Connect with us

Today News

ایران پر اسرائیل اور امریکا کا فضائی حملہ

Published

on


اسرائیل اور امریکا نے ایران پر فضائی حملہ کردیا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود حملے کی تصدیق کی ہے جب کہ اسرائیل نے بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔

ابتداء میں اس حملے کی اطلاع روسی میڈیا نے دی، بعدازاں ایران نے بھی اس حملے کی تصدیق کر دی جب کہ اسرائیل اور امریکا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

امریکا نے اپنے آپریشن کا نام ایپک فیوری رکھا ہے جب کہ اسرائیل نے لائنز روور کے نام سے جنگ شروع کی ہے جب کہ ایران نے آپریشن فاتح خیبر کے نام سے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔

میڈیا نے اسرائیلی وزیر دفاع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں شدید نوعیت کے دھماکوں کی اطلاعات آئی ہیں۔

ایران کے کئی شہروں جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے، پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے بوشہر پر بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں کی خبریں ہیں جب کہ حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے، ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل پھینکے ہیں جب کہ بحرین، قطر اور دیگر ملکوں میں بھی امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اسرائیل کے شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جب کہ اسرائیلی حکومت نے شہریوں کو سیف ہاؤسز میں پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایرانی نیوی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ میڈیا میں اس قسم کی اطلاعات بھی آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فائٹر جیٹس نے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف وسیع آپریشن ’ایپک فیوری‘ کا آغاز کردیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہائیوں سے امریکی مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا اور خطے میں امریکی مفادات پر حملے کا ذمے دار بھی ایران ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایران کی بحریہ کو مکمل تباہ کرنے جارہے ہیں۔ اس آپریشن میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔

ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور ایرانی میزائل پروگرام مٹا دیں گے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب اگر ہتھیار ڈال دیں تو مکمل استثنٰی ملے گا۔ اگر ایسا نہ کیا تو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔

امریکی کسی انتہا پسند حکومت کو پروان نہیں چڑھنے دے گا۔ ایرانی حکومت نے بھی اعلان کیا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر بیان دیا ہے کہ ایرانی افواج جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا فسٹ کو اسرائیل فسٹ بنا دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس صورت حال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور جنگ کا دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق قطر میں قائم العدید امریکی اڈا دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ایران میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران میں صورت حال خاصی سنگین ہے، پاکستانی شہریوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ادھر عمان کے وزیر خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ ایران پر حملے سے انھیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام نہ امریکا کے لیے اچھا ہے نہ ہی عالمی امن کے لیے۔ ایرانی حملے کے بعد یو اے ای نے پروازیں بند کر دی ہیں۔

ادھر میڈیا میں اسرائیلی اور امریکی حملوں میں جانی نقصانات کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں تاہم ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جانی نقصان کتنا ہوا ہے البتہ ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ اطلاع آئی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور حملے کی تاریخ کا فیصلہ بھی ہفتوں پہلے کیا گیا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مل کر کیے گئے ہیں۔

یہ حملے پیشگی حملے ہیں جس کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کیا جاسکے۔ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔

بہرحال عالمی میڈیا پر مختلف قسم کی اطلاعات آ رہی ہیں اور تاحال مصدقہ اطلاعات کا فقدان ہے۔ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایرانی انٹیلی جنس ہیدکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تہران کے علاوہ ایران کے دیگر شہروں جن میں خرم آباد، تبریز اور اصفہان میں بھی حملے کیے گئے ہیں۔ مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں اور عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کردی ہے۔

اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔ ایران میں حملے کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام اسکول بند کر دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک طاقتور ترین حملے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اسرائیل نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا انجام اْس کے ہاتھ میں نہیں۔ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایران پر امریکی حملے کے بارے میں خاصے دنوں سے اطلاعات آ رہی تھیں۔ عالمی میڈیا اس حوالے سے خبریں جاری کر رہا تھا تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بحران کے حل کے لیے مذاکرات بھی جاری تھے۔

مذاکرات کے حوالے سے امیدافزاء اشارے بھی مل رہے تھے۔ اس توقع کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید معاملات جنگ تک نہ پہنچیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف واضح تھے۔

وہ گاہے بگاہے ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے بیانات جاری کرتے تھے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ایسی باتیں سامنے آ رہی تھیں کہ شاید مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ ایران یورینیم افزودگی کے حوالے سے بھی خاصی لچک کا مظاہرہ کر رہا تھا لیکن پس پردہ کیا معاملات چل رہے تھے، اس کا اندازہ شاید بہت سے لوگوں کو نہیں تھا۔

تازہ صورت حال خاصی سنگین اور پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ ایرانی میزائل خلیجی ممالک میں بھی گرے ہیں۔ اس سے خلیجی ممالک میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک کے باہمی ٹیلی فون رابطے جاری ہیں۔

یہ صورت حال مستقبل میں کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے خاصا سخت بیان جاری کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران شدید مزاحمت کے موڈ میں ہے۔

اس جنگ کے خطے اور دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ سوال بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز خاصے اہم تجارتی راستے ہیں۔ اگر ان راستوں میں کوئی رکاوٹ آتی ہے تو اس سے عالمی سطح پر معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران اب میزائل حملے کر رہا ہے۔ عراق میں بھی میزائل گرائے گئے ہیں۔ یہ جنگ کب تک جاری رہتی ہے، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ امیر قطر تمیم بن حماد الثانی نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

ادھر اسپین نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کو مسترد کر دیا ہے۔ روس اور چین کا ردعمل بھی خاصا محتاط ہے۔

ایران اس وقت خاصی مشکل صورت حال سے دوچار ہے کیونکہ وہ عالمی قوتیں جو امریکا اور اسرائیل کے اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں، وہ بھی محتاط ہیں جب کہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل مکمل طور پر اتحاد کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اس صورت حال میں ایران کی حکومت کتنی مزاحمت کر پاتی ہے، اس کے بارے میں آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا۔ تاحال مصدقہ معلومات کے حوالے سے زیادہ مواد دستیاب نہیں ہے۔

عالمی میڈیا مختلف ذرائع کے حوالے سے خبریں دے رہا ہے یا پھر امریکا اور اسرائیل باضابطہ طور پر حملے کی اطلاعات فراہم کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے بھی میزائل داغے دانے کی مصدقہ اطلاعات مل گئی ہیں جب کہ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان بھی سامنے آ چکا ہے تاہم اسرائیلی اور امریکی حملوں میں کتنا نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے تاحال کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔

وقت کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جنگ رکوانے کی کوششیں کریں کیونکہ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ہانیہ عامر کا ڈرامہ پُرتشدد مردوں کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ

Published

on



پاکستانی ڈرامہ شائقین اس وقت بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر دکھایا جانے والا ’’صحت مند محبت‘‘ کا تصور آخر کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے میں ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ اپنی کہانی اور کرداروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں کہانی ایک بااصول میڈیکل اسٹوڈنٹ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں انکار کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

ناظرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں وہی پرانا فارمولا دہرایا گیا ہے: ایک طاقتور اور مالدار مرد مسلسل کسی خاتون کا تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے، بغیر اجازت اس کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کامیار کی طرف مائل ہوجاتی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق سیریل نہ صرف زہریلے رویوں کو دکھاتی ہے بلکہ انہیں معمول اور قابلِ قبول بنا کر پیش کرتی ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ کہانی میں ایک ایسے شخص کو، جو جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت کا حامل دکھایا گیا ہے، کسی نہ کسی انداز میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مناظر میں مذہبی حوالوں کو بھی اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔

’’میری زندگی ہے تو‘‘ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ڈرامے غیر صحت مند تعلقات کو محبت کا نام دے کر نئی نسل کے ذہنوں میں غلط تصورات کو تقویت دے رہے ہیں؟



Source link

Continue Reading

Today News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی پر کھلاڑیوں پر جرمانے کیے جانے پر شاہد آفریدی کا ردعمل

Published

on



سابق کپتان شاہد آفریدی کا آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی پر جرمانے لگائے جانے کی خبروں پر ردعمل سامنے آگیا۔

ایک مقامی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں شاہد آفریدی نے مشورہ دیا کہ کم کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس بھیجنا اور انہیں مناسب آرام کی اجازت دینا مالی جرمانے عائد کرنے سے زیادہ موثر جواب ہوگا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ چھوٹا سوچ رہے ہیں، سوچ رہے ہیں کہ 50 لاکھ سے کیا ہوگا، آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ واقعی کوئی جرمانہ نہیں ہے۔

جن لوگوں نے پرفارم نہیں کیا انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھیجنا چاہیے، کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جن کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ کم از کم 2 سال تک واپس نہیں آنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ میری نظر میں یہ سزائیں کافی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں ناقص کارکردگی دکھانے پر پی سی بی نے پاکستانی کرکٹرز پر  50، 50 لاکھ روپے کا جرمانہ کر دیا جس کا فیصلہ بھارت سے شکست کے بعد ہی ہوگیا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھ کا معائنہ

Published

on



ڈاکٹرز نے اڈیالہ جیل پہنچنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کیا اور چیک اپ کے بعد ٹیم واپس روانہ ہوگئی۔

اڈیالہ جیل کے ذرائع کے مطابق پمز اور الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے ڈاکٹرز کی مشترکہ ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی جن میں الشفاء آئی ٹرسٹ آئی اسپتال کے ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی اور ماہر امراض چشم ڈاکٹر عارف، ڈاکٹر اوصل بھی شامل تھے۔

میڈیکل ٹیم کے ہمراہ  جدید طبی آلات سے لیس گاڑی بھی جیل پہنچیں اور جیل ہسپتال کے ڈاکٹرز و عملے سے بھی معاونت حاصل کی۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم بانی پی ٹی آئی کا فالو اپ چیک کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔



Source link

Continue Reading

Trending