Today News
ایران کے اسرائیلی شہروں پر حملے، کیمیکل پلانٹ سمیت اہم تنصبیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 86 ویں لہر کے دوران خطے کے مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی اور ڈرون انفرا اسٹرکچر اور ان کی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4" کی 86ویں لہر اتوار کی علی الصبح کئی مراحل پر مشتمل انداز میں شروع کی گئی، جس میں پاسداران کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کی جانب سے مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا ہدف خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات تھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں پر فضائی اور ڈرون آپریشنل انفرا اسٹرکچر اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وکٹوریہ، عریفجان اور الخرج شامل ہیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس دوران امریکی اور اسرائیلی افواج کے مبینہ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ کوملہ گروپ سے وابستہ عناصر کو بھی مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں اراد، نقب (نیگیو)، تل ابیب، اربیل، امریکی پانچویں بحری بیڑا اور الظفرہ شامل ہیں۔
غیرملکی میڈیا نے رپورٹس میں بتایا کہ ایرانی میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل میں ایڈاما کیمیکلز پلانٹ متاثر ہوا ہے، اسی طرح جنوبی اسرائیل میں قائم ماختشیم پلانٹ بھی ایرانی میزائل سے متاثر ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔
اسرائیل کی فائر اور ریسکیو سروس نے کہا کہ جنوبی اسرائیل کے صنعتی علاقے میں آگ لگی ہے، جہاں متعدد کیمیائی اور صنعتی پلانٹس موجود ہیں اور یہ ممکنہ طور پر ایرانی میزائل یا روکے گئے میزائل کے ملبے کی وجہ سے پیش آیا۔
اسرائیلی فائر بریگیڈ نے عوام سے کہا کہ وہ نیوٹ ہوواب صنعتی علاقے سے دور رہیں کیونکہ وہاں خطرناک مواد موجود ہے جبکہ 34 فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم صنعتی علاقے سے 800 میٹر کے فاصلے یا اس دور عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پلانٹ کے قریب مقیم شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ وہ اندر رہیں، کھڑکیاں اور وینٹیلیشن بند کریں اور سیکیورٹی اور ایمرجنسی فورسز کی ہدایات پر عمل کریں جب تک واقعے پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ صنعتی زون میں اثر ممکنہ طور پر میزائل کے ملبے کی وجہ سے ہوا، اس کے فوراً بعد ایران کی جانب سے نئے حملوں کا پتا چلا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میزائل کے ملبے کا اثر ہےجبکہ اسرائیلی ٹی وی چینلز نے جنوبی اسرائیل کے رامات ہوواب صنعتی زون سے بلند سیاہ دھوئیں کی تصاویر دکھائیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فوج نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی جانب سے پانچ لہروں پر مشتمل میزائل حملوں کا علم ہوا ہے اور ہر بار دفاعی نظام خطرے کو ناکارہ بنانے کے لیے فعال ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں اور دو میزائل روکے گئے جبکہ تیسرا کھلی جگہ پر گر گیا، ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل بھر میں 40 بار سائرن بجے ہیں۔
Source link
Today News
لبنان میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں توسیع کا حکم
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مزید توسیع کا حکم دے دیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ناردرن کمانڈ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے ہدایت دی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی زون کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے اور اینٹی ٹینک میزائل فائر کو ہماری سرحد سے دور دھکیلا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو ختم کیا اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار میزائلوں اور راکٹوں کے بڑے خطرے کو بھی ختم کردیا جو اسرائیل کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملوں کے لیے راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن شمال میں صورت حال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ میں حماس سمیت ایران اور اس کے اتحادی گروپس کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اقدامات ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے حوالےسے بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی پلوں اور سیکیورٹی زون کو دریائے لیتانی تک کنٹرول میں لے لیں گی، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرۂ روم سے جا ملتا ہے۔
کہا گیا تھا کہ وہ سرحد پر قائم اپنے بفر زون کو دریائے لیتانی تک توسیع دے رہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کی طرف اشارہ کر رہے تھے یا مزید علاقے پر قبضے کی بات کر رہے تھے۔
دوسری جانب لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کردیے گئے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہزار 100 سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور طبی عملہ بھی شامل ہیں۔
Today News
تہرن یونیورسٹی پر حملہ، ایران کا خطے میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
پاسداران انقلاب نے خطے میں قائم امریکی یونیورسٹیوں سے اساتذہ، طلبہ اور عوام کو دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جامعات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں اسرائیل اور امریکا سے منسلک یونیورسٹیاں ایران کے لیے جائز اہداف بن گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبرایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی اور صہیونی افواج نے تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کر کے ایک بار پھر ایرانی جامعات کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس کے نادان حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب سے قابض حکومت کی تمام یونیورسٹیاں اور مغربی ایشیا میں امریکی جامعات ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گی، جب تک کہ تباہ کی گئیں ایرانی جامعات کے بدلے میں دو یونیورسٹیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ ہم خطے میں موجود امریکی جامعات کے تمام عملے، اساتذہ اور طلبہ، نیز قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے مذکورہ جامعات سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔
مزید بتایا گیا کہ اگر امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس مرحلے میں اس کی علاقائی جامعات جوابی کارروائی کا نشانہ نہ بنیں تو اسے پیر 30 مارچ کو تہران کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک یونیورسٹیوں پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے باضابطہ بیان جاری کرنا ہوگا۔
پاسداران انقلاب نے امریکی حکومت سے کہا کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ اس کے بعد بھی اس کی جامعات کو نشانہ نہ بنایا جائے تو اسے اپنی وحشی اتحادی افواج کو یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز پر حملوں سے روکنا ہوگا بصورت دیگر یہ دھمکی برقرار رہے گی اور اس پر عمل کیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل نے اصفہان یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی سائنٹفک اور ثقافتی بنیادیں تباہ کرنا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے جان بوجھ اصفہان اور تہران میں جامعات کو نشانہ بنایا ہے، اصفہان یونیورسٹی اور تہران کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی امریکی جارحیت کا تازہ نشانہ بننے والی جامعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے اصل مقاصد آشکار ہو رہے ہیں جو ایران کی سائنسی اور ثقافتی روایت کو منظم انداز میں نشانہ بنانا ہے، جس کے لیے جامعات، ریسرچ سینٹرز، تاریخی مقامات اور نامور سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور فوری خطرے کا بیانیہ دراصل محض ایک بہانہ تھا اور ایسی گھڑی ہوئی کہانیوں کا مقصد اپنے اصل عزائم کو چھپانا تھا۔
Source link
Today News
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
لکھنے کا پہلے شوق تھا، پھر گزشتہ تیرہ برس بلکہ پندرہ سال سے قلم کاری عادت سی بن چکی ہے۔ سات دنوں میں دو کالم رقم کرنا معمولی لگتا ہے تاہم کچھ عرصے سے کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔ لکھنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیوار میں چنے ہوئے کرداروں پر مزید سیاہی انڈیلی جائے۔ اور گھڑسواروں کی تعریف ہو۔ گمان ہے کہ شائد‘ ملک بنایا ہی شاہ سواروں نے تھا۔ مگر شائد اپنے لیے۔ جس کو وہ پاکیزہ اور دودھ کا دھلا کہیں‘ وہ فرشتہ ۔ جس سے ناراض ہوں، وہ شیاطین کی صف میں شامل ۔ تو جناب ‘ہمارے ملک میں تو سارے حکمران فرشتہ صفت ہی چلے آرہے ہیں لیکن اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ابلیسی کام بھی کرگزرتے ہیں۔ جب تجوری بھر جاتی ہے‘ تو پھر معصوم اور فرشتہ نظر آنے لگتے ہیں یا کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اب خود بتایئے کہ میرے جیسا انسان جو کسی بھی وقت دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کا اپنی اسٹڈی تک محدود ہونا کتنا سہل ہو گا؟ پینتیس برس کی سرکاری نوکری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کسی سیاسی جماعت کا کارندہ نہیں بنا جو حد درجہ آسان سا کام تھا۔ آج اس سے بھی زیادہ سہل تر ، بہر حال چھوڑیئے ، اس قصہ کو۔ پندرہ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ملک کے ایک جید کالم نگار سے بڑی چاہ سے ملنے گیا۔ اردو پر گرفت تو ان کی آج بھی مستند ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یا شاید پینتالیس منٹ گفتگو رہی۔ گمان تھا کہ کچھ لفظی موتی‘ عطا فرمائیں گے، طالب علم کے علم میں اضافہ ہو گا۔ کمال محبت سے پیش آئے۔ مگر آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر ایک سینئر ’’گھڑ سوار‘‘ کو بذریعہ اسٹاف تلاش کرتے نظر آئے۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔
میرے سامنے بالآخر ان صاحب سے بات بھی ہوئی۔ تو مضمون یہی تھا کہ چند اہم باتیں کرنی ہیں۔ باہم بیٹھنا ضروری ہے۔اندازہ تو یہی تھا کہ دانائی کے چند ہیرے‘ میری جھولی میں بھی ڈال دیں گے۔ مگر نوبت ہی نہیں آ سکی۔ معلوم پڑا کہ اپنی تحریروں میں خوبصوت الفاظ استعمال کرنے کے سوا ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی ضرورتیں‘ وہی طرز تفاخر اور وہی دوسرے کو جزوی طور پر مرعوب کرنے کی ادنیٰ سی کوشش۔ یقین فرمائیے کہ جب ان سے مل کر واپس دفتر آیا تو طبیعت بوجھل تھی۔ مگر سوال تو یہ بھی ذہن کے پردہ پر ابھرتا ہے کہ جناب کس کے در پر حکمت کے لیے جایا جائے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں بھی سوچتا ہوں کہ کیوں جاؤں؟ بہر حال یہ ایک فکری کشکمش ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ البتہ ایک اصول تو طے کر چکا ہوں۔ جس کی تحریر پسند ہو، اس سے کبھی نہیں ملتا ۔ اگر کوئی ملاقات کی صورت بنتی ہوئی نظر آئے ‘ تو فوراً کنارہ کشی کر لیتا ہوں۔
اس لیے کہ کہیں اس کرم فرما کا بنا ہوا تصوراتی بت اسے ملنے کے بعد پاش پاش نہ ہو جائے۔ لہٰذا ملنا بے سود ہے۔ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر عقل و خرد کے اصل جوہریوں کے سامنے زانوائے ادب طے کرنا‘ باعث افتخار سمجھتا ہوں۔ ان کی کھوج میں لگا رہتا ہوں۔ ویسے وہاں بھی اصل آدمی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ایک شہری بزرگ کا چرچہ سنا کہ دین کی علمی دولت سے مالا مال ہیں، کاروبار بھی فرماتے ہیں یعنی دین اور دنیا میں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ کوئی دس بارہ برس پہلے کا واقعہ ہے بلکہ حادثہ ہے۔ ان کے گھر پر پہنچا تو بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ لوگ ہی لوگ‘ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے‘ میں بھی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ ایک نوجوان آیا اس نے دریافت کیا کہ آپ حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔
مثبت جواب پر ‘ اس کارندے نے ایک ٹوکن میرے ہاتھ میں دے ڈالا کہ آپ کی باری کوئی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ جب ٹوکن نمبر پکارا جائے تو آپ بزرگ کے کمرے میں چلے جایئے گا۔ ہاں، پانچ منٹ سے زیادہ رہنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اگلا ٹوکن والا بھی انتظار کر رہا ہوگا۔ دماغ میں آیا کہ کیا خدا سے نسبت رکھنے والے بندے‘ ٹوکن دے کر ملتے ہیں؟ کیا رب کے دربار میں رسائی ٹوکن کے ذریعے ہو گی؟دین سے نسبت رکھنے والے بزرگ تو کسی بھی تکلف اور تردد سے پرہیز کرتے ہیں۔ طبیعت اس قدر ابتر ہو گئی کہ ٹوکن واپس کر کے گھر چلا آیا۔آج تک اس شخص کے پاس نہیں گیا۔ معلوم پڑا کہ پورے ملک میں وہ ایک برگزیدہ ہستی مانے جاتے ہیں۔ البتہ میرا دل نہیں مانتا کہ خدا کے ولی ‘ بذریعہ ٹوکن دستیاب ہوتے ہیں۔
کاروبار تو خیر کرتا ہی ہوں جوحد درجہ ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ سے تھوڑا سا پہلے شروع کیا تھا۔ خیر اب تو کافی کچھ سیکھ چکا ہوں۔ دن میں صرف پانچ گھنٹے اپنے نجی دفتر میں بیٹھتا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔ دن اور رات کا بیشتر حصہ‘ اپنی اسٹڈی میں گزارتا ہوں۔ ایک قدیم سا وائی فائی کا اسپیکر موجود ہے، یوٹیوب کو اس سے منسلک کرنا بڑے بیٹے نے سکھایا تھا۔ کے ایل سہگل‘ بیگم اختر فیض آبادی کو سنتا ہوں اور سردھنتا ہوں۔ کبھی کبھی مہدی حسن کی غزلیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ’’دختر رز‘‘ سے مکمل دوری ہے۔ حواس میں رہ کر موسیقی سننے کا لطف ہی کوئی اور ہے۔ ہاں‘ قوالیاں سن کر مزہ آتا ہے۔ خصوصاً غلام فرید صابری قوال کی۔ یہ دونوں بھائی بھی قوالوں کے سپہ سالار ہیں۔ آواز تو خیر کمال ہے ہی‘ مگر اس کے اندر‘ فارسی کی آمیزش بھی قیامت خیز ہے۔ گھر میں ایک ایسا کمرہ۔ جس میں آپ تنہا بیٹھ سکتے ہیں‘حد درجہ ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کا اصل گھر وہی بن جاتا ہے اور اسی میں دل لگتا ہے۔ ذاتی اسٹڈی میں کتابیں ہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔
کبھی لگتا ہے ساری پڑھ چکا ہوں۔ مگر اکثر اوقات ایسے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نسخے کیا‘ زندگی میں ایک حرف تک نہیں پڑھ پایا۔ ویسے ایک بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب ملک ملک ‘ سیاحت کا شوق غالب تھا تو غیر ممالک سے ڈیکوریشن پیس لایا کرتا تھا۔ اکثر تو ضایع ہو گئے۔ مگر آج بھی اسٹڈی روم میں بہت سے آراستہ ہیں۔ خصوصاً کینیا اور ساؤتھ افریقہ سے لائے گئے، مصنوعی چہر ے اور شتر مرغ کے رنگین انڈے۔ افریقہ میں ایک نایاب آرٹ ہے، وہ شتر مرغ کے انڈے پر تصاویر دنیا کے نقشے اور قدیم جنگلوں کے ماحول کو اس عرق ریزی سے پینٹ کرتے ہیں کہ انڈا‘ ایک علمی سوغات بن جاتا ہے۔
یہ حسن‘ افریقہ میں گلیوں گلیوں بکھرا ہوا ہے۔ اس طرح کا فن ‘ باقی دنیا میں ناپید ہے۔ ہاں‘ ایک سگار بکس بھی ہے جس میں اچھے کیوبن سگار موجود ہیں۔ کبھی کبھی جب سوچ کا ہالہ بہت بڑھ جائے تو سگار کے کش لگانا اچھا لگتا ہے ۔ سگار کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے پورا پیے بغیر بجھا سکتے ہیں۔ اور اس لیے‘ہر سگار ایک خاص پیکنگ میں آتا ہے۔ آپ جب اکتا جائیں تو اسے بجھا کر اسی کے خول میں ڈال دیجیے۔ تازہ بھی رہے گا اور دوبارہ استعمال کے قابل بھی۔
اب ایک تمنا یا خواہش ہے بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لاہور ہی کے کسی مضافاتی علاقے میں تھوڑی سی زمین لے کر وہاں رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے پرندے پالنا چاہتا ہوں‘ جنھیں پنجرے میں نہ رکھنا پڑے۔ پرندے کو قید میں رکھنا‘ خلاف قدرت معلوم پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے عشق ہے۔ دل چاہتا ہے کہ نئے حاصل شدہ قطعہ پر ‘ پودے لگاؤں جو پھولوں سے بھرے رہیں۔ درخت ہوں جن پر اجنبی پرندے ‘ بغیر کسی خوف کے گھونسلے بنانے اور بے خطر رہنا شروع کر دیں۔ دنیا کی بہترین موسیقی‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہے ۔ خصوصاً صبح اور شام کے وقت تو یہ قدرت کی جانب سے موسیقی کا رنگیں سیلاب ہے جو انسان کو بھگوئے بغیر نہال کر ڈالتا ہے۔
اس جگہ پر ایک کمرہ بھی بنواؤں گا ۔ جہاں ‘ اپنی اسٹڈی سے چند اشیاء منتقل کروں گا۔ پھر شام کو اندھیرے ا ور روشنی کے باہمی ملاپ کے وقت‘ سہگل اور بیگم اختر کی غزلیں سنوں گا۔ یہ میرا خواب ہے۔ جسے بہت جلد ‘ تکمیل کے مرحلہ سے گزاروں گا۔ ویسے اپنے آپ سے کبھی کبھی سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ شاید ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے ‘ معلوم ہی نہ پڑا کہ کب کافی وقت گزر گیا۔ بالوں میں سفیدی چھا گئی۔
پر بالوں کی اس برف نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ انسان دنیا میںاکیلا ہی آتا ہے اور واقعی ‘ تنہا ہی واپس چلاجاتا ہے۔ کہاں پرواز کر ڈالتا ہے‘ کس عالم میں ایستادہ ہوتا ہے۔ یہ راز آج تک کوئی بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا۔ ویسے اس سنجیدہ سوال کا کوئی بھی جواب تلاش نہیں کرنا چاہے۔ کیونکہ اپنی اپنی دانست میں جو بھی انسان‘ جو کچھ بھی سمجھتا ہے‘ وہ اس کے لیے درست ہے اور جو نکتہ اس کے لیے محترم ہے ‘ اس پر ہم کیوں بحث کریں؟ویسے مجھے تو اب کچھ بھی غلط معلوم نہیں دکھتا۔ دنیا‘ کائنات ‘سماج‘ انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ بھی معلوم کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے سب دکھاوا ہو۔خواب ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ سب کچھ ہی سچ ہو؟
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport