Today News
ایران کے خلاف امریکا جنگ میں کتنے ارب ڈالر پھونک چکا ہے؟ امریکی ٹی وی پروگرام میں انکشاف
واشنگٹن:
ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔
Kevin Hassett, Director of the US National Economic Council, said US military strikes on Iran have cost about $12 billion so far.
“The latest number I was briefed on was 12.” pic.twitter.com/kjq2sJpGTe
— Clash Report (@clashreport) March 15, 2026
پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔
دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
Today News
چادر، تصویر اور نوحہ : ’’ زندہ شہید‘‘ کی تزویراتی ولادت
تاریخ کے مقتل میں جب بھی کسی بڑی علامت کا خون گرتا ہے، تو وہ صرف زمین کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ وقت کی لکیروں کو ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں سوال صرف ایک ریاست کے سربراہ یا ایک مسلک کے پیشوا کا نہیں ہے، بلکہ اس مابعد الطبیعیاتی ڈھانچے کا ہے جسے مادی طاقتیں اپنی عقلی حدوں میں ماپنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تزویراتی منصوبہ سازوں نے شاید نقشوں پر سرخ لکیریں کھینچتے ہوئے یہ سمجھا ہوگا کہ وہ ایک بوڑھے فقیہ کو ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ گورکھ دھندے کو سلجھا دیں گے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس ایک فیصلے نے عالمی امن کی رہی سہی بنیادیں بھی ہلا دی ہیں۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو کمزورکرنے کا نسخہ نہیں، بلکہ اس نظام کو وہ ابدی ایندھن فراہم کرنے کا عمل ہے جس کی اسے بقا کے لیے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آپ اس تہذیب کو کبھی شکست نہیں دے سکتے جس نے مرنے کی آمادگی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دے دی ہو۔ جب شہادت ایک نظریہ بن جائے اور موت ایک تزویراتی انتخاب، تو وہاں میزائلوں کی گھن گرج اور ٹیکنالوجی کی برتری محض ایک شور بن کر رہ جاتی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای محض ایک سیاسی لیڈر نہیں تھے، وہ ’ولی فقیہ‘ تھے۔ ایک ایسا منصب جو کروڑوں انسانوں کے لیے حقیقت کی وہ ساخت متعین کرتا ہے جس کے بغیر ان کا وجود ادھورا ہے۔ ایران کی 40 سے 50 فیصد آبادی کے لیے ولایتِ فقیہ کوئی پارلیمانی بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ایک روحانی ستون ہے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ کسی روحانی پیشوا کو قتل کرتے ہیں، تو آپ اس فرقے اور مسلک کا خاتمہ نہیں کرتے بلکہ ایک ’شہید‘ کو جنم دیتے ہیں جو مرنے کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہو جاتا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس شاید یہ بھول گئے کہ شیعہ سیاسی فکر کی جڑیں کربلا کے اس لق و دق صحرا میں پیوست ہیں جہاں شکست، فتح کا استعارہ بن گئی تھی۔ وہاں لہو بہنا فنا نہیں، بلکہ بقا کی ضمانت ہے۔ اس قتل کے بعد اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوچکی ہے،کیونکہ اب مقابلہ ایک ریاست سے نہیں بلکہ ایک ایسے ’’ زخمی تقدس‘‘ سے ہے جو انتقام کی زبان میں بات کرے گا۔
اعداد و شمارکی بے رحم زبان میں بات کریں تو ایران کا دفاعی بجٹ جو سالانہ تقریباً 15 سے 20 ارب ڈالرکے درمیان رہتا ہے، اب اس کا ایک بڑا حصہ براہِ راست غیر روایتی جنگ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ تہران کے پاس موجود 3,000 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ اب صرف ایک دفاعی ڈھال نہیں رہا، بلکہ اس غصے کا اظہار بن چکا ہے جو تہران کی گلیوں میں ایک چادر پوش خاتون کی آنکھوں میں لرز رہا ہے۔ عالمی معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا 21 فی صد گزرتا ہے، اب ایک ایسی بارود کی ڈھیر بن چکی ہے جہاں ایک چنگاری عالمی خام تیل کی قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔ یہ صرف معاشی اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ اس بے چینی کا گراف ہے جو اب ہر سرحد پر محسوس کی جائے گی۔ لبنان سے یمن تک اور عراق سے شام تک، ایران کے حامی گروہوں کی افرادی قوت جو کم و بیش 5 لاکھ مسلح جنگجوؤں پر مشتمل ہے، اب ایک ایسی ’’ مرکز گریز‘‘ طاقت بن جائے گی جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ جب مرکزکا سرکٹتا ہے، تو جسم کے ہر حصے میں اپنی اپنی جنگ شروع کرنے کی وحشت جاگ اٹھتی ہے۔
سماجی سطح پر اس قتل نے ایران کے اندر موجود نظریاتی خلیج کو پاٹ دیا ہے۔ وہ نوجوان جو شاید تہران کی سڑکوں پر اصلاحات کے لیے آواز اٹھاتے تھے، اب اس بیرونی وار کے بعد اپنی قومی شناخت کے گرد اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ بیرونی دشمن کا بڑا وار اندرونی اختلافات کو مٹا کر ایک آہنی دیوارکھڑی کردیتا ہے۔ اس منظرکو سمجھنے کے لیے کسی ماہرِ سیاسیات کی ضرورت نہیں، بس اس ایک تصویرکو دیکھنا کافی ہے جس میں ایک بوڑھی عورت، جس کے چہرے کی جھریوں میں صدیوں کا دکھ بسا ہے، خامنہ ای کی تصویر سینے سے لگائے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر جو کیفیت ہے، وہ اداکاری نہیں، وہ کسی ریاست کا حکم نامہ نہیں، وہ اس کی روح کی پامالی کا نوحہ ہے۔ یہ وہ چہرہ ہے جسے اس خطے کی مٹی سے وابستہ ہر شخص پہچانتا ہے۔ یہ ’’ مظلومیت‘‘ کی وہ صنف ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایٹم بم سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔ جب غم غصے میں بدلتا ہے اور غصہ تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے، تو پھر ڈپلومیسی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔
مغرب نے ہمیشہ مشرق کو ایک مشین کی طرح سمجھا ہے جس کا کوئی پرزہ نکال دینے سے وہ رک جائے گی، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ یہ ایک نامیاتی وجود ہے جو اپنے زخموں سے توانائی کشید کرتا ہے۔ خامنہ ای کا قتل ایران کو مفلوج نہیں کرے گا، بلکہ اسے وہ ’’ زندہ شہید‘‘ فراہم کر دے گا جس کی داستانیں اگلی کئی دہائیوں تک مزاحمت کے استعارے بن کر گونجتی رہیں گی۔ امریکی منصوبہ سازوں نے نظام کا سرکاٹنے کی کوشش کی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ کچھ سر کٹنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں پھیل جاتے ہیں اور ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بن جاتے ہیں۔ اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
الوداعی جملہ اس گہرے صدمے اور مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا نچوڑ ہے جس کا ادراک مادی آنکھ نہیں کر سکتی۔ وہ جو زندگی کی بقا کے لیے لڑتے ہیں، وہ تو شاید مٹ جائیں، لیکن جو موت کو زندگی کا دیباچہ بنا لیں، انھیں کون فنا کر سکے گا؟ جب خونِ تمنا خاک میں ملتا ہے، تو وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ اس مٹی کی تاثیر بن جاتا ہے جو غاصبوں کے پاؤں تلے سے زمین نکال لیتی ہے۔ اب انتقام صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی دعا بن چکا ہے جو ہر سجدے میں لہو بن کر ٹپک رہی ہے اور یاد رکھنا کہ جب زمین سے آسمان تک صرف لہوکی پکار ہو، تو تخت گرائے جاتے ہیں اور تاج اچھالے جاتے ہیں۔
آسمانِ تہران پر سسکتی ہوئی ہوا اب وہ قصیدہ پڑھے گی جو لفظوں میں نہیں، سسکیوں میں لکھا گیا ہے، کیونکہ جب کسی کے قبلہِ عقیدت کو لہو لہان کیا جاتا ہے، تو پھرکائنات کی ہر شے مرثیہ خواں بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے تباہی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس کی کوئی واپسی نہیں۔
Today News
ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ کیوں؟
پارلیمنٹ نے اپنے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے کا جب فیصلہ کیا تھا تو ملک کے عوامی و سماجی حلقوں اور پارلیمنٹ سے باہر کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے عوام سے چھپانے کے اس پارلیمنٹ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے بعد اب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پارلیمنٹ کے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض کر دیا ہے اور اس ترمیم کو واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان کو اپنے اثاثے تحریری طور فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد اب بھی ہر سال ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں مگر ہر سال ہوتا یہ ہے کہ ارکان وقت پر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے جس پر الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کر دیتا ہے اور معطل ارکان کے نام اشاعت کے لیے میڈیا کو فراہم کر دیے جاتے ہیں اور معطل ارکان جن میں وزیر و مشیر بھی شامل ہوتے ہیں کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا نیا موقعہ دیا جاتا ہے جس کے بعد ارکان اپنی بحالی کے لیے اثاثے جمع کرانا شروع کرتے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کرنے کا سلسلہ الیکشن کمیشن شروع کرتا ہے۔
ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی رکنیت معطلی اور بحالی کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے معطلی کے باعث معطل ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور انھیں تنخواہ و مراعات بھی نہیں ملتیں تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اثاثے مجبوری میں انھیں ظاہر کرنا پڑتے ہیں تاکہ معطلی ختم اور بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور وہ ان مراعات کے حق دار بن سکیں جو قانونی طور ان کا حق بنتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی صورت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا مگر جب حکومت اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی تو الیکشن کمیشن بھی مجبور ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی قانون کا پابند ہے۔
حکومت کے لا ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے اب تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے جنھیں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے متعارف کرایا تھا جو نجی قانون سازی کے تحت ہوا تھا۔ واضح رہے کہ بعد میں قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ دیا تھا تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کو عوام سے خفیہ رکھا جا سکے۔
آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹ نے اب تک ان ترامیم کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن منتخب ارکان کے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتا ہے تو انھیں پڑھنے والے عوام ہنستے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنے غریب ارکان پارلیمنٹ، وزیر اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں جن کے اپنے نام پر کوئی گھر ہے نہ گاڑی اور وہ جس گھر میں رہتے ہیں یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی نہیں بلکہ بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں و عزیزوں کے نام ہیں جنھیں وہ اپنے ذاتی اثاثوں میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور منتخب ارکان اسمبلی کی حیثیت سے انھیں حکومت مراعات دیتی ہے جو سرکاری ہوتی ہیں اور ان سرکاری مراعات کا جن میں گھر، گاڑیاں و دیگر سہولتیں ہوتی ہیں ان کا وزیر اعظم، وزیر، مشیر، اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ارکان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ہر رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی وزیر و مشیر بننا چاہتا ہے مگر قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی ہر حکومت اپنوں کو نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور وہ اپنے تمام حامیوں کو نہیں نواز سکتی پھر بھی اپنوں کو سرکاری مراعات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک رکن اپوزیشن میں تھا اور باقی تمام ارکان مختلف حیثیتوں میں حکومت میں شامل تھے۔اٹھارہویں ترمیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد سے کابینہ بنے گی مگر پھر بھی اس قانون پر عمل نہیں ہوا۔ ہر حکومت نے اپنوں کو مختلف عہدے دے کر مالی فوائد پہنچائے۔
ایمانداری کے دعویدار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے جو خود پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے انھوں نے اپنے عزیزوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی بلکہ غیر ممالک سے بھی اپنے دوستوں کو ہلا کر حکومتی عہدے دیے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے حامیوں کو نوازنے کا دیگر پارٹیوں سے زیادہ نوازنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم بھی پی پی ارکان نے کرائی تھی تاکہ عوام کو ان کے اثاثوں کا پتا نہ چل سکے۔ سرکاری مراعات تو اثاثوں میں ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے ذاتی دولت گھر، سونا، گاڑیاں، ذاتی اثاثے ہوتے ہیں مگر اکثر ارکان ذاتی اثاثے بھی اپنے ظاہر نہیں کرتے کہ نیب کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس اپنا گھر اور گاڑی نہ ہو مگر وہ ظاہر نہیں کیے جاتے اور وہ بھی عوام سے چھپانے کے لیے ترمیم منظور کرائی گئی جس پر آئی ایم ایف نے بھی اعتراض کیا ہے جو بالکل جائز ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے منتخب نمایندے کے پاس کتنا مال تھا اور منتخب ہو کر اس کے پاس کتنا مال آ گیا مگر پوچھنے کا عوام کو حق نہیں۔
Today News
دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ، ٹینکر کو آگ لگ گئی، پروازیں عارضی طور پر معطل
دبئی:
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ایئرپورٹ پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد ایئرپورٹ کے اطراف میں ایک ٹینکر کو آگ لگ گئی جس پر فوری طور پر ایمرجنسی اداروں نے قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کا عمل جاری ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق واقعے میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت ایئرپورٹ پر آنے والی پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
دبئی آنے والی پروازوں کو اس وقت ایئرپورٹ سے دور فضا میں ہولڈنگ پیٹرن میں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی اسٹیٹ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران 34 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جلد فضائی آپریشن بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport