Today News
برکت رمضاں … مگر کہاں؟
ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔
پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔
چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔ اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔
پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔
برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔
جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔
اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…
ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔
Today News
باجوڑ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، دہشت گرد زندہ گرفتار، ویڈیو جاری
باجوڑ سیکٹر کے قریب پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک دہشتگرد کو بارڈر کراس کرنے کی کوشش کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زندہ گرفتار کر لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد نے ابتدائی تفتیش میں اپنا نام عبداللہ بتایا ہے، جبکہ اس سے مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت اور دراندازی کے خلاف مکمل الرٹ ہیں اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
Today News
سیّدہ النساء خاتون جنت حضرت فاطمہ زھرا ؓ
باپ بیٹیوں کی باہمی محبت ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن باپ بیٹی کی محبت کی معراج کا جو منظر انسانیت نے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور خاتون جنّت حضرت فاطمہ زھراؓ کی صورت دیکھا تاریخ انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
جہاں باپ بیٹی کی یہ محبت سنت رسول ﷺ کی شکل میں مسلمانوں کے لیے تا ابد باعث تقلید بن گئی وہیں خداوند عالم نے ان دونوں ہستیوں کے مقام کو عظمت و رفعت کے درجۂ کمال تک پہنچا دیا۔ والد گرامی اگر شافع محشر ﷺ ہیں تو بیٹی خاتون جنّت ٹھہریں، والد گرامیؐ اگر فخر موجوداتؐ ہیں تو بیٹی سیدۃ النساء العالمینؓ ہیں، والد گرامی ﷺ کا اسوۂ اخلاق حسنہ کا نمونہ ہیں تو بیٹی کو خواتین کے لیے اسوہ کامل کہا گیا، والد گرامی ﷺ نے احد و خندق میں زخم کھائے تو بیٹی ان زخموں کا مرہم بنتی رہیں، باباؐ نے کفر و بت پرستی کے شکار انسانوں کو مرکز توحید پر جمع کیا تو بیٹی کی عظمت و ہیبت دیکھ کر باطل کے پیروکار اسلام کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے.
والد گرامی ﷺ کی نصرت کے لیے بدر میں فرشتے اترے تو بیٹی کے ایثار و قربانی کے صلے میں آسمانوں سے خوان اترتے رہے، والد گرامی ﷺ کی تعظیم حضرت آدم سے عیسیؑ تک ہر نبی پر واجب تھی تو بیٹی کی تعظیم کے لیے نبیوں کے سردار ﷺ خود ایستادہ ہوجاتے، بابا ﷺ پر درود بھیجنا عبادتوں کی قبولیت کی سند ٹھہرا تو بیٹی کے دروازے پر خیر البشرؐ سلام کی صدائیں بلند کرتے رہے، والد گرامیؐ نے دنیا سے کفر و شرک کی کثافتوں کو دور کیا تو بیٹی کساء اوڑھ کر طہارتوں کا مرکز بن گئیں، والد گرامیؐ اگر آگ اور خون کے دریا عبور کرکے انسانیت کی نجات کا لازوال چارٹر اسلام دنیا میں لائے تو بیٹی نے بابا کے لائے ہوئے دین کے تحفظ کی خاطر ایسی اولاد پروان چڑھائی جو قیامت تک کربلا بسا کر دین کا حصار بن گئی۔
عورت ہر زمانے میں استحصال کا شکار رہی ہے اور قبل از اسلام تو عورت ذلت کی اس پاتال اس قدر گر چکی تھی جس کا اندازہ قرآن کے سورہ نحل ان آیات سے ہوتا ہے، مفہوم:
’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے ۔ بیٹی کی خبر کی عار سے قوم سے چھپا پھرتا ہے (سوچتا ہے) آیا اس کو اپنی ذلت پر رہنے دے یا اس کو خاک میں گاڑ دے۔‘‘ (سورہ نحل)
اسلام نے عورتوں کو استحصال سے نجات دلانے اور ان کی منزلت بتانے کے لیے دختر رسول کریم ؐ خاتون جنت حضرت فاطمہ زھراؓ کا انتخاب کیا، اس قدر منزلت تھی حضرت فاطمہ زھراؓ کی کہ تمام انسانیت کے تاج دار اور انبیاء و رسلؑ کیے سردار نبی کریم ﷺ کی زندگی کی بہار بن گئیں، کفار کے چہرے بیٹی کی خبر سن کر سیاہ ہوتے تو نبی کریمؐ کا چہرہ کِھل اٹھتا، نبی کریمؐ مدینہ سے باہر جاتے تو سب سے آخر میں بیٹی سے ملتے اور واپس آکر سب سے پہلے بیٹی فاطمہؓ سے ملتے۔ دنیا کی نسل بیٹوں سے چلتی تھی تو نبی کریم ؐ نے اپنی نسل کا ذریعہ اپنی بیٹی کو قرار دیا، کفار کے مقطوع النسل ہونے کے طعنوں کا جواب حضرت فاطمہ زھراؓ بنیں۔
حضرت جابر ابن عبداﷲ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:
’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے ، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا ولی ہوں۔‘‘
حضرت ابُوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں نبی اکرم ؐ نے فرمایا:
’’ہر نبی قیامت کے دن اپنی سواری کے جانوروں پر سوار ہو کر اپنی قوم میں سے ایمان والوں کے ساتھ میدان محشر میں تشریف لائیں گے، حضرت صالحؑ اپنی اونٹنی پر لائے جائیں گے اور مجھےؐ براق پر لایا جائے گا جس کا قدم اس کی منتہائے نگاہ پر پڑے گا اور میرے آگے فاطمہؓ ہوگی۔‘‘
(مستدرک الحاکم)
جس بیٹی کو دنیا و آخرت اور زمین و آسمان پر اﷲ اور نبی کریم ﷺ نے اتنا مقام عطا کیا وہ بیٹی اپنے بابا کی جدائی برداشت نہ کرسکیں، نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ زھراؓ کا گھر بیت الحزن بن گیا۔ نبی کریمؐ کی پیش گوئی کے مطابق وصال نبویؐ کے بعد محض40 یا 75یا 95 دن یا اہل سنت روایات کے مطابق 6 ماہ زندہ رہ سکیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے: ’’اپنے وصال کے وقت رسول اﷲ ﷺ نے فاطمہؓ کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد آپؐ نے پھر سرگوشی کی تو آپؓ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا ﷺ نے اپنی رحلت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جا ملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔‘‘ (بخاری، مسلم، احمد بن حنبل)
جب حضرت فاطمہؓ آقائے دو جہاں حبیب خدا ﷺ کے مزارِ اَقدس پر حاضر ہوتیں تو فریاد کرتی تھیں، قبرِ اَنور کی مبارک مٹی اٹھا کر آنکھوں پر لگا لیتیں اور حضور ﷺ کی یاد میں رو رو کر یہ اَشعار پڑھتیں، مفہوم:
’’جس شخص نے آپ ﷺ کے مزارِ اَقدس کی خاک کو سونگھ لیا ہے اسے زندگی میں کسی دوسری خوش بُو کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ کے وِصال کی وجہ سے مجھ پر جتنے عظیم مصائب آئے ہیں اگر وہ دنوں پر اُترتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔‘‘ (ذھبی، روح المعانی)
حضرت فاطمہ زھراؓ نبی کریمؐ کی قمیص سونگھتیں اور گریہ کرتیں۔ بحار الانوار میں روایت ہے کہ جب پیغمبرؐ وفات پاگئے تو موذن رسول ﷺ حضرت بلالؓ نے اذان دینی بند کردی تھی۔ ایک دن جناب فاطمہؓ نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپؐ کے موذن کی اذان سنوں۔ بلالؓ نے جناب فاطمہؓ کے حکم پر اذان دینی شروع کی اور اﷲ اکبر کہا۔ جناب فاطمہؓ کو اپنے باپ ﷺ کے زمانے کی یاد آگئی اور رونے پر قابو نہ پاسکیں اور جب بلالؓ نے اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہا تو جناب فاطمہؓ نے باپ کے نام سننے پر ایک چیخ ماری اور غش کرگئیں۔ (بحار الانوار)
پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد کسی نے حضرت زھراؓ کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپؓ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں تو بے حد مغموم و فکر مند تھیں۔ حضرت فاطمہ زھرا کا فرمان ہے کہ بہترین عورت وہ ہے کہ جس کی آواز نامحرم نہ سنے اور وہ بھی کسی نامحرم کی آواز نہ سنے۔
جس طبقہ خواتین کو اسلام نے ذلت کی پاتال سے حضرت فاطمہ زھراؓ کی مسیحائی کے ذریعے نکالا تھا، جن کی گردنیں ذلت کے خوف سے اڑا دی جاتی تھیں، ان کے قدموں تلے جنّت کو قرار دیا گیا۔ آج ایک بار پھر اس عورت کا مقام شیطانی حملوں کی زد میں ہے جس کی تقدیس کے سامنے گردنیں خم ہوجاتی تھیں، اسے پھر بازار کی جنس بنانے پر زور ہے۔ اس گم راہی اور بے راہ روی کے طوفان کا مقابلہ سیرت حضرت فاطمہ زھراؓ کو اپنا کر ہی کر سکتی ہیں۔ کیا وہ میرا جسم میری مرضی کے نعروں کے جال میں دوبارہ اپنے آپ کو اسی ذلت کے قید خانے میں محبوس کردینا چاہتی ہیں جس سے اسلام نے انہیں نکالا تھا۔ خواتین عالم کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ان کی آزادی، عزت، حرمت اور دنیا و آخرت میں سرفرازی و کام رانی اسلام کی بتائی ہوئی راہوں پر چلنے میں ہے جن کی نشان دہی خاتون جنت سید النساء العالمین حضرت فاطمہ زھراؓ نے کی تھی۔ اسی لیے ارمغان حجاز میں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری
ترجمہ: ’’اگر تُو یہ چاہتی ہے کہ تیری آغوش سے کوئی امام حسینؓ جیسا پروان چڑھے تو انھیں دامن فاطمہ زھرا ؓسے وابستگی اختیار کرنا ہوگی۔‘‘
چلو سلام کریں ایسے آستانے کو
حسینؓ پال کے جس نے دیا زمانے کو
خواتین عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے مصائب کا خاتمہ، حقیقی آزادی اور حقوق کی بازیابی سیرت خاتون جنّت کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔ خداوند عالم قوم کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو سیرت فاطمہ زھراؓؓ پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
Today News
مودی کا دورئہ اسرائیل: پاکستان کے لیے باعث تشویش؟
آج بروز جمعہ ، بتاریخ 27فروری2026، جب یہ کالم شائع ہوگا، بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، اپنے سرکاری دو روزہ دَورئہ اسرائیل سے واپس اپنے ملک آ چکے ہوں گے ۔اُن کا یہ دَورہ 25اور26فروری کے دو ایام پر محیط تھا۔ یہ دَورہ ایسے ایام میں ہُوا ہے جب مغربی ایشیا پر خطرات کے کئی بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جب امریکہ اپنے سامراجی مذموم مقاصد کی تکمیل اور حصول کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے ۔ایرانی مذہبی انقلابی قیادت بھی اپنے تئیں اپنے موقف اور اپنے مبینہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈٹی ہُوئی ہے ۔ امریکہ کے مقابل ایران کا ڈَٹ جانا خود امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو حیران اور ششدر کررہا ہے ۔ مودی جی نے ایسے ایام میں اسرائیل کا دَورہ کیا ہے جب چند دن قبل ہی امریکی صدر نے واشنگٹن میں ’’ بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے عالمی شہرت یافتہ اجلاس کی صدارت کی ہے ۔ اِس اجلاس میں مودی کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، لیکن اُنھوں نے خود شریک ہونے کی بجائے اپنے ایک نمایندہ کو واشنگٹن بھیج دیا ۔ یہی اسلوب اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے اختیار کیا ۔بورڈ آف پِیس کے پہلے اجلاس میں بھارتی شرکت کو ’’آبزرور‘‘ کا درجہ دیا گیا۔
اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ خاصے گہرے بھی ہیں اور کسی سے مخفی بھی نہیں ۔ مودی جی ایسے ایام میں اسرائیل کے دَورے پر گئے ہیں جب ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ( Mike Huckabee) نے امریکی صحافی(Tucker Carlson) کو انٹرویو دیتے ہُوئے یہ لاف زنی اور دریدہ دہنی کی ہے کہ’’اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اسرائیل کو یہ حق بائبل نے دیا ہے ۔‘‘ بین الاقوامی قوانین کی توہین کرتے اِس بیان کی پاکستان سمیت تمام عالمِ اسلام نے سخت الفاظ میں بیک زبان ہو کر مذمت کی ہے ۔ اِس بیان نے ایک بار پھر اسلام مخالف امریکی و اسرائیلی گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دی ہے ۔وائیٹ ہاؤس نے ابھی تک اپنے سفیر کے مذکورہ بالا بیان کی تردید کی ہے نہ مذمت ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان کو نریندر مودی کے دَورئہ اسرائیل پر بجا طور پر تشویش ہُوئی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس تناظر میں 24فروری کو پاکستانی سینیٹ میں ایک متفقہ قرار داد بھی منظور ہُوئی ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا :’’ یہ ایوان بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ اور صہیونی توسیع پسندانہ عزائم( امریکی سفیر کے مذکورہ بالا بیان کے حوالے سے) کی مذمت کرتا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم اسرائیل کا دَورہ کررہے ہیں ۔ اِس پر بھی ہمیں تشویش ہے ۔ جس دن بھارت و اسرائیل (مودی کے دَورے کے بعد) میں نیا اتحاد تشکیل پائے گا، یہ سینیٹ اور حکومت اِس کا ڈَٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘‘
اِس بیان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مودی کے دَورئہ اسرائیل پر پاکستان کو واضح تشویش ہے ۔ یہ تشویش ہونی بھی چاہیے کہ اِس دَورے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے کھل کر کہا تھا:’’مودی میرا عزیز دوست ہے ۔ نریندر مودی کے اسرائیل آنے سے ہم دونوں ملک ایک نئے ،متنوع اور تزویراتی اتحاد میں پروئے جائیں گے ۔‘‘اور ہُوا بھی ایسا ہی ہے ۔ مودی کے اِس دَورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان جو مبینہ اسٹریٹجک معاہدے اور ایم او یوز ہُوئے ہیں ، عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان کو اِن پر تشویش ہے ۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام اس لیے بھی مودی کے دَورئہ اسرائیل پر مشوش ہیںکہ غیر مبہم الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آئے روز دہشت گردی کی جو خونی ، المناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں، اِن کے عقب میں مقتدر افغان مُلّا طالبان اور بھارت کے اتحاد کی کارفرمائی ہے۔آگے بڑھ کر ہمارے ایک سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے اگلے روز مین اسٹریم میڈیا اسکرین پر یہ بھی کہا ہے کہ ’’ پاکستان کے خلاف طالبان کے افغانستان، نریندرمودی کے بھارت اور نیتن یاہو کے اسرائیل کا گٹھ جوڑ سب پر آشکار ہو چکا ہے ۔‘‘
پاکستان کے خلاف صہیونی اسرائیل و بھارت کا اتحاد (مئی 1999میں) اُس وقت بھی کھل کر سامنے آیا تھا جب اسرائیل نے کارگل میں پاکستانی مجاہدین و سیکیورٹی فورسز کا ہلاکت خیز مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی طور پر بھارت کو اپنے مخصوص میزائل فراہم کیے تھے ۔پاکستان کے خلاف یہ اتحاد اُس وقت بھی پھر کھل کر سامنے آیا تھا جب مئی2025 کی چار روزہ جنگ ( جس میں پاکستان نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا تھا)میں اسرائیل نے اپنے جدید ترین جنگی ڈرونز بھارتی فوج کو فراہم کیے تھے۔ 24فروری2026 کو ’’عرب نیوز‘‘ میں ( مودی کے دَورئہ اسرائیل کے حوالے سے) جو تفصیلی رپورٹ شائع ہُوئی ہے، اِس میں بھی اِن اسرائیلی جنگی ڈرونز کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ’’عرب نیوز‘‘ نے اپنی مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی لکھا:’’ بھارتی وزیر اعظم بدھ ( 25اور26 فروری) کو جس اسرائیلی دَورے پر جا رہے ہیں، یہ تجارت ، کاروبار اور دفاع کے اعتبار سے نہائت اہم ہے ۔ اسرائیل دراصل بھارت کا اہم ترین ٹریڈ و ڈیفنس پارٹنر ہے۔ مودی کے اسرائیلی دَورے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ میں توازن کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کو بڑھا رہا ہے ۔‘‘ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ’’عرب نیوز‘‘ کی جانب سے بھارت کی اِس غیر معمولی تعریف کے کیا معنی ہیں؟
صرف پاکستان ہی کو نریندرمودی کے دَورئہ صہیونی اسرائیل پر تشویش نہیں ہے ، بلکہ خود بھارت کی اپوزیشن نے بھی کھلے الفاظ میں مودی کے اِس دَورے کی مخالفت کی ہے ۔ مثال کے طور پر کانگریس کے سیکریٹری جنرل ( جئے رام رامیش) نے مودی کے اسرائیل روانہ ہونے سے قبل کہا:’’ مودی جی کا دَورئہ اسرائیل کھلی منافقت ہیں۔ ماضی قریب میں بھارت اور مودی فلسطین کی کھلی حمائت کر چکے ہیں ۔ اب جب کہ اسرائیل پچھلے دو برسوں میں ایک لاکھ کے قریب اہلِ غزہ کو قتل کر چکا ہے، مودی کا اسرائیلی دَورہ چہ معنی دارد؟ مودی نے اِس دَورے سے ثابت کر دیا ہے کہ اُنھوں نے فلسطین اور فلسطینیوں سے ناتہ توڑ لیا ہے ۔‘‘ جئے رام رامیش نے مزید کہا:’’ بھارت اور مودی جی ایران سے بھی دوستی اور تعاون کا دَم بھرتے رہے ہیں ۔ اب جب کہ امریکہ اور اسرائیل اکٹھے ہو کر ایران پر میزائل برسانے کی تیاریاں کررہے ہیں، ایسے حساس لمحات میں مودی جی کا اسرائیل جانا ہرگز مناسب نہیں ہے ۔‘‘
لیکن نریندر مودی اپنے ہم وطن سیاسی حریفوں اور عالمی دوستوں کے طنزو تعریض اور نصیحتوں کے برعکس پندار کا صنم کدہ ویران کرتے ہُوئے اسرئیل پہنچے ۔ اُن کے دَورے سے فلسطین اور ایران کو بھی سب سے بڑا دھچکا اور دکھ پہنچا ہے۔ مگر ہندو بنیا سب سے پہلے اپنے مفاد دیکھتا ہے۔ مودی کا اسرائیل کے ساتھ ذاتی مفاد یہ بھی ہے کہ اُن کے ارب پتی قریبی دوست ( گوتم اڈانی ، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کی بھرپور مالی امداد کرتے ہیں) اسرائیل کی ایک اہم ترین بندرگاہ(حائفہ) چلاتے ہیں۔ بھارت و اسرائیل کی دو طرفہ تجارت کا گراف بھی 4ارب ڈالر کو چھُو رہا ہے ۔ رُوس اور فرانس کے بعد اسرائیل وہ ملک ہے جو بھارت کو سب سے زیادہ جدیدترین دفاعی سازوسامان فراہم کررہا ہے ۔عالمی دفاعی معاملات پر کڑی نظر رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ادارے SIPRI (اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پِیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)کا دعویٰ ہے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران بھارت نے دُنیا بھر سے جتنا بھی اسلحہ و دفاعی سازوسامان خریدا ہے، اِس کا13فیصد اسرائیل سے آیا ہے ۔
بھارت و اسرائیلی سفارتی تعلقات بھی پرانے اور گہرے ہیں ۔ آزادی کے ایک سال بعد ہی جواہر لعل نہرو نے اسرائیل کو بطورِ مملکت تسلیم کر لیا تھا۔ مگر باقاعدہ سفارتی تعلقات آج سے 33سال قبل (1992کے دوران) معرضِ عمل میں آئے ۔ پاکستان دشمن نریندر مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات کو آگے بھی بڑھایا اور اِنہیں مضبوط بھی کیا ۔ مودی جی پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں جنھوں نے 2017 میںاسرائیل کا سرکاری دَورہ کیا ۔ اُس سے اگلے سال صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے بھارت کا سرکاری دَورہ کیا ۔ رواں برس بھارت اپنے ہاں ’’عرب لیگ‘‘ سے تعلق رکھنے والے وزرائے خارجہ کی کانفرنس بھی کروا چکا ہے ۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion