Connect with us

Today News

ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت

Published

on


جنگ سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے جینیوا اور پھر عمان میں مذاکرات ہوئے تھے تو عمان کے وزیر خارجہ جو امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان مصالحت کنندہ کا کردار ادا کررہے تھے کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات میں امریکا کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا۔

عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق ایران ایٹم بم کی تیاری کے مراحل کو صفر کی سطح تک لے جانے پر تیار ہوگیا تھا لیکن امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا۔ ان حملوں میں 1989ء سے سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والے آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم رہنما شہید ہوگئے، ان کے علاوہ سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک اسکول کی عمارت میں موجود 46 کے قریب طالبات بھی شامل ہیں۔

  ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے 19 میل چوڑی آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے خلیجی ممالک میں غذائی بحران پیدا ہوگا۔ خلیجی ممالک کی تیل کی ایکسپورٹ بند ہوجائے گی اور پوری دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوجائے گی جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوگئے ہیں۔

امریکا، ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے پاس اس رجیم کا متبادل سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا ہے۔ سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی معاہدہ ابراہیمی کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت کی مخالف اور بھی کئی ایرانی تنظیمیں ہیں، ان میں تودہ پارٹی اور مجاہدین خلق ہیں لیکن امریکا کے لیے سب سے پسندیدہ رضا پہلوی ہے مگر رضا پہلوی کو ایران کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ مجاہدینِ خلق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم بائیں بازو کے عناصر پر مشتمل ہے اور اپنے لبرل خیالات کے لیے معروف ہے مگر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس تنظیم کی بھی حمایت کررہے ہیں۔ اس تنظیم  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے حمایتی گزشتہ برسوں سے ایران کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں۔ تودہ پارٹی کمیونسٹ پارٹی ہے ۔ مجاہدین خلق اور تودہ پارٹی نے شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آیت اللہ خمینی اور ان کی جماعت کی حمایت کی تھی مگر جب انقلابی حکومت قائم ہوگئی تو ان اتحادیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کیا۔ ہزاروں افراد جلاوطن ہوئے۔

 ایران کی سرزمین پر یہ کھلی جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب گزشتہ ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی ثالثی سے مذاکرات جاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکا کے ایران پر وسیع فوجی حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو ختم کرنا اور ساتھ ہی ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) ہے۔

ایران نے اسرائیل اور بحرین، قطر، ابوظہبی، کویت، اردن اور سعودی عرب میں میزائل حملے شروع کیے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور عراق میں بغداد کے نزدیک علاقوں پر بھی حملے کیے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی یہ فوجی جارحیت ایک کٹھ پتلی اور آمرانہ حکومت قائم کرنے کی کوشش ہے۔جلاوطن ایرانیوں کا ایک گروپ امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کررہا ہے حالانکہ وہ موجودہ ایرانی رجیم کا بھی مخالف ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ان نازک اور فیصلہ کن لمحات میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ امن کے قیام اور اسرائیل و امریکی سامراج کی اس جارحیت کے خاتمے کے لیے متحد ہوں۔ ایران کی تباہی موجودہ رجیم سے نجات کا راستہ نہیں ہے۔ یہ مقصد صرف عوام کی جدوجہد اور قومی و آزادی پسند قوتوں کی منظم کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔ امریکا کا استعماریت کا نیا کردار ایسا ہی ہے جیسا صنعتی انقلاب کے وقت تھا۔ (18ویں صدی میں برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور یہ صنعتی انقلاب 19ویں صدی میں پایہ تکمیل ہوا۔) برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب مکمل ہونے کے بعد ان ممالک نے اپنے کارخانوں کے مال کی کھپت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنی شروع کیں، اس طرح سرمایہ داری سامراجیت میں تبدیل ہوئی۔

برطانیہ، ہالینڈ، پرتگال، اسپین اور اٹلی وغیرہ نے ایشیائی اور افریقی ممالک پر قبضے کرنے شروع کیے اور اپنی سلطنتوں کو بڑھانے کے لیے ایشیائی اور لاطینی امریکا کے عوام پر بدترین تشدد کے طریقے استعمال کیے۔ ان ممالک میں معدنیات اور خام مال کو سستے داموں خرید کر برطانیہ اور یورپی ممالک کی ملز میں ان سے نئی مصنوعات تیار کر کے دوبارہ ان ممالک کے غریب عوام کو فروخت کیں اور نوآبادیات سے لوٹی ہوئی رقم یورپی ممالک کی ترقی پر خرچ ہوئی۔ سابق سوویت یونین کے قیام کے بعد برطانیہ اور امریکا کے سامراجی کردار میں فرق آیا۔ سابق سوویت یونین کی مدد سے 40 سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے مگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پھر سامراج اپنی بدترین شکل میں سامنے آرہا ہے۔

امریکا نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے پہلے لیبیا اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹا، شام کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اب ایران کی باری ہے اور پھر لاطینی امریکا میں جس حکمران نے آزادانہ فیصلے کیے، امریکا نے ان کو قتل کرا دیا۔ وینز ویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغواء اسی منصوبے کی کڑی ہے۔ روس یوکرین کی جنگ کی بناء پر ایران کی مدد نہیں کرسکتا۔ چین اپنی پالیسی کی بناء پر دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی دے کر انھیں اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے پر اکساتا ہے مگر چین کی پالیسی میں کسی ملک سے جنگ کا ایجنڈا شامل نہیں۔ امریکا کے کردار کو شکست دینے میں آمرانہ حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عراق کے بعد کیوبا بھی اندھیرے میں ڈوب گیا، معمولات زندگی مفلوج

Published

on



HAVANA:

کیوبا کے بیشتر علاقے اچانک بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث تاریکی میں ڈوب گئے جس سے دارالحکومت ہوانا سمیت ملک کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔

سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق یہ وسیع بلیک آؤٹ اس وقت پیش آیا جب ہوانا سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع انتونیو گوئتریس تھرمو الیکٹرک پلانٹ اچانک بند ہو گیا۔ اس غیر متوقع خرابی کے بعد مغربی صوبے پینار ڈیل ریو سے لے کر مشرقی لاس توناس تک بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

ریاستی میڈیا کے مطابق ملک پہلے ہی شدید ایندھن بحران کا شکار ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تیل کی ترسیل محدود کیے جانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت نے پاور پلانٹس کی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نظام بار بار دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہوانا میں اچانک لائٹس بجھنے سے ٹریفک جام ہو گیا، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں ہنگامی جنریٹرز چلانے پڑے جبکہ متعدد علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی۔

حکومت نے بحالی کا عمل شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم شہریوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو ملک کو مزید طویل بلیک آؤٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔

وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو خط لکھ دیا

Published

on



کراچی:

پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اے راجپر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر ریجنل ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے قوانین میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی کی جائے تاکہ موجودہ عالمی صورتحال سے معاشی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث سمندری تجارت متاثر ہو رہی ہے اور کئی ممالک کا کارگو محفوظ متبادل بندرگاہوں کی تلاش میں ہے۔

 

ایسے میں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث خطے کا اہم ٹرانس شپمنٹ مرکز بن سکتا ہے اور اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

چیئرمین محمد اے راجپر نے نشاندہی کی کہ موجودہ قوانین کے تحت ٹرانس شپمنٹ کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر رکھنے کی اجازت نہیں، جبکہ بندرگاہوں کے اپنے ٹرمینلز پر سامان رکھنے کی گنجائش بھی محدود ہے۔ اس وجہ سے ممکنہ کاروباری مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔

خط میں ایف بی آر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایس آر او کے ذریعے عالمی کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر رکھنے کی فوری اجازت دی جائے۔

مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بندرگاہوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا اور پاکستان علاقائی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بحرین، ایران کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر مزید گرفتاریاں

Published

on



MANAMA:

بحرین میں ایران کے حملوں سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے اور مبینہ طور پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے پر مزید چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کے مطابق اب تک 8 افراد کو سوشل میڈیا پر ایرانی حمایت یافتہ مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی اشاعت عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور شہریوں و رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے، جو ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

یہ گرفتاریاں اس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں حکام ایسے مواد کو ایرانی جارحیت کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کی پوسٹس قوم سے غداری کے مترادف ہیں۔

واضح رہے کہ بحرین میں سنی حکومت قائم ہے جبکہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعض حلقے شیعہ اکثریتی ملک ایران کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending