Today News
برکت رمضاں … مگر کہاں؟
ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔
پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔
چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔
اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔
پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔
اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔
برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔
جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔
اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…
ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔
Today News
یو اے ای سے قرض رول اوور پر رابطے جاری ہیں، وزیر خزانہ
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت کے متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالرکے قرض کی مدت میں توسیع (رول اوور) کے معاملے پررابطے جاری ہیں، اس سلسلے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں، وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بیرونی مالیاتی خلا مکمل پُرکیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں، بیرونی مالی ضروریات پرآئی ایم ایف سے پروگرام کے آغاز میں بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ مذاکرات میں بھی اس کاجائزہ لیا جائیگا۔
7 ارب ڈالرکے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالرکے ڈپازٹس پروگرام کی مدت ستمبر تک برقراررکھنے کاعزم کررکھاہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق اس باریو اے ای نے قرض کی مدت میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی تھی،جبکہ مزید توسیع کے بارے میں باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ دسمبر میں گورنر اسٹیٹ بینک نے یو اے ای سے 2.5 ارب ڈالرقرض 2 سال کیلیے رول اوورکرنے اورشرح سود 6.5 فیصدسے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی درخواست کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوری میں گزشتہ توسیع کے وقت اماراتی حکام نے عندیہ دیا تھاکہ یہ آخری توسیع ہوگی۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پہلے بتا چکے ہیں کہ عرب امارات فوجی فاؤنڈیشن کے ایک ارب ڈالر مالیت کے حصص کے حصول پر بھی بات چیت کررہا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالرکے ایکسٹینڈڈ فنڈفیسیلٹی اور 1.4 ارب ڈالرکی ریزیلینس اینڈسسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف بورڈ سے 1.2 ارب ڈالرکی دو قسطوں کی منظوری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
آئی ایم ایف مشن کراچی پہنچ چکا ہے جہاں وہ اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کاجائزہ لے گا، جس میں نیٹ انٹرنیشنل ریزروز، نیٹ ڈومیسٹک اثاثے اور سواپ پوزیشن شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات کیلیے اچھی پوزیشن میں ہے، آئندہ دنوں میں کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت ہوگی۔
Today News
قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت
آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزہ مشن کی آمد اب محض ایک سفارتی دورہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک امتحان کی گھڑی ہے کیونکہ اب چھ ماہ کی کارکردگی کا ایک ایک ہندسہ کٹہرے میں ہوگا۔ ہر وعدہ ترازو میں تولا جائے گا اور ہرکمزوری بے رحم سوالوں کے نرغے میں آ جائے گی،کیونکہ آئی ایم ایف ایک ایسے مہمان کی طرح آتا ہے جو دروازہ تو کھٹکھٹاتا ہے تو سلام نہیں جواب مانگے گا۔ ان کی آمد کا سن کر حکام اپنے معاشی کپڑوں کی سلوٹیں درست کرنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی معاشی کمزوریوں کو زبان کے پھولوں میں چھپا لیتے ہیں۔
اپنے نہ پورے کیے گئے وعدوں کو گراف اور چارٹ میں سجا کر ایک ایسے ادارے کے سامنے رکھ دیتے ہیں جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’ معالج معیشت‘‘ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ معالج نے خوب علاج کیا، لیکن یورپ کی شکستہ معیشت کا۔ لیکن جب باری آئی پاکستان اور کئی ترقی پذیر افریقی ممالک کی تو پھر طریق علاج میں تبدیلی آ گئی۔ کئی افریقی ممالک نے تو جلد ہی ان کے ہاتھ سے اپنی نبض چھڑا لی تھی۔ اب طے کیا گیا ہے کہ مشن کی آمد 25 فروری کو ہوگی اور وہ پاکستان کی معیشت کی نبض کو ٹٹولیں گے۔
آئی ایم ایف جب بھی آتا ہے تو صرف وفد نہیں آتا فیصلے آتے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو عوام کے مستقبل کی قیمت رکھی جاتی ہے، آئی ایم ایف سوال کرتا ہے تو جواب میں صرف وزیر نہیں بولتے مہنگائی بولتی ہے۔ بے روزگاری، چیخیں مارتی ہے، مزدور اپنا سر پیٹتا ہے جو مزدوری میں سے بہت کچھ بچا کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ وفد نے جولائی سے دسمبر تک کی کارکردگی کو دیکھنا ہی نہیں ٹٹولنا ہے، پرکھنا ہے۔
اگر وہ معیشت کو غور سے دیکھے تو معیشت کے چہرے کی جھریاں جو چھپی ہوئی ہیں اسے پھر بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ وہ چھ ماہ ہیں جن میں حکومتی تقریروں میں کامیابی کے پھول کھلے ہیں اور بازاروں میں قیمتوں کے کانٹے بڑھے وہ چھ ماہ جن میں فائلوں میں نظم و ضبط لکھا گیا اور عوام کی جیب میں بے بسی۔ پاکستان میں اعداد و شمار بھی کبھی کبھی باادب بن جاتے ہیں۔ وہ سچ بولتے ہیں مگر ایسے انداز میں کہ حکمران اس سے تعریف کشید کر لیتے ہیں اور عوام ان سے خوف۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پرائمری بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا۔ یہ اصلاح سننے میں ایسے ہے جیسے حکومت نے اپنے سارے اخراجات پورے کر لیے۔ کاغذ پر کامیابی ہی کامیابی ہے لیکن کاغذ کی دنیا اور گلی کی دنیا میں یہ فرق ہے کہ کاغذ میں خوشحالی کا گراف نمایاں ہوتے ہیں اور گلی کے بچوں کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے۔پرائمری سرپلس کا جشن مناتے وقت ایک سوال دب کر رہ جاتا ہے۔
یہ سرپلس کس قیمت پر آیا؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ سرپلس عوام کی سانسیں کم کر کے حاصل کیا گیا ہو۔ کہیں یہ سرپلس اسکول کی مرمت روک کر، اسپتالوں کی دوا کم کر کے، اور یہ بات حقیقت بھی ہے۔ ایک پنشنر کا کہنا ہے کہ اسپتال میں پہلے باقاعدگی سے انسولین، دیگر ادویات اور شوگر چیک کرنے کی اسٹرپس مل جایا کرتی تھیں، لیکن اب چھ، چھ ماہ دوا نہیں ملتی۔ کم از کم اسپتالوں کو مکمل فنڈ مہیا کیا جائے اور ادویات کے بارے میں چیکنگ کا درست نظام نافذکیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب ادویات کی کمی ہو جاتی ہے تو شاید سرپلس کی رپورٹ صحت سے کھیل کر بنائی گئی ہو۔
پھر وہ عدد سامنے آتا ہے کہ 329 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال۔ یہ محض مالیاتی اصطلاح نہیں۔ یہ ایک چیخ ہے جو بجٹ کی میز کے نیچے دب گئی ہے۔ 329 ارب روپے وہ رقم ہے جو اگر ریاست کے خزانوں میں ہوتی تو ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ ان کو آئی ٹی کی تعلیم مفت فراہم کی جا سکتی تھی۔
سرکاری اسپتالوں میں انسولین، اسٹرپس، بی پی کی گولیوں اور دیگر ادویات پنشن لینے والوں کو دی جا سکتی تھی۔ٹیکس وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کی معیشت کا پرانا راز بار بار کھلتا ہے۔ ٹیکس انصاف سے نہیں وصول کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جن کے زیادہ ٹیکس بنتے ہوں ان کو ٹیکس کم ادا کرنے کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ کچھ ان کا فائدہ کچھ ان کی جیب کا فائدہ۔ زیادہ تر ٹیکس دینے والا تنخواہ دار طبقہ ہوتا ہے۔ صارف ہوتا ہے جو ہر چیز خریدتے وقت پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے اور جو اشرافیہ طاقتور اور مافیاز ہیں وہ خود کو ان سے ملا کر ٹیکس بچا لیتے ہیں۔ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت اپنی کیا صفائی پیش کرے گی؟
Today News
عملی اقدامات کی ضرورت – ایکسپریس اردو
سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ اسمبلی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک قرارداد کے ذریعے اپیل کی کہ وہ سندھ میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد جو مہاجر سندھ آئے سندھیوں نے انھیں خوش آمدید کہا مگر بعد میں صوبے میں لسانی تضادات ابھرے۔ برسرِ اقتدار حکومتوں میں سے کچھ نے ان تضادات سے اپنے مفادات پورے کیے اور کچھ حکومتوں نے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو پیدا ہونے والے تضادات کے اثرات اگلی صدی تک پڑیں گے۔
سندھ اسمبلی نے سندھ کو توڑنے کے خلاف قرارداد تو منظور کر لی مگر صوبے میں بدترین طرزِ حکومت اور عدم شفافیت کی جڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی شہر کی اونر شپ نہیں لی بلکہ یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے علاوہ دیگر جماعتیں برسر اقتدار آئیں تو انھوں نے بھی کراچی کی اونر شپ نہیں لی۔ کبھی کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں آگے تھا مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر سندھ پر 28 سال حکومت کی ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر کو جدید شہر بنانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ سب سے پہلے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیچھے چلا گیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو اس شہر میں ڈبل ڈیکر بس، ٹرام اور سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے ٹرام وے سروس کو بند کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ماس ٹرانزٹ پروگرام تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، جب پیپلز پارٹی نے 1988کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ماس ٹرانزٹ پروگرام کے بارے میں کچھ فائلوں میں کام ہوا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993 میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں تو فہیم الزماں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا مگر پھر فہیم الزماں پیپلز پارٹی کے نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے۔
ان کے رخصت ہونے کے بعد ماس ٹرانزٹ پروگرام کہیں کھو گیا، سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔ کراچی بد امنی کا شکار ہوا۔ نجی شعبہ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی۔ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی تیسری دفعہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت بنی تو شہری چین کے مال برداری کے لیے تیار کردہ چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ چند سال قبل شرجیل انعام میمن کو پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ دیا گیا۔ حکومت نے 300 بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر اپنا فریضہ پورا کر ڈالا۔ کراچی کو انڈر گراؤنڈ ٹرین، الیکٹرک ٹرام اور جدید بسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔
گزشتہ 18 برسوں کے دوران کراچی والوں کے لیے پانی ایک نیا مسئلہ بن گیا۔ شہر کے بہت سے علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں آتا مگر شہر میں ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت ہوتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے میئر سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہائیڈرنٹ پر پانی آتا ہے تو پھر نلوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ حکومت پانی کی فراہمی کے نظام کو بجلی بند ہونے کی صورت میں آج تک متبادل نظام دینے میں ناکام رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کی منصوبہ بندی کتنی اعلیٰ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10 سال قبل اربوں روپے سے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور مشکل سے یہ سڑک تیار ہوئی۔ سندھ حکومت کو ریڈ لائن بنانے کا خیال آیا اور اس نئی سڑک کو پھر توڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اب 7 سال ہونے کو ہیں مگر یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی اذیت سے گزرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اکابرین اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح مینا بازار کریم آباد انڈر پاس کا منصوبہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ سندھ میں ملازمتوں کا ہے۔ انگریز دور سے نافذ کردہ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع کے شہریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو بری طرح پامال کیا۔ اے جی سندھ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس قانون شکنی پر حکومت سندھ پر گرفت ہوسکتی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ اتنی بڑی خلاف ورزی ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جو موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ہے اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کی بدحالی پر تو سندھ ہائی کورٹ مفصل فیصلہ دے چکا ہے۔ اس کمیشن میں شفافیت کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق جو صدر آصف زرداری کے بچپن کے دوست ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے کمیشن کا نظام کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی تو انھیں حقائق کا اندازہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ صوبے میں ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سیکڑوں افراد کی اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی اور پھر ان کی برطرفی اور ان افراد کے ملازمت کے لیے لاکھوں روپے بطور رشوت دینے کی داستانیں بہت سے حقائق کو اجاگر کرتی ہیں۔
کراچی میں عمارتوں کا گرنا عام سی بات ہے مگر ہر دو چار مہینے بعد کسی نہ کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو کبھی بھی احتساب کا عمل منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ گزشتہ سال لیاری میں ایک عمارت گری تھی۔ حکومت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کچھ افسروں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔ یہ افسر چند دن جیل میں مہمان رہے۔ ناقص چالان کی بناء پر باعزت بری کر دیے گئے۔ گل پلازہ کے حادثے کے بعد ٹریفک کے ناقص انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک کو معطل کر دیا گیا مگر وہ پھر بحال ہوگئے۔ سندھ میں قانون کی عملداری کا اندازہ ایک انگریزی اخبار میں کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بارے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک سابق رکن کی مرضی کے بغیر ضلع غربی میں کسی پولیس افسر کا تقرر نہیں ہوسکتا۔
کراچی میں سیوریج کا نظام اور کوڑے کے ٹیلوں کا معاملہ امریکا کے اخبارات تک پہنچ گیا۔ واٹر بورڈ کے پاس سیوریج کی لائنوں کی تبدیلی کے لیے اگست کے مہینے میں فنڈز نہیں ہوتے۔ حکومت نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک کارپوریشن بنائی۔ اپنے چند افسروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا مگر شہر کا کون سا علاقہ ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ ہوں اور سڑک پر گندا پانی نہ بہہ رہا ہو۔ جب بارش ہوتی ہے تو شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے۔
اس گندگی کی بناء پر ایک طرف کتوں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور کراچی شہر میں سیکڑوں افراد ہر سال کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں شام کو رونق زیادہ ہوتی ہے، جو سرکاری ملازمین عمرہ، حج اور زیارتوں پر جاتا ہے اسے این او سی کے لیے ’’ ہدیہ‘‘ دینا پڑتا ہے۔ جو ملازم ریٹائر ہوجائے اور جو ملازم انتقال کرجائے تو اس کے لواحقین کو پنشن کی فائل مکمل کرنے کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کی حکومت میں اندرون سندھ کی پسماندگی کی بناء پر ملازمتوں اور پروفیشنل کالجوں میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ اب ہر شہر میں یونیورسٹی قائم ہے۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگیا ہے تو کوٹہ سسٹم کا جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔ تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اسی طرح ایک یا دو اضلاع میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔
اس بات کی تحقیقاتی ہونی چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے جب ایک ملاقات میں یہ سوال کیا گیا کہ کراچی میں روٹی کیوں مہنگی ہے تو انھوں نے کہا کہ سندھ کے افسروں میں کام کرنے کی اہلیت نہیں مگر یہ بیوروکریسی تو سب کوٹہ سسٹم کے تحت آئی ہے۔ بدترین طرزِ حکومت کا کیا جواز ہے؟ عجیب بات ہے کہ صدر ملک کے آئینی صدر ہیں مگر وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر کانفرنس کرتے ہیں۔ تمام گورنر اپنی جماعتوں کی سیاست کرتے ہیں۔
صدر اور گورنر صاحبان کو اپنی جماعت کی سیاست کے بجائے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ شہری مسائل کا حل دنیا کے جدید شہریوں کی طرح نچلی سطح کے اختیار تک کی کارپوریشن کے قیام میں ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور پورا کراچی اس کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ صوبائی وزراء کہتے ہیں کہ کراچی میں چھوٹا مسئلہ بڑا بن جاتا ہے۔ پہلے آمر ایوب خان کو بھی یہی شکایت تھی۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری سے یہ سازش ناکام نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch