Connect with us

Today News

ایران کا اسرائیل کی آئل ریفائنری پر بڑا میزائل حملہ، حیفہ کو بجلی کی فراہمی معطل

Published

on


ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیبات پارس گیس فیلڈ پر صیہونی حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نقصان معمولی نوعیت کا ہے اور کسی بڑے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے منصوبوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور تہران کی جانب سے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو “زیرو ریسٹرینٹ” کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آپریشن غضب للحق اور خطے کی بدلتی حقیقتیں

Published

on


حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق‘‘ میں پانچ روزہ عارضی وقفے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان نے اس وقفے کا اعلان نہ صرف اپنے طور پر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔

ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔

تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا یہ فیصلہ اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا قدم ہے جو نہ صرف اس کی داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دیگر فریقین بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک عارضی وقفہ بن کر رہ جائے گا جس کے بعد پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں طوفانی بارش، بلدیاتی اداروں کی ناکامی

Published

on


کراچی میں ہلاکت خیز طوفان اور بارش سے 19 افراد جاں بحق ہوگئے، شاہراہ فیصل پر ہواؤں کی رفتار90 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، شہر میں طوفان اور بارش کے بعد 645 فیڈرز متاثر ہوئے، جس کے باعث کراچی کے بیشتر علاقے رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔

کراچی ایک ایسا شہر ہے جو اپنی وسعت، آبادی اور معاشی اہمیت کے باعث ملک کا دل کہلاتا ہے، مگر ہر بارش اور ہر طوفان اس دل کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے نہ صرف درخت اکھاڑے، بجلی کے کھمبے گرائے بلکہ شہری زندگی کے اس نظام کو بھی بے نقاب کر دیا جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔

یہ سوال اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ آخر ایک میگا سٹی، جو ملک کی معیشت کا انجن سمجھا جاتا ہے، وہ معمول کی بارش اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا؟ کیا انتظامیہ کو اس طوفان کی پیشگی اطلاع نہیں تھی؟ اگر تھی، تو پھر حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟طوفان کے بعد 645 فیڈرز کا متاثر ہونا اور شہر کے بیشتر علاقوں کا رات گئے تک بجلی سے محروم رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بجلی کا نظام بھی کسی بڑے امتحان کے لیے تیار نہیں۔ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے علاقے، بند ٹریفک سگنلز، اور سڑکوں پر جمع پانی ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی ترقی پذیر نہیں بلکہ ایک بے یار و مددگار شہر کا عکاس ہے۔نالوں کی صفائی نہ ہونا، سیوریج کا نظام ناکارہ ہونا، سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا، اور غیر قانونی تعمیرات کا پھیلاؤ، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا بحران پیدا کرتے ہیں جو ہر بارش کے ساتھ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ شہری انتظامیہ کی نااہلی کا ایک اور پہلو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

کسی بھی بڑے شہر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایک اہم جزو ہوتا ہے، مگر کراچی میں اس کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ نہ تو فوری ریسکیو کے مؤثر انتظامات ہیں، نہ ہی عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کا کوئی مربوط نظام۔ سوشل میڈیا اور نجی ذرائع کے ذریعے معلومات کا حصول ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے، مگر ایک منظم اور قابل اعتماد نظام کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح ہر بارش اور طوفان کے سامنے بے بس رہیں گے؟ کیا یہ شہر صرف ٹیکس دینے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہے یا اس کے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمے داری ہے؟اس کے ساتھ ساتھ، شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور زمینوں کے استعمال کے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے، اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ہر بار آزمائش سے گزرنا پڑے۔ یہ شہر بہتری کا مستحق ہے، اس کے لوگ محفوظ زندگی کے حق دار ہیں، اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو آنے والا مون سون سیزن ایک بار پھر اسی تباہی کی داستان دہرائے گا اور شاید اس بار نقصان اس سے بھی زیادہ ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگی حالات اور کفایت شعاری مہم

Published

on


پاکستان کی موجودہ حکومت نے امریکا ،اسرائیل اور ایران جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تیل بحران ، ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کے پیش نظر جنگی بنیاد پر ایک بڑی کفایت شعاری مہم مارچ 2026سے شروع کی ہے ۔اس مہم کے تحت سرکاری دفاتر میں چار روزہ ہفتہ وار اور جمعہ کو ورک فار ہوم ،سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50فیصد تک کمی ،نئی گاڑیو ں کی خریداریوں پر پابندی،وفاقی کابینہ کے اراکین کی دو ماہ کی کم سے کم تنخواہ ترک کرنا ،اعلی افسران کی تنخواہوں میں پانچ سے تیس فیصد کمی ،23مارچ کی تقریبات کی منسوخی ،تعلیمی اداروں کی بندش،حکومتی یا سرکاری اخراجات میں بیس فیصد کمی کا اعلان شامل ہے ۔اگرچہ یہ کام حکومت نے جنگی بنیاد پر کیا ہے مگر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومتیں غیر ترقیاتی اخراجات ، بے جا حکومتی اخراجات کی درست ترجیحات میں کیونکر ناکام رہتی ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ ہمارا جیسا ملک جو معاشی طور پر کمزور ہے وہاں حکومتی اور انتظامی اداروں کا نظام بے جا اخراجات اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر کھڑا ہے ۔

خیر حکومت نے موجودہ حالات میں جو اقدامات اٹھائے ہیں اس کی حمایت کی جانی چاہیے ۔ بظاہر یہ اقدامات سنگین بنیاد پر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرز کی پالیسیاں محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اختیار کی جا رہی ہیں۔اگر جنگ کا ماحول فوری طور پر ختم نہیں ہوتا اور جنگ مزید آگے بڑھتی ہے تو پھر ہمیں یا حکومتوں کو مزید سخت سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی فیصلے کرنے پڑیں گے اور ان فیصلوں کا براہ راست اثر جہاں مختلف اور بالخصوص کمزور معاشی ممالک پر پڑے گا وہیں ان ممالک کے کمزور عوام کو بھی اس کی بھاری قیمت معاشی  تنگدستی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم حکومت کی کفایت شعاری کی مہم کو دیکھیں تو یہ حالات کے جبر کے تحت اول تو عارضی پالیسی تک محدود ہے، یہ حکومت کی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں جو اصولی طور پر ہونا چاہیے۔ اگر جنگ فوری طور پر ختم ہوتی ہے تو کفایت شعاری کے نام پر یہ کھیل بھی ختم ہوجائے گا ۔اس کے بعد حکومت کا وہی پرانا اور شاہانہ انداز حکمرانی ہو گا۔کیونکہ اگر واقعی یہ کفایت شعاری اس حکومت کے لیے ضروری ہے تو پھر کیوں یہ حکمت عملی ہماری مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتی، اس میں کیا رکاوٹ ہے ۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اس ملک میں ماضی میں بھی مختلف حالات کی بنیاد پر حکومتی سطح پر کفایت شعاری مہم شروع ہوتی رہی ہیں، اول یہ محض کاغذی یا رسمی کارروائی تک محدود رہی ہے اور ہم نے اس کا کوئی بڑا مثبت اثر نہیں دیکھا ۔دوئم، اس طرز کی مہم میں عوام سے تو قربانی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا سرکاری ملازمین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے مگر حکمران یا اس ملک کا طاقت ور طبقہ خود کسی بڑی قربانی دینے میں نہ تو نظر آتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی بڑی ترجیحات کا حصہ دیکھنے کو ملتا ہے جو تضاد پر مبنی پالیسیوں کی واضح عکاسی کرتا ہے ۔

اصل میں تو اس طرز کی ہنگامی بنیادوں پر ہونے والی کفایت شعاری مہم میں سب سے زیادہ بوجھ طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات پر ڈالا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم ،صدر، گورنرز، وزیر اعلی ، وزرا ،مشیر ،ججز اور بیوروکریسی کے اخراجات میں نمایاں کمی نظر آنی چاہیے۔لیکن اس وقت بھی ملک میں مختلف مباحث اور گفتگو میں اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات کے بڑے اخراجات پر تنقید ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود ان کے اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کا طاقت ور طبقہ اپنے انداز حکمرانی کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔خود اس ملک میں سیاست دانوں یا بیوروکریسی کے اعلی افسران یا ججزکو ملنے والی بڑی تنخواہیں اور ان کو دیگر ملنے والی مراعات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیوں کھڑے ہیں۔کچھ عرصہ قبل اسی ملک میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی بھاری بھرکم تنخواہوں میں اضافہ اور اب چیئرمین سینیٹ کے لیے مہنگی ترین گاڑی کا خریدنا ایک تضاد پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے ۔

ایک طرف حکومت نے جنگی بنیاد پر پورے ملک میں کفایت کو بنیاد بنا کر مہم چلانے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران حکومت پنجاب نے صوبہ میں 52کروڑ 35لاکھ سے 42سیکیورٹی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی ہے جو یقینی طورپر وزیر اعظم کی پالیسی کے برعکس فیصلہ ہے۔اسی طرح ایک ادارے کے مقابلے میں دوسرا متبادل ادارہ بنانا اور بلاوجہ خود پر اداروں یا ان کے اعلی افسران کا حکومت پر بوجھ ڈالنا کہاں کی درست حکمت عملی ہو سکتی ہے ۔مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں مختلف طرز کے کمیشن بنائے جن کا مقصد سرکاری بے جا اخراجات میں کمی کرنا تھا ۔مگر ان سامنے آنے والی رپورٹس پر کوئی عملی کام دیکھنے کو نہیں مل سکا ۔یہ یاد رکھیں کہ اس وقت بھی حکومت کی کفایت شعاری مہم کی بنیاد پر عام شہری ہی مہنگے پٹرول ،ڈیزل،تیل اور بجلی کی قیمتوں سے ،تعلیمی بندش اور روزگار کی کمی یا عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔ہمیں اس وقت بھی وزیر اعظم کے ہی فیصلے کی بنیاد پر وفاق سے لے کر چاروں صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک کہیں بھی کفایت شعاری کی عملی شکل دیکھنے کو نہیں مل رہی البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس مہم کی تشہیر پر بلاوجہ اشتہارات کی مدد میں سرکاری وسائل کو برباد کیا جارہا ہے یا ویسے ہی حکومتی کاموں کی تعریف میں جو اشتہارات کا مقابلہ چل رہا ہے اس میں زمینی حقایق وہ نہیں جو ہمیں اشتہارات کی دنیا میں دکھایا جارہا ہے ۔

اس کھیل میں محض وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتیں بھی پیش پیش ہیں۔اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ حکومت جب اس طرز کے کفایت شعاری کی بنیاد پر منصوبے شروع کرتی ہے تو اس کی نگرانی ،جوابدہی اور شفافیت کا نظام کیا ہوتا ہے اور اس پر عمل کیوں نہیں نظر آتا۔اصل میں ہمارا حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ حکومتی وسائل پر عیاشی ان کا حق ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف جیسا مالیاتی ادارہ بھی بار بار حکومت کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے اور اپنے اقدامات میں معاشی ڈسپلن کو پیدا کرے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومتی سطح پر بیشتر اقدامات اپنی اہمیت اور ساکھ کھودیتے ہیں اور لوگوں میں یہ رائے بنتی ہے کہ اس کھیل کا مقصد ان ہی کی گردن پر چھری پھیرنا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی سطح پر کمزور کمٹمنٹ کا ہونا یا ان کے داخلی تضادات یا بیوروکریسی کی سطح پر متضاد پالیسی ہوتی ہے ۔

حکومت دعویٰ تو کرتی ہے کہ وہ اس کفایت شعاری کی مہم سے عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن حالیہ پٹرول اور ڈیزل یا تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے معلوم ہو گیا ہے کہ بوجھ کس طبقہ پر ڈالا گیا ہے ۔کیونکہ جو حکومت کسی عمل سے بچت کرتی بھی ہے تو اسے عوام تک پہنچانے کی بجائے غیرترقیاتی اخراجات کی صورت میں خرچ کیا جاتا ہے ۔حکومت کی سطح پر علامتی اظہار یا اقدامات کرنا کفایت شعاری مہم میں سب کو اچھا لگتا ہے لیکن جب اس پر شفافیت کی بنیاد پر عمل ہی نہیں ہونا تو پھر اس سے کسی بڑے نتائج کی توقع بھی نہیں ہوگی ۔اس لیے حالیہ مہم دباؤ کا ردعمل ضرور ہے مگر یہ کوئی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بنی ۔





Source link

Continue Reading

Trending