Connect with us

Today News

ایران جنگ کے باوجود اپنے ورلڈ کپ میچز امریکا میں ہی کھیلے گا، انفانٹینو کا اعلان

Published

on


فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے ورلڈ کپ 2026 کے میچز طے شدہ مقامات  یعنی امریکا میں ہی کھیلے گا۔

انفانٹینو کے اس بیان نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران اپنے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کروانا چاہتا ہے۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن نے حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے باعث میچز کی منتقلی پر بات چیت کر رہی ہے، جبکہ میکسیکو کی صدر نے بھی عندیہ دیا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ابتدائی میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

تاہم انفانٹینو نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تمام میچز ڈرا کے مطابق ہی ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کریں گے، جس کا آغاز 11 جون سے ہوگا۔

ایران اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں کھیلے گا۔

چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ٹیم کو سیکیورٹی خدشات کی دھمکی دیتے ہوئے ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا جس ایران نے سخت ردعمل دیا تھا۔

فیفا بھی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام ٹیمیں ایونٹ میں شرکت کریں گی اور فٹبال کو امن اور یکجہتی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب بھر کے سرکاری اسکولز ہفتے میں 4روز کھلے رکھنے کا اعلان

Published

on



پنجاب بھر کے تمام سرکاری اسکول اب ہفتے میں صرف 4 روز کھلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ​تعلیمی اداروں میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی۔ اس حوالے سے ​پنجاب حکومت نے جمعہ کے روز سرکاری چھٹی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ​تمام سرکاری اسکولوں میں ہفتہ وار 3 چھٹیاں ہوں گی، ​تعلیمی ادارے اب پیر سے جمعرات تک کھلے رہیں گے۔

​جمعہ کی چھٹی کے باعث اب ہفتے میں صرف 4 دن تدریسی عمل جاری رہے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد: تاجر عامر اعوان قتل کیس میں ملوث پانچ ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

Published

on



اسلام آباد:

عدالت نے تاجر عامر اعوان کے قتل میں ملوث پانچ ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام مقرب نے کیس پر سماعت کی، پولیس کی جانب سے ملزمان کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے آلہ قتل اور چوری شدہ مال برآمد کرنا ہے، عدالت نے ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 6 اپریل کو دوبارہ پیش کرنیکا حکم دے دیا۔ 

یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت کے علاقے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود مارگلہ ٹاؤن میں 30 مارچ کو مسلح ملزمان نے فارم ہاؤس میں گھس کر معروف بزنس مین عامر اعوان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، واقعے کا مقدمہ مقتول کی اہلیہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاون میں درج کیا گیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

تھربجلی فراہمی  : اخراجات میں کمی اور کارکردگی بہتری کے نتیجے میں 25 سے 30 ملین ڈالر کی سالانہ بچت

Published

on


وزیراعظم پاکستان  کی قیادت میں اور وفاقی وزیر برائے پاور، آویس احمد لغاری کی اسٹریٹجک ہدایت پر، پاور ڈویژن نے تھر کول مائننگ میں آپریشنل مسائل  کے خاتمے کے لیے اہم اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

پاور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات  ڈیزل کی کھپت میں کمی لا کر قومی سطح پر خاطر خواہ بچت کرے گا، جس سے درآمدی بلوں میں کمی آئے گی اور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوگی۔

 تفصیلات کے مطابق ان  اصلاحات سے روزانہ تقریباً 25 ملین روپے ڈیزل کے اخراجات میں بچت متوقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور سالانہ زرمبادلہ میں 25 سے 30 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ 

اس کے علاوہ، کوئلے کی  فی ٹن قیمت میں تقریباً 0.7 ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس سے تھر کول سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ 

تھرکول میں مائننگ آپریشنز کے لیے ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کی موجودہ لاگت، جو 33 سینٹ فی کلو واٹ ہے، کم ہو کر 13 سینٹ فی کلو واٹ (یا بی فور ٹیرف کے مطابق اس سے بھی کم) رہ جائے گی۔ یہ 60 فیصد سے زائد کی کمی ہے ۔

مائننگ آپریشنز میں ایک اہم مسئلہ  خاص طور پر کوئلہ نکالنے کے دوران پانی کے انتظام کے عمل میں سامنے آیا۔

تاریخی طور پر، ڈی واٹرنگ اور دیگر مائننگ سرگرمیوں کے لیے ڈیزل سے چلنے والے نظام بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے تھے۔ اوسطاً، صرف ڈی واٹرنگ کے لیے روزانہ تقریباً 35,000 لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا تھا، 

جبکہ مائننگ آپریشنز میں مجموعی ڈیزل کی کھپت 200,000 سے 250,000 لیٹر فی دن کے درمیان ہے۔ درآمدی ڈیزل پر یہ بھاری انحصار کوئلے کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔ 

چونکہ یہ اخراجات پاس تھرو آئٹمز کے طور پر شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کا مالی بوجھ بالآخر بجلی کے صارفین پر زیادہ ٹیرف کی صورت میں پڑتا تھا۔

معاشی اور ماحولیاتی اثرات کو دیکھتے ہوئے، پاور ڈویژن نے وفاقی وزیر کی واضح پالیسی ہدایت پر، تھر کول انرجی بورڈ (TCEB)، نیشنل گرڈ کمپنی (NGC)، اور ہیسکو سمیت اسٹیک ہولڈرز کو ایک پائیدار متبادل تیار کرنے کے لیے احکامات دیے۔ 

تھر بلاک ون اور بلاک ٹو کی انتظامیہ نے تفصیلی مشاورت کے بعد ڈیزل سے چلنے والے نظاموں کو گرڈ سے منسلک انفراسٹرکچر کی طرف منتقلی کے لیے سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کیا۔ 

اس منتقلی میں تقریباً 5.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے، جس کے تحت گرڈ اسٹیشنز اور اس سے منسلک ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا۔

جس سے ہیسکو کے 132 کے وی اسلام کوٹ گرڈ اسٹیشن سے کنکشن ممکن ہوگا اور مائننگ آپریشنز کے لیے تقریباً 60 میگاواٹ بجلی کی فراہمی میں سہولت ہوگی۔

وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری نے تھر کول انرجی بورڈ، نیشنل گرڈ کمپنی اور ہیسکو کو ان کے تعاون پر مبارکباد پیش کی، جن کی مشترکہ کوششوں سے یہ منتقلی ممکن ہوسکے گی۔

یہ پیشگی منصوبہ بندی پاور ڈویژن کی دور اندیشی کو ظاہر کرتی ہے جس نے طویل مدتی بچت کو یقینی بنایا جا رہا ہے خاص طور پر یہ فیصلہ جو مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران میں آج انتہائی اہم ثابت ہو رہا ہے۔

معاشی فوائد کے علاوہ، اس منصوبے کے ماحولیاتی فوائد بھی قابل ذکر ہیں۔ ان اقدامات  سے سالانہ تقریباً 80,000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔ 

مزید برآں، ڈیزل سے چلنے والی مائننگ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، جس سے کارکردگی میں بہتری آئے گی اور طویل مدتی ڈی کاربنائزیشن کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ اصلاحات پاکستان کے توانائی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے کی جانب ایک عملی اور مؤثر قدم ہے۔ 

وفاقی وزیر برائے پاور کی اسٹریٹجک نگرانی میں مہنگے ڈیزل پر مبنی آپریشنز کو گرڈ سے فراہم ہونے والی بجلی سے تبدیل کرکے، حکومت نہ صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں کمی لا رہی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کم کر رہی ہے۔ 

اعلامیے کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ مائننگ سے متعلق توانائی کی طلب کا ایک بڑا حصہ—جس کا تخمینہ 60 میگاواٹ ہے—نیشنل گرڈ کی طرف منتقل کیا جائے گا، جس سے مجموعی نظام کا استعمال بہتر ہوگا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ کارکردگی کے یہ فوائد بالآخر صارفین تک زیادہ سستی اور پائیدار بجلی کی صورت میں پہنچیں۔





Source link

Continue Reading

Trending