Connect with us

Today News

ایران میں جوہری تابکاری کے پڑوسی ممالک پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟

Published

on


مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی تناؤ کے درمیان ایران میں نیوکلیئر ریڈی ایشن (جوہری تابکاری) کے امکانات سے متعلق خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ 

ایرانی حکام کی جانب سے گزشتہ روز کہا گیا تھا کہ ملک کی دو جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں لیکن کوئی تابکار مواد خارج نہیں ہوا۔ ارنا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے شمال مغربی ایران میں واقع خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرا حملہ اردکان میں یورینیئم افزودگی کی تنصیب پر کیا گیا جہاں حکام کے مطابق تابکار مادے کا اخراج تنصیب کی حدود سے باہر نہیں ہوا۔

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس خطے میں مسلسل حملوں سے بڑے جوہری حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک تابکاری کے اخراج کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن بدترین حالات میں ریڈیولاجیکل اخراج کے امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 

ماہرین کے مطابق مغربی ہواؤں اور فضائی نظام کے موجودہ رجحانات کے باعث وسطی ایران کی تنصیبات سے خارج ہونے والی تابکار گرد اور ذرات 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر پاکستان اور قریبی علاقوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ اگر ایران میں جوہری تابکاری کا پھیلاؤ ہوا تو کتنے ممالک اس کی زد میں آ سکتے ہیں:

ماہرین کے مطابق اگر کسی بھی طرح کی تابکاری کا اخراج ہوتا ہے، خصوصاً بوشہر جیسے ساحلی پلانٹ سے تو خلیجی خطے کے کم از کم 6 سے 8 ممالک کو مختلف سطحوں کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کا اصل اثر ہوا کی سمت، سمندری لہروں اور نقصان کی شدت پر منحصر ہوگا۔

سب سے زیادہ خطرہ ایران کے براہ راست پڑوسیوں اور خلیجی ممالک کو ہوگا کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر قریب ہیں اور ماحولیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

کویت، قطر اور بحرین کو بڑی تشویش ہو سکتی ہے کیونکہ وہ پینے کے پانی کے لیے سمندری پانی کو صاف کرنے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹس پر کافی زیادہ منحصر ہیں۔ اگر تابکار مواد خلیج کے پانی کو آلودہ کرتا ہے تو ’ڈی سیلینیشن‘سسٹم پر اثر پڑ سکتا ہے، جس سے تازہ پانی کی سپلائی میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ 

متحدہ عرب امارات خاص طور پر خطرے کی زد میں ہے کیونکہ اس کے پینے کے پانی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈی سیلینیٹ کیے گئے سمندری پانی سے ہی آتا ہے۔ خلیج میں کوئی بھی آلودگی فوری طور پر آبی تحفظ کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب، عمان اور عراق جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہیں۔ وہ ہوا کے ذریعے آنے والے ریڈیو ایکٹو پارٹیکلز (تابکار ذرات) کی زد میں آ سکتے ہیں۔ کسی بڑے اخراج کی صورت میں، موسم کی صورتحال کے لحاظ سے ہوا سے پھیلنے والی آلودگی چند ہی گھنٹوں میں سرحدوں کے پار بھی پھیل سکتی ہے۔ 

اردن اور شام کو بھی خطے میں عدم استحکام اور اپنے علاقوں میں ’نیوکلیئر ریسرچ فیسیلٹیز‘ (جوہری تحقیقی مراکز) ہونے کی وجہ سے بالواسطہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے پورے خطے میں سیکورٹی سے متعلق خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

جوہری تابکاری سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

ریڈی ایشن کے اچانک اخراج کی صورت میں حفاظت کا دارومدار اس سے کم سے کم رابطے پر ہوتا ہے۔ سب سے ضروری قدم گھر کے اندر جانا ہے۔ اینٹوں یا کنکریٹ سے بنی عمارت کے اندر رہنا باہر رہنے کے مقابلے میں بہتر تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دروازے اور کھڑکیاں بند ہونی چاہئیں اور پنکھے یا ایئر کنڈیشنر جیسے وینٹی لیشن سسٹم جو باہر کی ہوا کھینچتے ہیں، انہیں بند کر دینا چاہیے۔

تابکاری میلوں دور تک پھیلتی ہے۔ اس لیے زیادہ دور جانے کے بجائے جہاں ہیں وہیں اپنے لیے کوئی بند جگہ تلاش کریں۔ ایٹمی اثرات سے بچنے کے لیے بہترین پناہ گاہ زیر زمین ہوتی ہے، گہرائی میں تابکار شعاعیں کم سے کم پہنچ پاتی ہیں۔

وقت اور فاصلے کے اصول انتہائی اہم ہیں۔ تابکاری کے منبع سے جتنا دور رہا جائے اور اس کے قریب جتنا کم وقت گزارا جائے، خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔ کھانے اور پانی کی حفاظت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو صرف سیل بند بوتل والا پانی اور ٹھیک سے پیک شدہ یا ڈبہ بند کھانا ہی استعمال کرنا چاہیے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئیں

Published

on


عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں نے خطرناک حد تک چھلانگ لگا دی جہاں برینٹ کروڈ ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔

صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔

جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔

ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جنگ کی آگ بجھانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز پاکستان میں ملاقات کی۔

چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، چڑیا گھر کی سیر کرنے کے لیے آنے والی 5 سالہ بچی پراسرار طور پر لاپتہ

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے لیاری نوالین کی رہائشی 5 سالہ بچی عافیہ کراچی چڑیا گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی جس کے بعد اہلخانہ میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بچی کے والد ابراہیم بلوچ کے مطابق وہ اہلخانہ کے ہمراہ چڑیا گھر سیر کے لیے آئے تھے جہاں عافیہ دیگر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک نظروں سے اوجھل ہو گئی اور واپس نہیں ملی۔

والد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات گھنٹوں سے چڑیا گھر اور اس کے اطراف میں تلاش جاری ہے تاہم تاحال بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے سے متعلق پولیس اور شہری انتظامیہ کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔

بچی کے والد نے مزید دعویٰ کیا کہ چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق اندر سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں جس کے باعث تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اہلخانہ نے شہریوں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ بچی کی تلاش میں فوری کردار ادا کیا جائے تاکہ اسے بحفاظت بازیاب کروایا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ مذاکرات میں شرکت کے بعد وطن روانہ

Published

on



اسلام آباد:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اپنے اپنے وطن روانہ ہو گئے ہیں۔

تینوں وزرائے خارجہ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ روز اسلام آباد میں اہم بیٹھک میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے تھے جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی وزیر خارجہ خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پہنچے۔

بعدازاں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا۔

یہ اجلاس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں مشرق وسطی میں جنگ بندی اور قیام امن کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، فریقین نے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ختم ہوگیا اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میں دی گئی تجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending