Today News
بلاول بھٹو زرداری سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں، تنظیمی امور اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال
کراچی:
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں نے ملاقاتیں کیں جن میں تنظیمی امور، عوامی مسائل اور حکومتی کارکردگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور سندھ حکومت میں وزیر برائے محنت و سماجی تحفظ سعید غنی نے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کر کے انہیں کراچی ڈویژن کی تنظیمی صورت حال سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر سعید غنی نے اپنے محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
دریں اثنا رکن سندھ اسمبلی حسن علی شاہ نے بھی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نوشہرو فیروز کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی طرح پیپلزپارٹی مظفرگڑھ کے رہنما ارشاد سیال نے بلاول ہاؤس میں چیئرمین پیپلزپارٹی سے ملاقات کر کے ضلع کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا۔
علاوہ ازیں سندھ حکومت کے ترجمان واحد ہالیپوتو نے بھی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور انہیں صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
Today News
پیغام ماضی، تحریک پاکستان سے حقیقی آزادی تک
انگریزوں اور ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھنے کے بعد قائد اعظم نے ایک علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کی۔
قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں ، جن کا رنگ، نسل اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے
قرارداد پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر سید حسن رضوی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کہتے تھے کہ اس وقت ہم انگریزوں کے غلام ہیں، انگریز جانے والے ہیں اور ہم آزاد ہونے والے ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان نہ بنایا تو ہم انگریزوں کے بعد ہندوؤں کے غلام ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر سید حسن رضوی نے کہا کہ ہندو ہمارے بدترین دشمن ہیں، مسلمان اکثریت علاقے ہیں ان کو ملا کر ایک الگ ملک بنایا جائے، یہ بالکل الگ ملک ہونا چاہئے جس کا نام پاکستان ہو۔
انہوں نے بتایا کہ قائد اعظم کراچی میں سندھ مدرستہ السلام آیا کرتے تھے جہاں وہ لیکچر دیتے، قائد یہاں انگریزی میں نعرے لگواتے تھے جن کا ترجمہ ہمارے پرنسپل کرتے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قائد اعظم کے جانے کے بعد ٹرک آتے تھے جن میں تمام لڑکے سوار ہو جاتے۔ یہ ٹرک پورے کراچی کے چکر لگاتے اور نوجوان قائد اعظم کے ہی نعروں کو دہراتے۔
نعرے یہی ہوتے تھے، پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد اور بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان۔
Today News
پیٹرولیم قیمتیں حلال یا حرام ایڈجسٹمنٹ؟ مزمل اسلم کا دلچسپ اور سخت ردعمل
پشاور:
خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ایڈجسٹمنٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں اسی نوعیت کے فیصلے کو حرام اور آئی ایم ایف مخالف ایڈجسٹمنٹ قرار دیا گیا تھا، جبکہ آج اسی اقدام کو حلال ایڈجسٹمنٹ کہا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 24 روپے فی لیٹر ایڈجسٹمنٹ دی تھی۔
ان کے مطابق اس وقت یہ بندوبست صارفین پر اضافی ٹیکس لگائے بغیر کیا گیا تھا، لیکن اس فیصلے کو میڈیا اور اپوزیشن نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے حرام اور آئی ایم ایف مخالف قرار دیا گیا۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تقریباً اسی صورتحال میں کھڑی ہے اور اسے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی۔
ان کے مطابق حکومت نے مجبور ہو کر 23 ارب روپے کا فرق پورا کیا، جو ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 75 روپے فی لیٹر اور پیٹرول میں 50 روپے فی لیٹر کے برابر بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا تھا، جبکہ آج پیٹرول پر 105 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق دوسری جانب تیل کے اسٹاک کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو غیر معمولی فائدہ ہوا ہے اور ان کا منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
مزمل اسلم نے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 358 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے۔
جبکہ صرف ایک ہفتے میں مٹی کے تیل کی قیمت تقریباً دگنی ہو کر 170 روپے فی لیٹر تک بڑھائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ مٹی کا تیل عام طور پر غریب طبقہ استعمال کرتا ہے اور اسے پیٹرول اور ڈیزل سے بھی زیادہ مہنگا کر دیا گیا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔
Today News
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں، ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی حیران کن دعوے کرتے ہوئے خطے کی صورتحال کو مزید سنجیدہ قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں جبکہ ایران اب تک امریکا کی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاہم اس بارے میں ابھی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہوگی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے اہم آئل ٹرمینل واقع خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ حملوں میں تباہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس جزیرے پر تفریح کے لیے شاید مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport