Connect with us

Today News

ایرانی سپریم لیڈر کے انتقال پر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ، ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

Published

on


اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت میں ایرانی سپریم لیڈر کے انتقال پر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں پولیس کیجانب سے گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے تمام ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کردی ہے۔ انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی۔

پولیس کیجانب سے ملزم کے 6 روزہ جسمانی کی استدعا کی گئی تھی۔ پولیس کیجانب سے مجموعی طور پر 48 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

تھانہ سیکرٹریٹ میں ملزمان کیخلاف دہشت گردی ودیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بغیر پروٹوکول سہیل آفریدی کی پشاور صدر بازار آمد، عوام میں گھل مل گئے

Published

on



پشاور:

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بغیر سیکیورٹی اور سرکاری پروٹوکول کے رات گئے اچانک پشاور کے مصروف علاقے صدر بازار پشاور کا دورہ کیا جہاں وہ عام شہریوں میں گھل مل گئے۔

وزیراعلیٰ نے بازار کے مختلف حصوں کا پیدل جائزہ لیا، دکانداروں اور خریداروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل بھی سنے۔

اس غیر رسمی دورے کے دوران شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز بنوائیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کا یہ دورہ بغیر کسی پیشگی اعلان کے کیا گیا، جس کا مقصد عوامی مسائل کا براہ راست مشاہدہ کرنا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ بندی کی خلاف ورزی پر طالبان ترجمان کا دعویٰ پاکستان نے مسترد کر دیا

Published

on



اسلام آباد:

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزارتِ دفاع ترجمان کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے عیدالفطر کے پیشِ نظر کیے گئے عارضی وقفے کی خلاف ورزی کی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق پاکستان نے مغربی سرحد پر اس عارضی جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی ہے اور اس کی خلاف ورزی سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد، لغو اور سراسر جھوٹ ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈا ممکنہ طور پر افغان طالبان حکومت کے اندر موجود بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا یا دہشت گردی کے لیے جھوٹا جواز فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اگر افغان طالبان حکومت یا اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی، سرحد پار حملہ یا ڈرون کارروائی کی گئی تو عارضی وقفہ فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

حکام نے مزید کہا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں آپریشن غضب للحق کو مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

وزارتِ اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے جھوٹے بیانیے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

چشم نَم سے آپ کو کہتے ہیں الوداع ۔۔۔۔۔!

Published

on


رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں، ہم بھی دیدہ و دل فرش راہ ہوتے ہیں لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ رب تعالی کا یہ مہینا تو واقعی مہمان تھا، آیا اور پھر کس تیزی سے گزر گیا اور پھر ہم پھر سے ایک ناقابل بیان کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ کھو سا گیا ہے، وہ ماہ مبین آیا، اس نے ہمیں سرشار کیا اور دبے پاؤں رخصت بھی ہوگیا، الوداع۔۔۔۔۔۔۔!

رمضان کی آخری چند گھڑیاں ہی باقی ہیں جو ہمیں اپنے محاسبے اور جائزے کے لیے ملے ہیں۔

رمضان المبارک ہمارے گناہوں کو جلا ڈالتا اور ہمیں نئے سرے سے زندگی و توانائی دینے آتا ہے، تو کیا ہم اس میں کام یاب ہوئے۔۔۔ ؟

روزے کا اجر صرف رب تعالی کو معلوم ہے اور یہ بھی کہ ہمارے روزے قبول ہوئے کہ خدا نہ خواستہ ہم صرف بھوکے پیاسے رہ کر محروم ہوجانے والوں میں تو نہیں۔

آئیے! اس امید کے ساتھ کہ اﷲ تعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا اور ان سے درگزر کرتا ہے، اپنا احتساب و جائزہ لیں لیکن کیا جائزہ لیا جائے۔۔۔۔ ؟

اگر چند جملوں میں روزے کا مقصد سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ روزہ قُرب الہی کا ذریعہ ہے تو کیا ہم اﷲ کے قریب ہونے میں کام یاب ہوئے۔۔۔؟ اﷲ کے قُریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس تسبیح کے دانے گرتے رہیں، تلاوت جاری رہے، سجدوں سے پیشانی سیاہ ہوجائے، یہ سب تو قرب الہی کے ذرائع ہیں اور ان اعمال کا بجا لانا ازحد ضروری ہے، قُرب کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اﷲ کی محبّت میں اپنے نفس کی خواہشات کو مار ڈالا ہے۔۔ ؟ اگر ہماری خواہشات اﷲ کے حکم سے ٹکراتی ہیں تو ہم نے رب کی محبت میں اسے قربان کرنا سیکھا یا نہیں ؟ اور سب سے اہم یہ کہ یہ محبت چند روزہ ہے یا دائمی ؟ رمضان ختم ہوتے ہی کہیں ہم دوبارہ تو ان امور میں مبتلا تو نہیں ہوجائیں گے جس سے رب نے منع کیا ہے۔

رمضان میں تو اﷲ تعالی حلال کاموں پر بھی پابندی لگاتے ہیں، لوگ رک جاتے ہیں لیکن جو ممنوعات ہیں ان میں پورا سال مبتلا رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ شریعت میں تو یہ ویسے ہی منع ہیں۔ تو اپنا جائزہ لیں کہ ہم خود کو روک پائے ہیں کہ نہیں؟ روزہ محنت کی عادت ڈالتا ہے تو کیا ہم نے آرام طلبی کو اپنی زندگی سے نکالا ؟ ہم نے محنت و مشقت کرنا سیکھا ؟ روزہ ہم دردی ایثار پیدا کرتا ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر یہ صفات پیدا ہوئیں؟ روزہ برائیوں سے روکتا ہے تو کیا ہم رک گئے، آنکھ کان زبان کے گناہ سے خود کو بچا پا رہے ہیں ؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوئے تو ہمارے لیے مقام شکر ہے کہ اﷲ نے ہمیں توفیق دی اور شُکر کے نوافل و سجدے ادا کریں کہ شُکر اجر کو بڑھاتا ہے اور اگر ان مقاصد کے حصول میں کمی رہی، سستی و کاہلی دکھائی ہے جو کام اﷲ کو ناپسند ہیں وہ نہیں چھوڑے ہیں تو اب بھی وقت ہے یہ چند گھڑیاں بھی سچے دل سے مانگنے والوں کے لیے نعمت عظمی ہیں، سچے دل سے توبہ کی جائے اﷲ کی مدد و مغفرت طلب کی جائے، رحم مانگا جائے کہ ہمارا عمل تو نہیں اس قابل آپ دینے و عطا کرنے والے ہیں ہمیں خوش نصیبوں میں شامل فرما لیجیے۔

رمضان المبارک برکتیں لایا تھا تو جائزہ لیجیے اپنا کہ ہم نے ایسا کیا کچھ کِیا ہے جو بارگاہ الہی میں قبول ہو ؟ کہیں ہماری عبادت جھوٹ، دھوکا دہی، بددیانتی، دکھاوے و نمود و نمائش سے آلودہ تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہ ہے تو اترائیے بھی نہیں کہ یہ بھی بس توفیق الہی کے بنا ناممکن تھا، بس شکر کیجیے اور شُکر بھی خوف کے ساتھ کہ کہیں نیّت میں کوئی کھوٹ تو نہ تھی کہ رب کو ریا کاری و خودنمائی قبول نہیں۔ اب کمر کس لیجیے، جسمانی و مالی کسی عبادت سے نہ رکیے، ہاتھ تنگ کیجیے نہ دل کہ رب کو یہی مقصود ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending