Connect with us

Today News

ایران؛ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوگا؟

Published

on


ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟

ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر “مجلسِ خبرگان” یعنی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔

تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی ‘مرجع’ کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔

ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔

یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رونالڈو نے سعودی شہر ریاض چھوڑ دیا

Published

on



ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے سعودی عرب کے شہر ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا نجی طیارہ رات آٹھ بجے ریاض سے روانہ ہوا اور تقریباً ایک بجے میڈرڈ پہنچ گیا۔ فلائٹ ٹریکر کے مطابق طیارہ مصر اور بحیرۂ روم کے اوپر سے گزرا۔

فٹ بال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کا نجی طیارہ پیر کی رات سعودی عرب سے میڈرڈ کے لیے روانہ ہوا کیونکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی خطے میں ہونے والے آٹھ میچوں کو معطل کر دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس نجی طیارے کے ذریعے رونالڈو میڈرڈ گئے ہیں اسکی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔

تاہم برطانوی اخبار کے مطابق یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ان کا خاندان بھی اس پرواز میں ان کے ہمراہ موجود تھا یا نہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پشاور میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی، خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار

Published

on


محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے پشاور میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی اور مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے خاتون سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ایکسائز انٹیلیجنس اسکواڈ کی مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 3145 گرام آئس برآمد کی گئی۔

پیر زکوڑی پل کے قریب کارروائی کے دوران ملزم ساجد آفریدی کو گرفتار کرکے 670 گرام آئس برآمد کی گئی۔

موٹروے جوائنٹ چیک پوسٹ پشاور پر کارروائی میں ملزم محمد ابراہیم کو گرفتار کر کے 540 گرام آئس برآمد کی گئی۔

سروس روڈ پر کارروائی کے دوران خاتون منشیات سمگلر کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے 1035 گرام آئس برآمد ہوئی۔

موٹروے جوائنٹ چیک پوسٹ پر ایک اور کارروائی میں ملزم محمد عمران ولد عارف علی کو گرفتار کر کے 900 گرام آئس برآمد کی گئی۔

تمام ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

کارروائیاں پروونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس سعود خان گنڈاپور اور ای ٹی او کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز ماجد خان کی نگرانی میں کی گئیں۔

محکمہ ایکسائز نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز اور پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران بعد کس کا نمبر ہوگا؟ امریکا نے بتادیا

Published

on


وینزویلا اور پھر ایران میں فوجی آپریشن کے بعد رجیم چینج کی پالیسی کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف بھی سامنے آگیا۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے سینیٹر لینڈسے گراہم نے حالیہ جنگوں کے تناظر میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے اہداف بہت واضح ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکا سے متعلق بھی سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہے ہیں اور ان کا اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔

امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اب کمیونسٹ آمریت زدہ ممالک کے دن گنے جا چکے ہیں اور امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر آپشن استعمال کرے گا۔

کیوبا کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟

1. نظریاتی اختلاف اور کمیونسٹ نظام

کیوبا 1959 کے انقلاب کے بعد سے ایک سوشلسٹ ریاست ہے۔ امریکا اور کیوبا کے تعلقات سرد جنگ کے دور سے کشیدہ رہے ہیں۔

امریکا طویل عرصے سے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغنوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان 2015 میں تعلقات کی بحالی کی کوششیں کی گئیں تاہم بعد ازاں دوبارہ پابندیاں سخت کی گئیں۔

2. وینزویلا سے قریبی تعلقات

کیوبا کے وینزویلا کی نکولس مادورو حکومت سے قریبی تعلقات ہیں اور امریکا نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک کی عدالت میں پیش کرچکا ہے۔

امریکی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کیوبا لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی حکومتوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

3. روس اور چین سے روابط

امریکی حکام کئی بار یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ کیوبا کے روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

4. داخلی امریکی سیاست

فلوریڈا سمیت بعض ریاستوں میں کیوبا نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو کیوبا کی موجودہ حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ سخت مؤقف اپنانا بعض اوقات داخلی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی یا منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے یا پیغام رسانی کے لیے دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب لاطینی امریکی ممالک اور بعض یورپی حلقوں نے خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بھی یکطرفہ کارروائیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending