Connect with us

Today News

این ایچ اے کی آمدن 109 ارب تک پہنچ گئی، وزیراعظم کی زیرِصدارت اجلاس میں بریفنگ

Published

on



اسلام آباد:

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان اور ان کی ٹیم کو این ایچ اے کی آمدنی میں اضافے، موٹر ویز اور ہائی ویز پر حفاظتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد، سروس ایریاز کی بہتری اور دیگر اقدامات پر سراہا گیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ این ایچ اے کے ٹول پلازوں کی اوپن اور شفاف انداز میں نیلامی ایک احسن اقدام ہے ۔ موٹرویز کی مرمت کے دوران کام کے بہترین معیار کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کو این ایچ اے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں این ایچ اے کی آمدنی 66.8 ارب روپے سے بڑھ کر 109 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس میں 63 فیصد اضافہ این ایچ اے کے ٹول ٹیکس وصولی اور دیگر اقدامات سے ممکن ہوا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ موٹر ویز پر ایم ٹیگ استعمال کرنے والے صارفین کی شرح 20 فیصد سے بڑھ کر 81 فیصد ہو گئی جبکہ ہائی ویز اور موٹر ویز پر ایکسل لوڈ کی پابندی کی شرح بالترتیب 90 اور 95 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے نہ صرف حادثات میں کمی بلکہ سڑکوں پر دباؤ میں کمی اور ان کی میعاد میں اضافہ ہوا ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ موٹر ویز پر سروس ایریاز کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہوں پر بھی نئے سروس ایریاز بنائے جا رہے ہیں۔ اس سال موٹرویز پر ایئر ایمبیولینس سروس متعارف کرائی جائے گی اور تمام انٹر چینجز پر 1122 کی سروس ہر وقت دستیاب رہے گی۔

علاوہ ازیں این ایچ اے کے اپنے بجٹ سے لیاری ایکسپریس وے، ٹھوکر نیاز بیگ (این 5) اور اسلام آباد مری ایکسپریس وے کی اپگریڈیشن مکمل ہو چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے وزیرِ مواصلات اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور جاری منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک ہوئے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آبنائے ہرمز کی بندش؛ قطر کا فورس میجر کا اعلان؛ گیس برآمدات معطل

Published

on


قطر نے گیس برآمدات پر فورس میجر نافذ کر دیا جس کے باعث عالمی منڈی میں قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیجی ریاست قطر نے قدرتی گیس کی برآمدات معطل کردی ہیں جس کے باعث عالمی گیس مارکیٹ میں کئی ہفتوں تک قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے اس ہفتے گیس کی پیداوار روک دی ہے جب کہ معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) برآمد کرتا ہے اور اس کی عالمی منڈیوں تک تمام تر سپلائی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے ہوتی ہے۔

ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔

قطر کی گیس زیادہ تر یورپ اور ایشیا کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بڑے خریداروں میں پاکستان، جنوبی کوریا، بھارت، جاپان اور چین شامل ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث اب ان ممالک میں ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پیداوار رکنے کے بعد بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے علاقوں میں ایل این جی کارگو کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔

جس کے باعث یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتیں اور ایل این جی فریٹ ریٹس کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

سانحہ گل پلازہ میں کے ایم سی کی کوئی غفلت نہیں، میونسپل کمشنر

Published

on



کراچی:

کراچی(کورٹ رپورٹر) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے ذمہ داریوں کا سارا ملبہ دوسرے اداروں پر ڈال دیا اور جواب میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں ہوئی تباہی میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت نہیں۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق میونسپل کمشنر کے ایم سی نے کمیشن کے سوال نامے کا جواب جمع کروا دیا جس میں انہوں ںے کہا ہے کہ کے ایم سی کی ذمہ داری صرف مرکزی شارع تک ہے، گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ ٹی ایم سی صدر کی ذمہ داری ہے، فائر آڈٹ کی ذمہ داری سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کی ہے، سیفٹی آڈٹ ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2023ء کے تحت ریسکیو 1122 کی ذمہ داری ہے۔ 

میونسپل کمشنر نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت فائر فائٹنگ کے ایم سی کی ذمہ داری تھی، 2023ء کے ایکٹ کے تحت فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کو منتقل کردی گئی، 11 دسمبر 2025ء کو کونسل اجلاس میں منتقلی شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ کے ایم سی نے رضاکارانہ طور پر 200 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔ کے ایم سی نے فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ 2024 میں کمشنر کو پیش کی تھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کئے گئے۔

میونسپل کمشنر نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ پی ڈی ایم اے گائیڈ لائنز کے تحت شہری علاقے میں لگنے والے آگ کو ڈیزاسٹر سمجھا جاتا ہے، ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا دباؤ گریج لائن تعمیراتی منصوبے کی وجہ سے تھا، آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی کرین، ایکسکویٹر، جیک ہیمر اور دیگر ہیوی مشنری تعینات کردی تھی۔ فائر بریگیڈ اہلکاروں کے ساتھ سٹی وارڈنز اور دیگر میونسپل سروسز اہلکار بھی تعینات کیے گئے، گل پلازہ میں ہونے والی تباہی میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت نہیں۔

دریں اثنا سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے اسٹیشن افسر فائر اینڈ ریسکیو ہیڈ کوارٹر محمد توفیق کو طلبی کے سمن جاری کردیئے۔ جوڈیشل کمیشن نے اسٹیشن افسر کو 10 مارچ کو طلب کرلیا۔ کمیشن نے اسٹیشن افسر سے ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرزا مرسلین کو 12 اپریل کی طلبی کا سمن جاری کردیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

عمران خان تک رسائی کے لیے عظمیٰ خان کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

Published

on



اسلام آباد:

بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے عمران خان تک رسائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عظمیٰ خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر کے ان کے طبی معائنے اور علاج کے دوران اُن تک رسائی دی جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فوری اور بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ان کی پسند کے ڈاکٹرز سے کروانے کا انتظام کیا جائے۔ ڈاکٹر خرم مرزا، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو طبی معائنے میں شامل کیا جائے ۔

عظمیٰ خان کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ  بانی پی ٹی آئی کے بلڈ ٹیسٹ کروائے جائیں اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ دوران حراست اور علاج کے دوران معالجین، اہلِ خانہ اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک مسلسل رسائی فراہم کی جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی گزشتہ 3 ماہ کی بلڈ ٹیسٹ، آئی ٹیسٹ اور تشخیصی رپورٹس سمیت مکمل طبی رپورٹس فراہم کی جائیں۔





Source link

Continue Reading

Trending