Today News
ایران بعد کس کا نمبر ہوگا؟ امریکا نے بتادیا
وینزویلا اور پھر ایران میں فوجی آپریشن کے بعد رجیم چینج کی پالیسی کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اگلا ہدف بھی سامنے آگیا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے سینیٹر لینڈسے گراہم نے حالیہ جنگوں کے تناظر میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے اہداف بہت واضح ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکا سے متعلق بھی سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہے ہیں اور ان کا اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔
امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اب کمیونسٹ آمریت زدہ ممالک کے دن گنے جا چکے ہیں اور امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر آپشن استعمال کرے گا۔
کیوبا کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟
1. نظریاتی اختلاف اور کمیونسٹ نظام
کیوبا 1959 کے انقلاب کے بعد سے ایک سوشلسٹ ریاست ہے۔ امریکا اور کیوبا کے تعلقات سرد جنگ کے دور سے کشیدہ رہے ہیں۔
امریکا طویل عرصے سے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغنوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان 2015 میں تعلقات کی بحالی کی کوششیں کی گئیں تاہم بعد ازاں دوبارہ پابندیاں سخت کی گئیں۔
2. وینزویلا سے قریبی تعلقات
کیوبا کے وینزویلا کی نکولس مادورو حکومت سے قریبی تعلقات ہیں اور امریکا نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک کی عدالت میں پیش کرچکا ہے۔
امریکی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کیوبا لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی حکومتوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
3. روس اور چین سے روابط
امریکی حکام کئی بار یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ کیوبا کے روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
4. داخلی امریکی سیاست
فلوریڈا سمیت بعض ریاستوں میں کیوبا نژاد امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو کیوبا کی موجودہ حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ سخت مؤقف اپنانا بعض اوقات داخلی سیاسی حکمتِ عملی کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی یا منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے یا پیغام رسانی کے لیے دیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب لاطینی امریکی ممالک اور بعض یورپی حلقوں نے خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بھی یکطرفہ کارروائیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Today News
اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو کوریج؛ 2 ترک صحافی گرفتار؛ ویڈیو وائرل
اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو نشریات کرنے والے دو ترک صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی این این سے تعلق رکھنے والے دونوں صحافی ایران کے تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر علاقوں پر میزائل حملوں کے بعد کی صورتحال کی کوریج کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے بقول یہ دونوں صحافی تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ’’کریا ملٹری کمپلیکس‘‘ کے باہر کیمروں کے ساتھ بہت نزدیک موجود تھے۔
یہ صحافی امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ترک زبان کے چینل سے وابستہ تھے جن میں ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین شامل ہے۔
اسی دوران ایران کے میزائل حملوں کے بعد اس علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور خلاف ورزی پر دونوں صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
لائیو نشریات کے دوران ہی دو فوجی اہلکار آئے اور رپورٹر کا موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ دو مشتبہ افراد کیمرے کے ساتھ ایک غیر ملکی میڈیا چینل کے لیے حقیقی وقت میں ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔
جب اہلکاروں نے ان سے شناخت طلب کی تو انہوں نے پریس کارڈ پیش کیے جو مبینہ طور پر معیاد ختم ہونے کے باعث قابلِ قبول نہیں تھے جس پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ترکیہ کے صدارتی محکمۂ مواصلات کے سربراہ نے گرفتاری کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
Today News
نیشنل ٹی ٹوئنٹی کیلئے وینیو ایک بار پھر تبدیل کیوں کیا گیا؟
نیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا مقام ایک بارپھر تبدیل کردیا گیا۔ اب ملتان میں یہ ٹورنامنٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
پی سی بی نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کو پانچ مارچ سے پشاور میں کرانے کا اعلان کیا تھا، جس کو چند روز قبل راولپنڈی میں شفٹ کیا گیا تھا۔
ذرائع کےمطابق لاجسٹک ایشوز کی وجہ سے اب یہ مقابلے ملتان میں کرائے جائیں گے۔ اس حوالے سے ایونٹ کا حصہ تمام دس ٹیموں کو پنڈی کے بجائے ملتان پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مقام تبدیل کرنے کے بعد ایک روز ٹورنامنٹ کوآگے بڑھاکر اب 6 مارچ سے اس کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ میچز کےدوران ریسٹ ختم کردیاگیاہے جبکہ فائنل 17 مارچ کو ہی کھیلاجائے گا۔
Source link
Today News
سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران چونکا دینے والا انکشاف
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بننے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ کراچی میں 20 برس سے الیکٹرک انسپکشن معطل ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ الیکٹرک انسپکٹر پرویز احمد کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکٹرک انسپکٹر لوڈ اور اسپکشن کا جائزہ لیتا ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ انسپکشن میں کیا کیا جاتا ہے؟ پرویز احمد نے بتایا کہ بجلی کا انفرااسٹرکچر چیک کا کرنا ہمارا کام ہے۔ فائر فائٹنگ سامان کی ایکسپائری چیک کرتے ہیں۔ 20 سال سے انسپکشن معطل ہے۔
کمیشن نے سوال کیا وجہ ہے؟ الیکٹرک انسپکٹر نے کہا کہ ڈپارٹمنٹ اور انرجی منسٹری نے منع کیا ہوا ہے۔
پرویز احمد نے نوٹفکیشن کمیشن کو پیش کردیا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے لیے بتادیں کہ نوٹس ایریگیشن اور پاور نے 2003 میں جاری کیا، جب آپ کو تو پہلے ہی اوپر سے کام بند کرنے کی ہدایات ہیں تو پھر آپ کو کیوں بلائیں۔
صحافی محمد بابر جرح کے لیے پیش ہوئے۔ چیف فائر افسر ہمایوں خان نے جرح کرتے ہوئے سوال کیے کہ آپ کے پاس فائر فائٹنگ کی تربیت یا تعلیم نہیں ہے، آپ گل پلازہ آپریشن میں شامل نہیں تھے۔
جواب دیتے ہوئے بابر سلیم نے کہا کہ میں گل پلازہ میں پہلے روز نہیں لیکن بعد میں اندر گیا تھا۔ ہمایوں خان نے پوچھا آپ نے کہا میری تعیناتی عدالت میں چیلنج کی گئی۔ ایسا کوئی آرڈر موجود نہیں ہے۔ عہدہ خالی ہونے پر گریڈ 18 کے افسران موجود تھے۔ پروموشن کے افسران کی اہلیت کے تناظر میں قائم مقام چارج دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ایک ہی ادارے ہیں۔ 1991 میں بطور فائر فائٹر تعیناتی ہوئی۔ 2009 سے فائر بریگیڈ میں بھرتیاں بند ہیں۔ 22 میں سے 12 عہدے خالی ہیں۔ 35 برس بعد اپگریڈیشن کے بعد چیف فائر افسر کا عہدہ گریڈ 19 کا ہوگیا ہے۔ چیف فائر افسر کے ساتھ ٹیم لیڈر کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ سوالات بیان کے حوالے سے رکھے جائیں۔ چیف فائر افسر کی جانب سے فائر بریگیڈ اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو کے پاس دستیاب آلات کی ویڈیو کمیشن میں پیش کی گئی۔
صحافی محمد بابر نے کہا کہ انکی فہرست میں 29 آلات ہیں، ایس او پی کے تحت 41 آلات ہوتے ہیں۔ شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری محمد دانش پیش ہوئے۔ ڈی جی ریسکیو 1122 سید واجد صبغت اللہ نے جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ تربیت یافتہ فائر فائٹر ہیں؟ دانش نے کہا کہ سول ڈیفنس سے ایک ماہ کا کورس کیا تھا، میں دس بجکر بیس منٹ پر گل پلازہ پہنچا۔ کے ایم سی کے فائر ٹینڈر سے سیڑھی لیکر اوپر گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے پہنچنے کے بعد پہلا فائر ٹینڈر گل پلازہ پہنچا۔ ڈی جی نے سوال کیا کہ آپ کو کتنی دیر لگی اوپر پہنچنے میں۔ دانش نے کہا کہ وقت کا اندازہ نہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی صاحب یہ ٹرائل پر نہیں ہیں، آپ سوالات ان کے بیانات تک رکھیں۔ ڈی جی نے کہا کہ تیسرے فلور سے لوگوں کو ریسکیو کیا؟ دانش نے کہا کہ گرل میں چھوٹی سے کھڑکی سے لوگوں کو ریسکیو کیا۔
ڈی جی نے سوال کیا کہ کیا آپ عمارت میں داخل ہوئے؟ دانش نے کہا کہ میرے پاس آلات نہیں تھے۔ اندر دھواں بھرا ہوا تھا، اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا۔ آخری فرد بے ہوش ہوگیا تھا، اسکو اتارتے ہوئے سیڑھی گر گئی اور میں اوپر رہ گیا۔
دانش نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی گاڑی نے سیڑھی لگائی جس سے نیچے اترا۔ ڈی جی نے کہا کہ ریسکیو 1122 شہر میں بہت کم وسائل کے ساتھ کے ایم سی کے ساتھ بیک اپ پر کام کررہا ہے۔
ریسکیو 1122 کے پاس 4 اسٹیشن اور 7 فائر ٹینڈر موجود ہیں۔ پہلا فائر ٹینڈر ڈی ایچ اے سے روانہ کیا جو 10 بجکر 53 منٹ پر پہنچا۔ ہمارے فائر فائٹرز اور ریسکیور کے پاس ماسک اور دیگر آلات موجود تھے۔ جب ہماری ٹیم پہنچی تو آگ نے عمارت کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ 2 فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کی کوشش کی، 2 نے رمپا پلازہ سے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہمیں 20 سے 25 منٹ کی تاخیر سے اطلاع ملی۔ جس کی وجہ سے ٹیم کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔
تاخیر سے اطلاع کی وجہ سے ہم سے مواقع ضائع ہوئے۔ ریسکیو 1122کے پاس اسنارکل، ایئریل لیڈر اور ایکس کیویٹر نہیں ہیں۔ ہیوی مشینری کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کو نکالنے کا موقع ضائع ہوا۔ زیادہ تر ہلاکتیں گراونڈ اور میز نائن فلور پر ہوئیں۔
رمپا پلازہ کے مالکان کی تنظیم کے چیئرمین مصطفی صفوی ایڈووکیٹ روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ گل پلازہ کی مخدوش عمارت ٹیڑھی ہوگئی، میں نے کمیشن کو ای میل بھی کی تھی۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کی شکایت کا ہمارے ٹی او آر سے کیا تعلق ہے؟ آپ کی ای میل ہمارے ٹی او آر سے تعلق نہیں رکھتی، ہم تحقیقاتی کمیشن ہیں۔
چیئرمین رمپا پلازہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت ایم اے جناح روڈ کی جانب جھک رہی ہے، ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک رواں ہوتا ہے۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ کی شکایت کے لیے ہمارا فورم نہیں ہے۔ چیئرمین رمپا پلازہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے ایس بی سی اے کو بھی شکایت کی ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کردیا۔ اجلاس کے بعد ڈی جی 1122 واجد صبغت اللہ نے کہا کہ لوگوں کی جان اس لیے نہیں بچ سکی کہ تاخیر سے رپورٹ کی گئی۔ انتظامیہ نے گل پلازہ میں آگ کی اطلاع ریسکیو 1122 کو تاخیر سے دی۔ جب ریسکیو کی گاڑیاں گل پلازہ پہنچیں تو عمارت آگ دھوئیں سے بھر چکی تھی۔ بڑی غلطی گل پلازہ کی لائٹ بند کرنے کی گئی۔ بجلی نہ ہونے سے لوگ پھنس گئے ان کو نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ زیادہ تر اموات میز نائن اور گراؤنڈ فلور پر ہوئیں۔
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports1 week ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition