Today News
بنگلہ دیش،نئی حکومت – ایکسپریس اردو
اگست 2024 میں طلباء کے لائے ہوئے مون سون انقلاب کے بعد عبوری حکومت بنی جس نے 12 فروری 2026کو عام انتخابات کروا دیے۔ ملک کے چیف ایڈوائزر جناب محمد یونس نے کہا کہ نیا بنگلہ دیش وجود میں آ گیا ہے۔ جناب محمد یونس کو انقلابیوں نے حکومت سنبھالنے کی دعوت دی تھی،انھوں نے بہت اچھا کردار نبھایا اور کسی بھی سکینڈل کی زد میں آئے بغیر عام انتخابات کروا دئے۔بنگلہ دیش میں یہ 13 ویں انتخابات تھے۔
انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا جو بہت اچھا کہا جا سکتا ہے لیکن بنگلہ دیشی روایتی ٹرن آؤٹ سے قدرے کم ہے۔نتائج کے مطابق بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔بی این پی نے 300کے ایوان میں 212نشستیں جیتیں جب کہ اس کے مدِ مقابل جماعتِ اسلامی 77 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔بی این پی کو دو تہائی اکثریت مل جانے سے اسے قانون سازی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوگی۔
البتہ بی این پی نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ کوشش کرے گی کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔یہ ایک انتہائی مثبت سوچ ہے جس پر عملدرآمد سے ملی یکجہتی کی راہیں کھلیں گی۔بنگلہ دیش خوش قسمت ہے۔یہاں کوئی صوبہ نہیں،سب ایک زبان بولتے اور ایک کلچر کے پروردہ ہیں۔
بنگلہ دیش انتخابات میں ماضی کی بڑی اور مضبوط جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔کیا ہی اچھا ہوتا گر عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا۔نتائج کچھ مختلف نہیں ہونے تھے کیونکہ شیخ حسینہ نے آخری دور میں بے حد ظلم و زیادتی کی،بہت مظالم ڈھائے اور بہت Witch huntingکی جس کی وجہ سے انتخابی ہار عوامی لیگ کے لیے نوشتۂ دیوار تھی۔ہاں عوامی لیگ کو چند نشستیں ضرور مل جانی تھیں لیکن اس سے انتخابات کی Credibilityبہت بڑھ جانی تھی اور پورے ملک میں کہیں بھی محرومی کا احساس نہ ہوتا۔بہر حال انتخابات ہو گئے ہیں اور 17فروری کو جناب طارق رحمٰن نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔
طارق رحمٰن 17سال ملک سے باہر یو کے میں رہے۔ باہر جانے سے پہلے ان کی شہرت گدلائی ہوئی تھی۔ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلا اور سزا ہوئی۔ گذشتہ برس جناب محمد یونس کی عبوری حکومت نے ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے اور انھیں بنگلہ دیش واپس آنے اور اپنے والد اور والدہ کی سیاسی پارٹی کو لیڈ کرنے کا موقع فراہم کیا۔جلا وطنی سے واپسی پر وہ بہت بدلے ہوئے نظر آئے۔
ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ عیاںہے۔جناب طارق رحمٰن کو حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔اس کے ساتھ ان کو سیاسی پارٹی چلانے کا بھی تجربہ نہیں لیکن وہ بنگلہ دیش کے آرمی چیف و صدر اور بنگلہ دیش کی سابقہ مرحومہ وزیرِ اعظم کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے گھر میں بہت سیاست اور اقتدار دیکھا ہے،اس لیے اگر وہ ایک بہترین حکومتی سیاسی ٹیم اکٹھی کرلیں تو بہت کامیابی سمیٹیں گے۔
بی این پی کی مرکزی اپوزیشن پارٹی جماعتِ اسلامی نے کل ملا کر 77نشستیں جیتی ہیں۔گذشتہ اسمبلی میں محض چند نشستوں والی اس سیاسی پارٹی نے بظاہر بہت اچھی انتخابی کارکردگی نہیں دکھائی لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس پارٹی نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیئے کہ ڈھاکہ شہر میں بی این پی نے اکاون فیصد جب کہ جماعت اسلامی نے 49فیصد ووٹ حاصل کیے یوں ڈھاکہ شہر میں دونوں جماعتوں کی سپورٹ قریب قریب برابر ہے۔
جماعتِ اسلامی نے پورے ملک میں 44فیصد ووٹ لیے ہیں جو بری کارکردگی نہیں لیکن یہ کارکردگی ایک ایسی فضا میں ہو رہی ہے جب عوامی لیگ میدان میں نہیں۔نوجوان اور طلباء کی بہت بڑی تعداد بھی جماعتِ اسلامی کی طرف موافقانہ نظر سے دیکھ رہی تھی۔ جماعتِ اسلامی کو جتنا بہتر ماحول اس الیکشن میں ملا،وہ شاید کبھی دوبارہ نہ مل سکے۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اگر جیت کر حکومت بنا لیتی تو انڈیا اور عوامی لیگ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا۔
جناب طارق رحمٰن نے بنگلہ دیش واپسی کے بعد سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے تک شیخ حسینہ یا عوامی لیگ کے خلاف کوئی منفی بیان نہیں دیا۔عوامی لیگ کو اندیشہ تھا کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ گئی تو عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے لیے بہت برا ہوگا۔ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن گھروں میں بیٹھے رہنے کے بجائے ووٹ کاسٹ کرنے میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے اور مصلحت کے تحت بی این پی کو ووٹ ڈالا تاکہ بی این پی جو کہ بظاہر ایک معتدل لبرل جماعت ہے،وہ جیتے۔اس خیال میں بہت وزن ہے اور شاید یہی ہوا ہو۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت نے بہتMatureاندازِ سیاست اپنایا ہے۔جماعت قیادت نے نتائج تسلیم کیے، جناب طارق رحمٰن کو مبارک باد دی،پھول اور قومی معاملات میں اپنا تعاون پیش کیا۔جماعت نے الیکشن قواعد کے مطابق کوئی 30 نشستوں کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔یہ ان کا جمہوری حق ہے،مخالفت برائے مخالفت ہرگز نہیں۔جناب طارق رحمٰن کی بی این پی کو بنگلہ دیش اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ انتخابات جیتنے کے بعد ان کو انڈیا،پاکستان ، کئی دوسرے ممالک اور ان کی قیادت کی طرف سے مبارک باد دی گئی ہے۔جناب شہباز شریف نے تو پاکستان دورے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ بی این پی کی طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ جناب طارق رحمٰن کی حکومت ریجنلConnectivityبڑھانے اور خطے میں امن و آشتی کے ماحول کو پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے پاس سارک کا پلیٹ فارم موجود ہے جو اس وقت نان فنکشنل پڑا ہے۔انڈیا چاہتا ہے کہ سارک کا کوئی بھی سربراہی اجلاس پاکستان میں نہ ہو۔یوں ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ انڈیا چاہے گا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات میں موجود سرد مہری ختم ہو۔
Today News
بنگلہ دیشی انتخابات اور ہماری بیمار سیاست
بنگلہ دیش میں ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اپنی بلاشرکت غیرے حکومت بنا لی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمن، جو سابق فوجی جنرل ضیا الرحمن کے صاحبزادے ہیں نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔
بنگلہ دیشی انتخابات میں دوسری بڑی کامیابی جماعت اسلامی کی زیر قیادت سیاسی اتحاد نے 77 نشستوں کے ساتھ حاصل کی جب کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے نوجوان طلبا کی قائم کردہ نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابات میں حصہ نہ لے سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے طارق رحمن کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے انھیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کبھی ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے، 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط بنگال کے سانحے میں جہاں درون خانہ صاحبان اقتدار کی کوتاہیاں، غلط فیصلے، لسانی نفرتیں اور سیاسی چپقلش نے منفی اثرات مرتب کیے تو دوسری جانب بھارت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے کر سقوط ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔
بعدازاں بھارتی قیادت نے بنگلہ دیش میں آہستہ آہستہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کو مضبوط اور طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقہ بھارتی مداخلت کاری کو اپنی آزادی، سلامتی اور خود مختاری کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ 1971 کے بعد عوامی سطح پر بنگالی عوام میں پاکستان کے ساتھ ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات میں جوش و جذبہ خاصا کم ہو چکا تھا لیکن بھارتی رویوں کے باعث رفتہ رفتہ صورت حال تبدیل ہوتی گئی۔
گزشتہ سال بنگلہ دیشی نوجوانوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کو احتجاج کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ نتیجتاً شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب شیخ حسینہ واجد نے بہ طور وزیر اعظم بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی رخصتی کے محض ایک سال بعد جب آئی سی سی نے T-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیشی ٹیم کو آؤٹ کیا تو پاکستان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا اور بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی کو آگاہ کر دیا کہ بنگلہ دیش کی T-20 میں شمولیت تک پاکستان بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔
مجبوراً آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بنگلہ دیش T-20 ورلڈ کپ کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کو مہمیز کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف جیت کا جمود توڑنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی لیکن پاکستان نے بنگلہ دیش کی عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 55 سال کی دوریوں اور فاصلوں کو ختم کرنے میں ابھی وقت درکار ہے لیکن دونوں ملکوں کے سیاستدانوں و حکمرانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل فکر و دانش کو دونوں ملکوں کے درمیان جنم لینے والی تازہ محبتوں و قربتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ انتخابی نتائج کو بی این پی اور جماعت اسلامی نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، نہ کسی ریاستی ادارے نے الیکشن میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور نہ ہی فارم 47 کا شور بلند ہوا۔
نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا۔ جب کہ ہماری بیمار سیاست میں یہ سب کچھ جائز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص صاحبان اقتدار اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دینے کے سارے جتن آزمانے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و نارسائیوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نفرت، بدلہ اور انتقام کو ’’ مکافات عمل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
درگزر اور اعلیٰ ظرفی کا ہماری بیمار سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کل پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لوگ جیلوں میں تھے اور نارسائیوں کے گلے شکوے تھے، آج دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی بیماری چشم میں مبتلا ہیں۔ پی ٹی آئی کو نارسائیوں کے شکوے ہیں جب کہ حکومت مکمل تعاون اور طبی سہولیات کی فراہمی کی دعویدار ہے۔ پاکستان کی بیمار سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رنجشوں کی داستان 77 سالوں پر محیط ہے، جانے کب اور کون ازالہ کرے گا؟
Today News
آمد رمضان کریم مبارک – ایکسپریس اردو
اﷲ تعالی کا احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے، اس مہینے میں اجر و ثواب بہت بڑھ جاتاہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنا کردیا جاتا ہے بل کہ اس مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق: ’’روزہ دار کے لیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔‘‘
روزہ باطنی عبادت ہے کیوں کہ ہمارے بتائے بغیر کسی کو یہ علم نہیں ہوسکتا کہ ہمارا روزہ ہے اور اﷲ تعالی باطنی عبادت کو زیادہ پسند فرماتا ہے۔ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق: ’’روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔‘‘ اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالی نے اس میں قرآن پاک نازل فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور راہ نمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اﷲ تعالی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے تم گنتی پوری کرو اور اﷲ تعالی کی بڑائی بولو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، سورۃ البقرہ)
اس آیت مقدسہ کے ابتدائی حصہ ’’شھر رمضان الذی‘‘ کے تخت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: ’’رمضان‘‘ یا تو ’’رحمن تعالی‘‘ کی طرح اﷲ تعالی کا نام ہے چوں کہ اس مہینہ میں دن رات اﷲ تعالی کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا اسے شہر رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ کہا جاتا ہے‘ جیسے مسجد و کعبہ کو اﷲ تعالی کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں‘ ایسے ہی رمضان اﷲ تعالی کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں۔ روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اﷲ تعالی کے مگر بہ حالت روزہ جو جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے، وہ بھی اﷲ تعالی کے کام قرار پائے اس لیے اس ماہ کا نام رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ ہے۔ یا یہ رمضاء سے مشتق ہے‘ رمضاء موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دُھل جاتی ہے اور ربیع کی فصل خوب ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ مہینہ بھی دل کے گرد و غبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے‘ اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں۔ ’’ساون‘‘ میں روزانہ بارشیں چاہییں اور ’’بھادوں‘‘ میں چار‘ پھر ’’اسار‘‘ میں ایک‘ اس ایک سے کھیتیاں پک جاتی ہیں توا س طرح گیارہ مہینے برابر نیکیاں کی جاتی رہیں‘ پھر رمضان کے روزوں نے ان نیکیوں کی کھیتی کو پکا دیا۔ یا یہ ’’رمض‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’گرمی یا جلنا‘‘ چوں کہ اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کی جلا ڈالتا ہے، اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ کنزالعمال کی آٹھویں جلد کے صفحہ 217 پر حضرت انسؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم رؤف رحیمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔‘‘ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینہ تھا اسی سے اس کا نام ہوا۔ جو مہینہ گرمی میں تھا اسے رمضان کہہ دیا اور جو موسم بہار میں آیا، اسے ربیع الاول اور جو سردی میں تھا اسے جمادی الاولیٰ کہا گیا۔ اسلام میں ہر نام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نام کام کے مطابق رکھا جاتا ہے دوسری اصطلاحات میں یہ بات نہیں۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریمؐ کا فرمان عالی شان کا مفہوم ہے:
’’جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے، جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے ہر سجدے کی عوض (یعنی بدلہ میں) اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے، اس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے‘ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالی مہینے کے آخر دن تک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لیے صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے، اس ہر سجدے کے عوض اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھڑ سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔‘‘
خدائے حنان و منان تعالی کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے طفیل ایسا ماہ رمضان عطا فرمایا۔ حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے:
’’ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبیؑ کو نہ ملیں۔
