Today News
ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی
مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔
سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔
منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔
وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔
دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔
دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔
مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟
اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔
لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔
ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟
لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔
براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔
ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔
اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔
پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔
دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔
دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔
کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔
کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔
Today News
بولان، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، اے ایس آئی شہید، پولیس کا سرچ آپریشن جاری
بولان:
بلوچستان کے علاقے بولان میں کمبڑی پل کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک افسر شہید ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے دوران شہید ہونے والے اہلکار کی شناخت محمد موسیٰ مستوئی کے نام سے ہوئی، جو اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر تعینات تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح ملزمان مبینہ طور پر ڈکیتی کی غرض سے علاقے میں موجود تھے، جن کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی، تاہم ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس سے مقابلہ شدت اختیار کر گیا۔
واقعے کے بعد ایس ایس پی کچھی معاذالرحمان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
Today News
کراچی، مومن آباد میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہرِ قائد کراچی کے علاقے مومن آباد سیکٹر 10 الفتح کالونی میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا سامنا کیا، تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان کو فرار ہونے سے روک لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناخت روشن اور شکیل عرف بھورا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز، نقدی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
Today News
ایران اور امریکا کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟
ایران اور امریکا کی کشیدگی تاحال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہا ر انھوں نے گزشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکا اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا؟ اگر امریکا ایران پر حملہ بھی کر لے توکیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکا کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلے میں امریکا کو متعدد نقصانات ہوں گے؟
اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیارکرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکا کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لیے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟
اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکا نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکا اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیش کشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کردیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔
کروک کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اورکنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔
تاہم تہران نے اس تصورکو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔یہ موقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوارکیا گیا ہے۔
ایرانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔
کروک نے اپنے مقالے میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی، مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔
اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں، بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔
یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کرریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کر سکتا ہے۔
اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبورکیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
امریکا، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔
ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹرٹیجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔
ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔
معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کشیدگی میں اس وقت امریکا جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جوکچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔
دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، اگرکوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
برطانوی مورخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پرکھڑا ہے، جہاںغلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں امریکا کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بری جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکا کو اٹھانا ہو گا۔
آج امریکا اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا رد عمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔
یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہرکارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹرٹیجک پیغام ہے۔
یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لیے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بہرصورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں نہیں رہے گا۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad