Today News
ایف آئی اے کی کارروائی، مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث تین خواتین سعودی عرب سے واپسی پر گرفتار
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو سعودی عرب سے واپسی پر حراست میں لے لیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق خواتین نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹوں کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھیجی گئیں جہاں وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث رہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ مسافروں کی معمول کی امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے رویے مشکوک لگنے پر تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک خاتون رابعہ زینب نے بتایا کہ لاہور کے رہائشی ایجنٹ شاہین نے اسے بیوٹی پارلر میں ملازمت اور ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا جھانسہ دے کر سعودی عرب بھجوایا، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئی، بعد ازاں سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد سزا مکمل ہونے پر اسے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔
اسی طرح دیگر دو خواتین سونیا اور سدرا بی بی نے بیان دیا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ رشید کے ذریعے سعودی عرب جانے کا انتظام کیا تھا جہاں انہیں ایک لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ ملازمت کا وعدہ کیا گیا، تاہم بعد میں وہ بھی مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئیں، سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد دونوں خواتین کو سزا پوری ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں خواتین کو مزید کارروائی اور ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا۔
Source link
Today News
اسرائیلی حملے میں پورا خاندان اجڑ گیا؛ لبنانی شخص نے امریکی یہودی عبادت گاہ پر حملہ کردیا
امریکی ریاست مشی گن میں واقع ایک بڑی یہودی عبادت گاہ پر کار سوار نے فائرنگ کے بعد حملہ آور نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو گولی مار کر اپنی جان لے لی۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کی شناخت ایمن محمد غزالی کے نام سے ہوئی ہے جو لبنانی نژاد امریکی شہری تھا۔
41 سالہ حملہ آور نے ڈیٹرائٹ کے نواحی علاقے ویسٹ بلوم فیلڈ ٹاؤن شپ میں واقع ٹیمپل اسرائیل نامی عبادت گاہ کے باہر تقریباً دو گھنٹے تک گاڑی میں انتظار کیا۔
بعد ازاں حملہ آور نے اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور عمارت پر دے ماری جس میں آتش گیر مواد اور آتش بازی کا سامان بھی موجود تھا۔
Ayman Mohamad Ghazali, the 41-year-old suspect in the Michigan synagogue attack on Thursday, allegedly had family ties to Hezbollah. Sources say his brother’s in Lebanon were members of a Hezbollah rocket unit. https://t.co/HrVqmYe7Jo pic.twitter.com/ldsm5is5AK
— CBS Evening News with Tony Dokoupil (@CBSEveningNews) March 14, 2026
کار عمارت سے ٹکرانے کے بعد حملہ آور نے گاڑی کے اندر سے فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد عبادت گاہ کے مسلح سیکیورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔
ایف بی آئی حکام نے بتایا کہ حملہ آور کی گاڑی یہودی عبادت گاہ کی عمارت کے اندر پھنس گئی اور انجن میں آگ لگ گئی جس کے بعد اس نے گرفتاری دینے کے بجائے خود کو گولی مار لی۔
حکام کے مطابق واقعے کے وقت عبادت گاہ کے اندر 140 بچے، اساتذہ اور عملہ موجود تھا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ایک سیکیورٹی گارڈ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوا جبکہ دھوئیں کے باعث 63 پولیس اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ حملے کو یہودی کمیونٹی کے خلاف تشدد قرار دیا گیا ہے تاہم فی الحال اسے باقاعدہ دہشت گردی قرار دینے کے لیے شواہد ناکافی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
حملہ آور کون تھا
حکام کے مطابق ایمن غزالی 2011 میں لبنان سے امریکا منتقل ہوئے اور ڈیئربورن ہائٹس میں رہتا تھا۔ 2016 میں امریکی شہریت ملی تھی۔
حملے سے ایک ہفتہ قبل لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں اس کے خاندان کے چار جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اس کے دو بھائی بھی شامل تھے۔
لبنان کے مقامی میڈیا کے مطابق ایمن محمد غزالی کے بھائیوں کا تعلق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔
Today News
گورنر کی تبدیلی، استعفیٰ دے کر ریکارڈ خراب نہیں کریں گے، خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کو زیادتی قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام خدمتِ خلق فاؤنڈیشن فیڈرل بی ایریا میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اراکینِ مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، کیف الوریٰ، انچارج سی او سی فرقان اطیب سمیت اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران شریک تھے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی بنیاد 1979ء میں رکھی گئی اسطرح خدمت کی تاریخ ہماری سیاسی تحریک سے بھی قدیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس شہر کے ٹیکس سے پورے پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھا خود اس شہر کے لیے کوئی موٹر وے نہیں ہے اور آج یہاں باہر سے آکر روزگار کمانے والے ہی ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور بے لگام ہیوی ٹریفک ہمارے معصوم بچوں کو سڑکوں پر کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پولیس اور چور دونوں کا تعلق کراچی سے نہیں ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس شہر کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں خود کو ایسے تعصب سے پاک رکھیں جس سے شہر میں آگ لگتی ہے کیونکہ اگر انصاف زبان دیکھ کر دیا گیا تو مظلوم کہاں جائیں گے۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایمرجنسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے بعد یہاں کسی نئی جامعہ کی بنیاد نہ رکھنا اس شہر کے مستقبل سے دشمنی ہے، مردم شماری اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2023ء کی مردم شماری میں پہلے 30 لاکھ آبادی کم کی گئی اور پھر ہماری جدوجہد سے 70 لاکھ لوگ بڑھا دیے گئے۔
گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا لیکن حق پرستی کی آواز اٹھانے کی اتنی سزا تو ہمیں ملنی ہی تھی، کامران ٹیسوری صاحب ایک تاریخ رقم کر کے نہایت باوقار طریقے سے گورنر ہاؤس چھوڑ کر گئے ہیں۔
انہوں نے گورنر کی تبدیلی پر وفاق سے علیحدگی یا وزارتیں چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ہماری روایت رہی ہے ہر بار استعفیٰ دیتے ہیں مگر اس بار اپنا ریکارڈ خراب نہیں کریں گے۔
خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا یہ پروگرام امداد بانٹنے کے لیے نہیں بلکہ ان سفید پوشوں کی عزتِ نفس کی بحالی کے لیے ہے جو اس شہر کا فخر ہیں اور لینے والے ہاتھ نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ ہیں، ایم کیو ایم ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک ہم موجود ہیں اس شہر کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
Source link
Today News
مشرق وسطیٰ جنگ؛ حماس نے ایران سے درد مندانہ اپیل کردی
حماس نے کہا ہے کہ ایران کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے ایران سے یہ اپیل بھی ہے کہ وہ ہمسائیہ مسلم ممالک پر حملے نہ کرے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں جس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ جائے۔
حماس کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی بھائی چارے اور تعاون کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت آرمی چیف، وزیر دفاع، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی شہید ہوگئے تھے۔
جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث دنیا کو تیل کی سپلائی رک گئی ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper