Today News
ایران پر حملہ – ایکسپریس اردو
بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج ایران سوگوار ہے، اپنے لیڈر کی شہادت پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ایران میں 7 دن کی عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تین رکنی عبوری کونسل نے حکومتی اختیارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ایرانی قیادت نے اپنے سپریم لیڈرکی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، امریکا و اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا اور چار میزائل داغے ادھر اسرائیل میں تل ابیب دارالحکومت پر میزائل حملہ کر کے کم از کم 40 عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک سعودی عرب، بحرین، قطر، ابوظہبی اور امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران میزائل حملے کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد نہ رکی تو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران ہر صورت اپنے رہنما خامنہ ای کا بدلہ لے گا ادھر صدر ٹرمپ نے بھی علانیہ کہا ہے کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو ہم مزید طاقتور انداز میں جواب دیں گے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ جنگ طویل ہو کر دو ماہ تک جا سکتی ہے۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور جنگ کے پھیلتے ہوئے خطرات پر دنیا بھر میں اظہار تشویش کیا جا رہا ہے۔ ہر دو ملک کی قیادت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے جنگ شروع کرنے اور علی خامنہ ای کی شہادت پر چین، روس، برطانیہ سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے اور امریکا و اسرائیل کو اس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
نہ صرف عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے بلکہ خود امریکا کے اندر بھی ایران پر حملے اور خامنہ ای شہادت کے حوالے سے بھی رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ اور علی خامنہ ای کو شہید کرنے کا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ امریکا میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے مطابق 43 فی صد سے زیادہ امریکی ٹرمپ کی فوجی پالیسی سے ناخوش ہیں۔
امریکی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال پر پریشان اور جنگی اقدام کی مخالف ہے۔ امریکا کی سیاسی قیادت اور دانشور حلقے اور صائب الرائے طبقے بھی ایران پر حملے کو غیر دانش مندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا بھی رائے عامہ کی تقسیم کو نمایاں کر رہا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت پر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی فضا سوگوار ہے۔ صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے ایرانی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو فون کرکے حملوں کی مذمت اور ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔
صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کا ایٹمی پروگرام کسی صورت قبول نہیں وہ ہر قیمت پر نہ صرف ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کا خواہاں تھے بلکہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ سال جون میں بھی امریکا اسرائیل نے حملہ کیا اور B-2 بمبار طیارے کے ذریعے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور عرب ملکوں نے مداخلت کرکے جنگ رکوائی اور بات مذاکرات تک پہنچی۔ امریکا ایران کا مذاکراتی عمل جاری تھا۔
عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا دو دور ہو چکے تھے، عمانی وزیر خارجہ نے چار دن پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ یہ امید ہو چلی تھی کہ امریکا ایران جنگ کے بادل جلد چھٹ جائیں گے لیکن مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل نے مذاکرات کا بہانہ کرکے ایران پر حملے کی تیاری کے لیے وقت حاصل کیا اور جوں ہی تیاری مکمل ہوئی اور امریکی سی آئی اے نے جو علی خامنہ ای کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی، یہ خبر دی کہ سپریم لیڈر اتوار کی صبح ایک اہم میٹنگ کے لیے اپنے دفتر میں موجود ہوں گے اور ایران کی ٹاپ لیڈرشپ سے بات چیت کریں گے۔ اس موقع کو غنیمت جان کر اسرائیل کے 200 طیاروں نے ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای کو خاندان سمیت شہید کر دیا۔
صدر ٹرمپ کے بقول 48 اہم ترین ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کریں۔ جب ان سے اخباری نمایندے نے سوال کیا کہ آپ کا اصل ہدف خامنہ ای اور ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہو چکی ہے۔ رجیم چینج کی خواہش پوری کرنے کے لیے اب ایران میں کون اقتدار سنبھالے گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں جو ہمارے حامی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوتی ہوگی کہ ایرانی عوام نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ان کی اپیل کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ تہران کے انقلاب چوک پر ہزاروں ایرانی سوگوار اشک بار آنکھوں سے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا عزم و عہد کر رہے ہیں۔
Today News
خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ افضل ترین جہاد ہے، سیکیورٹی ذرائع
راولپنڈی:
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے صحافیوں کی آپریشن غضب للحق کے تناظر میں آئی ایس پی آر میں اہم نشست ہوئی، سکیورٹی حکام نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ بن چکی ہے، خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ افضل ترین جہاد ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر میں خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو مدعو کر کے افغانستان میں جاری آپریشن ضرب للحق کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صحافیوں کو بتایا گیا کہ پاکستان کو افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، افغان طالبان ریجیم خطے میں دہشت گردی کی مرکزی ’’پراکسی ماسٹر‘‘ کے طور پرکام کر رہی ہے، یہ ریجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری سے علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے، افغان طالبان رجیم کو پاکستان یا دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ہی تسلسل ہے، یہ آپریشن افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردی کی سرپرستی کے مکمل خاتمے کی قابل یقین ضمانت اور عملی اقدامات تک جاری رہے گا، ہمیں کوئی جلدی نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صحافیوں کو بتایا گیا کہ خوارج اسلام کی ایک مسخ شدہ اور خود ساختہ اسلامی نظریے کی ترویج کر رہے ہیں، اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، معصوم انسانی جانوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم ، مساجد پر حملے اور ان کا دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہماری مذہبی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے ایسے خودساختہ مذہبی عقائد کا پرچار کرنے والے خوارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تمام مکتبہ فکر کے علماء نے خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور بارڈر سے متصل لانچنگ پیڈز کوخفیہ اطلاعات کی بنیاد پر نشانہ بنا رہا ہے، سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کا تاثرحقائق کے منافی بلکہ دہشت گردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے رو گردانی کے مترادف ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ طالبان ریجیم کے ہاتھوں زیر عتاب طبقات غضب للحق کو خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں، افغان آفیشل سوشل میڈیا اکاوٴنٹس اور ان کے ہندوستانی سرپرست میڈیا کی طرف سے من گھڑہت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، پاکستان کے اندربھی روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈآپریشنز کامیابی کے ساتھ کئے جا رہے ہیں، باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے۔
صحافیوں کو بتایا گیا کہ ایران اور خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، پاکستان تمام طاقتوں اور ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔
Today News
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے وار پاورز قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو پابند کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بادشاہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو انہیں کانگریس میں آ کر اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما ایران جنگ اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خدشے کو بنیاد بنا کر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ کے لیے بھی ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو مکمل فنڈنگ اور عملہ فراہم کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کو جنگ سے پہلے کانگریس کی اجازت لینا بے حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی قرارداد پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ کے باعث مسترد ہو گئی تھی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے حق اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
اسی دوران امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو مزید فوجیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں جن کی شناخت چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزن اور میجر جیفری اوبرائن کے طور پر کی گئی ہے۔
امریکہ میں سیاسی محاذ پر ایک اور پیش رفت میں ریپبلکن سینیٹر نے اچانک اپنی تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں جو رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔
Today News
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی
آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔ دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے مذکورہ عناصر کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پیچیدہ سرحدی پٹی ایسے عوامل سے متاثر رہی ہے جنھوں نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بارہا نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے سرحدی علاقوں کا دورہ، وہاں تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے کو سراہنا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا نہ صرف ایک روایتی عسکری عمل ہے بلکہ اس بات کا واضح اظہار بھی ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔
جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ قبائلی خطے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے اہم ترین میدان رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاورکی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے کیونکہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستانی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہرکرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف دراصل پاکستان کی ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے آنے والے خطرات کو نظر انداز کرے۔ اگر دہشت گرد عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کریں تو اس کا جواب دینا ریاست کا بنیادی حق اور ذمے داری ہے۔
آپریشن غضب للحق اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کسی بھی قیمت پر پنپنے نہیں دے گا۔ ان علاقوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی قابل قدر ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون ہی خطے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پورے ملک کی جنگ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی حمایت کریں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دہشت گردی ان حربوں میں سے ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سرحد پر باڑ کی تعمیر، جدید نگرانی کے نظام کا قیام اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بعض عناصر دراندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔آپریشن غضب للحق اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں دراصل اسی حکمت عملی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج ملک کی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ایک پرامن خطہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری بھی لاتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر کوئی بھی قوت پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔آخرکار یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے قومی عزم، عسکری صلاحیت اور سیاسی بصیرت سب کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ اور آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہیں گی۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade