Today News
بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران
دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ماہرین اسے ’’چھٹی معدومیت‘‘ Sixth Extinction سے تعبیر کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگوں اور عسکری تنازعات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ دونوں بحران الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جدید سائنسی تحقیق نے یہ حقیقت ثابت کر دی ہے کہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ماحول جنگ کا خاموش شکار ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان آج کی عالمی صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔
یہ ایک افسوس نا ک حقیقت ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر کاربن اخراج کی بات ہو تو عسکری سرگرمیاں اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات پروفیسر سٹیورٹ پارکنسن کا کہنا ہے کے ’’دنیا کی افواج اجتماعی طور پر ایک بڑے ملک کے برابر کاربن خارج کرتی ہیں، مگر ان کے اخراج کو مکمل شفافیت کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔‘‘
اسی طرح Conflict & Environment Observatoryکے ماہر ڈگ ویئر کا کہنا ہے کہ’’ جنگی اخراج ایک Hidden Carbon Cost ہے، جسے موسمیاتی پالیسی سازی میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔‘‘
جنگی تباہی کا سب سے بڑا ماحولیاتی اثر انفراسٹرکچر کی تباہی ہے۔یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ماہر ڈاکٹر مارک سٹیفنز کے مطابق ’’جب شہر تباہ ہوتے ہیں تو اصل کاربن اخراج جنگ کے بعد شروع ہوتا ہے،کیونکہ تعمیر نو کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین ’’Reconstrution Carbon Spike ‘‘کو جنگ کے سب سے خطرناک ماحولیاتی اثرات میں شمار کرتے ہیں۔
ناروے انٹرنیشنل افیئرز انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر بینجمن نیومن کے مطابق ’’ایک لڑاکا طیارہ چند گھنٹوں میں اتنا ایندھن جلا دیتا ہے جتنا ایک عام شہری کئی مہینوں میں استعمال کرتا ہے۔‘‘یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جنگی مشینری کس قدر بڑے پیمانے پر کاربن اخراج کا باعث بنتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن خبردارکرتی ہے کہ جنگی علاقوں میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جویتا گپتا کا کہنا ہے کہ ’’جنگی دھواں اور زہریلی گیسیں نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ بارش کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔‘‘
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جنگوں کے دوران توانائی کے نظام میں خلل پیدا ہونے سے ممالک دوبارہ فوسل فیول کی طرف لوٹ آتے ہیں، جس سے عالمی اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔توانائی کے ماہر ڈاکٹر فاتح بیرول کے مطابق ’’جیوپولیٹیکل تنازعات توانائی کی منتقلی (Energy Transition) کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جو موسمیاتی اہداف کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘یاد رہے کہ حالیہ جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حواے سے جاپان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ ’’توانائی بحران اے نمٹنے کے لیے کوئلے کا استمال شروع کرے گا۔‘‘
بین ا الاحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی(IPCC )بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر عالمی اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو 1.5°C کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔IPCCسے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر ہانس اوٹو پورٹنر کے مطابق ہم پہلے ہی موسمیاتی تباہی کے دہانے پر ہیں،اور جنگی اخراج اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنگی اخراج کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا غیر شفاف ہونا ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ’’فوجی اخراجات اور ان سے جڑے ماحولیاتی اثرات کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہی نہیں ہے، جس سے عالمی پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP)کے مطابق جنگیں زمین، پانی اور حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کہتی ہیں کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات اکثر دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتاہے۔‘‘پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہیں، ان عالمی جنگی اخراجات کا بوجھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب،خشک سالی، فضائی آلودگی اور دیگر کئی ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل میں ہونے والے اضافے کی صورت میں اٹھاتے ہیں ۔
جنگیں اب صرف زمینی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ اب یہ ایک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کرہ ارض کو موسمیا تی تباہی سے محفوظ رکھنا ہے تو فوجی اخراج کو موسمیاتی معاہدوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے شفاف رپورٹنگ کو بھی یقینی بنانا ہو گا،جنگ سے تباہ حال علاقوں میں ماحول دوست تعمیرات کرنا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر تنازعات کاپر امن نکالنا ہو گا ۔
عالمی پالیسی سازوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ ہر دھماکہ، ہر جلتی ہوئی عمارت، اور ہر جنگی مشین فضا میں ایک ایسا زخم چھوڑ رہی ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔جیسا کہ بان کی مون نے کہا تھا کہ
’’ امن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے۔‘‘
Today News
ایران کی فیفا ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق ایرانی وزیرِ کھیل کا اہم بیان
ایران کے وزیر کھیل نے کہا ہے کہ اگر فیفا ورلڈ کپ کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل نہ کیے گئے تو ایران کی ٹورنامنٹ میں شرکت غیر یقینی ہوگی۔
ایران کے وزیر کھیل احمد دونیامالی نے اتوار کے روز ترکیہ کی ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران کی فٹبال فیڈریشن نے اسپورٹس گلوبل گورننگ باڈی سے اپنے میچز منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کے اگر فیفا کی جانب سے ہماری یہ درخواست قبول ہوجاتی ہے تو ایران کی ورلڈکپ میں شرکت یقینی ہوجائے گی۔ تاہم ایران ابھی تک فیفا کی جانب سے ملنے والے جواب کا انتظار کر رہاہے۔
کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ جون جولائی میں ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے والے اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری سے ایران پر حملے شروع کر دیے جس سے مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ایشیا سے فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ایران کی فٹبال ٹیم کے تمام گروپ میچز امریکا میں شیڈول ہیں۔ تاہم جاری کشیدگی کے باعث ایران نے امریکا میں میچز کھیلنے سے انکار کیا اور فیفا سے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست کی۔
جنگ کے آغاز کے دو ہفتوں کے اندر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے میچوں کے لیے امریکا آئے لیکن میں یہ یقینی طور پر مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ وہاں اپنی جان اور حفاظت کے لیے موجود ہوں۔
جس کے جواب میں ایران کی فٹبال ٹیم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی ایران کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتا۔
ایران فٹبال کے سربراہ مہدی تاج نے کہا کہ جب ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایرانی قومی ٹیم کی حفاظت کو یقینی نہیں بنا سکتے تو ہم یقینی طور پر امریکا کا سفر نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کے لیے فیفا سے بات چیت کر رہے ہیں۔
Source link
Today News
ہزاروں طلبہ ایڈمٹ کارڈ سے محروم؛ کراچی میں میٹرک امتحانات کا منگل سے آغاز سوالیہ نشان بن گیا
کراچی:
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے نامکمل اور ناقص انتظامات کے سبب کراچی میں میٹرک کے امتحانات کا بروقت آغاز سوالیہ نشان بن گیا، پورے سندھ کی طرح کراچی میں امتحانات 7 اپریل سے ہونے ہیں ہزاروں طلبہ اپنے ایڈمٹ کارڈ سے محروم ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ان امتحانات میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہورہے ہیں ایڈمٹ کارڈ کے عدم اجراء کے سبب طلبہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا امتحانی مرکز کہاں ہے۔
یاد رہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے ایڈمٹ کارڈ ہفتے کی شام پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا دعوی کیا گیا تھا تاہم جب نجی و سرکاری اسکول کی انتظامیہ نے پورٹل کے ذریعے ایڈمٹ کارڈ ڈائون لوڈ کرنے کی کوشش کی تو بڑی تعداد میں اسکولوں کی جانب سے بورڈ کے پورٹل سے error کا میسج آنے کی شکایات موصول ہوئیں جبکہ جن اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے ہیں وہ بھی تعداد کے حساب سے نامکمل ہیں اورامتحانات سے ایک روز پہلے بھی کراچی کے طلبہ پرچوں کی تیاری کے بجائے اپنے ایڈمٹ کارڈ اور سینٹر کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔
دوسری جانب ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اتوار کی رات ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق بورڈ سے الحاق شدہ وہ اسکول جوابھی تک آن لائن ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے ہیں وہ اسکول سربراہان یا ان کے نمائندے اپنے اتھارٹی لیٹر کے ساتھ بورڈ آفس کے کانفرنس ہال پہلی منزل بلاک B میں پیر 6 اپریل کو صبح 9 بجے سے اپنے ایڈمٹ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔
ادھر اس صورتحال پر گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے امتحانات ایک ہفتے کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ چیئرمین بورڈ سے اختلاف کے سبب سبک دوش ناظم امتحانات ضیاءالحق 16 مارچ سے غیر فعال اور امتحانی امور ٹھپ تھے اور امتحانات سے 4 روز پہلے لاڑکانہ بورڈ کے انسپیکٹر انسٹی ٹیوشنز کو کراچی بورڈ کا ناظم امتحانات مقرر کیا گیا اور نئے ناظم امتحانات بھی سارے معاملات اس قدر عجلت میں سمجھنے سے قاصر ہیں۔
اس صورتحال پر امتحانات موخر کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایسوسی ایشن کے رہنما حیدر علی کا کہنا ہے کہ “کثیر تعداد میں اسکولوں کے ایڈمٹ کارڈز پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہو سکے ہیں افراتفری میں اور اندھا دھند بنانے جانے والے امتحانی مراکز پر امتحانی عمل تعلیم کے ساتھ ایک مذاق ہے، ساڑھے 3 لاکھ بچوں کا مستقبل کسی ایک شخص کی جھوٹی عزت اور ذاتی انا کے لیے خراب نہیں کیا جانا چاہیے”۔
بتایا جارہا ہے کہ ناظم امتحانات غیر فعال تھے ایگزامینیشن سیل نے تین روز قبل ایڈمٹ کارڈ اپ لوڈنگ کے لیے آئی ٹی سیل کے حوالے کیے اور تین روز میں ساڑھے 3 لاکھ ایڈمٹ کارڈ کی اپ لوڈنگ ناممکن تھی۔
دوسری جانب جب ’’ایکسپریس ‘‘ نے اتوار کی دوپہر چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم 24 گھنٹے کام کررہے ہیں اتوار کی شام تک صورتحال کنٹرول ہوجائے گی ہم نے جنوری سے سینٹر فیکسیشن پر کام شروع کردیا تھا لیکن بورڈ میں کچھ لوگ نااہل اور کچھ کے برے اہداف ہیں اسکولز ایسوسی ایشن بھی انہی اہداف پر کام کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امتحانات موخر نہیں ہونگے کیونکہ 80 فیصد اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے چکے ہیں 20 فیصد کو بھی مل جائیں گے۔
ادھر سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ سے جب ” ایکسپریس ” نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پرسکون ماحول میں امتحانات کا انعقاد چیئرمین بورڈ کی ذمے داری ہے ہم ان سے رابطے میں ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ امتحانات کے التواء سے متعلق تجویز پر کوئی بھی فیصلہ وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کریں گے فی الحال ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
Today News
پی ٹی آئی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، خواتین سمیت درجنوں کارکن گرفتار
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کراچی میں شدید احتجاج کیا جبکہ پولیس نے احتجاج روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور اس دوران خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
پی ٹی آئی کراچی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہنگائی کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج پر پولیس نے شیلنگ کی اور گرفتاریاں عمل میں لائیں اور پولیس نے علاقے کو لوگو ایریا بنا دیا تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے خلاف پی ٹی آئی کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔
پی ٹی آئی کا احتجاج کو روکنے کے لیے سندھ پولیس نے سخت اقدامات کرتے ہوئے پریس کلب کے اطراف تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے، جس کے باعث شہر کے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے اور کئی علاقوں میں کرفیو جیسی صورت حال دیکھنے میں آئی، پی ٹی آئی کے کارکنان مختلف علاقوں سے ریلیوں کی صورت میں کراچی پریس کلب کی جانب بڑھتے رہے جبکہ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں سمیت دیگر کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 5 خواتین سمیت 30 سے زائد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، گرفتار ہونے والوں میں پی ٹی آئی سندھ کے رہنما دوا خان صابر، ویمن ونگ کراچی کی صدر فضا ذیشان اور دیگر شامل ہیں۔
ترجمان پی ٹی آئی نے بتایا کہ تمام تر رکاوٹوں، شیلنگ اور گرفتاریوں کے باوجود پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، کراچی کے صدر راجا اظہر، جنرل سیکرٹری ارسلان خالد اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں کارکنان نے پریس کلب کے قریب پہنچے صدر کے علاقے میں احتجاجی ریلی نکالی اور مہنگائی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا آٹا، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کی حکومت کو فاشسٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کر کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ پریس کلب آنے والے صحافیوں کو بھی داخلے سے روکا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 سے 2022 تک پیٹرول کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر رہی جبکہ موجودہ حکمرانوں نے تین برسوں میں اسے 400 سے اوپر فی لیٹر تک پہنچا دیا تاہم نااہل حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں، عوام کا ووٹ چرا کر اقتدار میں آنے والوں کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں ہے۔
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ ملک کی معیشت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے، عوامی مسائل میں اضافہ نااہل حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، پوری قوم عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے، فوری طور پر عمران خان کو رہا کیا جائے اور عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمی ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر موجودہ حکومت سندھ نے ایک بار پھر جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے، سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں لہٰذا حکومت سندھ ہوش کے ناخن لے اور جمہوری روایات کا احترام کرے۔
پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر راجا اظہر نے کراچی پریس کلب کے باہر پی ٹی آئی کی جانب سے مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج پر سندھ پولیس کے اقدامات کو فسطائیت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ پولیس گردی اور کارکنوں پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں، خواتین کارکنوں پر مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے ہاتھ اٹھانا انتہائی شرم ناک عمل ہے۔
راجا اظہر نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ اس پولیس گردی واقعے کا فوری نوٹس لیں، سندھ میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، خواتین کی بےحرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، آئین اور قانون کی حفاظت عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، بلاول بھٹو ہوش کے ناخن لیں اور کارکنوں پرظلم بند کروائیں، جمہوریت کے نام پر ریاستی طاقت کا غلط استعمال بند کیا جائے، پرامن سیاسی کارکنوں پر تشدد ناقابل قبول ہے اور ہم ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
Source link
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final