Connect with us

Today News

بنوں سے اغوا ہونے والے تین سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد

Published

on



بنوں سے اغوا ہونے والے تینوں سرکاری اہل کاروں کی لاشیں مل گئیں، جو آپس میں سگے بھائی تھے۔

ایس ایچ او کینٹ بنوں کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود میں نماز کے دوران تین بھائیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا، تینوں بھائی سوکڑی حسن خیل میں نماز کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔

بنوں پولیس کے مطابق تینوں بھائی سرکاری ملازمین ہیں۔ سعید آختر کمشنر آفس، امجد خان پولیس اور حضرت اللہ کمشنر اسکواڈ پولیس میں ملازم تھا۔

پولیس حکام کے مطابق 10 سے 12 دہشت گرد آگئے اور تینوں کو اغوا کر کے لے گئے تھے۔

ڈی آئی جی بنوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے، خارجی و داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں کر دی گئیں۔ سوکڑی کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں مقرر کرنے کی ہدایت

Published

on



اسلام آباد:

ہائی کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں مقرر کرنے کی ہدایت  کردی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اعتراضات دور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیلوں کو نمبر لگا کر مقرر کرنے کی ہدایت  کردی۔

عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیل پر اعتراضات دور کرنے کی متفرق درخواست منظور کرلی۔ اسی طرح اپیلوں پر اعتراضات دور کرنے کا وقت بڑھانے کی متفرق درخواست  بھی عدالت نے منظور کی۔

درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کی جب کہ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجا سمیت وکلا اور بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔

دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے ہماری اپیل پر اعتراضات لگا دیے تھے۔ ہمیں اُن اعتراضات کا علم ہی نہیں تھا، سزا معطلی درخواستیں دائر کیں تو پتا چلا کہ اعتراضات ہیں۔ اپیلوں پر ایسے اعتراضات لگائے گئے جو بنتے ہی نہیں تھے۔ رجسٹرار آفس نے وکالت نامہ پرانا ہونے کا اعتراض لگایا اب خود ہی ختم کر کے وہی تسلیم کر لیا۔  اسی طرح اعتراض لگایا کہ فلیگ نہیں لگے ہوئے، ترتیب درست نہیں۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ آپ کی اپیلوں پر باقی اعتراض دور کر رہے ہیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ایک اعتراض ہے کہ صفحات پر فلیگ نہیں لگے ہوئے، یہ کیا اعتراض ہے؟، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وکیل صاحب صفحات کو فلیگ کر لیں۔ جب اعتراضات دور کر دیے گئے تو کیس اعتراضات کے ساتھ کیوں مقرر ہے؟ ہم آپ کو 7 دن کا وقت دے رہے ہیں جو اعتراضات ہیں وہ دُور کر لیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے لیے پہلے بہت پریشانیاں ہیں۔ یہ آسانی تو ہو جائے۔ رجسٹرار آفس خود کنفیوژن پیدا کر رہا ہے۔ آپ کی عدالت میں پہلی بار پیش ہوئے ہیں، خالی ہاتھ نہ جائیں۔

جسٹس خادم سومرو نے کہا کہ آپ کی دونوں درخواستیں منظور کرلی ہیں، خالی ہاتھ نہیں لوٹایا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

Published

on


وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قائم نجی اداروں کو فوری رجسٹریشن لینے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی گئی جبکہ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے رجسٹریشن کی تجدید میں تاخیر والے اداروں کو ون ٹائم ایمنسٹی دیتے ہوئے رینول فیس میں 30 اپریل تک توسیع دے دی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اہم اجلاس میں غیر رجسٹرڈ اور تجدید کے منتظر نجی تعلیمی اداروں (PEIs) کے مسائل اور اسلام آباد بھر کے نجی اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کے اعداد و شمار کی تیاری و تجزیے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنانا اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستگی اور تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے شفافیت کے فروغ، باخبر فیصلوں اور مؤثر ضابطہ کاری کے لیے مستند اور تصدیق شدہ ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے درخواست کی کہ تجدید کے معاملات میں تاخیر کے باعث عائد جرمانوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ کی عام معافی دی جائے۔ مزید یہ کہ ایسے اداروں کو رجسٹریشن یا تجدید رجسٹریشن کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فوجی سیمنٹ اور کوٹ ادو پاور کے ذریعے اٹک سیمنٹ کے حصول کی منظوری

Published

on



سی سی پی نے فوجی سیمنٹ اور کوٹ ادو پاور کے ذریعے اٹک سیمنٹ کے حصول کی منظوری دے دی۔

سی سی پی نے فوجی سیمنٹ اور کوٹ ادو پاور کی مرجر درخواست منظور کر لی، منظوری کے بعد فوجی سیمنٹ اور کوٹ ادو پاور مشترکہ طور پر اٹک سیمنٹ کا کنٹرول حاصل کریں گی۔

سی سی پی نے مسابقتی جائزہ مکمل کرنے کے بعد کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت منظوری دی۔

اٹک سیمنٹ کا حصول اسکیم آف کمپرو مائز اینڈ ارینجمنٹ 2026 کے تحت کیا جا رہا ہے، معاہدے کی تکمیل کے بعد فوجی سیمنٹ اور کوٹ ادو پاور اٹک سیمنٹ کی کنٹرولنگ شیئر ہولڈر بن جائیں گی۔

سی سی پی کے مطابق مرجر کے بعد بھی مشترکہ مارکیٹ شیئر غالب پوزیشن کی حد سے کم رہے گا۔ سیمنٹ سیکٹر میں دیگر مضبوط کمپنیوں کی موجودگی سے مسابقت برقرار رہے گی۔

سی سی پی کے مطابق مرجر سے مارکیٹ میں مسابقت متاثر نہیں ہوگی۔ سی سی پی نے مجوزہ حصول کو قانون کے مطابق کلیئر قرار دے دیا۔

یہ مرجر پاکستان کے سیمنٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ سی سی پی کا عزم، منصفانہ مقابلے کے تحفظ کے ساتھ سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending