Connect with us

Today News

اﷲ ہے بس پیار ہی پیار۔۔۔۔۔!

Published

on


 

 

انشرہ طارق

محبت کا لفظ خود اپنے اندر بڑی مٹھاس، کشش، لذت اور لطف رکھتا ہے۔ کسی کے بھی تعلق کے ساتھ یہ بولا جائے تو دل میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اﷲ اور اس کے آخری پیارے رسول کریم ﷺ سے محبت تو سب سے پاکیزہ اور مقدس جذبہ ہے۔ خوش قسمت لوگ ہی اس پاکیزہ جذبے سے آشنا ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس جذبے کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

مفہوم: ’’اور ایمان والے اﷲ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘

 (سورۃ البقرہ)

حقیقی محبت کی حق دار تو صرف ایک ہی ہستی ہے اور وہ ہے اس دو جہانوں کے مالک اﷲ رب العزت کی کی عظیم و مقدس ہستی۔ آج تک کوئی ایسا پیمانہ نہیں بنا جو ماں کی محبت کو ناپ سکے اور اﷲ پاک تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں۔ کوئی اﷲ کی محبت کی گہرائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اﷲ پاک نے تو انسان کی تھوڑی سی مشقت کے بدلے پوری جنت سجا دی۔ جس میں انسان کی آسائش کے لیے ہر چیز رکھ دی۔ جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی غموں کی پرچھائی تک نہ ہوگی۔ اگر انسان پر اﷲ کی طرف سے کوئی آزمائش آ بھی جائے تو اﷲ پاک بار بار دلاسہ دیتے ہیں کہ میرے بندے گھبرانا نہیں تمہارا اﷲ تمہارے ساتھ ہے تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ تو ہے کوئی اﷲ پاک جیسا جو انسان سے اس سے زیادہ محبت کرتا ہو؟ پھر کیوں نہ اک اﷲ سے محبت کی جائے ؟ کیوں نہ اﷲ کی محبت میں خود کو فنا کیا جائے ؟

مفہوم: ’’اے ابنِ آدم! اگر اﷲ کی محبت کو ہمیشہ مقدم رکھو گے تو دونوں جہاں میں کام یاب ہو جاؤ گے۔‘‘

اﷲ سے محبت کا سفر بہت حسین ہوتا ہے۔ جو اس راہ کے مسافر بن جاتے ہیں اﷲ اسے بھی اندر باہر سے حسین کر دیتے ہیں۔ وہ تو پل پل اپنے محبوب کی چاہ میں جینے لگتے ہیں۔ پھر اس کی آنکھیں محبوب کی یاد میں بہتی ہیں۔ پھر اس کا دل اﷲ کی یاد سے لطف پاتا ہے۔ یقین رکھیے! اﷲ سے محبت کرنے والے بڑے حسین ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہی اﷲ سے محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔ دنیا کا سب سے حسین تر لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ کو محسوس ہو کہ بادشاہوں کا بادشاہ، ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا، جنت و جہنم کا مالک، اس دنیا کو بنانے والا رب آپ سے محبت کرتا ہے۔ کتنا خوش قسمت ہوتا ہے وہ انسان جس سے اﷲ پاک محبت کرتے ہوں اور محبت بھی ایسی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سبحان اﷲ

حالات چاہے کیسے بھی ہوں مومن لوگ کبھی بھی اﷲ تعالیٰ کی محبت میں کمی نہیں آنے دیتے، وہ حالات سے مایوس نہیں ہوتے اور اپنے پالن ہار پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ جو لوگ اﷲ سے محبت رکھتے ہیں ان کے لیے اس دنیا کی دولت و شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ اس دنیا کی رنگینیوں میں کبھی نہیں کھوتے۔ ہاں! اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر کبھی گناہ ہو جائے تو تڑپ اٹھتے ہیں فوراً اﷲ پاک سے توبہ کرتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے لوگ کبھی مایوس نہیں ہوتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں اﷲ پاک انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، وہ اﷲ پاک کے معجزوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر بہت شدید دعاؤں کے بعد بھی ان کی خواہش پوری نہ ہو پھر بھی وہ ’’الحمدﷲ‘‘ کہتے ہیں کبھی بھی اﷲ پاک سے شکایت نہیں کرتے بلکہ وہ فوراً اﷲ کی رضا میں راضی ہو جاتے ہیں۔

اﷲ پاک سے محبت کرنے والے لوگ ہمیشہ اﷲ کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ ڈرتے ہیں کہ کبھی کوئی ایسا گناہ نہ ہو جائے جو اﷲ کی ناراضی کا سبب بنے۔ اﷲ کے حکموں کو ماننا ہمیشہ اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ نیکی کے کاموں میں بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اﷲ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو جائیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے لوگ بہت نرم دل ہوتے ہیں۔ وہ اﷲ کی مخلوق سے بھی محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ دوسروں کے دکھ درد میں شامل ہوتے ہیں۔ اﷲ سے محبت کرنے والے لوگ کبھی غریب لوگوں سے نفرت نہیں کرتے ان سے کراہت محسوس نہیں کرتے۔ ایسے لوگ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہوتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے اﷲ کے سوا کسی اور در پہ سر نہیں جھکاتے۔ وہ اﷲ کو واحد و یکتا مانتے ہیں اور صرف اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات صرف اﷲ پاک کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں اگر کوئی ذات انسان کی خواہشات کو پورا کر سکتی ہے تو وہ صرف اﷲ پاک کی عظیم ذات ہے۔

مفہوم: ’’کبھی بھی سر کو اﷲ کے علاوہ کسی اور در پہ نہ جھکاؤ، اس سر کے جھکنے کے لیے سب سے بہترین در اﷲ تعالیٰ کا در ہے۔‘‘

اﷲ سے محبت کرنے والے کبھی غرور و تکبر جیسے گناہ کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ کبھی دوسروں کی دولت و شہرت، عزت و مرتبہ دیکھ کر حسد نہیں کرتے، بلکہ وہ تو اﷲ کے عاجز بندے ہوتے ہیں۔ ان کے ہر انداز سے عاجزی جھلکتی ہے۔ وہ تو اﷲ کی نعمتوں کو دیکھ کر ہمیشہ شکر ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔

اﷲ سے محبت کرنے والے کبھی مشکلات سے گھبراتے نہیں ہیں۔ وہ بڑی سے بڑی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ہر آزمائش میں پورا اترتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا یقین صرف اور صرف اﷲ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اور یقین بھی ایسا جو سمندر سے بھی زیادہ گہرا ہو۔ وہ یقین رکھتے ہیں جو ذات اندھیروں کو روشنی میں بدلنے پر قادر ہے وہ ہی ان کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے پر قادر ہے۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے خود پر دنیاوی محبت حاوی نہیں ہونے دیتے۔ بلکہ وہ اﷲ کی محبت کو اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ وہ اﷲ کی محبت میں اس فانی دنیا کی محبتوں کو قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اور یہی بندے اﷲ کے خاص بندے ہیں جن پر اﷲ نظر رحمت فرماتے ہیں۔ جس سے اﷲ پاک محبت کریں اس سے زیادہ خوش قسمت اس روئے زمین پر کوئی نہیں۔

میرا اﷲ بس محبت ہی محبت ہے۔ جب قران کو سمجھ کر پڑھا تو اﷲ کو محبت ہی محبت پایا۔ ہر جگہ تسلی دیتا ہوا، دعاؤں کی قبولیت کا یقین دلاتا ہوا، ہمیشہ ساتھ رہنے کا عہد کرتا ہوا، چھوٹی سی آزمائش پر بڑے بڑے اجر سناتا ہوا، اپنی رحمت کا یقین دلاتا ہوا، چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر جنت کی خوش خبری سے نوازتا ہوا میرا اﷲ بس محبت ہی محبت ہے۔ اﷲ پاک سے جُڑ جائیں۔ اﷲ پاک سے محبت کریں شدید سے شدید تر۔

اﷲ سے محبت کرنے والے لوگ محبوب کی محبت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں سب سے بہترین رنگ اﷲ کی محبت کا رنگ ہے۔

یا رب! تُو ہمیں بھی اپنی محبت کے رنگ میں رنگ دے۔ آمین





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

Published

on



حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔

حکومت نے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کرنے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی  34روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔

اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی، جو تینوں بڑے شعبوں کی کارکردگی کے باعث قومی پیداوار میں معقول اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم مرکزی بینک نے نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس کے دوران فصلوں، خصوصاً گندم کی اصل پیداوار کے اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔

اسی اجلاس میں ان اعدادوشمار کی منظوری دی گئی۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں معیشت کی شرح نمو 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی شرح نمو میں کمی آئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔زرعی شعبہ 1.8 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہے۔

صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس، خدمات کے شعبے نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’’بلا روزگار ترقی‘‘ (Jobless Growth) پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔

پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ 11 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔این اے سی نے نوٹ کیا کہ سیلاب کے اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی آئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 1.87 فیصد کم ہوئی۔

سبز چارے میں کمی کے باعث دیگر فصلوں کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اجلاس کے دوران مرکزی بینک کے نمائندے نے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے دعووں پر وضاحت طلب کی۔

گندم کی پیداوار کے حوالے سے بار بار سوالات اٹھائے گئے، تاہم پی بی ایس نے اس بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے۔چیف اسٹیٹسٹیشن نے وضاحت کی کہ ملک کے کئی حصوں میں ابھی فصل کی کٹائی شروع نہیں ہوئی، اس لیے اصل پیداوار کا تعین ممکن نہیں۔

تاہم گندم کی کاشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس کے شعبوں میں جاری سرگرمیاں ہیں۔

این اے سی کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.8 فیصد اور 0.8 فیصد رہی۔

بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ آٹو موبائل، ٹرانسپورٹ آلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہتر کارکردگی ہے۔

بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور ڈیفلیٹر میں کمی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 10.53 فیصد رہی، جس کی وجہ تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں اضافہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ، اعلان صوبے کریں گے

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔  

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہنگامی حالات میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے کفایت شعاری اقدامات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا،کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لے کر کیا گیا اور اس کا اعلان بھی صوبے خود کریں گے۔ 

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خطے کی صورتحال اور پٹرول بحران پر اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

اس موقع پر کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران امریکہ مذاکرات پر ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور ملکر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔  

وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، چند دنوں میں اس پر بھی پیشرفت ہو گی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں55 روپے کا اضافہ محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اسکو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے۔ 

صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں، وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزراء اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔
 





Source link

Continue Reading

Trending