٭ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالی ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالی نظر رحمت فرمائے گا اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔
٭ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بُو سے بھی بہتر ہے۔
٭ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
٭ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا، عن قریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔
٭ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘
لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہُوا اور عرض کی: یارسول اﷲ ﷺ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انھیں اُجرت دی جاتی ہے۔‘‘
حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، حضور پرنورؐ کا فرمان ہے: ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہ رمضان اگلے ماہ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔‘‘
رمضان المبارک میں رحمتوں کی چھما چھم بارشیں اور گناہ صغیرہ کے کفارے کا سامان ہو جاتا ہے، گناہ کبیرہ توبہ کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ ہُوا ہو خاص اس گناہ کا ذکر کرکے دل کی بے زاری اور آئندہ اس سے بچنے کا عہد کرکے توبہ کرنی ہوگی۔ مثلاً جھوٹ بولا، یہ کبیرہ گناہ ہے۔ بارگاہ خداوندی تعالی میں عرض کرے: ’’یااﷲ تعالی! میں نے جو یہ جھوٹ بولا اس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔‘‘ یہ کہتے وقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کروں گا جبھی توبہ ہے، اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ اس بندے سے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے فضائل سے کتب احادیث مالا مال ہیں۔ رمضان المبارک میں اس قدر برکتیں اور رحمتیں ہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا: ’’اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘
حضرت سیدنا سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن میں بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات (ایسی بھی ہے جو) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالی نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام تطوع (یعنی سنت) ہے، جو اس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مؤاسات (یعنی غم خواری اور بھلائی) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کچھ کمی ہو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کروائے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا، اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول (یعنی ابتدائی دس دن) رحمت ہے اور اس کا اوسط (یعنی درمیانی دس دن) مغفرت ہے اور آخر (یعنی آخری دس دن) جہنم سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ اس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمھیں بے نیازی نہیں۔ پس وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں: لاالہ الااﷲ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا۔ جب کہ وہ دو باتیں جن سے تمھیں غنا (بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں، اﷲ تعالیٰ سے جنت طلب کرنا اور جہنم سے اﷲ تعالی کی پناہ طلب کرنا۔‘‘
حدیث مبارکہ میں ماہِ رمضان کی رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کا خوب تذکرہ ہے‘ لہٰذا تمام مسلمانوں کو اس ماہ مقدسہ میں کلمہ شریف زیادہ تعداد میں پڑھ کر اور بار بار استغفار یعنی خوب توبہ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔
Today News
نیکیوں کا موسم بہار رمضان کریم
روزہ اﷲ رب العزت کے لیے ہے اور وہی اس کا اجر دے گا۔ روزے کو عربی میں صوم کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنیٰ رک جانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں یہ اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جس میں ایک مسلمان اﷲ تعالیٰ کے حکم سے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تمام مفطرات سے رکا رہتا ہے۔
مفطرات، روزہ توڑنے والی چیزیں کو کہتے ہیں جیسے کھانا، پینا، شوہر و بیوی کی ملاقات وغیرہ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں عام زندگی میں حلال ہیں، مگر روزے کی حالت میں یہ حرام ہوجاتی ہیں اور روزہ ان اعمال کی وجہ سے فاسد ہوجاتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے اسی کے حکم کے مطابق طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ان اعمال سے بچنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کی اس تعریف اور عمل سے ہی روزے کا مقصد واضح ہو جاتا ہے جو اﷲ رب العالمین نے قرآن حکیم میں روزے کا حکم دیتے ہوئے بیان فرمایا ہے، مفہوم:
’’مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بنو۔‘‘ (سورۃ البقرہ)
اس آیۂ مبارکہ کے مفہوم سے صاف واضح ہورہا ہے کہ روزہ رکھنے کا مقصد تقوے کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے، اﷲ کا ڈر اپنے دل میں بسانا، یعنی کسی بھی کام کو کرنے سے قبل انسان کے دل میں یہ خیال شدت کے ساتھ پیدا ہوجائے کہ میں جو کام کرنے جارہا ہوں وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا حرام ہے؟ ایسا کرنے سے اﷲ کی ناراضی کا اندیشہ تو نہیں؟
روزے سے تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جب ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں قید ہوتا ہے جہاں اسے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس کا مواخذہ کرنے والا ہوتا ہے، اب نہ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ ہی دیگر جسمانی خواہشات پوری کرتا ہے۔
وہ ایسا کیوں نہیں کرتا۔۔۔ ؟
محض اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے روزے کی حالت میں اسے ان امور سے روک دیا ہے اور وہ بھی پورے ایک مہینے کے لیے۔ اس ایک مہینے کی تربیت سے مومنوں کے دلوں پر فطری اثرات مرتب ہوتے ہیں بہ شرط یہ کہ انسان خلوص دل اور شعور سے کوشش کرے۔ اس کے بعد اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف جم جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے کہ جب روزے کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے حلال چیزوں سے بھی اجتناب کرتا رہا ہوں تو جو چیزیں اﷲ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دی ہیں، ان کا ارتکاب میرے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ یا اگر مجھے اﷲ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے تو میں اس خالق کائنات کی نافرمانی کیوں کروں ؟
چناں چہ یہ ماہ مبارک صرف روزہ رکھنے ہی کی ترغیب نہیں دیتا، بل کہ انسانی کردار کو نکھارنے کے لیے بعض کاموں سے انکار کروا کے اعمال صالحہ کی جانب راغب کرتا ہے۔ مثلاً روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا تو اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا رہے، یعنی اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس کے روزے کی کوئی اہمیت یا قدر نہیں۔
روزہ صرف کھانا، پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بل کہ روزہ تو ہر اس غلط سے روکتا ہے جو عام دنوں میں بھی جائز نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کے ساتھ جھگڑا اور فساد کرنے کی کوشش کرے تو اس سے بڑی نرمی سے کہہ دیا جائے: ’’بھئی، مجھے معاف کرو، میں روزے سے ہوں۔‘‘
اکثر نوجوان اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا نظر آتے ہیں جو روزہ دار کے لیے جائز نہیں، مثلاً وہ اپنا وقت گزارنے کے لیے ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، ٹی وی پر بیہودہ پروگرام دیکھتے ہیں، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ روزے کی حالت میں تو ہماری اسلامی و اخلاقی تربیت ہوتی ہے، مگر ہم اسے حاصل کرنے کے بہ جائے دوست احباب کے ساتھ تاش یا شطرنج کھیل کر وقت گزارتے ہیں۔ حالت روزہ میں چغل خور ی کرنا، جھوٹ بولنا اور مذاق کے نام پر بے ہودہ حرکات کرنا ناجائز ہے اور یہ ساری بری باتیں تو ویسے بھی قابل مذمت اور قابل وعید ہیں۔ ان سب کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر روزے کی حالت میں بھی طنز کرتے ہیں، تاکہ روزہ دار کو جوش آجائے اور وہ کسی طرح غیر اخلاقی عمل کا مرتکب ہوجائے۔ یہی وقت روزے دار کے لیے ہوش کا ہے۔ ایسے موقع پر درگزر کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام نے روزے کی حالت میں قوت برداشت سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
روزہ دار کے لیے ایک اہم نکتے کی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اسے جھوٹ بولنے سے منع کیا جارہا ہے، وہاں یہ بھی تعلیم دی جارہی ہے کہ دھوکے اور فریب سے گریز کرے۔ مثلاً اگر وہ تاجر ہے تو جھوٹ بول کر اپنی اشیاء فروخت نہ کرے، اپنے ناقص مال کو چھپا کر نہ بیچے، بل کہ اس شے کا نقص گاہک پر واضح کردے۔ کاروبار میں اس قسم کی حرکات ویسے تو پورے سال ممنوع ہیں، مگر رمضان المبارک میں اور روزے کی حالت میں اس قسم کی حرکات کا ارتکاب دین سے غفلت ہی ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے، مفہوم:
’’ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنھیں روزہ رکھنے سے سوائے پیاس اور بھوک کے اور کچھ نہیں ملتا، اور کتنے ہی شب بیدار ایسے ہیں جنھیں بے خوابی کے سوا شب بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
سال بھر کے مہینوں میں ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر ایک نیکی کا اجر دس سے ستّر گنا اور ایک مقام پر تو سات سو گنا بتایا گیا ہے۔ جنّت کے سات دروازوں میں سے ہر عمل کرنے والا گزارا جائے گا لیکن روزہ داروں کے لیے ایک مخصوص دروازہ رکھا گیا ہے، جس کا نام باب الریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار گزریں گے۔ اس ماہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
یہ مہینہ غریبوں اور مسکینوں سے ہم دردی اور غم گساری کا ہے۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔
یہ عظیم ماہ مقدس شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کا شایان شان استقبال اس انداز سے کریں کہ اس مہینے میں اپنے معمولات سے ہٹ کر زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہیں اور اپنی آخرت کی فکر کریں۔ آج ہی سے تمام برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے نیک اعمال کی جانب متوجہ ہوکر دنیا و آخرت کی کام یابی حاصل کریں۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech3 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch