Connect with us

Today News

ایران کی نئی قیادت کو بھی مار دیں گے، ٹرمپ کی دھمکی

Published

on



FLORIDA:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن ارکان کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سامنے آئی اسے مار دیا گیا اور آئندہ آنے والی قیادت کو بھی مار دیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کر رہے ہیں اور ایرانی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے پانچ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا اور ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق ایرانی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں جبکہ ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیت بھی بڑی حد تک تباہ کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے یہ آپریشن نہ کیا ہوتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹم بم حاصل کر لیتا جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی۔

ٹرمپ نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے اور مشکل فوجی آپریشن “ایپک فیوری” کو دیکھ رہی ہے جو ان کے بقول آپریشن مڈنائٹ ہیمر سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنی پہلی مدت میں امریکی فوج کو مضبوط بنانے پر کام کیا جبکہ دوسری مدت میں اس طاقت کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے بہترین اور طاقتور فوج ہے اور اب پوری دنیا کو اس کا اندازہ ہو چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بااثر ہو چکا ہے اور ہم تیزی سے امریکا کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں۔

انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا کو امریکی تاریخ کا شرمناک مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا تاہم اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ امریکا کی عزت کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں تاجر سے ڈاکوؤں نے 18 لاکھ سے زائد رقم لوٹ لی، موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی لے لیا

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے نیو کراچی سیکٹر سکس بی میں پیر کی شام مقامی تاجر کے ساتھ بڑی ڈکیتی کی واردات پیش آئی جہاں مسلح ڈاکو لاکھوں روپے نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق دو موٹرسائیکلوں پر سوار تین مسلح ڈاکوؤں نے تاجر محمد میمن کو روک کر اسلحے کے زور پر ان سے 18 لاکھ 75 ہزار روپے نقدی چھین لی۔

ملزمان واردات کے دوران تاجر کی سال 2025 ماڈل کی 125 موٹرسائیکل اور دو موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔

ڈاکوؤں نے فرار ہوتے وقت تاجر کو خوفزدہ کرنے کے لیے دو فائر بھی کیے اور موٹرسائیکلوں پر فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ تاجر نے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تھانے میں ڈکیتی کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ تاہم تھانے سے رابطہ کرنے پر پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کیلیے لبنان کی ہر ممکن حمایت اور تعاون کریں گے؛ شامی صدر

Published

on


شام کے صدر احمد الشراع نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر احمد الشراع نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران یقین دلایا کہ لبنان کے صدر جوزف عون کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔

شامی صدر کا مزید کہنا تھا کہ شام نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر لبنان سے ملحقہ سرحد پر اپنی دفاعی فورسز کو مضبوط کر دیا ہے تاکہ جنگ کے اثرات شامی سرزمین تک نہ پھیلیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں تعیناتی کا مقصد سرحد پار سرگرم تنظیموں کو روکنا اور شام کی زمین کو کسی بھی عسکری کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے بچانا ہے۔

قبل ازیں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کا فیصلہ کر کے حزب اللہ نے لبنان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ کے یہ جارحانہ لبنان کو ایک بڑی جنگ میں گھسیٹ سکتے ہیں جس کے سنگین نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑیں گے۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

پاک افغان کشیدگی، چین کی سفارتی کوششیں

Published

on


افغانستان کے حکمرانوں نے اول روز سے پاکستان کی مخالفت کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیے رکھا ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا معاملہ ہو یا بھارت کے ساتھ تنازعات ہوں، افغانستان نے ہمیشہ وہ موقف اختیار کیا جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات کے برعکس ہو۔ اب دہشت گردی کے ایشو پر بھی ، طالبان حکمرانوں نے پاکستان دشمنی پر مبنی پالیسی اختیار کر رکھی اور دنیا بھر کے تسلیم شدہ دہشت گرد گروہوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے بلکہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہیں، یوں پاکستان کو اپنی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا ہے۔ اب افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپ مل کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں جسے روکنے کے لیے پاکستان ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں صورتحال خاصی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کا کابل کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دوران انھوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کر کے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں چین نے واضح طور پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں کیونکہ اس کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سبب سرحد پار دہشت گردی اور سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان حکومت کو اس بارے میں آگاہ اور شواہد پیش کر چکا ہے اور مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں سخت اقدامات کیے ہیں اور بعض مواقع پر سرحد پار کارروائیاں بھی کی ہیں۔

موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پرکیے گئے آپریشنز میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ عناصر مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور سرحد پار سے سرگرم تھے۔ ان کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام جیسے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی جڑیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس کی تاریخی بنیادیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پیدا کیا گیا سرحدی تنازع، افغان مہاجرین کی طرف سے پیدا کردہ منشیات فروشی،اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مسائل اور افغان پالیسیوں پر پاکستان کے اعتماد کی کمی کئی دہائیوں سے تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔ افغانستان نے طویل عرصے تک ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جب کہ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اسی طرح گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان میں ہونے والی جنگوں اور عدم استحکام کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں آ کر آباد ہوئے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک پیچیدہ سماجی اور اقتصادی جہت بھی دی۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی کیونکہ پاکستان نے ماضی میں افغان طالبان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں پوری طرح حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی کمی نے تعلقات کو ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ان حالات میں چین کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین کے لیے اس خطے میں امن اور استحکام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے کئی بڑے اقتصادی منصوبے اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت چین ایشیا، یورپ اور افریقہ کو اقتصادی راہداریوں کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں پاکستان اقتصادی راہداری ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات ان اقتصادی منصوبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

چین کو اپنی مغربی سرحدوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ سنکیانگ کا علاقہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے اور چین نہیں چاہتا کہ اس خطے میں عدم استحکام اس کے اندرونی علاقوں تک سرایت کرے۔ اسی لیے چین افغانستان میں استحکام کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر چین کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ افغانستان جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہاں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ خطہ تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کے حوالے سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مزید فروغ دے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور پاکستان کے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے میں عملی اقدامات کرے۔ سرحدی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مستقل رابطوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ علاقائی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دلائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گی، اگر افغانستان واقعی خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا مشکل ہوگا بلکہ افغانستان کی عالمی سطح پر قبولیت بھی متاثر ہوگی۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت تدبر اور سفارتکاری کو ترجیح دے۔ چین کی حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک بھی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اگر اس موقع کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے اور افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے اور خطے میں امن کے لیے تعاون کرے تو نہ صرف موجودہ بحران کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط علاقائی تعاون کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔خطے کے امن اور ترقی کا راستہ تعاون اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔ افغانستان موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے وقت میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending