Today News
ایران جنگ میں کس کو فتح ملے گی؟ پانچ اہم منظرنامے سامنے آگئے
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ایران کے مستقبل اور جنگ کے ممکنہ انجام کے حوالے سے پانچ اہم منظرنامے سامنے آئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نیا معاہدہ طے پا جائے۔
رپورٹ میں دوسرا امکان یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا دباؤ یا خفیہ کارروائیوں کے ذریعے ایران کی موجودہ قیادت میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے اور موجودہ نظام کے اندر ہی کسی نئی قیادت کے ساتھ کام شروع کر دے۔
تیسرے منظرنامے کے مطابق جنگ، معاشی بحران اور سیاسی دباؤ کے باعث ایران میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہو سکتے ہیں جس سے موجودہ نظام حکومت کمزور یا ختم ہو سکتا ہے۔
ایک اور ممکنہ امکان یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل زمینی فوجی کارروائی کریں اور ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیں یا اپنے کنٹرول میں لے لیں۔
رپورٹ کے مطابق پانچواں منظرنامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور قرار دے کر جنگ میں فتح کا اعلان کر دیں اور امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر شدید حملے کیے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
Today News
راولپنڈی: ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں مبینہ طور پر 264 ملین روپے کی کرپشن کا انکشاف
راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں مبینہ طور پر 264 ملین روپے کی کرپشن اور خورد برد کا انکشاف ہوا ہے تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود ذمہ داران تاحال گرفت میں نہیں آ سکے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے غیر جانبدار انکوائری کمیٹی بنانے کے لیے دو دن کی مہلت کا ری مائنڈر بھی جاری کیا گیا تھا مگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انکوائری کمیٹی تاحال قائم نہ ہو سکی۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 264 ملین روپے کی مبینہ خرد برد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خریداری پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جبکہ متعدد اشیاء بغیر ٹینڈر اور بغیر کوٹیشن لوکل پرچیز کی گئیں۔ دستاویزات کے مطابق ایسی اشیاء بھی خریدی گئیں جن کی فوری ضرورت موجود نہیں تھی۔
آڈٹ حکام کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں میں اس وقت کی سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فائزہ نعیم کا نام شامل ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ میں سابق ڈی ایچ او میڈیکل سروسز ڈاکٹر حوریہ محسن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مبینہ کرپشن کیس میں ڈی ایچ او پریوینٹو سروسز ڈاکٹر احسان غنی کو بھی شامل قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے آٹھ اکاؤنٹنٹس کو بھی اس معاملے میں شامل بتایا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے 264 ملین روپے کے مالی نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کو ذمہ داران کا تعین کرنا ہوگا جبکہ رپورٹ میں سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے گی۔
ڈی جی ہیلتھ سروسز کی ہدایت کے باوجود انکوائری کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر سوالیہ نشان بن گئی ہے اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کے باوجود تاحال عملی کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Today News
بینائی مضبوط رکھنے کے لیے کون سی غذائیں مفید ہیں؟ ماہرین کی اہم ہدایات
آنکھیں انسانی جسم کا نہایت اہم حصہ ہیں اور ان کی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وٹامن اے ایسا غذائی جزو ہے جو بہتر بینائی کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ وٹامن آنکھوں کو کم روشنی میں دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے اور آنکھ کے بیرونی حفاظتی حصے یعنی کورنیا کو فعال رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسم میں وٹامن اے کی کمی ہو جائے تو رات کے وقت دیکھنے میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن اے سے بھرپور غذا کا استعمال بعض آنکھوں کی بیماریوں جیسے بند موتیا اور عمر کے ساتھ ہونے والی میکولر ڈی جنریشن کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی قدرتی غذائیں ایسی ہیں جو وٹامن اے سے بھرپور ہونے کے ساتھ آنکھوں کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں گاجر ہے۔
گاجر
گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے جسے انسانی جسم وٹامن اے میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ گاجر میں فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
پتوں والی سبزیاں
پتوں والی سبزیاں بھی آنکھوں کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہیں۔ خصوصاً پالک اور گوبھی میں وٹامن اے کے ساتھ مختلف اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو بینائی کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں اور آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
انڈے
اسی طرح انڈے بھی غذائیت کے اعتبار سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو نظر کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
دودھ اور پنیر
اس کے علاوہ دودھ اور پنیر جیسی ڈیری مصنوعات بھی وٹامن اے کا اچھا ذریعہ ہیں، اس لیے ماہرین انہیں متوازن غذا کا حصہ بنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
شکر قندی
شکر قندی بھی آنکھوں کے لیے فائدہ مند غذاؤں میں شامل ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین کے ساتھ دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جو نہ صرف بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ اور قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنکھوں کی بہتر کارکردگی کے لیے صرف وٹامن اے ہی نہیں بلکہ دیگر غذائی اجزاء بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں وٹامن ای، وٹامن سی، وٹامن بی6، بی9 اور بی12، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، تھیامین اور رائبوفلاوین شامل ہیں، جو آنکھوں کو صحت مند رکھنے اور بینائی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
Source link
Today News
کفایت شعاری؛ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بڑے اقدامات، گاڑیاں بند اور تنخواہوں میں کٹوتی
اسلام آباد:
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ سیکرٹریٹ میں تمام خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا۔
کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے کام کرنے والے 80 فیصد ملازمین کو اضافی الاؤنس بھی نہیں دیے جائیں گے۔
قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ روایتی اخراجات میں مزید کمی لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Sports1 week ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business1 week ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment1 week ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage