Connect with us

Today News

بحرین کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد؛ روس اور چین نے ویٹو کردی

Published

on


بحرین نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور چین نے خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی ایک مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

قراردار پر رائے شماری میں 11 ممالک نے حق میں ووٹ دیا جب کہ پاکستان اور کولمبیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اس قرارداد میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی اور مربوط کوششوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

یہ قرارداد چند ہفتوں کے مذاکرات کے بعد ابتدا میں چیپٹر سیون کے تحت تھی یعنی اس میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت شامل تھی۔

تاہم بعد میں فوجی طاقت کے استعمال کے الفاظ کو تمام ضروری دفاعی ذرائع استعمال کرنے سے تبدیل کردیا گیا تھا۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعے کوئی نئی حقیقت نہیں بنائی جا رہی بلکہ یہ ایران کے بار بار دہرائے جانے والے جارحانہ رویّے کے سلسلے کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان نے آبنائے ہرمز کھولنے کی حمایت کردی

Published

on



اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی سے متعلق قرارداد کی حمایت کردی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر ان مشکل حالات میں برادر مملکت بحرین اور دیگر برادر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سلطنتِ عمان اردن کے ساتھ یکجہتی، غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے فریق تو نہیں، مگر اس کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ آبنائے ہرمز اشیا اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، پاکستان جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی، شہری جہازوں کی تیز رفتار اور محفوظ آمد و رفت، اور آبنائے میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے اس کے نتائج واضح طور پر سخت اور سنگین ہیں، جبکہ عام پاکستانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی آباد ہے، اس صورتحال کا بوجھ اٹھا رہا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جدید تاریخ کے بڑے توانائی سپلائی جھٹکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اس کے اثرات صرف توانائی کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء تک بھی پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی تحفظ متاثر ہو رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کی معاشی حالت مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر فوجی کشیدگی اور رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ مشکلات خطے سے کہیں آگے بڑھ کر وسیع پیمانے پر معاشی بدحالی کا سبب بنیں گی۔

پاکستان نے کہا کہ مسودہ قرارداد پر بحرین کی انتھک محنت اور وسیع مشاورت پر ان کے شکر گزار ہیں، ہم صورتحال کی فوری نوعیت اور مسودہ قرارداد کے بنیادی مؤقف سے متفق ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف خلیجی تعاون کونسل کے ممالک بلکہ خطے اور اس سے باہر کے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بھی منطقی امر ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بحث یا انتظام میں جی سی سی ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ بحرین کی جانب سے جی سی سی کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد 2817 کی حمایت کی تھی، اور ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اس قرارداد پر حرف بہ حرف اور مکمل طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹو؛ متحدہ عرب امارات کا اظہارِ تشویش

Published

on


متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سلامتی کونسل نے ایران کے غیر قانونی حملوں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے واضح عالمی تعاون کا فریم ورک قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرِ ہرمز کو سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی ملک کو یہ طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کی شریانوں کو بند کرے اور دنیا کو اقتصادی بحران کے کنارے پہنچا دے۔

بیان میں قرارداد پیش کرنے پر بحرین کی قیادت اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ یو اے ای عالمی کوششوں کے ذریعے بحرِ ہرمز کی حفاظت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل ترسیل کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا می تیل کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی جرم، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعظم

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پیٹرول کی بچت اور کفایت شعاری مہم کو کامیاب بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی جرم ہے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا اور اس حوالے سے خطے میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں آج سے نافذ العمل بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کے حوالے سے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ علاقائی صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر پوری قوم مل کر پیٹرول کی بچت اور کفایت شعاری کی مہم میں اپنا حصہ ڈالے، پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ہے اور اس مکروہ فعل میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر منحصر ہے، مارکیٹس 8 بجے بند کرنے اور دیگر کفایت شعاری کے اقدامات کا مقصد نہ صرف قیمتی زر مبادلہ بچانا ہے بلکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنانا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کہا کہ مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات کو 8 بجے بند کرنے کے حوالے سے حکومت سندھ کے ساتھ مشاورت جاری ہے، صوبائی حکومتوں سے تیل پر سبسڈی کے حامل افراد کے کوائف موصول ہونے شروع ہو گئے ہیں اور تصدیق کے بعد ایک شفاف ڈجیٹل نظام کے ذریعے انہیں سبسڈی کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے 4 اپریل سے مال بردار گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کو  سبسڈی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احسن اقبال، عبد العلیم خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، سردار اویس احمد لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق باجوہ اور طلحہ برکی، گورنر اسٹیٹ بینک، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز اور انسپیکٹر جنرل آف پولیس سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔



Source link

Continue Reading

Trending