Today News
ایمنسٹی اسکیم کی اشد ضرورت ہے!
فیلڈ مارشل کی قیادت میں‘ پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے ۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر ہماری توقیر میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد میں‘ دو حد درجہ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا حد درجہ منفرد بات ہے۔ اس تمام محنت کا سہرا‘ عاصم منیر اوران کی ٹیم کوجاتا ہے۔
ذمے داری سے عرض کر رہاہو کہ اس دشوار اور نازک ترین کام کی براہ راست نگرانی اگر فیلڈ مارشل بذات خود نہ کر رہے ہوتے‘تو شاید کامیابی سمیٹنا ممکن نہ ہوتا۔ سیاسی ٹیم میں وزیر خارجہ کی بھاگ دوڑ‘ سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کیا حالات ہوں گے، اس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے؟ گمان یہی ہے‘ کہ یہ عارضی صلح‘ مستقل بنیادوں پر ٹھوس معاہدوں کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔ اس سفارتی کامیابی کے خلاف‘ ہمسایہ ملک میں جو سینہ کوبی کی جا رہی ہے ، وہ دیدنی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہندوستان کے کئی سنجیدہ مبصرین ہمارے متعلق اتنی ادنیٰ گفتگو فرما رہے ہی کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے متعلق گمان ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کی نزاکت کوسمجھنے سے قاصر ہیں اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہوکر جو جی میں آئے‘ فرمائے جا رہے ہیں جو اکثر لایعنی معلوم پڑتا ہے۔ ہندوستان میںپراون ساہنی جیسے مدبر ‘ تجزیہ کار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس پورے معاملے کوغیر متعصب انداز پر دیکھتے ہیں۔ پراون ساہنی برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ‘ پورے ایشیاء میں ایک بہت کامیاب طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے ‘ وہ ایک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بدولت ‘ ایک سفارتی گڑھ بن چکا ہے جس پر پوری دنیا کو اعتماد ہے۔
پراون تو یہاںتک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا زبردست ملک ہے جس پر امریکا‘ چین‘ اور روس یعنی تمام عالمی طاقتیں بیک وقت اعتبار کرتی ہیں۔ طالب علم کی نظر میں یہ بالکل معمولی بات نہیں ہے، حد درجہ فخر اور شکر کا مقام ہے۔ اور یہ مرتبہ بہت ہی کم ممالک کی خوش بختی بنتا ہے۔ انشاء اللہ اگلے دوچار دن میں‘ ہمارے ملک کی سفارت کاری کی بدولت ‘ ہمیں مزید کامیابیاں نصیب ہوں گی۔
مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے اور دوسرا رخ سامنے لانا بھی ضروری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ‘ کہ ہماری معیشت کمزور ہے اور فی الحال کوئی ایسا قدم بھی نظر نہیں آرہا جو ہماری معیشت کا رخ کامیابی کی طرف موڑ دے۔ وزیر خزانہ اور ان کی معاشی ٹیم‘ کاروباری اور صنعتی شعبے کے بارے میں غیر معمولی فیصلہ نہیں کر سکے۔ کرپشن کی بات نہیں کر رہا، وہ تو ہر دور میں‘ ہرسطح پر موجود رہی ہے اور آئندہ بھی موجود رہے گی۔ اس وقت ‘ میرا موضوع‘ کرپشن نہیں ہے۔
اس لیے بھی کہ برصغیر کے عظیم فلسفی’’چانکیہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ میں ہزاروں برس پہلے لکھا ہے کہ برصغیر میں سرکاری عمال کی مالی بے ضابطگیاں بے حد بڑھ چکی ہیں، یہ بیماری صدیوں میں ٹھیک نہیں ہو پائی۔ اسے ‘ آج کے ماحول کے ’’ سیاسی لوگ‘‘ کیا درست کر پائیںگے؟ لہٰذا اس نازک معاملہ کو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھیے۔ بات معاشی صورتحال کی ہو رہی تھی۔ اس نکتہ پر سارا دن بات ہوتی رہتی ہے مگر اس کے مستقل حل کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ طالب علم کی دانست میں‘ موجودہ حالات میں‘ اس کٹھن مشکل کوذہانت اور جرات سے حل کیا جا سکتاہے۔ غور فرمایئے ، یواے ای میں‘ پاکستانی سرمایہ کاروں کا مبینہ طور پر ایک سو بلین ڈالر بینکوںمیں موجود ہے۔ ٹاوراور رہائشی عمارتیں‘ ان کے علاوہ ہیں۔
یو اے ای میں اس وقت ہمارے شہریوں سے زیادتی ہو رہی ہے۔لوگوں کے ویزے منسوخ کر کے زبردستی پاکستان بھجوایا جا رہاہے۔ قواعد و ضوابط کو تھوڑی دیر کے لیے بالائے طاق رکھیے۔ ایک کاروباری ذہن کے ساتھ سوچیے، اگر یہ سرمایہ ‘ پاکستان آ جائے تو ہمارے ان گنت مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کرنا کیا ہے؟ یہ اہم ترین بات ہے۔ ایک بھرپور قسم کی ایمنسٹی اسکیم بنائی جائے۔ دوبئی یا خلیجی ممالک سے جو بھی پیسہ لانا چاہے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں ہونی چاہیے اور اس ایمنٹسی اسکیم پر ایک فیصد ٹیکس لگا دینا چاہیے۔ آئینی تحفظ دے دیا جائے تو کیا کہنے۔ اگر ایک سو بلین میں سے پچاس بلین ڈالر بھی اپنے ملک میں آتے ہیں تو اندازہ فرمائیے کہ ہمارے ملکی ذخائر کتنے بلند ہو جائیں گے اوراقتصادی مشکلات میںکتنی کمی واقع ہوجائے گی۔ مگر یہاںایک بات کرنا ضروری ہے۔
اس ایمنسٹی اسکیم کوایف بی آر اور دیگر اداروں ‘ عسکری قیادت کی کڑی زیر نگرانی میں سرانجام دیں تو ہی معاملہ آگے بڑھ سکتاہے۔ دعویٰ سے عرض کروں گا کہ اگر اس تجویز پر محنت کی جائے‘ تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں میں اتنی صلاحیت نہیںہے کہ کوئی حکیمانہ فیصلہ کرسکیں۔ ان کے حوالے سے کوئی نیا کام کرنا‘ ویسے بھی مناسب نہیں۔ ثبوت کے طور پر یہ عرض کروں گا کہ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے ٹیکس کم کرنے کی تجویز تھی۔غیر دانش مندی کی انتہا دیکھئے کہ وہ بھی مبینہ طور پرکچھ دن پہلے رد کر دی گئی۔ اس پیچیدہ صورتحال میں کیا کیا جائے۔ وہی جو میں نے پہلے عرض کیا کہ ایک ایمنسٹی اسکیم کو ترویج دیں۔ دبئی کا پیسہ اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی اٹھان دو ایسے قابل عمل کام ہیں جو معاشی طور پر ہمیں دوبارہ پیروں پر کھڑے کر سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکن اور راہنماؤں پر پرچوں کو ختم کیا جائے۔ اگر قیدی کی شخصیت سے کوئی اختلاف ہے تو بے شک اسے وزیراعظم نہ بنایاجائے۔ یقین ہے کہ سیاست دانوں کو اس تجویز سے شدید اختلاف ہو گا۔ اس کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ ان میں سے کئی بلدیاتی الیکشن جیتنے کے قابل بھی نہیں۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے اور اس پر کسی قسم کے کوئی اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہے۔
کسی بھی سیاسی گروہ کی وکالت نہیںکر رہا صرف اور صرف اپنے ملک کا وکیل ہوں۔ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اور خدانخواستہ اگر اس کی سالمیت پر کوئی زد پڑتی ہے تو سوچ کر بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ہمارے پاس مشاورت کے لیے ہر ذریعہ موجود ہے۔ خفیہ ادارے پاتال کی تہہ سے سوئی ڈھونڈنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ پھرکوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی نسلوں کے درخشاں مستقبل کے متعلق غور و فکر نہ کریں۔ کسی انقلاب کی بات نہیں کر رہا صرف درست حکمت عملی پر سوچ بچار کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔ جس شاندار طریقے سے عسکری حکام نے سفارت کاری کے میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں‘ اسی طرح ایک پر کشش ایمنسٹی اسکیم کو رائج کرنے کا درست وقت یہی ہے۔ ساتھ ساتھ سیاسی استحکام پیدا کرنا ہمارے ملک کے لیے بہت زیادہ سود مند ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ میری تجاویز گھڑسواروں تک پہنچ جائیں۔ اورشاید ان پر عمل بھی ہو جائے؟
Today News
معیشت کی شرح نمو ، جب معیشت نے کروٹ لی
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے وفاقی حکومت نے جو تازہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ محض خشک ہندسوں کا مجموعہ نہیں بلکہ گرد آلود کھیتوں، دھواں چھوڑتی چمنیوں ، گندم کی بالیوں، کپاس کی روپہلی ریشوں کا وہ فسانہ ہے جو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیاگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.89 فی صد رہی۔ گزشتہ برس کی دوسری سہ ماہی کا آخری دن تھا اور جب رات ڈھلنے لگی اور نئے سال نے اپنے نرم قدموں سے پاکستانی معیشت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 3 ماہ کا حساب کتاب طلب کیا تو حکومتی اعداد و شمار نے3.89 فی صد کی فخریہ شرح نمو کی سانس لی۔
یہ نمو ایسے تھی جیسے یکم جنوری کی سرد صبح میں سورج کی پہلی کرن۔ جسے چند روز قبل حکومتی بیانے کا روپ دیا گیا تو ماہرین حیران تو تھے، ایسے میں میرے قلم نے اس حیرانگی کو امید کی دعا دیتے ہوئے یوں لکھا کہ ان اعداد و شمار میں ہر فیصد ایک خواب بھی ہے اور ہر اعشاریہ ایک دعا بھی۔ دعا ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے۔
اس رپورٹ کا سب سے طاقتور کردار صنعت ہے اور صنعتی شعبے نے 7.4فی صد کی جو شرح نمو دکھائی ہے اب اسے معیشت کی دنیا میں دیکھنا ہوگا جب مارچ میں فروری کے مقابلے میں برآمدات میں 14 فی صد کی کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی گیس کے شعبے میں 15.11فی صد کا غیر معمولی اضافہ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بجلی کے تاروں میں دوڑتی ہوئی توانائی، کارخانوں کے بوائلرز میں جلتی ہوئی گیس نے پیداواری عمل کو جلا بخشی ہے۔ تعمیراتی شعبے کی بلندیاں بیان کرتے ہوئے رپورٹ کا خیال ہے اس شعبے میں 10.53 فی صد کی نمو یہ بتا رہی ہے کہ شہروں کے افق پر نئی دیواریں کھڑی ہورہی ہیں۔
اینٹوں، بلاک، سیمنٹ، ریتی، بجری اور سریوں نے مل کر مستری کے ہاتھوں میں ہنر جگا دیا جو دیرپا استحکام اور مضبوطی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت نے 5.71 فی صد کی ترقی حاصل کی ہے۔ خدمات کا شعبہ جس کی باگ ڈور آئی ٹی کے ہاتھ میں ہے جس کو ملک کے نوجوان چلاتے ہیں۔ اس بار 3.69 فی صد کی نمو کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں 4.5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں 4.9 فی صد اور 5.7 فی صد بالترتیب اضافہ یہ بتاتی ہے کہ ریاست اب اپنے طالب علموں پر سرمایہ کاری کی طرف مائل ہورہی ہے۔ یہ نمو اس بوڑھے استاد کی طرح ہے جو خاموشی سے نئی نسل کی آبیاری کرتا ہے یا اس معالج کی طرح ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑتا ہے یا اس سرجن کی طرح ہے جو ڈوبتے ہوئے دلوں کو تیرا کر ہی چھوڑتا ہے۔
زراعت کا شعبہ ان تین ماہ میں کچھ رنجیدہ سا نظر آرہا ہے محض 1.76 فی صد کی مجموعی نمو میں وہ جوش و خروش نہیں تھا جو گزشتہ برسوں میں دیکھاگیا تھا یہ تو معلوم ہورہا تھا کہ کپاس کی فصل میں کمی ہوئی ہے لیکن گندم کی فصل کے بارے میں محکمہ شماریات کے حکام سے بار بار سوالات کیے گئے لیکن وہ مکمل اعداد و شمار آخر کس طرح سے پیش کرسکتے ہیں۔ جب بعض علاقوں میں ابھی کھیتوں میں گندم کی سنہری بالیوں نے درانتی کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔ جب فصل نے اپنی آخری سانس لے کر زمین سے رشتہ نہ توڑا ہو۔ یہ سوالات شاید حقیقت سے ناواقفیت تھی۔
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پی بی ایس کے وہ گمنام سپاہی دشوار گزار راستوں کا سفر کرکے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ان کو اپنی جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی کچی سڑکیں، کبھی سیلاب کے پانی سے گزر کر، کبھی ایسے کھیت جہاں تک پہنچنا ہی ایک امتحان ہو لیکن وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں تاکہ قوم کو درست تصویر دکھا سکیں، لہٰذا جب فصل ابھی کٹی نہیں تو حساب کتاب کس بات کا۔ ابھی چکوال، تلہ گنگ، اکوال ، تھوہا محرم خان کے علاقوں میں ژالہ باری کے باعث گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے لہٰذا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ہی محکمہ درست تصویر دکھا سکتا ہے۔
معیشت کی یہ 3.9 فی صد کی نمو کوئی حتمی منزل نہیں بلکہ ایک طویل سفر کا ایک سنگ میل ہوسکتا ہے قطع نظر اس کے کہ عالمی ادارے اور بلومبرگ کیا کہتے ہیں مگر اصل حقیقت ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپے ہوئے ان کروڑوں غریب انسانوں کی ہے جن کی زندگی میں یہ نمو روٹی ،کپڑے برسرروزگار ہونے کی صورت میں ڈھلنی چاہیے اب جو چیلنجز ہماری معیشت کے سر پر سوار ہیں ان میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی ، پٹرول کی قیمت مہنگی سے مہنگی تر ہوئے چلی جارہی ہے۔ مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے لہٰذا میرا خیال ہے کہ معیشت کی شرح نمو 3.9 فی صد سے مزید کم بھی ہوسکتی ہے۔
Today News
ایران ، سائنس کی یونیورسٹیاں نشانہ کیوں؟
امریکا اور اسرائیل کے ڈرون خاص طور پر ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کی 30 یونیورسٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔ امریکا کے ڈرون نے گزشتہ ماہ ایران کے شہر مینات میں طالبات کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا تھا۔ اس اسکول میں 9سال سے 19 سال تک کی عمر کی طالبات زیرتعلیم تھیں۔
اس حملے میں 200 کے قریب لڑکیاں جاں بحق ہوئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے تو اس اسکول پر امریکا کے حملے سے انکار کیا اور حملے کا الزام ایران پر ہی عائد کیا مگر بعد میں آزاد ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی تھی کہ اس اسکول پر امریکا کا میزائل لگا تھا۔ ایران میں تقریباً 226 سے لے کر 400 یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہیں۔ ان میں کچھ یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب قرار دیا جاتا ہے۔
ایران کی مشہور یونیورسٹیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی یونیورسٹیاں ہیں۔ امریکا نے تہران میں قائم شریف یونیورسٹی پر حملہ کیا اور اس کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ امریکا کے محققین کا کہنا ہے کہ تہران کی شریف یونیورسٹی کا معیار امریکا کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے برابر ہے۔ امریکا نے اس کے علاوہ تہران کی ایک اور بڑی یونیورسٹی تہران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا اور اس کی تجربہ گاہوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا نے گزشتہ جمعے کو Laser and Plasma Institute کو نشانہ بنایا، یہ انسٹی ٹیوٹ کمپیوٹر سائنس کی تحقیق کا نامور ادارہ ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے تمام کلاس اور ریسرچ کا کام معطل ہے۔
اس بناء پر انسٹی ٹیوٹ کی عمارت خالی پڑی تھی، یوں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر انسٹی ٹیوٹ کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ جون میں اسرائیل کے میزائل حملہ کا نشانہ اس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے علاوہ ایٹمی سائنس دان محمد مہدی ترانچی بنے۔ اس انسٹی ٹیوٹ نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ وجوہات جاننے کے حق، تحقیق اور سوچنے کی آزادی (Reason Research Freedom of Thought ) پر حملہ ہے۔
امریکی میزائلوں نے ایک اور تہران سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ریسرچ سینٹر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک اور انسٹی ٹیوٹ Pesteur Institute Downtown پر حملہ کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں انفیکشن ڈیزیزس ویکسینز کی تیاری، ایڈوانس ڈائیگنوسز اور بیالوجیکل پروڈکٹس کی تیاری کا کام ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت W.H.O کے ماہرین جو اس ایرانی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کام کرتے تھے کا کہنا ہے کہ امریکی حملہ میں انسٹی ٹیوٹ کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
امریکا کے میزائلوں نے اسپتالوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی کئی یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بلند ہے کہ دنیا بھر کی معیار کے اعتبار سے مرتب کردہ انڈکس میں یہ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں تہران یونیورسٹی اور میڈیکل سائنس (T.U.M.S)، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران شامل ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں براہِ راست امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں ہیں۔
گزشتہ دنوں اسرائیل کے میڈیا پر ہونے والے تجزیاتی پروگراموں میں ایران کی یونیورسٹیوں کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی وجوہات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں بتایا گیا کہ ایران کی سائنس کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت بلند ہے۔ خاص طور پر میڈیکل سائنسز، بیسک سائنسز، سوشل سائنسز، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ، ایری گیشن کے شعبوں کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت زیادہ بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے سائنس دانوں کے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہر سال 50 ہزار کے قریب تحقیق پر مشتمل سائنسی آرٹیکل شائع ہوتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے جاسوسوں نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران سیاست دانوں اور فوجی افسروں سے زیادہ سائنس دانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں کام کرنے والے بہت سے سائنس دان ان حملوں میں شہید ہوئے۔ ان حملوں میں شہید ہونے والے سائنس دانوں میں سب سے نمایاں محسن فخری زادہ تھے جن کا شمار دنیا کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں ہوتا تھا۔ فخری زادہ کو 27 نومبر 2020ء کو تہران کے قریب نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد متعدد سائنس دان مختلف حملوں میں جاں بحق ہوئے۔
امریکا اور اسرائیل کی ان یونیورسٹیوں کو تباہ کرنے، سائنس دانوں اور ریسرچرز کو ہلاک کرنے کی پالیسی اور طالبان کی لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کرنے کی پالیسی میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ طالبان 1996ء میں منظم ہوئے۔ طالبان نے جب کابل پر قبضہ کیا تو انھوں نے طالبات کی تعلیم پر مکمل پابندی لگا دی ۔
پاکستانی طالبان نے پختون خوا اور بلوچستان کے پختون علاقوں میں طالبات کے اسکولوں کو ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنانا شروع کیا۔ سابق قبائلی علاقوں اور سوات میں سیکڑوں اسکولوں کی عمارتوں کو بموں کے دھماکوں میں مسمار کیا گیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ سوات کی بچی ملالہ یوسفزئی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر قاتلانہ حملہ کا شکار ہوئی ۔ طالبان کے بارے میں تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ گروہ رجعت پسندی کا شکار ہے اور طالبان صدیوں پرانا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل کے خاص طور پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے پس پشت ایک خاص سوچ موجود ہے۔
اگرچہ شہنشاہ ایران کے دور میں ایران میں شہری انفرااسٹرکچر کا معیار خاصا بلند تھا۔ جدید سڑکیں، سیوریج کا نظام، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خاصی تعداد موجود تھی مگر ان یونیورسٹیوں میں علی شریعتی جیسے دانشور پیدا ہوئے جنہوں نے نوجوانوں میں شعور پیدا کیا اور انھیں جدوجہد کا راستہ دکھایا ۔ ایک وقت تھا جب ایران کی یونیورسٹیاں شہنشاہ ایران کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں۔ ایران میں ایک مذہبی حکومت قائم ہوئی۔ ایران میں یونیورسٹیوں کے کردار میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔
ایران کی اسلامی حکومت نے یونیورسٹیوں سے باغیوں کی تو تطہیر کی مگر معیار تعلیم کو بلند کرنے پر پوری توجہ دی گئی۔ معروف سائنس دان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک میں صرف ایران کا تعلیمی معیار اسرائیل اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب تر ہے۔ ایران کے ان سائنس دانوں نے دفاعی ٹیکنالوجی کے علاوہ میڈیکل ٹیکنالوجی میں بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیق کی ہے۔ چین اور روس کے ماہرین نے اس تحقیق میں ایران کے سائنس دانوں کی رہنمائی تو کی ہے مگر دفاعی انفرااسٹرکچر کا سارا نظام ایرانی سائنس دانوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔
سماجی تحقیق کے پروفیسر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ ایران نے سائنس میں ترقی کر کے اسرائیل اور امریکا کا مقابلہ کیا ہے اور سائنس میں ترقی کی بنیاد تحقیق کا اعلیٰ معیار ہے۔ اسرائیل اور امریکا، ایران کو سائنس کے میدان میں شکست دے کر خاص طور پر یونیورسٹیوں کو تباہ کر کے اسے پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت گزشتہ 10 برسوں کے دوران ایران کے سائنس دانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا مگر ایران کے سائنس دانوں کے عزائم میں کمی نہیں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کو فراہم کردہ ٹیکنالوجی میں بھی ایران کے ماہرین کا خاصا حصہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اﷲ کو نئی ٹیکنالوجی سے آشنا کرنے میں بھی ایران کے ماہرین کا کردار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے مارچ میں شروع ہونے والی جنگ میں خاص طور پر یونیورسٹیوں اوراسپتالوں کونشانہ بنانا شروع کیا۔
جنیوا کنونشن کے تحت تعلیمی اداروں اوراسپتالوں پر حملہ جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے مگر صدر ٹرمپ جنگی جرم کا فخر سے اقرار کر رہے ہیں۔ امریکا، ایران میں یونیورسٹیوں کو تباہ کرکے ایران کو پتھر کے زمانہ میں دھکیلنے کا پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر یہ پالیسی ناکام ہوگی۔ صدر ٹرمپ کو اس صورتحال پر ضرور نوبل پرائز ملنا چاہیے۔
Today News
باب المندب اور نہرِ سویز کی کہانی
دو سمندروں یا خلیجوں کو ملانے والی گذرگاہ آبنائے کہلاتی ہے۔گذشتہ مضمون میں انتالیس کیلو میٹرچوڑی آبنائے ہرمز کی اہمیت کا تذکرہ ہوا۔جزیرہ نما عرب کے مغربی کونے پر واقع گذرگاہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز جتنی اہم ہے۔بحیرہ قلزم کو بحرہند سے ملانے والے باب المندب ( درِ اشک ) کی چوڑائی بتیس کلومیٹر ہے ۔اس کے ایک جانب یمن اور دوسری جانب جیبوتی ہے۔یہ گذرگاہ انیسویں صدی میں اس وقت بحری شاہ رگ کی صورت اختیار کر گئی جب بحیرہِ قلزم کو بحیرہ روم سے جوڑنے کے لیے نہر سویز تعمیر کی گئی۔ سویز کی تعمیر کے سبب ایشیا اور یورپ کے درمیان سفری دورانیے میں دس سے پندرہ دن کی کمی ہو گئی۔گویا بحری تجارت تیز رفتار اور سستی ہو گئی۔
باب المندب کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ سالانہ بارہ فیصد عالمی مصنوعات یہاں سے گذرتی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کھلی ہو تو خلیجی ریاستوں کا چار ارب بیرل سالانہ ( چالیس لاکھ بیرل روزانہ ) سے زائد تیل باب المندب اور نہر سویز سے گذرتا ہے (یہ مقدار تیل کی کل عالمی رسد کا پانچ فیصد بنتی ہے )۔
آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کی ٹریفک بھی معطل ہو جائے تو یوں سمجھئے کہ تیل اور گیس کی ایک چوتھائی عالمی تجارت ٹھپ ہو کے رہ جائے گی۔اس میں وہ دس فیصد کنٹینر جہاز بھی جوڑ لیں جو مغرب و مشرق کے درمیان باب المندب کے ذریعے سامان لاتے لے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کے سبب یورپ اور ایشیا کے لیے سعودی تیل کی برآمد کا سارا بوجھ اس وقت بحیرہ قلزم کی جانب یانبو آئل ٹرمینل پر منتقل ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک آرامکو کی بارہ سو کیلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ سات لاکھ ستر ہزار بیرل تیل کی ترسیل ہو سکتی ہے۔
غزہ پر سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو اسرائیلی یلغار کے کچھ ہفتے بعد یمن کے بااثر ہوثی گروہ نے باب المندب کو بند کر دیا۔امریکا ، اسرائیل ، ہوثی مخالف خلیجی اتحاد اور ناٹو نے طاقت کا بھرپور استعمال کر کے بھی دیکھ لیا مگر باب المندب نہ کھلوا سکے۔چار و ناچار امریکا کو ہوثیوں کے ساتھ گذشتہ برس مئی میں جنگ بندی سمجھوتہ کرنا پڑا اور سعودی عرب کے ساتھ بھی جنگ روکنے کے لیے انڈرسٹینڈنگ ہوئی۔تب کہیں جا کے باب المندب کی ناکہ بندی سے گلو خلاصی ملی۔مگر اب خلیج کے جنگی بحران کے سبب امریکا اور ایران میں حتمی امن سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں یا پھر لبنان پر اسرائیلی حملے نہ تھمنے کے نتیجے میں باب المندب کی راہ داری دوبارہ بند ہو سکتی ہے ( ہوثی ایران اور لبنانی حزب اللہ کے ہمراہ ’’ مثلثِ مزاحمت ‘‘ کا حصہ ہیں ) ۔ ایشیائی ممالک سے تجارت کے لیے بحیرہِ قلزم کی جانب کھلنے والی واحد اسرائیلی بندرگاہ ایلات پر گذشتہ تین برس سے ہو کا عالم ہے۔چنانچہ اسرائیل کا پورا بحری دار و مدار بحیرہ روم کے ساحل پر قائم دو بندرگاہوں حیفہ اور اشدود پر ہے اور یہ بندرگاہیں بھی مثلثِ مزاحمت کے حملوں کی زد میں رہتی ہیں۔
ویسے سمندری گذرگاہ بند کرنا زیادہ مشکل بھی نہیں۔یہ اس فلمی سین کی طرح ہے جس میں دو نوجوان موٹر سائیکل سوار بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے اور چیختے گذر جائیں کہ بند کرو یہ سب اور پھر شٹر گرنے شروع ہو جائیں۔
ہوثی بھی چلتے جہازوں پر چار میزائل فائر کر دیں تو انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کے بیمے سے ہاتھ کھینچ لیں گی اور ٹریفک کا رخ باب المندب کے بجائے راس امید ( کیپ ٹاؤن ) کی جانب مڑ کر افریقہ کا پورا چکر کاٹنے لگے گا ۔
فرض کریں آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہتے ہیں مگر کسی وجہ سے نہر سویز بند ہو جاتی ہے تو پھر بھی مصیبت ہے۔جون انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سویز کینال آٹھ برس تک معطل رہی کیونکہ اس میں مصر اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی جنگی کشتیاں ڈبو دی تھیں۔دو ہزار اکیس میں ایک کنٹینر جہاز پھنسنے کے سبب چھ روز تک نہری ٹریفک معطل رہی۔
اس نہر کے سبب یورپ اور اشیا کے درمیان بحری سفر میں آٹھ ہزار نو سو کلومیٹر کی کمی ہوتی ہے۔یہاں سے چاس لاکھ بیرل روزانہ تیل گذرتا ہے۔
سترہ نومبر اٹھارہ سو انہتر سے جاری اس ایک سو چورانوے کلومیٹر طویل نہر کی چوڑائی سات سو چالیس فٹ ( سوا دو سو میٹر) ہے۔یہاں سے سالانہ لگ بھگ اکیس ہزار جہاز گذرتے ہیں۔ نہر ستانوے برس ایک فرانسیسی کمپنی کی ملکیت رہی کیونکہ اس کے پہلے مالک فرڈیننڈ ڈی لاسپے نے نہر کی کھدائی کے لیے بنیادی سرمایہ کاری کی تھی۔اس کمپنی میں برطانوی سرمایہ کاروں اور خدیوِ مصر و سوڈان سعید پاشا کے بھی کچھ شئیرز تھے۔بیک وقت تیس ہزار مزدوروں کو کام پر لگایا گیا۔کل ملا کے دس برس میں کئی قومیتوں کے پندرہ لاکھ کارکنوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ایک لاکھ سے زائد مزدور ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں میں لقمہِ اجل بن گئے۔
مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے جیسے ہی چھبیس جولائی انیس سو چھپن میں نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تو فرانس ، برطانیہ اور اسرائیل نے نہر پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ کر دیا۔تاہم ایک ہفتے بعد امریکا اور سوویت یونین کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور نہر پر مصر کی حاکمیت تسلیم کر لی گئی۔تب سے اب تک اسے سویز کینال اتھارٹی چلاتی ہے۔دو ہزار چودہ پندرہ میں اس نہر کی چوڑائی میں توسیع کے بعد سے اوسطاً روزانہ ستر سے اسی جہاز گذر سکتے ہیں۔ نہر سے مصر کی سالانہ محصولاتی آمدنی نو سے دس بلین ڈالر کے درمیان ہے۔گذشتہ دو برس کے دوران غزہ کی جنگ کے سبب باب المندب کی ناکہ بندی سے مصر کو نہری آمدنی کی مد میں نو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
اگر ایران آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس لگانے میں کامیاب رہا تو ہوثی بھی باب المندب پر ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔گویا بحران جلد ختم ہونے والا نہیں۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
Rain with Strong Winds and Thunderstorms Forecast in Karachi on Saturday
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final