Today News
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے بنائی گئی فورس کا نام تبدیل کرنے کو تیار ہیں، شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے بنائی گئی فورس کا نام بات چیت کر کے تبدیل ہوسکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک بانی کی رہائی کے لیے بنائی گئی فورس کے نام کی تبدیلی کی بات ہے تو بانی رہائی فورس کا نام تبدیل کرنے پر بات ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہی اسٹریٹ موومنٹ کی ذمے داری سہیل آفریدی کو دی ، ہماری یہ فورس نوجوانوں پر مشتمل ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ بانی کی رہائی کے لیے فورس کا مقصد صرف عمران خان کی رہائی ہے، اس کا اور کوئی سیاسی مقصد نہیں۔ رہائی کے ساتھ ہی بانی فورس فورس خود تحلیل کر دیں گے۔
اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے شفیع جان کہا کہ رہائی فورس بنانے کا مقصد صرف اور صرف بانی کی رہائی سے ہو گا ، اس ونگ کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہوں گے ،جس دن بانی پی ٹی آئی رہا ہوں گے یہ فورس تحلیل ہو جائے گی۔
پارٹی میں اختلافات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا میں ہوں یا علی امین گنڈا پور ہوں یا پھرجنید اکبر، سب کا فوکس بانی کی رہائی اور صحت پر ہونا چاہیے ،باقی مسائل ہم بعد میں بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں، اس وقت بانی کی صحت کا معاملہ اہم ہے ہمیں بانی کی رہائی پر فوکس کرنا چاہیے، باقی چیزیں بعد میں ہوتی رہیں گی ان کے لیے بڑا ٹائم پڑا ہے۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد قومی اور سب سے بڑی جماعت ہے، بند کمروں سے باہر ہم سب ایک پیج پر ہوتے ہیں، ہماری یہ جنگ اس فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کی جنگ ہے۔
رہنما پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بانی کی رہائی کے حوالے سے ہرآئینی اور قانونی راستہ اختیار کر چکے ہیں، اب ہماری ہماری مرکزی اور صوبائی لیڈرشپ سر جوڑ کر بیٹھی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات اب نتیجہ خیز ہوں۔
Source link
Today News
حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )
عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔
اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔
آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔
وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔
پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔
ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔
دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔
ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔
ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔
اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے ۔)
Today News
راجن پور پولیس کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن، مطلوب گینگز کے 13 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے
پنجاب کے ضلع راجن پور میں پولیس نے کچے کے انتہائی مطلوب گینگز عمرانی، سکھانی، لونڈ، اندھڑ گینگ اور کچہ کراچی کے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا جبکہ 13 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیا۔
ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پولیس آپریشن میں ہلاکت کے ڈر سے انتہائی مطلوب گینگز کے 13 مزید ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا، ہتھیار ڈالنے والے ڈاکو اغوا برائے تاوان، قتل اور ڈکیتی سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔
ڈی پی او راجن پور محمد عمران نے کہا کہ پنجاب پولیس کے آپریشن کے نتیجے میں اب تک سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی تعداد 355 ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ راجن پور پولیس نے ڈاکوؤں کے 39 ٹھکانوں اور بنکرز کو تباہ کردیا۔
Source link
Today News
پاکستانی ایتھلیٹ اشراق نذیر یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر
پاکستانی ایتھلیٹ اشراق نذیر کو یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر کر دیا گیا۔
اسلام آباد میں الپائن کلب آف پاکستان کے ہیڈ آفس میں میجر جنرل عرفان ارشد، صدر الپائن کلب، نے یونان میں مقیم پاکستانی ایتھلیٹ اشراق نذیر کو یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر کیا۔
اس ملاقات میں پاکستان میں پہاڑی اور ایڈونچر ٹورازم کے فروغ، بین الاقوامی تعلقات اور یورپ میں کوہ پیمائی کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد خان نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بلند ترین اور حیرت انگیز پہاڑوں کا حامل ملک ہے، لیکن ان کا عالمی سطح پر تعارف کم ہے، اور ان چھپے ہوئے خزانوں کو دنیا کے سامنے لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کے سیاحتی سفیر بن کر اس حسن کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ اشراق نذیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یونان اور یورپ میں پاکستان کے پہاڑی سیاحت کے مواقع کو اجاگر کریں گے اور ملک کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad