Connect with us

Today News

بند ہوتی گزرگاہیں اور دنیا کو درپیش نیا خطرہ

Published

on


عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال اور یکطرفہ فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ تنازع ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔

ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباؤ ڈالتا ہے۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اس کی فوجی کارروائی میں شامل ہوں، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔ یورپی ممالک کا اس دباؤ کو مسترد کرنا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب عالمی سیاست میں یکطرفہ قیادت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے کھل کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اس کے مقاصد، حکمت عملی اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف ایک محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یورپی ممالک اب اندھا دھند امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔

نیٹو کے اندر پیدا ہونے والے یہ اختلافات اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اگر ایک اتحاد کے رکن ممالک ایک اہم عالمی بحران پر متفق نہ ہو سکیں تو اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کہ اگر اتحادی ساتھ نہ دیں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل اس اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔

چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔

ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔

یہ تمام صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جانی چاہئیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ ثالثی کے ذریعے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

اس کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں صرف تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان لاتی ہیں۔

اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو عالمی نظام کو مزید کمزور کردیں گے۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو حل کریں بلکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہونے سے بھی روکیں۔

حرف آخر یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانا اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ 

نیٹو جیسے اتحادوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن صرف مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا

Published

on


ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔

علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔

وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔

3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔

شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔

 2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔

تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ سے کب کسی کا فائدہ ہوا ہے؟

Published

on


انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے جنگ۔ تہذیبوں کے آغاز سے لے کر آج کے جدید دور تک انسان نے ترقی بھی کی اور تباہی کے طریقے بھی ایجاد کیے۔

بظاہر جنگیں مختلف وجوہ کی بنا پر لڑی جاتی ہیں،کبھی سرحدی تنازعات،کبھی نظریاتی اختلافات کبھی مذہب اورکبھی قومی مفادات کے نام پر۔ مگر جب ان جنگوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جنگ واقعی کیوں کرائی جاتی ہے اور آخر اس سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عموماً عوام کی خواہش نہیں ہوتی۔ عام انسان امن، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی چاہتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ زیادہ تر ریاستی قیادت طاقتور حلقوں یا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جنگوں کے پسِ پردہ اکثر معاشی سیاسی اور جغرافیائی مفادات ہوتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی اور شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔

جنگ کی ایک بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ طاقتور ممالک یا گروہ ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں کو ہوا دیتے ہیں۔

جب کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر یہی عدم استحکام جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اس طرح وسائل پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ ہے۔ عالمی سیاست میں ہر بڑی طاقت اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔

اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

بعض اوقات یہ کشمکش براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہیں۔

جنگ کی ایک اور وجہ قوم پرستی اور جذباتی بیانیہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرستی کو ابھارتی ہیں۔

میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام جذباتی طور پر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور کیے جا رہے ہوتے ہیں۔

اگر یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے فائدہ کس کو ہوتا ہے تو اس کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی صنعتوں کو ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی صنعت ایک بہت بڑی معیشت بن چکی ہے۔

جب کہیں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو ہتھیاروں کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً اس صنعت سے وابستہ کمپنیاں اور طاقتور معاشی حلقے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض سیاسی قیادتیں بھی جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

جب کسی ملک میں اندرونی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے معاشی بحران سیاسی عدم استحکام یا عوامی ناراضگی تو بعض حکومتیں بیرونی دشمن کا بیانیہ بنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو تاریخ میں کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگی فضا پیدا ہونے سے حکومت کو وقتی طور پر عوامی حمایت بھی مل جاتی ہے۔

جنگ کا ایک فائدہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک کنٹرول کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، اگر کوئی طاقتور ملک کسی اہم خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے عالمی سیاست میں زیادہ طاقت مل جاتی ہے۔

سمندری راستوں معدنی وسائل یا اہم تجارتی گزرگاہوں پر قبضہ عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض جنگیں دراصل ان علاقوں کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی ہیں۔تاہم جنگ کے نقصانات ہمیشہ عام انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

جنگ کے میدان میں جان دینے والے زیادہ تر عام سپاہی ہوتے ہیں جو اکثر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے خاندان جنگ کے بعد بھی صدمے اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ شہروں کی تباہی معیشت کی بربادی مہاجرین کا بحران اور سماجی انتشار جنگ کے وہ اثرات ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر جنگ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔

اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور ترقی کے وسائل بھی جنگی اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں، اگر یہی وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتی ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سماج کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ نفرت، عدم برداشت اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

بچے اور نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں تشدد کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس طرح جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آج کے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جنگ کی ضرورت اور بھی کم ہو جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت مفادات اور سیاست کا کھیل اب بھی جاری ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتی۔

جنگ عارضی طور پر کسی مسئلے کو دبا سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ پائیدار امن صرف انصاف برابری اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے جب کہ اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔

اس لیے انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے اور سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ایک پرامن دنیا ہی وہ خواب ہے جس میں انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خدا کا بندہ خدا سے ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید ہو گئے

Published

on


موجودہ صورتحال میں ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔  

ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندا خدا سے ملا۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔





Source link

Continue Reading

Trending