Today News
بنگلا دیش 5.4 شدت کے زلزلے سے لرز اُٹھا؛ ہر جانب اللہ اکبر کی صدائیں
بنگلا دیش میں 5.4 شدت کے زلزلے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ شہری اللہ اکبر کی صدائیں لگاتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
بنگلا دیش کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی اور جھٹکے دوپہر تقریباً 1 بج کر 52 منٹ پر محسوس ہوئے۔
محکمہ موسمیات کی اسسٹنٹ میٹرولوجسٹ فرزانہ سلطانہ نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز ڈھاکا سے تقریباً 188 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ستکھیرہ میں تھا۔
جامعہ ڈھاکا کے شعبہ ارضیات کے سابق چیئرمین نے بتایا کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر سے کم تھی جس کی وجہ سے اس کے جھٹکے زیادہ واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
پروفیسر ہمایوں اختر کے مطابق تقریباً 10 سے 12 سال قبل بھی ستکھیرہ میں اسی نوعیت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
جن علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ان میں غازی پر، جیشور، چٹوگرام، شاریاتپور اور کھلنا شامل ہیں۔
تاحال جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے تاہم ایمبولینس اور ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں جاتے دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ کسی ایک فالٹ لائن کی وجہ سے ہی نہیں آتا بلکہ زمین کے اندر مختلف جغرافیائی عوامل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔
Today News
سوات؛ غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن، 79 افراد کو حراست میں لیا گیا
سوات میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ضلعی پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف علاقوں سے 79 غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد قانونی دستاویزات کے بغیر ضلع میں مقیم تھے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
حکام کے مطابق زیرحراست افغان مہاجرین اور ان کے اہلخانہ کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کیا جائے گا جبکہ ضلع بھر میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
Today News
کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.3 ریکارڈ
کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے کشمیر اور گلگت بلتستان کے گردونواح میں محسوس کیے گئے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز گلگت بلتسان کا علاقہ ہے جبکہ زلزلے کا مرکز زیر زمین 12کلومیٹر تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
ڈن ڈم – ایکسپریس اردو
جووا پرارے ڈی سوزا (Joao Pereira De Souza) ایک مزدور تھا۔پوری زندگی اس نے مچھیروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ ساتھ ساتھ جہاں بھی اینٹ روڑے کا کام ہو ‘ کرتا رہتا تھا۔ 2011ء تک ریٹائر ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی‘ ساتھی مچھیروں کے ساتھ کبھی کبھی ‘ کشتی پر سوار ہو کر مچھلیاں پکڑتا تھا۔ معمولی سا گھر‘ پرووٹا ساحل (Proverta beach) کے نزدیک تھا۔بلکہ ساحل سمندر کے عین کنارے پر تھا۔ برازیل کی جس ریاست میں جووا رہتا تھا۔ اس کا نام Rio de Janeiro تھا۔ اہلیہ‘ ماریا‘ بھی ایک حد درجہ متوسط سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔ ڈی سوزا کے ساتھ‘ ایک دکھ بھرا حادثہ ہو ا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو تقریباً دس برس کا تھا۔ جس دن‘ بیٹے کی سالگرہ تھی۔ اس نے بہت ضد کی‘ اور ڈی سوزا کو مجبور کیا ‘ کہ سمندر کی سیر کروائی جائے۔
ڈی سوزا نے بہت سمجھایا کہ آج طوفانی لہریں بہت ہیں۔ لہٰذا جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ہوا۔ باپ بیٹا‘ سمندر کی سیر کر رہے تھے کہ طاقتور لہروںنے کشتی کو الٹا دیا۔ بیٹا ڈوب کر زندگی سے بہت دور نکل گیا۔ ڈی سوزا اور اس کی بیوی کے لیے‘ یہ صدمہ بہت مہیب تھا۔ جس سے پوری زندگی باہر نہیں نکل سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ دونوں بوڑھے ہوتے چلے گئے۔ ڈی سوزاء زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔ میاں بیوی میں بات کم ہی ہوتی تھی۔ مئی2011ء میں ڈی سوزا‘ اکیلا کشتی میں بیٹھا تھا ۔ارادہ‘ مچھلیاں پکڑنے کا بالکل نہیں تھا۔ خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہاتھا جس نے اس کے سب سے قیمتی اثاثے کو نگل لیا تھا۔ اچانک نظر‘ ایک پینگوئن پر پڑی‘ جو پانی میں تیرنے کی بجائی خاموشی سے سطح سمندر پر لیٹی ہوئی تھی۔
قریب جانے پر معلوم ہوا کہ کہیں سے تیل کا اخراج ہوا ہے۔ پینگوئن کی بدقسمتی‘ کہ پوری کی پوری ‘ تیل میں بھیگ گئی تھی۔ اس میں تیرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ تقریباً ڈوبنے والی تھی۔ ڈی سوزا‘ نے فوری طور پر پینگوئن کو اٹھایا ۔ اسے گھر لے گیا۔ جمی تیل کی تہہ کو صاف کرنے میں سات آٹھ دن لگ گئے۔ ڈی سوزا ‘ پینگوئن کو تولیے میں لپیٹ کر رکھتا تھا۔ اسے کھانے کے لیے چھوٹی چھوٹی خشک مچھلیاں دیتا رہتا تھا۔ دو ہفتے میں ‘ پینگوئن بالکل صحت مند ہو گئی۔ ڈی سوزا‘ ایک دن کچھ خریدنے کے لیے بازار گیا۔ تو وہ جانور‘ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا‘ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ لوگ حیران رہ گئے کیونکہ کسی نے کبھی بھی ‘ پینگوئن کو انسان کے ساتھ اتنی انسیت رکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دونوں کے اردگرد‘ ایک ہجوم جمع ہو گیا۔
مجمع میں ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی‘ جو حیرت سے پینگوئن کو دیکھ رہی تھی۔ ڈی سوزا سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ ڈی سوزا نے کہا کہ ابھی تک کوئی نام نہیں رکھا۔ بچی نے زور سے کہا کہ اس کا نام ڈن ڈم ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ پینگوئن کا نام‘ یہی پڑ گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تھوڑے عرصے میں یہ نام پوری دنیا میں گونجے گا۔ اسی بھیڑ میں‘ ایک نوجوان ‘ موبائل فون کے کیمرے سے ویڈیو فلم اور تصویر بنا رہا تھا۔ اور انھیں‘ سوشل میڈیا پر لوڈ کر رہا تھا۔
ڈی سوزا کو تو خیر معلوم ہی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا کیا ہے۔ اب آپ اتفاقات کا سلسلہ دیکھے۔ Joao Paulo krajewski نام کے ایک سائنسدان نے ڈی ڈم کی تمام تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ وہ بنیادی طور پر پینگوئنز پر تحقیق کر رہا تھا۔ گلوب ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک تھا۔ پائلو کو یقین ہی نہیںآیا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔ وہ ارجنٹینا میں ایک جزیرے میں تجربے کر رہا تھا جہاں پینگوئن افزائش نسل کے لیے ہر سال آتے تھے۔ اور پھر چند ماہ بعد نامعلوم مقامات پر واپس چلے جاتے تھے۔ پائلو نے ٹی وی کی ایک تجزیاتی ٹیم‘ ڈی سوزا کے گھر بھجوائی ۔ ڈی سوزا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی ٹی وی سے منسلک ٹیم‘ انٹرویو کے لیے اس کے گھر آئے گی۔ حد درجہ گھبرا گیا۔ بیوی کے اسرار پر ٹیم کے سربراہ کو انٹرویو دینے کی حامی بھر لی۔ سارا کچھ بتایا کہ کیسے ڈن ڈم اسے تیل میں بھیگا ہو ا ملا تھا اور کس طر ح اب گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ یہ انٹرویو پوری دنیا کے تمام چینلز پر دیکھا گیا۔
سائنسدانوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین امر تھا کہ پینگوئن جیسا شرمیلا جانور‘ کیونکر ایک انسان کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ تھوڑے دن بعد ڈن ڈم سمندر میں کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ۔ قدرت کا حسن دیکھئے کہ یہ وہی جزیرہ تھا جہاں پائلو تجربات کر رہا تھا ۔ اس کی ٹیم نے پینگوئن کوپہچانا اور اس کے جسم پر ایک ٹیگ لگا دیا ۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ ڈی سوزا کے گھر سے پانچ ہزار کلو میٹر دور تھا ۔ چار ماہ گزرنے کے بعد ڈن ڈم واپس ڈی سوزا کے گھر پہنچ گیا ۔ دنیا کے چوٹی کے سائنسدان اس غریب مزدور کے گھر پہنچے ۔ ٹیگ کے نمبر کو پڑھا اور انھیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی پینگوئن ہے جو پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے واپس آئی ہے۔اب ہوتا یہ تھا کہ ڈن ڈم ‘ ڈی سوزا کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا ۔ جب بھوک لگتی تو ڈی سوزا کو بتاتا کہ اسے کھانے کی ضرورت ہے۔
اسے فوری طور پر خشک چھوٹی چھوٹی مچھلی کھانے کے لیے چاہیں۔ پینگوئن اور انسان کے درمیان یہ رشتہ سائنسدانوں کے لیے ایک عجوبہ بن کر رہ گیا۔ چھ سال گزر گئے ۔ ڈن ڈم چھ مہینے ڈی سوزا کے گھر میں رہتا اور پھر سمندر میں چھ ماہ کے لیے اسی پرانے جزیرے پر پہنچ جاتا جہاں سائنسدان تحقیق کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں پائلو نے ڈن ڈم کو پکڑا اور ایک لیبارٹری میں تجزیئے کے لیے لے جانے کی کوشش کی مگر پینگوئن موقع پا کر جیپ سے باہر نکل گئی ۔ اسے سمندر تک پہنچنے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ حد درجہ مشکل سے وہ سمندر تک پہنچی مگر اس کوشش میں اس کا جسمانی نقصان کافی زیادہ ہوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر برازیل پہنچ جاتا تھا۔ جن دنوں میں اس کی متوقع آمد تھی ۔ اس تمام دورانیہ میں پورا قصبہ اور لاتعداد ٹی وی چینل کیمرے لے کر اس کے آنے کا انتظار کرتے رہے ۔ مگر متعین وقت پر ڈن ڈم گھر نہ پہنچ پائی۔ڈی سوزا سمجھ گیا کہ اس کے دوست کو کوئی حادثہ پیش آ چکا ہے۔ لہٰذا اس نے مچھیروں کے ساتھ مل کر سمندر میں پینگوئن کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔
بڑی مشکل سے ڈن ڈم پانی میں زخمی حالت میں ملا ۔ اس کے تیرنے کی صلاحیت زخموں کی وجہ سے ختم ہو چکی تھی۔ ڈی سوزا اسے گھر لے کر آیا اور اس کا مکمل علاج کیا ۔ پینگوئن بالکل ٹھیک ہو گئی ۔ چند ماہ دونوں دوست اکٹھے رہے ۔ اس کے بعد حسب معمول ڈن ڈم ‘ طویل سفر پر روانہ ہو گئی۔ یہ سلسلہ پورے آٹھ سال چلتا رہا۔ معینہ مدت میں ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر رہنے آ جاتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اس پورے عرصے میں سائنسدانوں کی ٹیم بڑی ریاضت سے تحقیق کرتی رہی کہ ایک پینگوئن کیسے انسان کے ساتھ رہ سکتی ہے۔سی این این نے اس کے اوپر پوری ایک ڈاکومنٹری بنائی ۔ اور وہ بھی پوری دنیا کے سامنے نشر کی گئی ۔ یہ بھی ایک سچ تھا کہ ڈن ڈم ‘ قطعاً ڈی سوزا کی قید میں نہیں رہتی تھی بلکہ گھر کے پیچھے یا صحن میں جس میں کسی قسم کی کوئی دیوار نہیں تھی۔ اس میں ایک مخصوص جگہ پر رہائش گاہ سی بنا رکھی تھی۔ وہ مکمل طور پر آزاد تھی ۔ اس طرح سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گئی کہ جانور اور پرندوں کی آزاد دنیا اور انسانوں میں رابطہ ممکن ہے۔
اس سچی کہانی نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں جانوروں اور پرندوں کو بہت کرختگی سے رکھا جاتا ہے۔ پرندوں کی تو ویسے ہی شامت آئی رہتی ہے ۔ کیونکہ چند لوگ ان کاشکار کر کے اپنی کسی نامعلوم حس کی تسکین کرتے نظر آتے ہیں۔یہی حال جانوروں کا ہے ۔ جن علاقوں میں ہرن ‘ اڑیال اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں۔ وہاں ان کا استحصال مسلسل جاری و ساری رہتا ہے ۔ دراصل ہم انسانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے تو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیا خاک اچھا ہو گا ؟ ہمارے جیسے سماج میں جہا ں انسانوں کے پاس کوئی سنجیدہ حقوق موجود نہیں ہیں ۔ جہاں قتل و غارت کا دور دورہ ہے ۔ جہاں ملک کے پیشتر حصے میں بھاری ہتھیاروں سے حملوں کی روایت موجود ہے ۔ وہاں بے زبان مخلوق کا کیا ذکر کرنا ۔پتہ نہیں کہ مجھے یہ کہنا بھی چاہیے یا نہیں ؟ کہ جو معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے عاری ہے۔ وہاں اس نے اپنے اردگرد دیگرمخلوق سے کیا بہتر برتاؤ کرنا ہو ۔ زبانی جمع خرچ تو خیر بہت ہے ۔ مگر عملاً ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں۔ جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اگر آپ کو اتفاق سے کوئی پرندہ یا جانور مل جائے تو ڈی سوزا کی طرح ڈن ڈم کے ساتھ اچھے سلوک کو یاد ضرور رکھیے گا۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا