Today News
ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک
کراچی:
بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا، اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔
صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔
ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔
پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، ‘‘پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔
دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024 میں 13.1 فیصد تک آ گیا، اور مالی سال 2025 میں معمولی اضافے کے بعد 13.8 فیصد پر پہنچا۔
اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔
ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔
حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔
کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔
برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔
جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔
Today News
کراچی، لیاری لی مارکیٹ میں رکشہ گودام میں آگ، ریسکیو نے قابو پا لیا، ٹھیلے بھی متاثر
کراچی:
شہر قائد کے علاقے لیاری میں لی مارکیٹ کے قریب واقع رکشہ گودام میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں رکشوں کی پارکنگ ایریا اور متعدد ٹھیلے آگ کی زد میں آگئے۔
ترجمان ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے خدشے کو ختم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق آتشزدگی کے باعث رکشوں کی پارکنگ ایریا اور متعدد ٹھیلے متاثر ہوئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Today News
پراکسی جنگ، خطے کا امن دائو پر
کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 14 فتنتہ الخوارج کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید جب کہ تین زخمی ہوگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’’ پراکسی جنگ‘‘ کا نتیجہ ہیں۔
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر کی تنگ گھاٹیوں تک پھیلا ہوا یہ خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے آشنا ہو رہا ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتیں اب محض اندرونی بے چینی کا مظہر نہیں رہیں بلکہ ایک منظم، کثیرالجہتی اور سرحد پار سے تقویت پانے والی پراکسی جنگ کا چہرہ اختیار کر چکی ہیں۔ کوئٹہ اور بارکھان میں حالیہ کارروائیوں نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت اپنی شکست کے باوجود مکمل طور پر نابود نہیں ہوا، بلکہ نئے چہروں، نئی حکمت عملیوں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے عناصر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے نام شامل ہیں۔ یہ محض اصطلاحات نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور عسکری رجحان کی علامت ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شہریوں میں خوف پھیلانے اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جب کسی صوبے کے دارالحکومت کے قریب اس نوعیت کے نیٹ ورکس سرگرم ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ دشمن محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری مراکز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کی حکمت عملی اب دیہی یا قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہی، یہ شہروں کی نفسیات، مارکیٹوں کی رونق اور تعلیمی اداروں کے سکون کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے سرحدی نظم و نسق کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا اگر اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ۔ ان کا یہ بیان محض سفارتی سختی نہیں بلکہ ایک اضطراب کی عکاسی ہے، وہ اضطراب جو ریاست کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی سلامتی کے خلاف منصوبہ بندی سرحد پار بیٹھ کر کی جا رہی ہے۔
پراکسی جنگ کا مفہوم محض اسلحہ فراہم کرنے یا تربیت دینے تک محدود نہیں۔ یہ ایک مکمل بیانیہ کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، مذہبی جذبات، لسانی محرومیاں اور معاشی ناہمواریاں۔ سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس کا ہدف ریاست کی معیشت، سرمایہ کاری کا ماحول اور عالمی ساکھ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں بار بار دھماکوں اور حملوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں۔ یوں دشمن بغیر روایتی جنگ کے بھی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر امن قائم نہ رہے تو معدنی ذخائر، بندرگاہی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان نے داخلی سطح پر وہ تمام اصلاحات کر لی ہیں جو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہیں؟ نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ایک اہم سنگ میل تھا، مگر اس پر عملدرآمد کی رفتار اور تسلسل ہمیشہ بحث کا موضوع رہا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، مدرسہ اصلاحات، اور عدالتی نظام کی بہتری، یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے، اگر داخلی کمزوریاں برقرار رہیں گی تو بیرونی مداخلت کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسی کا تسلسل اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے۔
خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف معاشی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے خواب ہیں۔ دوسری طرف بداعتمادی، سرحدی کشیدگی اور پراکسی جنگوں کا سایہ۔ اگر دہشت گردی کا عفریت دوبارہ مضبوط ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ افغانستان پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، ایران کے ساتھ سرحدی معاملات حساس ہیں۔ کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
عالمی طاقتیں بھی اس منظرنامے سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔ اگر واقعی افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو یہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مؤثر سفارتی دباؤ اور نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے عالمی تعاون اور معلومات کا تبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن کا ہے۔ سختی اور حکمت، طاقت اور مفاہمت، خود مختاری اور علاقائی تعاون کے درمیان توازن۔ اگر فضائی کارروائیاں ناگزیر ہو جائیں تو ان کے سفارتی اور قانونی مضمرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا تاکہ وقتی فائدہ طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ سرحد پار کارروائی کی قیمت صرف عسکری نہیں، سیاسی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں، خاندان اجڑے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک جامع، غیر مبہم اور مستقل مزاج پالیسی اختیار کرے۔ وقتی سیاسی مفادات یا داخلی کشمکش اس قومی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمان کو اس موضوع پر متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو داخلی تقسیم کا فائدہ نہ مل سکے۔
بلوچستان کی خصوصی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت داری دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر عوام خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں گے تو بیرونی ایجنڈے کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔ احساسِ شمولیت دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔
اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔اس کے برعکس اگر ریاست دانشمندی، مستقل مزاجی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ داخلی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پالیسی میں ابہام نہ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے، سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرے، اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو آگے بڑھائے۔ پراکسی جنگوں کا انجام کبھی فریقین کے حق میں نہیں ہوتا، وہ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اگر آج دانشمندی، جرات اور بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق کا نہیں، بیانیے، معیشت، انصاف اور قومی یکجہتی کا بھی ہے اور اسی ہمہ جہتی حکمت عملی میں پاکستان اور پورے خطے کا محفوظ اور مستحکم مستقبل مضمر ہے۔
Today News
جرم بصارت کی جسارت (حصہ اول)
جب سے ہوش سنبھالا ہے ریاست و حکومت پر تنقید سنتا، پڑھتا آیا ہوں۔ ریاست و حکومت سے شکوے زبان زد عام تھے مگر جب تک کمانے کی مشقت سے آزاد اپنے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ کی کمائی پر گزر بسر ہو رہی تھی سوچتا تھا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے اور ماں اتنی بری کیسی ہوسکتی ہے؟ مگر جب اپنا اور بچوں کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا تو پتہ چل گیا کہ سیر سے کتنی پکتی ہے۔ مگر خدا گواہ ہے کہ کافی عرصے تک یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ریاست میرے ساتھ زیادتی کر رہی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میرا جیسا بندہ جو ریاست کو ماں کہہ کر پکارنے کا عادی تھا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ماں جیسی جان کی دشمن بن کر ظلم کرنے لگ گئی ہے آخر میرے جیسے کروڑوں پاکستانی یہ سوچنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ ریاست ہمارے ساتھ ظلم کرنے پر اتر آئی ہے۔
اگرچہ نابیناؤں کے شہر میں جرم بصارت اور جرم جسارت ناقابل معافی جرائم ہیں اور بسا اوقات تمام نابینا اس جرم کی پاداش میں صاحب بصارت و جسارت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر بصارت رکھنے والے نابینا شہر میں آئینہ بن کر بصارت و جسارت کا جرم کرنا پڑتا ہے۔
بقول و قلم احمد ندیم قاسمی:
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں
دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے
کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے
سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر
زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے
اے خداوندان ایوان عقائد
اے ہنر مندان آئین و سیاست
زندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئے
مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
اس امید پر کہ شہر نابینا کے ایوان اقتدار میں بیٹھے نابیناؤں نے مجھے جرم بصارت و جسارت اجازت دینگے بات آگے بڑھاتا ہوں۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد، انوکھا اور بدقسمت ملک ہے جہاں عوام پر بین الاقوامی اور مقامی دہشتگردوں کے ساتھ اپنے حکمران بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ کبھی پٹرول، بجلی اور گیس بم گرا کر اور کبھی مہنگائی کی آگ بھڑکا کر۔ حکمران عوام کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے، عام عوام خصوصاً تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے عشرے میں نہ رکنے والے ریاستی معاشی دہشتگردی کی وجہ سے ہی ہانپنے لگتا ہے۔ تنخواہ دار اور اوسط درجے کا کاروباری طبقہ غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہتے اور عوام دشمن ترجیحات کی وجہ سے کاروبار کا پہیہ منجمد ہو چکا ہے، آخر کیوں عام عوام لاوارث ہیں ؟ اور وہ آخر جائیں کہاں؟
عام عوام ہر روز نئے نرخنامے کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور اور ہر مہینے بجلی کے بل عام عوام کی معاشی لاشوں پر دھما چوکڑی کرنے آجاتے ہیں۔
چھوٹا کاروباری سوچ رہا ہے کہ کاروبار جاری رکھے یا شٹر گرا کر فاقوں پر گزارہ کرے۔ ایک وقت کھانے والا دیہاڑی دار مزدور شیر خوار بچوں کے “پانی میں دودھ ملانے” پر مجبورہے۔ ریاستی جبر کے ہاتھوں زندہ لاشوں کی دل چیرنے والی کہانیاں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں، عام عوام کو آج تک کبھی محسوس نہیں ہوا کہ موجودہ یا سابقہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عام عوام بھی ہیں۔ یہاں تو ہر پالیسی عام عوام کے گلے کا پھندا ثابت ہوتی ہے، مگر آج بجلی کے نہ ختم ہونے والے ریاستی جھٹکوں پر بات کرتے ہیں۔ بجلی کے بل پر نظر ڈالنے پر کئی جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ بجلی کی قیمت کے علاوہ پتہ نہیں کس کس نام سے سرچارج وصول کیے جاتے ہیں، بعض اوقات استعمال شدہ بجلی کی قیمت، واجب الادا رقم کے 30 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔
ٹیکسوں کی بھرمار کے علاوہ بروقت بجلی کا بل ادا کرنے کے جرم میں بجلی چوروں کی استعمال شدہ بجلی کو لائن لاسز کی ٹوپی پہنا کر عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ بجائے چور کو پکڑنے اور سزا دینے کے بل دینے والوں سے ان کا بل لیا جاتا رہا مگر عوام دشمن حکمرانوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی شاید اس لیے پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کو بھی عام عوام کے گلے کا پھندا اور بجلی کے جھٹکے دینے والی کرسی اس انداز میں بنائی گئی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ المیہ نہیں حکمرانوں کی نااہلی اور عوام دشمنی کا ثبوت ہے کہ ایٹمی پاکستان میں ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کے زہر آلود ماہانہ بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے اندھیروں نے عوام کا جینا دو بھر کیا تھا۔
لوڈشیڈنگ سے نجات اور سی پیک پروجیکٹ کے بیسیوں انڈسٹریل اسٹیٹس کے ضروریات پورا کرنے کے نام پر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر بدنام زمانہ آئی پی پیز کا ڈرامہ رچایا گیا۔ رئیس زادوں اور سرکاری دامادوں کو اربوں روپے کے قرضے آسان شرائط پر دلوائے گئے تو ہر ایک نے “حسب استطاعت و ضرورت” قرضے کی حاصل کردہ رقم سے خطیر رقوم ملک سے باہر اپنے بے نامی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردئے۔ 10-15 فیصد سے سرکاری مڈل مینز کی دوزخ کو بھر کر دو نمبر مشینری منگوائی اور حکومت نے آئی پی پیز کو لائسنس جاری کیے۔
گرمیوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو کل 22ہزار میگاواٹ اور سردیوں میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، آئی پی پیز سے پہلے گرمیوں کے موسم میں 8 ہزار میگاواٹ واٹ کے لگ بھگ بجلی کی کمی کا سامنا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور بیوروکریسی نے اپنی جیبیں بھرنے اور سرمایہ کاروں کو نوازنے کے لیے آئی پی پیز سے 46 ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کے لیے گارنٹیاں دے کر معاہدے کر لیے یعنی اس وقت کی ضرورت سے لگ بھگ 38 ہزار میگاواٹ زیادہ کے لیے معاہدے کیے گئے۔ اس وقت اور آج بھی ہماری ٹرانسمیشن لائنز میں 25 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ترسیل کی سکت نہیں اور گرمیوں میں مسلسل ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے ملک اندھیروں میں ڈوبتا رہتا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرانسمیشن کی ترسیلی سکت سے 35 ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی کے معاہدے کیوں کیے گئے؟ جس کی وجہ سے آئی پی پیز کو ایک یونٹ بجلی پیدا کیے بغیر فکسڈ چارجز کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
ایک طرف عام عوام کے جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ہر ماہ ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف سرمایہ داروں بلکہ ان کی آیندہ آنے والی نسلوں کو بھی مالا مال کیا جا رہا ہے۔ یعنی ماں جسی ریاست اپنے سگے بچوں کی قومی خزانے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کی وصولی اپنی سوتیلی اولاد (عام عوام) سے کر رہی ہے۔ ریاست بجلی چوروں کی چوری، آئی پی پیز کی لوٹ مار اور کارخانہ داروں کو دی گئی رعایتی بجلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے اور اپنا حصہ لے کر ہر ذمے داری سے بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ جب بجلی کے بل عام عوام کے گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور کارخانو ں کے بجٹ کو نگلنے لگے تو حکومت و ریاست سے مایوس عام عوام نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات پانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کے چھتوں پر سولر پینل لگا کر ماحول دوست بجلی (گرین انرجی) بنانا شروع کیا تو حکومت نے عوام کے فلاح و بہبود اور آسانی کے نام پر سولر انرجی پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کو دن رات پروموٹ کیا تو عام عوام ان کے دھوکے میں آگئے، کسی نے اپنی جمع پونجی، کسی نے بیوی بچوں کے زیور بیچ کر اور کسی نے قرض لے کر اپنے گھر کے چھت پر منی آئی پی پی لگا لیے، آج تک کم و بیش 4 لاکھ 60 ہزار پاکستانیوں نے اپنی حلال کمائی کے اربوں روپے لگا کر یہ منی آئی پی پیز لگائے اور حکومت وقت نے ان کے ساتھ 7 سالہ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کیے۔
(جاری ہے)
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims