاعدہ کے لوگ افغانستان آگئے، طالبان حکومت نے انھیں پناہ دے دی۔

نائن الیون کا الزام القاعدہ کی لیڈر شپ پر لگا، اس وقت کی ملا عمر کی سربراہی میں قائم طالبان حکومت نے القاعدہ کی قیادت کو پناہ دیے رکھی، یوں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا۔یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ اس تناظر میں پاکستان کی یہ توقع فطری تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر حالیہ برسوں میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔افغانستان میں طالبان کی موجود حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے پوری کوشش کی کہ یہ حکومت عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور دوحہ معاہدے پر عمل کرے ۔ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ تاہم عملی طور پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی، ان کی تنظیم نو اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافہ ایک سنگین تشویش کا باعث بنا۔ متعدد حملوں کی تحقیقات میں یہ شواہد سامنے آئے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے یا انھیں وہاں سے معاونت حاصل تھی۔ یہ صورتحال کسی بھی خود مختار ریاست کے لیے ناقابل قبول ہے۔

پاکستان نے اپنی سرحد کے تحفظ کے لیے باڑ لگانے اور جدید نگرانی کے نظام قائم کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس اقدام کا مقصد دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے اس باڑ پر اعتراضات یا حملے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہر ریاست کو اپنی سرحد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو چیلنج کرنا دراصل ریاستی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔افغانستان کی داخلی صورتحال بھی اس بحران کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طویل جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے افغان ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر مکمل سفارتی تسلیم نہ کیے جانے اور پابندیوں کے باعث معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں مختلف مسلح گروہوں کا اثرورسوخ برقرار رہنا ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ دلیل کسی بھی صورت اس امر کا جواز نہیں بن سکتی کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت دے۔علاقائی جغرافیائی سیاست بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، افغان طالبان اور اس کے اتحادی دیگر مسلح گروہ اس کا فائدہ یوں اٹھا رہے کہ افغانستان کے وسائل کی لوٹ سیل لگا کر پیسہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں سسٹم قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ دہشت گردی اور بلیک میلنگ کو بطور پالیسی اختیار کرلیا۔افغان طالبان اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں اور ان سے فوائد سمیٹنے والے دیگر غیرملکی وائٹ کالر کریمنلز نے یہ بیانیہ فروخت کرنا شروع کردیا کہ اگر افغانستان ایک بار پھر عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔لہذا طالبان حکومت کی مسلسل مالی مدد کی جائے۔پاکستان میں موجود بلیک اکانومی کے سٹیک ہولڈرز بھی اس بیانئے کو دن رات آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل آپریشن جاری رکھنا ضروری ہے، انتہا پسند بیانیے کا توڑ کیا جائے۔ انٹیلی جنس کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سرحدوں کی نگرانی کا عمل سخت کرکے امیگریشن قوانین کو ایسے بنایا جائے کہ پیدل یا روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے سرحدی آمدورفت بند ہوجائے۔اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت پر سخت سزائیں رکھی جائیں۔سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مشترکہ سرحدی کمیشن، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی جیسے اقدامات کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر مستقل حل مذاکرات اور تعاون ہی سے نکلتا ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ انھیں ساتھ رہنا ہے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے کہ وہ ایک طرف اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اور دوسری طرف خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ افغانستان کے لیے بھی یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اگر افغان قیادت اس ذمے داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر اس کی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔

عوامی سطح پر ذمے دارانہ طرز عمل بھی ضروری ہے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں کو اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکانا آسان ہے مگر اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اصل دشمن دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام ہے، نہ کہ دونوں ممالک کے عوام جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

تاریخ نے پاکستان اور افغانستان کو ہمسایہ بنایا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقتی ہے نہ اختیاری۔ دونوں ممالک کی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات دوسرے پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ سرحدی کشیدگی کو مستقل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور تعاون، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا باب رقم کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خونریزی کے دائرے کو توڑ کر خطے کو امن، ترقی اور استحکام کی سمت لے جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فضائی حدود کی بندش سے کراچی سمیت ملک بھر سے کتنی پروازیں منسوخ ہوئیں؟

Published

on



کراچی:

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور متعدد ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث کراچی سمیت ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں سے مزید 162 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس کے بعد پانچ روز کے دوران منسوخ پروازوں کی مجموعی تعداد 578 تک پہنچ گئی۔

ذرائع کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سمیت اسلام آباد، لاہور، پشاور، ملتان، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے ہوائی اڈوں سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں۔

کراچی ایئرپورٹ سے دبئی، ابوظہبی، دوحہ، شارجہ، کویت اور بحرین کی 40 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ اسلام آباد سے 38، لاہور سے 28، پشاور سے 24، ملتان سے 18، سیالکوٹ سے 8 اور فیصل آباد سے 6 پروازیں منسوخ کی گئیں۔

منسوخ پروازوں میں امارات، اتحاد ایئرویز، ایئر عربیہ، پی آئی اے، ایئر بلیو، فلائی دبئی اور قطر ایئرویز سمیت ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور ایران سمیت متعدد ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عراق کے بعد کیوبا بھی اندھیرے میں ڈوب گیا، معمولات زندگی مفلوج

Published

on



HAVANA:

کیوبا کے بیشتر علاقے اچانک بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث تاریکی میں ڈوب گئے جس سے دارالحکومت ہوانا سمیت ملک کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔

سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق یہ وسیع بلیک آؤٹ اس وقت پیش آیا جب ہوانا سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع انتونیو گوئتریس تھرمو الیکٹرک پلانٹ اچانک بند ہو گیا۔ اس غیر متوقع خرابی کے بعد مغربی صوبے پینار ڈیل ریو سے لے کر مشرقی لاس توناس تک بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

ریاستی میڈیا کے مطابق ملک پہلے ہی شدید ایندھن بحران کا شکار ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تیل کی ترسیل محدود کیے جانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت نے پاور پلانٹس کی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نظام بار بار دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہوانا میں اچانک لائٹس بجھنے سے ٹریفک جام ہو گیا، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں ہنگامی جنریٹرز چلانے پڑے جبکہ متعدد علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی۔

حکومت نے بحالی کا عمل شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم شہریوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو ملک کو مزید طویل بلیک آؤٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔

وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending