Connect with us

Today News

ایک اسلامی ملک عید کا چاند نظر آگیا؛ آج بروز جمعرات عید الفطر منائی جائے گی

Published

on


طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے متعدد علاقوں سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مختلف صوبوں میں شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح افغانستان میں عید الفطر آج (بروز جمعرات) عید الفطر منائی جائے گی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ شوال کا چاند فرح، ہلمند اور غور سمیت کئی علاقوں میں دیکھا گیا جس کے بعد عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر 4 ہزار 596 قیدیوں کو رہا جب کہ 4 ہزار 407 قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی۔ 

افغان حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کی نماز اور دیگر تقریبات کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ یہ تہوار پرامن ماحول میں منایا جا سکے۔

یاد رہے کہ آج سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، عراق، یمن، لبنان، کویت، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں شوّال کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس لیے عید بروز جمعہ 20 مارچ کو ہوگی۔

جمعرات کو جن ممالک میں چاند دیکھا جائے گا ان میں پاکستان سمیت ترکیہ، انڈونیشیا، ملیشیا، برونائی، سنگاپور، سعودی عرب، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، عراق کے کچھ حصے، عمان، اردن، شام، مصر، لیبیا، تیونیس، الجزائر، مراکش، اور موریطانیہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں چاند کی رویت کے لیے الگ الگ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں روایتی رویت کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ بعض جگہوں پر فلکیاتی حسابات اور دیگر ممالک کے اعلانات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق چاند کی رویت ہر سال موسمی حالات اور جغرافیائی پوزیشن کے باعث مختلف ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں عید کے دن میں فرق آ جاتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے عید الفطر خوشی اور شکرانے کا تہوار ہے جو رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد منایا جاتا ہے اور اس موقع پر خصوصی عبادات اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کمرشل پائلٹ بننے کے لیے تیار

Published

on



کراچی:

بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران کی نسیمہ کریم بلوچ کی ساحل سے آسمان کی بلندیوں تک اڑان، کمرشل پائلٹ بننے کا خواب کچھ دوری پررہ گیا. 

صنف نازک ہونے کے باوجود مردوں کیلیے مخصوص سمجھے جانیوالے شعبہ ہوابازی میں قدم رکھا،نسیمہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے 130 گھنٹے مکمل کر چکی ہیں، 200 فلائنگ آورزمکمل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طورپرکمرشل پائلٹ بن جائیں گی.

نسیمہ سیمو لیٹر اور ابتدائی گھنٹوں کی اڑان کے بعد پرائیوٹ پائلٹ لائسنس(پی پی ایل)حاصل کرچکی ہیں، اگلے مرحلے میں کمرشل پائلٹ لائسنس(سی پی ایل)کاامتحان دینگی۔

بلوچستان کے دورافتادہ ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی باہمت اورباصلاحیت نوجوان لڑکی نسیمہ کریم بلوچ اپنے عزم اورہمت کی بدولت وہ مقام حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بارے میں شاید خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا جاتا ہو گا.

نسیمہ بلوچ کے مطابق ابتدائی فلائنگ گھنٹوں کی تکمیل اورامتحان کے وہ پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرچکی ہیں، حالیہ فلائنگ کمرشل پائلٹ لائسنس کے حصول کیلیے ہیں،جس میں سے130گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں۔

نسیمہ بلوچ کے مطابق ان کا تعلق بھی پاکستان کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں شامل مقام سے ہے،جہاں خواہش کے مطابق عملی طورپربڑھناجوئے شیرلانے کے مترادف ہے.

مگران کی خوش قسمتی کہہ لیں کہ ابتدائی اوربیشتر تعلیم متحدہ عرب امارات میں ہوئی،جس کی وجہ سے کئی مراحل بہت زیادہ پیچیدہ نہیں رہے،وہ اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت رہیں کہ انھیں نہ صرف گھروالوں اورپورے خاندان کی بھرپورسپورٹ ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسے آسمان کی بلندیوں پراڑنے والے پرندوں سے خصوصی شغف رہا۔ ماہرین ہوابازی کے مطابق پاکستان میں عموماہوابازی کے شعبے میں خواتین کارحجان بہت زیادہ نہیں ،تاہم نسیمہ یاان جیسی دیگرخواتین کاشعبے کوچنناخوش آئندہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات

Published

on



محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیرضیغم نے ایران جنگ کی وجہ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے باہرہے، ماضی کے مقابلے میں آج جدید آلات کے ذریعے زہریلے مادوں اور دھویں کے بادلوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کراچی میں کہیں آلودہ اور کہیں کالی بارش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں ہے، نئے مغربی سلسلے کے زیراثر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارش ریکارڈ ہو رہی ہے تاہم کسی بھی جگہ سےکوئی غیرمعمولی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارش کےعلاوہ ایک اور تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی اور ایران میں جنگی صورت حال کی وجہ سےکراچی میں ہواؤں کا معیار انتہائی خراب ہوسکتا ہے لیکن یہ تبصرے بھی بے بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کی وجہ سے سمندری ہواؤں کی مختصر وقت کے لیے بندش اور شمال مغربی ہواؤں کے اثرات کی وجہ سے ہواؤں میں معلق گردوغبار کی وجہ سےائیرکوالٹی انڈیکس میں اگر کسی وقت اضافہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ معمول کی صورت حال کا نتیجہ ہوگا۔

انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں، ایران کی صورت حال 1992 کی خلیجی جنگ جیسی نہیں ہے جب بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہےکہ پانی میں غیرمعمولی ذرات تو شامل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادلوں کا فوری پتا لگانےکی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومت اور متعلقہ ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سےصاف کر دیتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

قطرنے ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

Published

on



دوحا:

قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دوحہ حکومت نے سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، دوحہ میں موجود ایرانی سفارتخانے کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطر نے اپنے آئل فیلڈز پر ایرانی حملوں کا الزام عائد کیا۔

ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں توانائی سیکیورٹی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending