Connect with us

Today News

ایران میں خامنہ ای کے بیٹے قابل قبول نہیں؛ اپنی پسند کی حکومت بنانا چاہتا ہوں؛ ٹرمپ

Published

on


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں میرا ذاتی طور پر شامل ہونا ضروری ہے تاکہ ایسا رہنما سامنے آئے جو ملک میں امن اور استحکام لائے۔

ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے لیے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو ایسا رہنما چاہیے جو کشیدگی کے بجائے ہم آہنگی اور امن کی طرف ملک کو لے جائے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کی تقرری میں اسی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں وینزویلا کی سیاست میں کردار ادا کیا تھا۔ اگر ایران میں سخت گیر قیادت سامنے آئی تو مستقبل میں ایک بار پھر کشیدگی اور جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے مذہبی و سیاسی حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور سب سے مضبوط نام مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔

واضح رہے کہ مجتبی خامنہ ای شہرت ایک مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کے طور پر بھی ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

انفاق فی سبیل اﷲ – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان کی فضا میں ایک عجیب سی نرمی ہوتی ہے، دل خود بہ خود جھکنے لگتا ہے، آنکھیں رب تعالی کی بارگاہ میں بھیگ جاتی ہیں اور انسان کو پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی اصل دولت وہ نہیں جو ہاتھ میں ہے بلکہ وہ ہے جو اﷲ کی راہ میں دے دی جائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں انفاق فی سبیل اﷲ محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ ایمان کی دھڑکن بن جاتا ہے، دل یہ مان لیتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میرا نہیں بلکہ میرے رب کی امانت ہے، اور اسی امانت میں سے راہ خدا دینا ہی دراصل نجات کا راستہ ہے۔

قرآن مجید انفاق فی سبیل اﷲ کو ایمان کی پہچان قرار دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے مال اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں اور اﷲ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ انفاق کبھی گھاٹا نہیں بلکہ کئی گنا نفع ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضایع نہ کرو، یعنی خیرات اس وقت عبادت بنتی ہے جب اس میں عاجزی اور خلوص ہو۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک وہ چیز اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ آیت انسان کے نفس پر ضرب لگاتی اور بتاتی ہے کہ اصل انفاق وہ ہے جو دل پر بھاری ہو، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ خوش حالی اور تنگی دونوں حال میں خرچ کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔ یعنی انفاق حالات کا محتاج نہیں بلکہ یقین کا محتاج ہے، سورۃ حدید میں اﷲ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کون ہے جو اﷲ کو قرض حسن دے تاکہ اﷲ اسے کئی گنا بڑھا دے، یہاں ربِ کائنات بندے سے مانگ نہیں رہا بلکہ اسے عزت دے رہا ہے کہ اس کے نام پر دیا جائے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے اﷲ اسے جانتا ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اور یہ اعلان بھی ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے جب کہ اﷲ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، گویا مال روکنا فتنہ ہے اور خرچ کرنا حفاظت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ان آیات کو زندگی بنا کر دکھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اﷲ اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ ہر دن دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک دعا کرتا ہے کہ اے اﷲ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اﷲ! روکنے والے کے مال کو ہلاکت دے۔ رسول اﷲ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال حالاں کہ اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے کھا لیا، پہن لیا یا اﷲ کی راہ میں دے کر آگے بھیج دیا۔

آپ ﷺ نے بتایا کہ صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن صدقہ بندے کے لیے سایہ بنے گا۔ رمضان کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ زکوٰۃ کے بارے میں آپ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی وہ قیامت کے دن عذاب کا سبب بنے گا، جب کہ زکوٰۃ دینے والے کے مال کو پاکیزگی اور بڑھوتری عطا کی جاتی ہے۔ فطرہ کو آپ ﷺ نے روزوں کی لغزشوں کا کفارہ اور مسکینوں کے لیے عید کی خوشی قرار دیا۔ اور خیرات کو ہر مسلمان کے لیے ممکن عمل بتایا، چاہے وہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔

صحابہ کرامؓ کی زندگی انفاق فی سبیل اﷲ کی زندہ تفسیر ہیں، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمانؓ نے اونٹوں، سامان اور مال کے ڈھیر لگا دیے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ اپنا سارا مال لے آئے اور پوچھنے پر عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اﷲ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ آدھا مال لے آئے مگر اس دن بھی سبقت حضرت ابوبکرؓ ہی لے گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ انھوں نے مسلسل تین دن اپنا افطار مسکین، یتیم اور قیدی کو دے دیا اور خود پانی پر گزارا کیا، جس پر قرآن میں ان کی تعریف نازل ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہم تمھیں صرف اﷲ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر، یہ وہ معیار ہے جو بتاتا ہے کہ انفاق کا اصل حسن اخلاص میں ہے، دکھاوے میں نہیں۔

قرآن و حدیث ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مال کا فتنہ بہت سخت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے، جب مال دل میں بیٹھ جائے تو انسان حق روک لیتا ہے، زکوٰۃ کو بوجھ سمجھتا ہے، خیرات میں حساب کتاب کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کم زور پڑنے لگتا ہے، اسی لیے اسلام نے زکوٰۃ کو فرض کیا تاکہ معاشرہ پاک رہے، دل صاف رہیں اور دولت چند ہاتھوں میں قید نہ ہو۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ تاکہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، فتنہ یہی ہے کہ ہم جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں، اور نجات یہی ہے کہ ہم دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں۔

آج اگر ہم رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، فطرہ حق دار تک پہنچاتے ہیں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات سے کسی کی بھوک مٹاتے ہیں، کسی بیٹی کے جہیز، کسی مریض کے علاج، کسی مجبور کے کرائے یا کسی بچے کی فیس میں آسانی بن جاتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی لیے آخرت کا سامان جمع کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا، اور یہی وہ تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔

رمضان کے آخری دنوں میں جب دل حساب کرنے لگے تو ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے رب کے نام پر دیا، شاید یہی چند لمحے، یہی چند روپے، یہی چند آنسو ہمارے اور جہنم کے درمیان حائل ہو جائیں، کیوں کہ اصل کام یابی یہی ہے کہ بندہ خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ نہ لوٹے، بلکہ دے کر لوٹے، جھک کر لوٹے، اور رب کی رضا لے کر لوٹے۔





Source link

Continue Reading

Today News

یتامی ٰ کفالت کی فضیلت

Published

on


یتیم کے حقوق پر دین اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ آیت قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی دیکھ بھال کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعیدات بیان کی گئی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)

افسوس! لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘ (النساء)

اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’اور یہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ بد نیّت اور نیک نیّت ہر ایک کو خوب جانتا ہے، اوراگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے۔ اَحادیث مبارکہ میں یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامْ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘ (مسلم شریف)

امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔ بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اﷲ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میرا ساتھ اس طرح میسر ہوگا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ (مسند احمد)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)

ہمارے نبی کریم ﷺ کو عام بچوں سے بھی پیار تھا لیکن یتیموں کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپؐ نے خود دور یتیمی دیکھا تھا اس لیے آپ ﷺ یتیم کو زیادہ توجہ دیتے اور دلاتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یتیم بچوں کے بے سہارا ہونے کی وجہ سے دین اسلام ان کی محبت، دیکھ بھال اور انھیں خوش رکھنے کی زیادہ تاکید کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹیکسٹائل مل کے ملازم کی برطرفی کا کیس، حق آنے والا فیصلہ تحریری حکم نامے میں کالعدم

Published

on



کراچی کی ٹیکسٹائل مل کے ملازم نے ساڑھے چھ کروڑ روپے کی ڈگری کا فیصلہ اپنے میں آنے اور تحریری حکم میں اسے کالعدم قرار دینے کے خلاف محکمہ لیبر میں درخواست دائر کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لیبر کمشنرکی جانب سے ٹیکسٹائل مل ملازم کے حق میں ساڑھے چھ کروڑروپے کی ڈگری کا فیصلہ دے کر تحریری حکم میں فیصلہ کالعدم قراردینے کے معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کردیاگیا۔

فیکٹری ملازم نے فیصلہ سنانے والے کمشنرپرمبینہ کرپشن کا الزام لگا کراینٹی کرپشن کوبھی درخواست دے دی۔

کورنگی میں واقع ٹیکسٹائل مل کے ملازم محمد امجد اعوان نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے بعد 3 اکتوبر2024 کولیبرکمشنرکورٹ میں درخواست دی کہ اسے غیرقانونی طورپربرطرف کیا گیا، بونس کی ادائیگی، اوورٹائم اورچھٹیاں نہ کرنے کے واجبات بھی نہیں دئے۔

ملازم کی درخواست پر گریڈ انیس کے افسر،کمشنر عبدالصمد سومرونے کیس کی سماعت کی اورچوبیس دسمبر2025 کو ملازم کے حق میں فیکٹری مالک کو چھ کروڑ اٹھتالیس لاکھ ادا کرنے کی ڈگری کا فیصلہ دیا۔

درخواست گزارکا موقف ہے کہ اس دن تحریری حکم نہیں ملا جبہک کمشنر نے فیصلہ زبانی سنایاگیا، مجھے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پیش کارچھٹی پرہے ایک ہفتے بعد حکم کی تصدیق شدہ کاپی لے جانا تاہم تحریری حکم جب ملاتو وہ فیصلے سے بالکل مختلف تھا۔

درخواست گزار کے مطابق تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ میری درخواست خارج ہوچکی ہے جبکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں لہذا ملازم شخص کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتا۔

امجد اعوان نے اس معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کیا جبکہ ڈی جی لیبرکے نام درخواست میں فیکٹری ملازم نے الزام لگایا کہ فیصلہ ٹائپ کرکے کمپنی کے مالک کوواٹس ایپ پربھیجا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے مالک نے وہی آرڈرمجھے واٹس ایپ کیا، کال پرمجھے دھمکیاں دیں اورکال پریہ بھی کہا کہ عبدالصمد سومروصاحب کہہ چکے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو،میں تمہارا راضی نامہ کرادوں گا، کیا حکم بدعنوانی کے ذریعے تبدیل کیاگیا؟

فیکٹری ملازم نے اس سلسلے میں انکوائری کے لئے اینٹی کرپشن بھی تحریری درخواست دے دی۔

 اس معاملے پرجوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومروکا موقف ہے کہ امجد اعوان کی شکایت پر ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا جو متفرق درخواست پر ان کے حق میں تھا تاہم شکایت کنندہ  کیس کے ابتدائی مرحلے پر ہی بہت بڑی رقم کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending