Connect with us

Today News

ایران میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب؛ شمالی کوریا کا بڑا بیان سامنے آگیا

Published

on


شمالی کوریا نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوام کو مبارک باد دی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ایران میں مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور نئے سپریم لیڈر انتخاب کے پر ایرانی عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

ترجمان نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی فوجی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

شمالی کوریا نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کاش ہم بھی غریب ہوتے

Published

on


آج کل ہمیں اپنے آپ پرسخت غصہ آرہا ہے کہ لوگ دنیا میں کیاکیا نہیں کرتے کیاکیا بن نہیں جاتے ، کہاں سے کہاں پہنچ نہیں جاتے اورایک ہم نالائق ، نکمے نکھٹو، کہ خود کو غریب یا مستحق نہ بنا سکے۔

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا

آپ سوچیں گے کہ لوگ تو ’’غربت‘‘ سے ڈرتے ہیں دور بھاگتے ہیں اورتم غربت کے تمنائی ہو، اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ،گلے لگانا چاہتے ہو، اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتے ہو اوراس کے لیے ہروقت ترستے رہتے ہو، لو جناب عالی ۔ آپ نے غربت کا مزا چکھا ہی نہیں ۔ ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں ، یہ اپنا پاکستان ہے جو آئینے کے اندر ہے یہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اورجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً ساری دنیا میں ہوتا یوں ہے بلکہ تاریخ میں بھی ہوتا رہا ہے کہ ہرکام کی ابتدا نیچے یعنی گراس روٹ لیول سے ہوتی ہے لیکن یہاں ہر کام اوپر سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں لوگ امیروں کی خدمت کرتے ہیں اوریہاں سارے ’’امیر ‘‘ غریب کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں بلکہ اتنے زیادہ لگے ہوئے ہیں کہ منابھائی ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر غریب کی خدمت میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا کام جاری رہے

سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی

کہ میرے بعد بھی یہ میرا کاروبار چلے

اوربیٹے اتنے سعادت مند ہوتے ہیں کہ باپ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں مثلاً محترمہ بے نظیر کو لے لیجیے، خود بھی عمربھر غریبوں کی خدمت میں مصروف رہیں اوراپنے بعد بھی اپنی جائیداد سے غریبوں کی خدمت کررہی ہیں اوربے نظیر انکم سپورٹ کاصدقہ جاریہ رواں دواں ہے ۔مطلب یہ کہ سارے عیش تو غریبوں کے ہیں طرح طرح کے کارڈ ، بھکاری خانے ،عشروزکواۃ، للسائل والمحروم، رمضان دسترخوان ، لنگرخانے ، صورت حال یہ ہے کہ جہاں کوئی غریب دکھائی دیتا ہے تو لوگ سب کو چھوڑچھاڑ کرجھپٹ پڑتے ہیں اورغریب ۔

 اس حسن کاشیوہ ہے جب عشق نظر آئے

 پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

 بخداآج کل تو یہ سوچ سوچ کر خود پر غصہ آجاتا ہے کہ اتنی عمر میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوپایا کہ خود کو غربت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے یاکراتے ، کیسے کیسے لوگ آئے اوراچھے خاصے غریب بن گئے اورہم ؟

 کارواں گزراکیا ہم رہگزر دیکھاکیے

 ہرقدم پر نقش پائے راہبر دیکھاکیے

راہبر پر یادآیا ، ایک مرتبہ ہم نے ایک راہبر سے بھی رجوع کیا کہ وہ کوئی ایسا اپائے بتائے جس سے ہم اپنی منزل غربت پرپہنچ جائیں۔ اس نے جو اپائے بتایا ہم اس کے مطابق اپنے حلقے کے ایم پی اے کے پاس پہنچ گئے اورسند غربت ایشو کرنے کی درخواست کی ، ظاہرہے کہ اسے یہ تاثر دیناتھا کہ ہم تمہارے ووٹر تھے ووٹر ہیں اور ووٹر رہیں گے اس لیے تھوڑا ساجھوٹ بولنا پڑا وہ مہربان ہوئے اورٹیلی فون کھینچ کر ہمیں سند غربت عطاکرنے والے تھے کہ اس کاچمچہ خاص آکر اس کے کان میں کچھ پھونکنے لگا ، اس نے سنا تو پرایاسا منہ لے کر بولے ، ووٹ تو تم نے فلاں کو ڈالا ہے جاؤ اس کے پاس ، ہم سے کیالینے آگئے، چشم زدن میں اس کاچہرہ اتنا پرایا سا ہوگیا کہ ہم اپناسامنہ لے کر نکل آئے

ہرقدم پر ادھر مڑ کے دیکھا

اس کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے

 حالانکہ ہم نے معافی بھی مانگی کہ اس مرتبہ غلطی سے ووٹ کسی اورکو دیا ہے آیندہ ہمارا تو کیا ہماری آنے والی سات پشتوں کے ووٹ بھی آپ کے ۔ لیکن وہ ہمیں سند غربت عطا کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت

برسماع راست ہرکسی چیرنیست

طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست

 اورآج کل تو یہ احساس بہت شدت سے ہورہا ہے کیوں کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں میں غریبوں کو ’’نوازنے‘‘ کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے، لنگر خانے ہی لنگر خانے چل رہے ہیں اورغریب بس جی بھر کر چررہے ہیں ، کم ازکم اخباروں اوربیانوں میں تو یہی آرہا ہے ،اگر کچھ کمی تھی تو وہ سرکاری دسترخوان نے پوری کردی جب سے ہم نیسرکاری دسترخوان کا نام سنا ہے روپڑنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ پہلے سے دسترخوان کیا کم تھے کہ اوپر سے یہ نیا دسترخوان بھی بچھ گیا ، کبھی ہم اپنی افطاری کرتے ہوئے رمضان دسترخوان کاتصورکرتے ہیں تو آنسو بھر آتے ہیں ، ہائے وہ کیا کیا نہ ہڑپ رہے ہوں گے

 لوگ لے آتے ہیں کعبے سے ہزاروں تحفے

 ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

 جی چاہتا ہے کہ باہرنکل پڑیں اورجہاں بھی کوئی سرکاری غریب نظر آئے اسے گولی ماریں۔

اوپر سے بیانات ، اب یہ تو یاد نہیں کہ کس کا بیان تھا کیوں کہ آج کل وزیر مشیر تو کیاسرکاری افسربھی بیان پر اتر آئے ہیں، چیف سیکریٹری بلکہ سیکریٹریوں کے سیکریٹری بھی روزانہ باتصویر بیان دینے لگے ہیں۔ اس لیے اب یاد نہیں کہ وہ بیان کس کاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عزم کررکھا ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اوریہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کئی بار ہم نے بھوکا سونے کی کوشش کی ہے لیکن مجال ہے کہ سوئے ہوں، نیند کو منتیںسماجتیں کرکے بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی دور رہی شاید ڈرتی تھی کہ بھوکا ہے کہیں مجھے ہی نہ ہڑپ کرلے ۔

ایک منظر یاد آیا ، بمبئی یا ممبائی میں سمندر کے اندر ایک مزارہے حاجی علی بابا، سمندر کے اندر ہی کوئی ایک کلومیٹر کا راستہ ہے جس کے کنارے دنیا جہاں کے بھکاری بڑے بڑے پتھروں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں ، مزار کے پاس پکی پکائی دیگیں ملتی ہیں ، مالدار لوگ آتے ہیں دیگ خریدتے ہیں لیکن خود تو مصروف لوگ ہوتے ہیں، ان دیگوں والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ان بھکاریوں میں تقسیم کر دینا۔ ایساکوئی ایک تو نہیں ہوتا ، خیرات کرنے والوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ، دیگیں خریدی جاتی ہیں بانٹی جاتی ہیں چنانچہ وہ کنارے کے پتھر نشین بھکاری دن بھر چاولوں میں اتناکھیلتے ہیں کہ پتھروں کے گرد بھی چاولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، کوئی آخر کتناکھائے گا۔ یقیناً اپنے ہاں بھی آج کل غریبوں کی یہی صورت حال ہے ۔ ویسے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کنارے کے وہ ’’پتھر‘‘ ہزاروں روپے میں بیچے اورخریدے جاتے ہیں ۔ جن پر ڈیرے لگتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے !

Published

on


سوچتا ہوں وہ زماں اور مکاں کتنے شرمندہ ہوئے ہوں گے کہ جس زماں میں نواسہ رسول ‘ جگر گوشہ بتول کوجس مکاں یعنی کربل کی تپتی ریت پر اپنے پورے خانوداہ کے ساتھ شہید کر دیاگیا ہو گا’ چاروں جانب یزیدی لشکر اور مدمقابل صرف ایک حسین ابن علی ‘ اس ظلم و بربریت پر زمین پھٹ گئی ہو گی’ آسماں گریہ کرتا رہ گیا ہو گا’ پوری انسانیت تڑپ اٹھی ہو گی ‘ اور اس دردناک واقعہ سے قبل دور نبوی میں ہادی برحق’ سرکار دو عالم ‘ سرور کائنات ‘ فخر موجودات’ ختم الرسل’ خاتم النبین ‘ سیدنا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ نے اپنی آل اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رفاقت میں جن غزوات میں حصہ لیا ہو گا ‘ آنحضرتﷺ ‘ اہل بیت اور صحابہ کرام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا’ کفار مکہ ‘ منافقین ‘ مشرکین اور یہود و نصاریٰ نے آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب محترم و مکرم کو کیا کیا اذیتیں دی ہوں گی لیکن پھر بھی آپ کی استقامت ‘ استقلال صبرو قناعت’ برداشت اور دین مبین اسلام کے لیے آپ ﷺ کی لازوال قربانیاں پورے عزم و ولولہ کے ساتھ جاری رہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتنی اذیتیں پہنچائیں اور نبی مکرم محمد عربی کے لیے بھی کئی گھناؤنی سازشوں کے جال پھیلائے مگر انھیں ہر معرکہ میں شکست فاش ہوئی۔ جب بھی کبھی دین مبین اسلام کے خلاف کہیں بھی کوئی سازش یا مہم جوئی ہوئی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام دشمنوں کو اپنے فضل و کرم سے تباہ و برباد کر دیا’ مسلمانوں کی شاندار فتح کے لیے آسمانوں سے فرشتے قطار اندر قطار زمین پر اتارے گئے ‘ باطل مٹ گیا حق کوہمیشہ فتح نصیب ہوئی کیونکہ

حق و باطل کے معرکہ میں سدا

فتح بالیقین ہیں ہم لوگ

پھر ہم قدیم سے جدید دور میں آگئے ‘ ہمیں اسلام سجا سجایا مل گیا’ جنھوں نے دشمناں دیں کے ہاتھوں پتھر کھائے’ صعوبتیں جھیلیں’ قربانیاں دیں’ جنھیں تپتی ریت پر لٹایا گیا ‘ جن پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے وہ رتبہ شہادت پا کر بہشت بریں میں جا بسے اور ہمیں ایک درس عظیم دے گئے کہ شجاعت و دلیری تمہاری میراث ہے ‘ دشمن کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاؤ’ شہادت تمہاری معراج ہے ‘ یہود و نصاریٰ تمہارے ہر گز ہرگز دوست نہیں ہو سکتے یہ اللہ کریم کا حتمی فیصلہ اور اعلان ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف یہود و نصاریٰ سے دوستی کر لی بلکہ یہود و نصاریٰ کی مقروض قوم ٹھہری چنانچہ انھوں نے ملت اسلامیہ کو جیسا چاہا استعمال کرنا شروع کر دیا اور باؤلے کتے کی طرح ہم پر بھونکنے لگے۔

تاریخ نے آج پھر ایک کروٹ لی ہے ‘ چاروں طرف طاغوتی طاقتیں اکٹھی ہوکر اسلام کے متوالوں کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں’ مسلم امہ خاموش تماشائی بنی ان کی گھناؤنی سازشوں کے جال میں پھنسی نظر آرہی ہیں’ صرف ایک ایران سر پہ کفن باندھے میدان عمل میں نکل پڑا ہے ‘ دین مبین کی رکھوالی اور اسے سرفراز و سربلند رکھنے کے لیے لازوال قربانیاں دے رہا ہے ‘ اس کا عزم اورولولہ دیدنی ہے ‘ اپنے عظیم رہنما قائد ملت اسلامیہ آیت اللہ خامنہ ای کی عظیم قربانی دے کر بھی حوصلے نہیں ہارے ‘ یہود و نصاریٰ کوایسا سبق سکھا دیا کہ اس کی ہزارنسلیں یہ سبق نہیں بھولیں گی’ جنگ اپنے عروج پر ہے ‘ جہاں اللہ کی مدد شامل ہو جائے وہاں دنیاوی طاقتیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں مگر ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ فلسطین کی مقدس سرزمیں لہولہو ہوتی رہی’ معصوم بچوں کے لاشے اٹھتے رہے ‘ ماؤں کی آہ و فغاں’ بوڑھوں کا صبر ‘ بہنوں کے سہاگ اجڑتے رہے ‘ بیٹیاں گریہ کرتی رہ گئیں اور ہم

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا!

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

کشمیر جلتا رہا’ بچوں کو نیزوں پر اچھالا جاتا رہا ‘ ہم خاموش تماشائی بنے رہے ۔مگر ہم ایسے گھمبیر اور سنگین حالات میں اپنے وطن عزیز پاکستان کے عوام’ حکومت اور سب سے بڑھ کر اپنی پاک مسلح افواج کو داد تحسین پیش کرتے ہیں کہ جو ابتلا کی اس گھڑی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں’ قوم کا ہر فرد بلاتفریقی سنی و شیعہ سب ایک ہو چکے ہیں اور ناموس اسلام کی خاطر صہیونی طاقتوں کو جذبہ ایمانی کے تحت للکاررہے ہیں کہ اب طاغوتی طاقتیں مٹ کرہی رہیں گی’ اسلام کا بو ل بالا ہو گا ‘ کل تک جو دشمنوں کی ناپاک چالوں میں پھنس چکے تھے آج وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ

میرا امام ابھی کربلا نہیں پہنچا

میں حر ہوں اورابھی لشکر یزید میں ہوں

اسرائیل اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ‘ ایران کو اللہ کریم نے اس پر غلبہ عطا کر دیا ہے’ اسلام کے دشمنوں کی رو سیاہی ‘ تباہی اوربربادی لکھ دی گئی ہے ‘ مسلم امہ کا اتحاد’ یگانگت اور یکجہتی ابھر کر سامنے آنیوالی ہے ‘ آج پھر الگ سے اسلامی دنیا بنانے کی اشد ضرورت ہے اپنی الگ اسلامی سلامتی کونسل ‘ اپنی علیحدہ معیشت’ اپنی الگ اسلامی سوچ اور فکر ‘ اپنا عالمی اسلامی بینک’ عالمی اسلامی عدالت ‘ اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ‘ جرات اور استقلال یہ ہے وقت کا اہم ترین تقاضا۔قارئین کرام! اب مزید ظلم نہیںسہا جاسکتا ‘ ظالم کے ہاتھ روکنے ہوں گے ‘ سرزمین فلسطین سے معصوم بچوں کی چیخ و پکار اب نہیں سنی جاتی’ لہو میں تر بتر لاشیں نہیں اٹھائی جاسکتیں’ اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور مسلم امہ سلامت تا قیامت رہیں اسلام کو غلبہ حاصل ہو’ اللہ کریم ہمیں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائے ‘ کالم تمام کرتے ہوئے عرض ہے کہ

معرکہ حق و باطل پھر بپا ہے

اک طرف ہیں جان نثاران حسین ابن علی

دوسری جانب یہودی اور منافق قافلے !

یاد رکھو کل بھی فتح کربلا والوں کی تھی

آج بھی فتح حسین ابن علی والوں کی ہے





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی سیاست

Published

on


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انھیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت طویل جنگ نہیں چاہتی۔روسی صدر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور ثالثی کی پیش کش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نہایت حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات، ایران کی جانب سے جوابی انتباہات اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران بن سکتا ہے جس کے اثرات عالمی نظام، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے مرتب کریں گے۔

 آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی گزرگاہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں صورتحال میں معمولی بہتری آنے پر قیمتیں کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر تک آ گئیں، لیکن اس اتار چڑھاؤ نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی معیشت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

 امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ایرانی تیل کے ذخائر پر حملے نہ کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیلی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانا مستقبل میں توانائی کی سیاست کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا یہ نہیں چاہتا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے تیل کے وسائل مکمل طور پر تباہ ہو جائیں کیونکہ مستقبل میں یہی وسائل خطے میں توانائی کے توازن اور عالمی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس لیے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جنگ کی شدت کو اس حد تک نہ بڑھنے دیا جائے جہاں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔دوسری طرف امریکی بحریہ کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار بھی اس خطے میں موجود خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے امریکی نیوی سے درخواست کی تھی کہ انھیں اس حساس راستے سے گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے لیکن امریکی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور اس وقت اس طرح کی سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی تجارت اور شپنگ انڈسٹری میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران پر حالیہ فضائی حملوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف عسکری اور اسٹرٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس صورتحال میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ طویل جنگ نہیں چاہتی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی دوران سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ روس اس خطے میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اس لیے اگر روس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکل آئے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا موقف بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ایران کے عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت ایران کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ پاکستان کا یہ موقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جس میں وہ خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور علاقائی امن کے فروغ کی کوشش کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال دراصل عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تصادم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا خطے میں اپنی اسٹرٹیجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے جب کہ ایران خود کو خطے میں ایک اہم اور خودمختار طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ان تمام مفادات کے ٹکراؤ نے اس خطے کو مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑے گا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی مختلف اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کو حل کر سکتا ہے،اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف اس جنگ کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت موقف میں کچھ لچک پیدا کریں اور مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی قابلِ قبول حل تلاش کریں۔

آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں۔ موجودہ بحران دراصل ایک آزمائش ہے، نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی، اگر اس مرحلے پر دانشمندی، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن جائے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کی سیاست غالب رہی تو اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending