Connect with us

Today News

ایران – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ جاری ہے اور مجھے ابھی کئی دن یہ جنگ جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکا ا ور اسرائیل کو ابتدائی کامیابی ملی ہے۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تاحال ایران میں رجیم کی تبدیلی ممکن نہیں ہوئی ہے۔ ایران کا نظام حکومت چل رہا ہے۔ ان کی فوج لڑ رہی ہے۔ اس لیے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ ایران کا نظام حکومت کسی ایک فرد پر منحصر نہیں تھا۔

اس سے پہلے عراق اور لیبیا میں ہم نے دیکھا تھا کہ فرد واحد کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی نظام حکومت سامنے نہیں آیا۔ صدام حسین کے گرنے سے عراق کا نظام حکومت ختم ہوگیا۔ قذافی کے گرنے سے لیبیا کا نظام حکومت ختم ہوگیا۔ دونوں جگہ فرد واحد کی حکومت تھی کوئی نظام حکومت نہیں تھا۔ وہاں کی فوجیں بھی فرد واحد کی فوجیں تھیں، اس لیے فرد کے ہٹنے سے فوج کے پاس بھی لڑنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ اس طرح کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ لیکن حالیہ تاریخ کی یہی دو بڑی مثالیں ہیں۔ جہاں کامیابی سے رجیم چینج ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح ونیز ویلا کی مثال بھی مختلف ہے۔ وہاں کے صدر کے خلاف اندر سے ہی بغاوت ہو گئی تھی۔ ونیز ویلا کی نائب صدر اور وہاں کا آرمی چیف امریکا کے ساتھ تھے۔ اس لیے وہاں اندر سے بغاوت ہوئی اور انھوں نے اپنا صدر خود ہی امریکا کے حوالے کر دیا اور ملک چلانا شروع کر دیا۔

 ایران میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے نہ تو ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ ہی پاسداران انقلاب میں کوئی بغاوت ہوئی ہے اور نہ ہی ابھی تک وہاں جانشینی کی کوئی لڑائی سامنے آئی ہے۔ نہ ہی ایسا نظر آیا ہے کہ ایرانیوں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں۔ نہ ہی انھوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے یہ عمومی رائے غلط ثابت ہوگئی ہے کہ ایران میں فرد واحد کی حکومت تھی۔اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اب ایران میں رجیم چینج ممکن ہوگئی ہے۔ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران میں رجیم چینج کے لیے لڑ ائی شروع کی ہے تو پھر ابھی انھیں کامیابی نہیں ملی ہے۔ ابھی وہاں وہی رجیم موجو دہے جو امریکا اور اسرائیل کی مخالف ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ وہاں ابھی نئے سپریم لیڈر کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ لیکن ایک عارضی درمیانی مدت کے لیے آئت اللہ عالی رضا عارفی کونامزد کیا گیا ہے۔ وہ ایک تین رکنی کمیٹی کے ساتھ کام کریں گے۔ اس کمیٹی میں ایرانی صدر بھی شامل ہیں۔

امریکا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے ایران میں بڑی قیادت کو شہید کر دیاہے۔ وہاں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ ایسے افراد کو چن چن کر مارا جا رہا ہے جو موجودہ ایرانی رجیم میں اہم ہیں۔ لیکن پھر بھی نظام قائم ہے۔و یسے تو سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کو بھی شہید کرنے کی اطلاعات ہیں۔ وہ تو موجودہ رجیم کے حامی نہیں تھے۔ انھیں تو اس نظام میں اب الیکشن لڑنے کی اجازت بھی نہیں مل رہی تھی۔ وہ تو کہا جا سکتا ہے کہ خامنہ ای کے مخالف تھے۔ ایک متبادل آپشن ہو سکتے تھے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ وہ تو اپنے گھر میں قید تھے۔ انھیں تو قید میں رکھا گیا تھا۔ لیکن انھیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پیغام ملتا ہے کہ بے شک وہ مخالف تھے۔ لیکن امریکا کو قابل قبول نہیں تھے۔

ایران خطہ میں موجود اسلامی ممالک پر حملے کر رہا ہے۔ بالخصوص عرب ممالک پر حملے کر رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ ممالک امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے ان پر حملے جائز ہیں۔ ویسے میں ایران کی اس پالیسی کا حامی نہیں ہوں۔ اس سے امریکا کی مدد ہو رہی ہے۔ اسلامی دنیا میں ایران کی حمائت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا ایران کو بہت نقصا ن ہوگا۔ میری رائے میں ایران کو جنگ اسرائیل اور امریکا تک محدود رکھنی چاہیے تھی۔ اس کاایران کو زیادہ فائدہ ہوتا۔ ایرانی میزائل اسرائیل تک پہنچ رہے ہیں۔ اسرائل کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس لیے اگر اسرائیل اور امریکا تک فوکس رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

عالمی امور کے ماہرین چین اور روس سے بھی بہت مایوس ہیں۔ ان کی رائے میں چین اور روس نے ایران کی کوئی خاص مدد نہیں کی۔ پہلے روس او ر چین شام اور ونیز ویلا کے موقع پر بھی خاموش رہے ہیں۔ا ور امریکا کے راستے میں نہیں آئے ہیں۔ اب ایران کی دفعہ بھی راستے میں نہیں آئے ہیں۔ اس لیے اب دنیا کا کونسا ملک امریکا کے مقابلے میں روس اور چین کے ساتھ اتحاد بنانا چاہے گا۔ سب جان گئے ہیں کہ جب لڑنے کا موقع آئے گا تو روس اور چین ساتھ نہیں ہوںگے۔

ایران میں موجودہ رجیم کے خلاف چند ماہ پہلے شدید مظاہرے ہوئے تھے۔ لوگ مہنگائی اور ڈالر کی بڑھتی قدر کے خلاف سڑکوں پرآئے۔ ایرانی رجیم نے ان کو طاقت سے زیر کیا۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اب وہاں کوئی مخالف باہر نہیں آیا۔ لوگ ان کے حق میں باہر آئے ہیں۔ تہران سے جو مناظر سامنے آئے ہیں۔ وہاں لوگ سو گ میں ہیں۔ لیکن ایسا کوئی منظر ایران کے اندر سے سامنے نہیں آیا کہ لوگ خوشی منا رہے ہوں۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جنگ نے ایرانیوں کو اس قدر متحد کر دیا ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بھول گئے ہیں۔ کیا لوگ موجودہ رجیم سے اپنے گلے بھول گئے ہیں۔ ایران کے باہر سے ایسے مناظر سامنے آئے ہیں۔ لیکن اندر سے نہیں۔

ایرانی فوج کام کر رہی ہے۔ میزا ئل داغے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ بے شک ایرانی فوج اور بالخصوص پاسدران انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن ایران کے اندر ایسا کوئی ماحول ابھی نظر نہیں آرہا۔ یہ دلچسپ بات ہے۔ یہ نظام کی مضبوطی کی شاندار مثال ہے۔ اس لیے رجیم چینج ابھی ممکن نظر نہیں آرہی ۔ وہاں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آرہی ۔ شائد خامنہ ای کی شہادت نے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کر دیا ہے۔ اختلافی آوازیں بھی وقتی طور پر خاموش ہو گئی ہیں۔سب اندازے کہ لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ کل کیا ہوجائے میں نہیں کہہ سکتا۔ ابھی کی صورتحال یہی نظر آرہی ہے۔ اس لیے جنگ لمبی چلتی نظر آرہی ہے۔ جب تک ایران میزائل چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جنگ چلتی رہے گی۔ ابھی یہ صلاحیت باقی ہے۔ یہی ایران کی بنیادی طاقت ہے۔ ابھی تک امریکا اس کو ختم نہیں کر سکا ہے۔ ابھی تک پاسدران انقلاب نظام کی حفاظت کر رہے ہیں، اس لیے ابھی رجیم موجود ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خود مختاری، علاقائی کشیدگی، پارلیمانی عزم

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسِ سے خطاب ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستِ پاکستان کو بیک وقت داخلی استحکام، علاقائی کشیدگی اور عالمی سفارتی دباؤ جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ خطاب محض ایک آئینی تقاضے کی تکمیل نہیں تھا بلکہ اس میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خاتمے، علاقائی امن اور معاشی استحکام کے بارے میں ایک واضح سمت کا تعین بھی کیا گیا۔ صدر مملکت نے جو نکات اٹھائے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو اس وقت سنجیدہ، مربوط اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا بھارت کو دوٹوک پیغام کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، دراصل جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی اسٹرٹیجک صورتحال کا عکاس ہے۔ صدر پاکستان کا بیان ایک طرف قومی عزم اور دفاعی تیاری کا اظہار ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی دعوت بھی۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک ذمے دار ریاست کو اختیار کرنا چاہیے۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ اعتماد اور طاقت کی علامت ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کے پیچھے مستحکم دفاعی ڈھانچہ اور سیاسی وحدت موجود ہو۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غلط فہمیوں، اشتعال انگیزی اور غیر ذمے دارانہ بیانات نے کئی بار حالات کو جنگ کے دہانے تک پہنچایا۔ ایسے میں سفارت کاری، بیک چینل رابطے اور بین الاقوامی ثالثی کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ صدر مملکت نے عالمی برادری کی ان کوششوں کو سراہا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی گئیں۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان خود کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو طاقت کے استعمال کو آخری چارہ کار سمجھتی ہے اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔

افغانستان کے حوالے سے صدر پاکستان کا مؤقف بھی نہایت واضح تھا۔ انھوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا ہوگا۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی، کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہیں اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ریاست کا یہ مطالبہ کہ افغان حکومت قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم کرے، دراصل اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی احترام اور عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے، اگر ایک ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتا ہے۔

 اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق کا ذکر ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیکڑوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے، متعدد چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں اور اسلحہ بردار گاڑیاں ناکارہ بنائی گئیں۔ بلاشبہ ریاست اس معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں بلکہ واضح حکمت عملی کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم عسکری کامیابی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی بھی ضروری ہے، کیونکہ دیرپا امن محض بندوق کی نال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، تجارتی راستے اور سفارتی صف بندیاں اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ مؤقف کہ خطے کو مزید بحران سے بچانے کے لیے امن، تحمل اور مذاکراتی حل کو ترجیح دی جائے، ایک متوازن اور ذمے دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کی رقابت نے کئی خطوں کو پراکسی جنگوں کا میدان بنا دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال نے ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں نہایت محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بلاک سیاست میں غیر ضروری طور پر الجھنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی روابط کا فروغ اور اقتصادی تعاون کے نئے راستوں کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔

داخلی سطح پر صدر مملکت نے خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کو قومی ترجیحات قرار دیا۔ یہ تینوں اہداف دراصل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سلامتی کی صورتحال بہتر نہ ہو تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اگر معیشت کمزور ہو تو دفاعی صلاحیت اور سماجی بہبود کے منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، مہنگائی، بیرونی قرضوں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔صدر مملکت کے خطاب میں جو بنیادی پیغام نمایاں تھا وہ یہ کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ یہ مؤقف داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، سرحدی خلاف ورزیوں پر مؤثر جواب اور سفارتی محاذ پر فعال کردار، یہ تینوں پہلو مل کر ایک جامع قومی حکمت عملی تشکیل دے سکتے ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اگر مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند ہو جائیں تو کشیدگی مستقل صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیک وقت سخت اور نرم دونوں پہلوؤں پر مشتمل پالیسی اپنائے، جہاں ضروری ہو وہاں سختی اور جہاں ممکن ہو وہاں لچک اور مذاکرات۔

نئے پارلیمانی سال کا آغاز اگر واقعی خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کے عزم کے ساتھ کیا گیا ہے تو اس کے لیے بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی، شفاف احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں اور معاشی طاقت کے بغیر خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔

آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سرحدی کشیدگی، دوسری جانب دہشت گردی کا خطرہ اور تیسری جانب معاشی دباؤ، یہ سب مل کر ایک پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ ایسے میں قیادت کی بصیرت، قومی اتحاد اور مؤثر حکمت عملی ہی وہ عوامل ہیں جو ملک کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ صدر مملکت کا خطاب اسی سمت میں ایک اشارہ تھا کہ ریاست اپنے چیلنجز سے باخبر ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔بالآخر قوموں کی طاقت ان کے اتحاد، حوصلے اور ادارہ جاتی استحکام میں مضمر ہوتی ہے، اگر پاکستان داخلی اختلافات کے باوجود بیرونی خطرات کے مقابلے میں متحد ہو جائے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور معیشت کی بحالی کے لیے ٹھوس اصلاحات نافذ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایک مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر نہ سکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی و ریاستی قوتیں ایک صفحے پر آئیں اور قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں، تاکہ آنے والا پارلیمانی سال محض رسمی تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی پیش رفت اور قومی استحکام کا سال ثابت ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد، گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے

Published

on



پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم نے سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بناکر ہنگامہ آرائی کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کے کارکنان کا سیکیورٹی گارڈ سے جھگڑا ہوا اور یہ واقعہ لا کالج کے سامنے پیش آیا۔

طلباء تنظیم کے کارکنوں نے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیے جبکہ اہلکاروں پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں جس سے متعدد گارڈ زخمی ہوگئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ لاء کالج بند ہونے کے بعد زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی۔ اجازت نہ ملنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شرپسندی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

اُدھر طلبا تنظیم نے کہا کہ افطار کی اجازت دینے کے باوجود پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے باعث بدنظمی اور پھر معاملہ خراب ہوگیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مہنگی، عوام پر 8 ارب 67 کروڑ سے زائد کا بوجھ پڑے گا

Published

on



نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کیلئے  بجلی کی قیمت میں اضافہ کردیا۔

نیپرا کی جانب سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت قیمتوں بارے فیصلہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔

نیپرا نے اکتوبر تا دسمبر 2025 بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی جس کا اطلاق مارچ سے مئی 2026 کے تین ماہ کیلئے ہوگا۔

فی یونٹ قیمت میں اضافے سے بجلی صارفین پر 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending